مناقب شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین مدنیؒ

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
مناقب شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین مدنیؒ
ترتیب:محمد طاھرقاسمی دھلوی
قسط اول
تعارف: ۔
حضرت اقدس مولانا سید حسین احمد صاحب مدنی نوراللہ مرقدہ آپ اسلامی ہند کے شیخ الاسلام، دارالعلوم دیو بند کے صدر المدرسین و شیخ الحدیث، جمعیۃ علماء ہند کے صدر ، ہزاروں علماء کے جلیل القدر استاذ ، لاکھوں انسانوں کے بر شد کامل اور سیاست و طریقت کے امام تھے۔ آپ اپنی جامعیت کے اعتبار سے ’’اِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ امَّةً “ کی تفسیر تھے، کیوں کہ آپ بیک وقت علوم و معارف کے امام مجلس ارشاد و سلوک کے صدرنشین ، عزیمت و استقامت کے پہاڑ فقر تواضع کے نشان، بصائر وحِکم کے سرچشمہ، زہد و قناعت کے مجسمہ، اخلاص وایثار کے پیکر، سخاوت و شجاعت کے مخزن ، میدان صبر و رضا کے شہ سوار، قافلہ جہد و عمل کے تاجدار اور سلف صالحین کی مکمل و متحرک یادگار تھے۔
ولادت :۔
آپ کی ولادت با سعادت 19 شوال المکرم 1296ھ مطابق 6 اکتوبر 1879 ، بانگر مئوضلع اُنّاؤ ( یوپی ) میں ہوئی ۔ جہاں آپ کے والد ماجد حضرت سید حبیب اللہ صاحب مڈل اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے اور مع اہل خانہ وہیں مقیم تھے، ویسے آپ کا وطن الہ داد پور ٹانڈہ ضلع فیض آباد ہے۔ آپ کا تاریخی نام چراغ محمد رکھا گیا۔ آپ کے والد محترم حضرت مولانا شاہ فضل رحمن گنج مراد آبادی سے مرید تھے ۔ اپنے علم و تقویٰ کے لحاظ سے سادات کا یہ خاندان ہمیشہ ایک خاص عظمت اور شاہی زمانہ میں ایک بڑی جاگیر کا مالک رہا ہے۔
تعلیم وتربیت :۔
آپ نے ابتدائی تعلیم پرائمری اسکول میں حاصل کی ، 14 سال کی عمر ہوئی تو آپ 1309ھ مطابق 1891ء میں دار العلوم دیو بند تشریف لائے اور ابتدائی درجہ میزان الصرف میں داخلہ لیا، یہاں حضرت شیخ الہند نے خاص شفقت و عنایت سے آپ کی تعلیم و تربیت فرمائی ۔ سات سال دار العلوم دیو بند میں رہ کر 1316ھ مطابق 1898ء میں فراغت حاصل کی ۔ دارالعلوم دیو بند میں آپ نے جن اکابر علماء کرام سے استفادہ اور شرف تلمذ حاصل کیا ان میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی ؒ، حضرت مولانا ذ و الفقار علیؒ ، حضرت مولانا عبد العلیؒ، حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ، حضرت مولانا حکیم محمد حسنؒ ، حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن عثمانیؒ ، حضرت مولانا غلام رسول ہزاروی ؒ، حضرت مولانا حافظ محمد احمدؒ ، حضرت مولانا حبیب الرحمن عثمانیؒ، حضرت مولانا سید محمد صدیق ؒجیسے اساطین علم وفن شامل ہیں ۔
درس و تدریس :۔
دار العلوم دیو بند کے نصاب کی تکمیل اور سات سال یہاں کے علمی ماحول میں گزارنے کے بعد جب وطن مالوف تشریف لے گئے تو 1306ھ میں آپ کے والد ماجد شوق ہجرت میں مدینتہ الرسول ﷺ کے لیے مع اہل و عیال رخت سفر باندھ چکے تھے۔ آپ بھی والدین کے ہمراہ روانہ ہو گئے ۔ روانگی حجاز سے قبل آپ قطب الاقطاب حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی ؒسے بیعت ہو چکے تھے اور انہیں کے حکم سے مکہ مکرمہ میں سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکیؒ سے کسب فیض کیا۔ حضرت حاجی صاحب کی خدمت میں دو ماہ رہ کر پھر مدینہ منورہ میں والد ماجد کے ساتھ مقیم ہو گئے ۔ مدینہ منورہ آکر آپ نے زہد و تقوی، توکل و اخلاص اور سادگی کی زندگی اختیار کی ۔ ہر چند آپ نے ہندوستان سے ہجرت کا قصد نہیں فرمایا تھا تا ہم والد صاحب کی حیات تک آغوش پدری کو چھوڑ کر ہندوستان واپس آنا پسند نہیں کیا۔ 1318ھ میں حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیؒ نے آپ کو بذریعہ خط ہندوستان بلایا اور اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا، اس سفر میں آپ کو تین ماہ حضرت گنگوہی کی خدمت میں رہنے کا موقعہ ملا۔ قیام مدینہ منورہ کے زمانے میں تقریباً سولہ سترہ سال تک مسجد نبوی ﷺ میں درس حدیث کی خدمت تنگی و سرت کے باوجود حسبہ للہ توکل علی الله انجام دی ۔ عموما روزانہ تہجد کے بعد سے لے کر عشاء کے بعد تک بارہ بارہ گھنٹے تک مسلسل تفسیر حدیث، فقہ کے درس و تدریس کا مشغلہ جاری رہتا تھا۔ مختلف جماعتیں یکے بعد دیگرے حاضر ہو کر آپ کے فیضان علمی سے سیراب ہوتی تھیں ۔مسجد نبویﷺ میں آپ کا درس حدیث وہاں کے تمام شیوخ حدیث سے زیادہ پسندیدہ اور مقبول تھا اور اس کی شہرت نے مختلف اسلامی ممالک کےطالب علم کی ایک بڑی تعداد کو آپ کے گرد جمع کر دیا تھا۔ آپ کے درس میں مشائخ اور علماء کبار شامل ہونے لگے۔ حجاز مقدس میں آپ شیخ سے یاد کیا جانے لگا۔ حجاز کی مقدس سرزمین اور خاص مسجد نبوی میں ایک ہندوستانی عالم کی جانب اس قدر کشش اور قبول عام کا باعث آپ طریقہ درس کی اس خصوصیت کو سمجھنا چاہیے، جو آپ کو دارالعلوم دیو بند کے اساتذہ سے ورثہ میں ملی تھی۔مدینہ منورہ کے قیام کے زمانہ میں آپ کئی مرتبہ ہندوستان تشریف لائے ۔ 1329 ھ مطابق 1911 ء میں تقریبا ایک سال دیو بند میں قیام فرما کر تدریسی خدمات بھی انجام دیں۔ 1333ھ مطابق 1915ء میں جب حضرت شیخ الہندؒسیاسی مصالح کے پیش نظر حجاز مقد تشریف لے گئے تو آپ کے یہاں قیام فرمایا، اور آپ ہی کے ذریعے سے ترکی کے وزیر جنگ انور پاشا اور کمال پاشا سے ملاقات فرما کر اپنی انقلابی اسیر ان کے سامنے پیش کی تھی۔ وہ دوسری جنگ عظیم اور شریف کی عملی حکمت کے خلاف غارت کا تھاجب عربوں نے ترکوں کے خلاف بغاوت کی اورشریف حسین نےحضرت شیخ الہندؒ کوگرفتارکرکے انگریزوں کےحوالے کیا تو آپ بھی حضرت شیخ الہند کے رفقا میں شامل تھے۔ جس نے ان سب حضرات کو پہلے مصر پہنچایاپھرو ہاں سے مالٹا منتقل کر دیا۔ 1335ھ ربیع الآخر کے آخر میں یہ سب حضرات مالٹاپہنچے چنا نچہ سوا تین سال تک آپ کو بھی مالٹا میں جنگی قیدی کی حیثیت سے رہنا پڑا۔ اور آپ نے اس عرصہ پوری جانفشانی سے اپنے استاذ حضرت شیخ الہند ؒخدمت کی، اللہ کی عبادت کی ، کتابوں کےمطالعہ میں لگے رہے اور قرآن کریم بھی حفظ کر لیا۔ 22 جمادی الآخر 1338ھ مطابق 1920 ء میں رہائی کا حکم صادر ہوا تو آپ حضرت شیخ الہند ؒکی معیت میں ہندوستان تشریف لائے۔ مالٹا سے واپسی کا زمانہ تحریک خلافت کا آغاز کا زمانہ تھا، آپ یہاں پہنچ کر حضرت شیخ الہند ؒکی قیادت میں سیاست میں شریک ہو گئے۔ اس زمانہ میں آپ کی مجاہدانہ اور سرفروشانہ قربانیوں نے مسلمانوں کے دلوں کو آپ کی عظمت و محبت سے لبریز کر دیا۔ اسی دوران مولانا آزادؒ نے کلکتہ میں ایک نیشنل مدرسہ عالی قائم کیا اورحضرت شیخ الہند ؒسے فرمائش کی کہ اپنے خواص میں سےکسی کو تدریس کے لیے وہاں بھیج دیں، اس پر انہوں نے آپ کو کلکتہ جانے کا حکم دیدیا۔ آپ نے اپنی خواہش پر اپنے استاذ حضرت شیخ الہندؒ کی خواہش کو تر جیح دی اور زیادہ دور نہ گئے ہوں گے کہ حضرت شیخ الہندؒ کی وفات کی خبر آ گئی، آپ فورا دیو بند واپس آئے لیکن حضرت شیخ الہندؒ کی تدفین ہوچکی تھی۔ آپ نے دیوبند میں تین چار روز قیام کرکے کلکتہ جانے کاعزم فرمایا دارالعلوم دیوبند کے مہتم حضرت مولانا حافظ محمداحمدؒ صاحب نے آپ کو دارالعلوم دیو بند میں رہنے کا مشورہ دیا مگر آپ نے کہا کہ کلکتہ جانے کے لیے چونکہ حضرت شیخ الہندؒ فرما چکے ہیں اس لیے میرے لیے یہی مناسب ہے کہ میں کلکتہ چلا جاؤں ، اس کے بعد آپ کلکتہ آگئے اور ایک مدت تک اس مدرسہ میں تدریس میں مشغول رہے۔ پھر وہاں سے ( آسام کی راجدھانی ) سلہٹ جو کہ اب ( بنگہ دیش) میں ہے منتقل ہو گئے اور وہاں 6 سال حدیث شریف کا درس دیتے رہے، لوگوں کی اصلاح کرتے رہےاور ان میں غیرت ہمیت اور آزادی کے جذبہ کی روح پھونکتے رہے اور بیشمار لوگوں نے آپ سے فائدہ اٹھایا۔ حضرت شیخ الہند ؒکی وفات پر متفقہ طور سے آپ کو ان کا جانشین تسلیم کر لیا گیا۔ آپ حضرت شیخ الہندؒ کی سیاسی علمی وراثت کے سب سے بڑے امین تھے۔ آپ کو حضرت شیخ الہندؒ سے طویل صحبت و ملازمت کا شرف حاصل رہا جس میں آپ کے رفقاء، ومعاصرین میں کوئی بھی آپ کا سہیم و شریک نہیں۔ اس اتصال و یک کسی نے کی حضرت مدنیؒ کی ذات کو ایک ایسا آئینہ بنادیاتھا جس میں حضرت شیخ الہندؒ کے سراپا کو بخوبی دیکھا جا سکتاتھا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان کی جنگ آزادی زوروں پرتھی، ہر جگہ ایک ہنگامہ بر پا تھا۔ جب آزادی اور سیاسی انقلاب کی تحریک نے زور پکڑا تو آپ بھی اس میں لگ گئے۔ اس اثناء 1340ھ مطابق 1921 میں کراچی کا مشہور تاریخی مقدمہ پیش آیا۔ 1921ء میں آپ نے مسلمانوں کے لیے برطانیہ کی انگریز فوج میں ملازمت کو حرام قرار دیا اوراس کلمہ حق کا بر سر اجلاس اعلان کرکے ظالم انگریز حکومت کا تکبر و غرور خاک میں ملادیا۔ اس کلمہ حق کے اعلان پر آپ پر مقدمہ چلا اور دوسال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ 1923 ء میں قید کی یہ مدت پوری ہوئی اور آپ رحمہ اللہ ورہائی نصیب ہوئی ۔ (بشکریہ ماہنامہ انوار ختم نبوت دسمبر 2026)
 

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
مناقب شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین مدنیؒ
ترتیب:محمد طاھرقاسمی دھلوی
قسط دوم
جنگ آزادی میں شرکت و انہماک کے باعث شیخ العرب والعجم حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کو متعدد مرتبہ کئی کئی سال تک جیل میں رہنا پڑا۔ آپ کی زندگی کے تقریبا آٹھ سال قید فرنگ میں گزرے۔ آپ جہاد حریت کے صف اول کے قائدین میں سے تھے اور آپ نے ملک کی آزادی کے لیے قید و بند کی بے انتہا صعوبتیں برداشت کیں۔ جمعیتہ علماء ہند کے پلیٹ فارم سے آپ نے قوم وملت کی بیش بہا خدمات انجام دیں اور ملت اسلامیہ ہند کی اس عظیم الشان جماعت کی تا عمر قیادت فرمائی۔
دارالعلوم دیوبند میں مسند صدارت پر:۔
1346 ھ مطابق 1927ء میں جب حضرت علامہ سید انورشاہ صاحب کشمیریؒ دارالعلوم دیوبندمیں شیخ الحدیث کے منصب سے علیحدگی اختیار کر کے ڈابھیل منتقل ہو گئے تو آپ کے سوا دارالعلوم دیوبند میں کوئی ایسی شخصیت موجود نہ تھی جو دار العلوم دیو بند کی اس مہتم بالشان جگہ کو اس کے شایان شان پر کر سکے، اس لیے اکابر کی نظر انتخاب آپ ہی پر پڑی۔ دار العلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب عثمانیؒ نے آپ کو دارالعلوم دیو بند آنے کی پیشکش کی، آپ نے پہلے تو صاف انکار فرمایا مگر حضرت مہتمم صاحب کے اصرار عظیم پر 1346ھ مطابق 1927ء میں دارالعلوم دیوبند کا منصب صدارت اس شرط پر قبول فرمایا کہ جنگ آزادی کی تحریک میں حصہ لیتے رہیں گے ۔ حضرت مہتمم صاحب دارالعلوم دیو بند اور دیگر ذمہ داروں نے آپ کی جملہ شرطیں قبول کرتے ہوئے آپ کو دارالعلوم دیو بند کی مسند صدارت سونپ دیا جو دارالعلوم دیو بند کے لیے نیک فال ثابت ہوا۔ اس اعلیٰ منصب پر حضرت مدنی رحمہ اللہ 32 سال تک فائز رہے ۔ اس عرصہ میں علم و عرفان کی وہ بارش ہوئی جس سے دنیائے اسلام میں بہار آ گئی۔ مشرق سے مغرب تک کے بے شمار تشنگان علوم اس بحر معرفت سے سیراب ہوئے۔ آپ کے زمانہ صدارت میں طلبہ کی تعداد میں دوگنے سے بھی زیادہ اضافہ ہوا اور خاص طور پر دورہ حدیث کی جماعت میں یہ اضافہ تین گنے سے بھی متجاوز ہو گیا۔ 1346ھ سے 1377ھ تک 32 سال کی مدت میں آپ کے زمانہ صدارت میں 4483 طلبہ نے دورہ حدیث سے فراغت حاصل کی۔ آپ کا درس حدیث مضامین کے تنوع اور جامعیت کے لحاظ سے دنیائے اسلام میں اپنی نوعیت کا واحد درس سمجھا جاتا تھا، چنانچہ اس کی عظمت ، شہرت اور کشش سال بسال طلبہ کی تعداد میں اضافے کا موجب ہوتی رہی۔ حدیث نبوی سلیم میں آپ کا تلامذہ کا حلقہ بہت وسیع ہے اور بر صغیر کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جہاں آپ کے شاگرد موجود نہ ہوں ۔ بر صغیر کے مدارس میں مسند حدیث پر فائز سر بر آوردہ علماء کرام میں اکثر کو آپ کی شاگردی کا شرف حاصل ہے۔ جس طرح آج دنیائے اسلام میں دارالعلوم دیوبند کو علوم نبویہ کی تعلیم میں طغرائے امتیازحاصل ہے اس طرح آپ کا علمی فیض بھی امتیاز خاص رکھتا ہے۔
حضرت مدنی رحمہ اللہ کا دور تابناک دارالعلوم دیوبندکی انتہائی ترقی اور شہرت کا زمانہ تھا۔ شاید ہی کوئی ادارہ ایسے مجمع المحاسن انسان سے اتنے دنوں تک فیضیاب ہوا ہو۔ دارالعلوم دیوبند کی وہ بہار رفتہ جواس پیکر سنت محدث کے دور میں گزری ہے، لوٹ کر نہیں آسکتی۔ آپ رحمہ اللہ کو اللہ تعالی نے بے شمار صفات محمودہ سے نوازا تھا، شریعت و طریقت کے شیخ وقت کے جلیل القدر محدث ، اسلاف کی مکمل تصویر ، صحابہ کے نمونہ، سنتِ نبویﷺ کی تعلیم کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ایک منارہ ہدایت تھے۔ رات کے زاہد، دن کے مجاہد، 12 بجے شب تک بخاری شریف کے درس کے بعد طلباء بستر استراحت پر اور مجاہد شیخ اپنے رب کے حضور مصلے پر۔ آپ دار العلوم دیو بند میں بخاری شریف اور ترمذی شریف کا درس دیتے تھے، دونوں کتابوں کا درس نہایت محقق کے ساتھ ہوتا تھا کہیں کوئی تشنگی باقی نہیں پاتا۔ کمزور ذہن کے طلباء بھی پورے طور پر استفادہ کرتے تھے، آپ کی درسگاہ سے کوئی خالی دامن نہیں اٹھتا تھا، جس وقت آپ اپنے انوار و برکات کے ساتھ دار الحدیث میں جلوہ افروز ہوتے تھے وہ منظر بڑا دیدنی ہوتا تھا، ایک نورانی سماں آنکھوں کے سامنے آجاتا تھا معلوم ہوتا تھا ہم خیر القرون کا منظر دیکھ رہے ہیں۔ ابو حنیفہؒ وقت، شبلیؒ زمانہ خلیفتہ الرشید،تلمیذ المحمود جیسے کوئی گلدستہ ہو جس میں ہر طرح کے پھول لگے ہوئے ہیں۔ درسگاہ کا گہر ریزمحدث ،خانقاہ کا عطر ،بیز شیخ رزمگاہ کا قیامت خیز مجاہد۔
یہ تصور اور بھی ایمان و یقین کا ثبوت بنتا تھا کہ وہ محدث اعظم جس نے سترہ سال تک مسجد نبوی ﷺمیں حدیث پاک کا درس دیا ہے اور نہ معلوم کتنے مکی،مدنی ،شامی اور ترکی طلباءنے اس بحر نا پیدا کنارسے اپنی تشنگی بجھائی ہے۔ اے زہے نصیب کہ آج وہ ہمارے درمیان جلوہ نشاں ہے۔ اس خیال میں طالب علم محو ہو جاتا تھا۔ آپ نے مسلمانوں میں غیرت وحمیت زندہ کی اور بے مثال ہمت اور قوت ارادی کے ساتھ درسی وسیاسی دونوں کام انجام دیتے رہے۔
جہاد حریت کی قیادت:۔
حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒہندوستان کی جہاد آزادی کے صف اول کے قائدین میں سے تھے۔ آپ کو بجا طورپر جانشین شیخ الہندؒ کہا جاتا ہے۔ آپ نے حضرت نانوتویؒ اور حضرت شیخ الہندؒ وغیرہ اکابرین کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں بھر پورحصہ لیا اور جمعیت علمائے ہند کے پلیٹ فارم سے ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی قیادت کا فریضہ انجام دیا۔ آپ نے ملک کو آزاد کرانے ، اس سلسلہ میں قیدو بند کی صعوبتیں اٹھا نے قربانیاں دینے اور خلوص واستقامت سے کام کرنے کی ایسی مثال پیش کی جس کی وجہ سے ملت اسلامیہ اس سرزمین پر اعزاز و افتخار کے ساتھ نام نہا دعویداروں کے ساتھ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے، اپنے دین وشریعت اور زبان و تہذیب نیز نظام تعلیم میں اپنے تشخص اور اپنی ضرورت کا احساس کرانے کی اہل بن سکی۔
حضرت حاجی امداداللہ مہاجرمکیؒ کی دعائے صبح آ گاہی، حضرت نانوتویؒ کی قلبی کیفیات اور حضرت شیخ الہند ؒکی ملکی و ملی خدمات نے جو نقش قائم کیا ان کو عملی صورت میں آگے بڑھانے کے لیے آپ نے جمعتہ علمائے ہندکے تو سط سے گھرگھر آزاد ی کا صورپھونکا اور ایک پاکباز اور وفادار مجاہد کی حیثیت سے دینی وملکی خدمات کا ایک لازوال نقش قائم کیا۔ آپ ؒکی انقلابی فکرو عزیمت اورسیاسی بصیرت کالوہا مخالفین نے بھی مانا۔ملک کی تقسیم کے جن مضر اثرات کو آپؒ نے اپنی تقریروں میں واضح کیا، آج وہ کھل کر سامنے آگئے۔ خدمت قوم و وطن کے سلسلے میں جتنا عظیم جہادآپ نے کیا ہے اس کی مثال اور نظیر کم ہی مل سکتی ہے۔
تقسیم ہند کے بعد آپ نے عملی طور پر سیاست سے علیحدگی اختیار کر لی، اور درس و تدریس، دعوت وارشاد اور تعلیم وتربیت میں مشغول ہو گئے۔حکومت اور حکومت کے لوگوں سے آپ کا تعلق باقی نہیں رہا، 1373ھ مطابق 1954 ء میں صدر جمہور یہ ہند نے آپ کو ایک اعزازی عہدہ دینے کی پیشکش بھی کی لیکن آپ نے یہ کہ کر انکار کر دیا ہمارےاسلاف کے طرز عمل سے میل نہیں کھاتا۔ آپ دار العلوم دیوبندہی میں حدیث شریف کا درس دیتے رہے اور ساتھ میں ملک کے طول و عرض میں دورے بھی کرتے رہے، آپ اپنے اوقات کے بڑے پابند تھے، راتوں کو جاگ کر اپنے ظائف پورے کرتے اور درسی کتابوں مطالعہ کرتے اور پھر پوری بشاشت کے ساتھ درس دیتے، آپ آنے والے وفود اور مہمانوں کا اکرام کرتے ، سائلوں کا حق ادا کرتے اور مسلمانوں کو دعوت دیتے کہ دین کو مضبوطی سے تھامے رہیں، شریعت اسلامی کے احکام کی پیروی کرتے رہےرہیں، حضور ﷺ کی سنتوں پر چلتے رہیں اوراللہ کے ذکر کی کثرت اور اصلاح حال کرتے رہیں۔ آپ کے اندرحد سے زیادہ تواضع تھی، اللہ تعالی نے لوگوں کے دلوں کو آپ کی طرف مائل کر دیا تھا اور آپ کی محبت ان کے دلوں میں راسخ کر دی تھی، ہر طرف سے لوگ آپ کی خدمت میں تنہابھی اور گروہوں کی شکل میں بھی حاضر ہوتے تھے اور اسی طرح اپنے یہاں بلانے والوں کے دعوت ناموں کا بھی آپ کے پاس ڈھیر لگا رہتا تھا،جن کو آپ بڑی خوش دلی سے قبول کر لیتے تھے اور مشقتیں اٹھا کر وہاں تشریف لے جاتے تھے۔ جمعیت علمائے ہند آپ کی محبوب جماعت تھی جس کے ساتھ آپ ہمیشہ وابستہ رہے 1940 ء میں جمعیہ علمائے ہند کی صدارت آپ کے سپرد ہوئی، جو 1957 یعنی آپ رحمہ اللہ کی وفات تک باقی رہی ۔ سترہ سال تک یہ علماء کی جماعت آپ کی صدارت میں اپنے کام کو سر انجام دیتی رہی۔(بشکریہ ماہنامہ انوار ختم نبوت جنوری 2026ء)
 

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
مناقب شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین مدنیؒ
ترتیب:محمد طاھرقاسمی دھلوی
قسط سوم(آخری قسط)
ایک جامع شخصیت:۔
حضرت مدنیؒ کی ذات گرامی ایک ایسا جو ہر قابل تھی جس میں عالم دین کی عظمت و رفعت، مجاہد کی جرات و عزیمت اور شیخ وقت کی کشش ومقبولیت جیسی ساری صفات محمود ہ جمع تھیں۔ آپ رحمہ الله کی تعلیم ، تربیتی تصنیفی اور سیاسی خدمات اور کارنامے نصف صدی سے زیادہ عرصہ پر محیط ہیں۔ مدینہ منورہ، مدرسہ عالیہ کلکتہ اور سلہٹ و آسام کے علاوہ صرف دار العلوم دیو بند میں چار ہزار سے زائد تلامذہ ہیں جنھوں نے آپ کی شمع علم سے اکتساب نور کیا۔ لاکھوں سے زیادہ طالبین حق ہیں جنھوں نے تربیت گاہ مدنی ؒسے صحیح عقائد ، تحسین اخلاق اور تزکیہ باطن کا درس لیا جن میں ڈیڑھ سو سے زیادہ خوش بخت اور جواں ہمت بھی ہیں جو احسان و سلوک کی منزلیں طے کر کے سند اجازت و خلافت سے مشرف ہوئے۔ اصلاح معاشرہ اور تبلیغ دین کے لیے اس وسیع وعریض ملک کے چٌے چٌے کا دورہ، اسلامی عنوانات پر ہزاروں سے زائد خطبات و تقریریں، علوم اسلامی کی اشاعت کی غرض سے ہزاروں مکاتب دینیہ اور مدارس اسلامیہ کی سر پرستی ونگرانی آپ کی خدمات کا روشن عنوان ہیں۔
استخلاص وطن، حریت قومی اور ملت کی سربلندی کے لیے آپ نے وقت کی سب سے بڑی استعماری طاقت سے محاذ آرائی کی۔ آپ نےسیاست کے بحر مواج میں اپنے سفینہ کی تختی بندی کی مگر اس بصیرت کے ساتھ کی کہ اس کی چھینٹیں آپ کے دامن حیات کو نمناک نہ کرسکیں۔ آپ نے مذہب و سیاست کے جام و سندان کو با ہم آمیز کر دیا مگر اس کمال فراست کے ساتھ کہ دونوں کی نزاکتوں سے ایک لمحہ کے لیے بھی صرف نظر نہیں کیا۔ بسا اوقات پورا دن ٹرین، تانگہ اور بیل گاڑیوں کے تکلیف دہ سفر میں گزرجاتا اور رات کا بیشتر حصہ جلسہ، وعظ یا درس میں لیکن کیا مجال کہ آہ نیم شبی اور آقائے بے نیاز سے عرض و نیاز کے محبوب مشغلہ میں ذرا بھی فرق آجائے۔
پھر ان ہمہ جہت اور مختلف النوع مشاغل کے ساتھ مختلف دینی، علمی، سیاسی اور تاریخی موضوعات پر کتب و رسائل کی تالیف و تصنیف، نیز ہزاروں صفحات پر پھیلے ہوئے ان مکاتیب کی تحریر جن میں تفسیر آیات، تشریح احادیث، تفصیل عقائد، توضیح مسائل فقہیہ، رموز احسان اور تاریخ و سیاست سے متعلق بیش بہا،نا در معلومات کا عظیم ذخیرہ جمع کر دیا ہے جس کے بارے میں پورے اعتماد کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ مکتوبات و ملفوظات کی طویل فہرست میں مخدوم شرف الدین یحی منیریؒ (م 782ھ) مجددالف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ (م 1034ھ) اور شیخ حسام الدین مانک پوری ؒکے مجموعہ مکاتیب کے بعد شیخ الاسلام حضرت مدنیؒ کے مکتوبات اپنی افادیت، اپنی اثر آفرینی، کثرت معلومات اور جامعیت میں سب پر فوقیت رکھتے ہیں اورجاننے والے جانتے ہیں کہ یہ مکتوبات قلم برداشتہ اور بالعموم اسفار یا قید و بند کی حالت میں لکھے گئے ہیں جس سے شیخ الاسلام کے علمی استحضار و عبقریت کا کسی قدر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔آپؒ کی خود نوشت سوانح حیات’’نقش حیات‘‘تاریخ آزادی ہند کی مستند دستاویز ہے۔
حضرت مولانا مدنی کی ذات بڑی اخلاقی خوبیوں اور مکارم عادات کا مجموعہ تھی۔ آپ رحمۃ اللہ کا حلم و تواضع اور عاجزی وانکساری مثالی تھی۔آپ کا دستر خوان نہایت وسیع تھا عموما کم از کم دس سے پندرہ مہمان آپ کے دستر خوان پر ضرور موجود رہتے تھے۔
تصنیفات و تالیفات:۔
آپ رحمہ الله کی تصنیفات کی تعداد کم ہے، کیوں کہ مختلف تدریسی، سیاسی اور تبلیغی و اصلاحی مشغولیات کی وجہ سے آپ اس جانب توجہ نہ دے سکے۔ ذیل میں آپ کی کتابوں کی فہرست دی جارہی ہے:
(1) مکتوبات شیخ الاسلام (2) نقش حیات (3) الشہاب الثاقب (4) سلاسل طیبہ (5) اسیر مالٹا (6) متحدہ قومیت اور اسلام (7) مودودی دستور کی حقیقت (8) ایمان و عمل (9) خطبات صدارت (10) الخليفة المهدي في الحاديث الصحيحة (11) الحالة التعلیمية في الهند (12) بحوث في الدعوة والفكر الاسلامی (13) درس بخاری ( مرتب مولانا نعمت اللہ اعظمی)
وفات حسرت آیات:۔
محرم الحرام 1377ھ مطابق 1957ء میں آپ مدر اس کے سفر پر روانہ ہوئے، کم وبیش ڈیڑھ ماہ سفر کا پروگرام تھا۔اس سفر میں دل کا دورہ پڑا، دیو بند واپس تشریف لانے پر ڈاکٹروں نے تشخیص کیا کہ قلب کا پھیلا ؤبڑھ گیا ہے۔ مقامی اور بیرونی ڈاکٹروں کا علاج ہوتا رہا مگر افاقہ نہ ہوا، پھر یونانی علاج شروع کیا گیا، چنانچہ اس وقت کے سارے ہندوستان کے مشہور معالجین حکیم عبد الجلیل صاحب ، حکیم محمد اسماعیل صدیقی صاحب دواخانہ دہلی حکیم محمد عمر صاحب دارالعلوم دیو بند، حکیم اجمل خان صاحب، حکیم عبدالحمید صاحب ہمدرد دوا خانه دہلی و غیره سارے ہی یونانی اطباء جمع ہو گئے اور نہایت غور و فکر کے ساتھ دوائیں، علاج اور غذا تجویز کی گئی۔ اس علاج سے حیرتناک طور پر افاقہ ہوا اور حضرت مدنیؒ ایک مدت کے بعد باہر تشریف لائے ، اس واقعہ سے چاروں طرف مسرت و شادمانی کی لہر دوڑ گئی ۔
10، 11 جمادی الاولی 1377ھ مطابق (3، 4 دسمبر 1957 ء) کو طبیعت کافی پرسکون رہی، 12 جمادی الاولی (5 دسمبر ) بروز جمعرات کی صبح کو طبیعت کافی ہشاش بشاش ہوگئی، نو یا دس بجے کے قریب کمرے سے نکل کر بغیر کسی کی مدد کے چھڑی کے سہارے صحن میں تشریف لائے اور آرام فرمایا، ان دنوں کے بعد صحت اور طاقت کی یہ معمول کی نشانی آئی تھی، کئی ن کے بعد دوپہر کوغذا تناول فرمائی، بچوں اور اہلیہ محترمہ سے باتیں
کیں اور سب بچوں کو حسن خلق کے ،حسن معاملہ اور پابندی شریعت کے بارے میں نصیحتیں فرماتے رہے اور پھر لیٹ گئے۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے کے بعد 3 بجے کے قریب نماز ظہر کے لیے جب بیدار کرنا چاہا تو کوئی جواب حرکت نہ دیکھی تو لوگ سراسیمہ اور بدحواس ہو کر دوڑے بھاگے ڈاکٹروں اور حکیموں کو بلایا انھوں نے معائنہ فرمایا ورتھوڑی ہی دیر میں اعلان کر دیا ک شیخ العرب والعجم ، امام العصر ،محدث دوراں، شیخ الاسلام حضرت اقدس مولانا سیدحسین احمدمدنی رحمہ اللہ علیہ کا وصال ہو چکا ہے۔ انَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ۔
آپ ؒ کے وصال کے بعد فوراہر جگہ ٹیلیفون تار او فرستادہ دوڑ گئے تھوڑی دیر میں آل انڈیا ریڈیو نے وصال کی اطلاع نشر کی ،بہت سے شہروں کے بازار بند ہوئے ختم قرآن کا اہتمام ہونے لگا اور اورلوگ دیوانہ وار دیوبند کی طرف روانہ ہوگئے، سپیشل ٹرینیں ،بسیں، لاریاں، ٹریکٹر سائیکل پیدل اور موٹر سائیکل غرض جس کو جو سواری میسر آئی دیکھتے ہی دیکھتے تھوڑی دیر میں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتاسمندر دارالعلوم دیوبنداور حضرت مدنی رحمہ للہ کے دولت کدہ پر جمع ہوگئے، لاکھوں انسانوں کی آنکھوں سے آنسورواں تھے ، لوگ ہچکیاں اورسسکیاں لے کر رو رہے تھے حسرت زدوں میں مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی برابر شریک تھے۔ دور دراز کے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ جمعہ کے دن بعد نماز جمہ تدفین عمل میں آئے گی مگر صاحبزادہ مولانا سید اسعد مدنی صاحبؒ نے فرمایا کہ ابا جان ساری عمر سنت رسول ﷺپرعمل کرتے رہےہیں اورحضور ﷺ کا ارشادہے کہ تدفین میں عجلت کی جائے ، ہمیں جلدی کرنا چاہیے اگر چہ حضرت کی یہ وصیت نہیں۔
 
Top