مناقب شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین مدنیؒ
ترتیب:محمد طاھرقاسمی دھلوی
قسط اول
تعارف: ۔ترتیب:محمد طاھرقاسمی دھلوی
قسط اول
حضرت اقدس مولانا سید حسین احمد صاحب مدنی نوراللہ مرقدہ آپ اسلامی ہند کے شیخ الاسلام، دارالعلوم دیو بند کے صدر المدرسین و شیخ الحدیث، جمعیۃ علماء ہند کے صدر ، ہزاروں علماء کے جلیل القدر استاذ ، لاکھوں انسانوں کے بر شد کامل اور سیاست و طریقت کے امام تھے۔ آپ اپنی جامعیت کے اعتبار سے ’’اِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ امَّةً “ کی تفسیر تھے، کیوں کہ آپ بیک وقت علوم و معارف کے امام مجلس ارشاد و سلوک کے صدرنشین ، عزیمت و استقامت کے پہاڑ فقر تواضع کے نشان، بصائر وحِکم کے سرچشمہ، زہد و قناعت کے مجسمہ، اخلاص وایثار کے پیکر، سخاوت و شجاعت کے مخزن ، میدان صبر و رضا کے شہ سوار، قافلہ جہد و عمل کے تاجدار اور سلف صالحین کی مکمل و متحرک یادگار تھے۔
ولادت :۔
آپ کی ولادت با سعادت 19 شوال المکرم 1296ھ مطابق 6 اکتوبر 1879 ، بانگر مئوضلع اُنّاؤ ( یوپی ) میں ہوئی ۔ جہاں آپ کے والد ماجد حضرت سید حبیب اللہ صاحب مڈل اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے اور مع اہل خانہ وہیں مقیم تھے، ویسے آپ کا وطن الہ داد پور ٹانڈہ ضلع فیض آباد ہے۔ آپ کا تاریخی نام چراغ محمد رکھا گیا۔ آپ کے والد محترم حضرت مولانا شاہ فضل رحمن گنج مراد آبادی سے مرید تھے ۔ اپنے علم و تقویٰ کے لحاظ سے سادات کا یہ خاندان ہمیشہ ایک خاص عظمت اور شاہی زمانہ میں ایک بڑی جاگیر کا مالک رہا ہے۔
تعلیم وتربیت :۔
آپ نے ابتدائی تعلیم پرائمری اسکول میں حاصل کی ، 14 سال کی عمر ہوئی تو آپ 1309ھ مطابق 1891ء میں دار العلوم دیو بند تشریف لائے اور ابتدائی درجہ میزان الصرف میں داخلہ لیا، یہاں حضرت شیخ الہند نے خاص شفقت و عنایت سے آپ کی تعلیم و تربیت فرمائی ۔ سات سال دار العلوم دیو بند میں رہ کر 1316ھ مطابق 1898ء میں فراغت حاصل کی ۔ دارالعلوم دیو بند میں آپ نے جن اکابر علماء کرام سے استفادہ اور شرف تلمذ حاصل کیا ان میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی ؒ، حضرت مولانا ذ و الفقار علیؒ ، حضرت مولانا عبد العلیؒ، حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ، حضرت مولانا حکیم محمد حسنؒ ، حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن عثمانیؒ ، حضرت مولانا غلام رسول ہزاروی ؒ، حضرت مولانا حافظ محمد احمدؒ ، حضرت مولانا حبیب الرحمن عثمانیؒ، حضرت مولانا سید محمد صدیق ؒجیسے اساطین علم وفن شامل ہیں ۔
درس و تدریس :۔
دار العلوم دیو بند کے نصاب کی تکمیل اور سات سال یہاں کے علمی ماحول میں گزارنے کے بعد جب وطن مالوف تشریف لے گئے تو 1306ھ میں آپ کے والد ماجد شوق ہجرت میں مدینتہ الرسول ﷺ کے لیے مع اہل و عیال رخت سفر باندھ چکے تھے۔ آپ بھی والدین کے ہمراہ روانہ ہو گئے ۔ روانگی حجاز سے قبل آپ قطب الاقطاب حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی ؒسے بیعت ہو چکے تھے اور انہیں کے حکم سے مکہ مکرمہ میں سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکیؒ سے کسب فیض کیا۔ حضرت حاجی صاحب کی خدمت میں دو ماہ رہ کر پھر مدینہ منورہ میں والد ماجد کے ساتھ مقیم ہو گئے ۔ مدینہ منورہ آکر آپ نے زہد و تقوی، توکل و اخلاص اور سادگی کی زندگی اختیار کی ۔ ہر چند آپ نے ہندوستان سے ہجرت کا قصد نہیں فرمایا تھا تا ہم والد صاحب کی حیات تک آغوش پدری کو چھوڑ کر ہندوستان واپس آنا پسند نہیں کیا۔ 1318ھ میں حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیؒ نے آپ کو بذریعہ خط ہندوستان بلایا اور اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا، اس سفر میں آپ کو تین ماہ حضرت گنگوہی کی خدمت میں رہنے کا موقعہ ملا۔ قیام مدینہ منورہ کے زمانے میں تقریباً سولہ سترہ سال تک مسجد نبوی ﷺ میں درس حدیث کی خدمت تنگی و سرت کے باوجود حسبہ للہ توکل علی الله انجام دی ۔ عموما روزانہ تہجد کے بعد سے لے کر عشاء کے بعد تک بارہ بارہ گھنٹے تک مسلسل تفسیر حدیث، فقہ کے درس و تدریس کا مشغلہ جاری رہتا تھا۔ مختلف جماعتیں یکے بعد دیگرے حاضر ہو کر آپ کے فیضان علمی سے سیراب ہوتی تھیں ۔مسجد نبویﷺ میں آپ کا درس حدیث وہاں کے تمام شیوخ حدیث سے زیادہ پسندیدہ اور مقبول تھا اور اس کی شہرت نے مختلف اسلامی ممالک کےطالب علم کی ایک بڑی تعداد کو آپ کے گرد جمع کر دیا تھا۔ آپ کے درس میں مشائخ اور علماء کبار شامل ہونے لگے۔ حجاز مقدس میں آپ شیخ سے یاد کیا جانے لگا۔ حجاز کی مقدس سرزمین اور خاص مسجد نبوی میں ایک ہندوستانی عالم کی جانب اس قدر کشش اور قبول عام کا باعث آپ طریقہ درس کی اس خصوصیت کو سمجھنا چاہیے، جو آپ کو دارالعلوم دیو بند کے اساتذہ سے ورثہ میں ملی تھی۔مدینہ منورہ کے قیام کے زمانہ میں آپ کئی مرتبہ ہندوستان تشریف لائے ۔ 1329 ھ مطابق 1911 ء میں تقریبا ایک سال دیو بند میں قیام فرما کر تدریسی خدمات بھی انجام دیں۔ 1333ھ مطابق 1915ء میں جب حضرت شیخ الہندؒسیاسی مصالح کے پیش نظر حجاز مقد تشریف لے گئے تو آپ کے یہاں قیام فرمایا، اور آپ ہی کے ذریعے سے ترکی کے وزیر جنگ انور پاشا اور کمال پاشا سے ملاقات فرما کر اپنی انقلابی اسیر ان کے سامنے پیش کی تھی۔ وہ دوسری جنگ عظیم اور شریف کی عملی حکمت کے خلاف غارت کا تھاجب عربوں نے ترکوں کے خلاف بغاوت کی اورشریف حسین نےحضرت شیخ الہندؒ کوگرفتارکرکے انگریزوں کےحوالے کیا تو آپ بھی حضرت شیخ الہند کے رفقا میں شامل تھے۔ جس نے ان سب حضرات کو پہلے مصر پہنچایاپھرو ہاں سے مالٹا منتقل کر دیا۔ 1335ھ ربیع الآخر کے آخر میں یہ سب حضرات مالٹاپہنچے چنا نچہ سوا تین سال تک آپ کو بھی مالٹا میں جنگی قیدی کی حیثیت سے رہنا پڑا۔ اور آپ نے اس عرصہ پوری جانفشانی سے اپنے استاذ حضرت شیخ الہند ؒخدمت کی، اللہ کی عبادت کی ، کتابوں کےمطالعہ میں لگے رہے اور قرآن کریم بھی حفظ کر لیا۔ 22 جمادی الآخر 1338ھ مطابق 1920 ء میں رہائی کا حکم صادر ہوا تو آپ حضرت شیخ الہند ؒکی معیت میں ہندوستان تشریف لائے۔ مالٹا سے واپسی کا زمانہ تحریک خلافت کا آغاز کا زمانہ تھا، آپ یہاں پہنچ کر حضرت شیخ الہند ؒکی قیادت میں سیاست میں شریک ہو گئے۔ اس زمانہ میں آپ کی مجاہدانہ اور سرفروشانہ قربانیوں نے مسلمانوں کے دلوں کو آپ کی عظمت و محبت سے لبریز کر دیا۔ اسی دوران مولانا آزادؒ نے کلکتہ میں ایک نیشنل مدرسہ عالی قائم کیا اورحضرت شیخ الہند ؒسے فرمائش کی کہ اپنے خواص میں سےکسی کو تدریس کے لیے وہاں بھیج دیں، اس پر انہوں نے آپ کو کلکتہ جانے کا حکم دیدیا۔ آپ نے اپنی خواہش پر اپنے استاذ حضرت شیخ الہندؒ کی خواہش کو تر جیح دی اور زیادہ دور نہ گئے ہوں گے کہ حضرت شیخ الہندؒ کی وفات کی خبر آ گئی، آپ فورا دیو بند واپس آئے لیکن حضرت شیخ الہندؒ کی تدفین ہوچکی تھی۔ آپ نے دیوبند میں تین چار روز قیام کرکے کلکتہ جانے کاعزم فرمایا دارالعلوم دیوبند کے مہتم حضرت مولانا حافظ محمداحمدؒ صاحب نے آپ کو دارالعلوم دیو بند میں رہنے کا مشورہ دیا مگر آپ نے کہا کہ کلکتہ جانے کے لیے چونکہ حضرت شیخ الہندؒ فرما چکے ہیں اس لیے میرے لیے یہی مناسب ہے کہ میں کلکتہ چلا جاؤں ، اس کے بعد آپ کلکتہ آگئے اور ایک مدت تک اس مدرسہ میں تدریس میں مشغول رہے۔ پھر وہاں سے ( آسام کی راجدھانی ) سلہٹ جو کہ اب ( بنگہ دیش) میں ہے منتقل ہو گئے اور وہاں 6 سال حدیث شریف کا درس دیتے رہے، لوگوں کی اصلاح کرتے رہےاور ان میں غیرت ہمیت اور آزادی کے جذبہ کی روح پھونکتے رہے اور بیشمار لوگوں نے آپ سے فائدہ اٹھایا۔ حضرت شیخ الہند ؒکی وفات پر متفقہ طور سے آپ کو ان کا جانشین تسلیم کر لیا گیا۔ آپ حضرت شیخ الہندؒ کی سیاسی علمی وراثت کے سب سے بڑے امین تھے۔ آپ کو حضرت شیخ الہندؒ سے طویل صحبت و ملازمت کا شرف حاصل رہا جس میں آپ کے رفقاء، ومعاصرین میں کوئی بھی آپ کا سہیم و شریک نہیں۔ اس اتصال و یک کسی نے کی حضرت مدنیؒ کی ذات کو ایک ایسا آئینہ بنادیاتھا جس میں حضرت شیخ الہندؒ کے سراپا کو بخوبی دیکھا جا سکتاتھا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان کی جنگ آزادی زوروں پرتھی، ہر جگہ ایک ہنگامہ بر پا تھا۔ جب آزادی اور سیاسی انقلاب کی تحریک نے زور پکڑا تو آپ بھی اس میں لگ گئے۔ اس اثناء 1340ھ مطابق 1921 میں کراچی کا مشہور تاریخی مقدمہ پیش آیا۔ 1921ء میں آپ نے مسلمانوں کے لیے برطانیہ کی انگریز فوج میں ملازمت کو حرام قرار دیا اوراس کلمہ حق کا بر سر اجلاس اعلان کرکے ظالم انگریز حکومت کا تکبر و غرور خاک میں ملادیا۔ اس کلمہ حق کے اعلان پر آپ پر مقدمہ چلا اور دوسال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ 1923 ء میں قید کی یہ مدت پوری ہوئی اور آپ رحمہ اللہ ورہائی نصیب ہوئی ۔ (بشکریہ ماہنامہ انوار ختم نبوت دسمبر 2026)