شیطان کی نانی اور پلستر کی کہانی

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
آج میں بیٹھی ہوں۔۔۔ اور میرا بیٹا ہادی اپنے کمرے میں، پلستر بندھے بازو کے ساتھ کبھی کروٹ بدلتا ہے، کبھی نیند میں کچھ بڑبڑاتا ہے۔
گھر میں ایک عجیب سا سکون ہے۔۔۔
وہ والا سکون نہیں جو عبادت کے بعد آتا ہے بلکہ وہ والا سکون۔۔۔ جو توپوں کی گرج، چیخوں اور "مماااا!" کی صداؤں کے بعد میدانِ جنگ پر اترتا ہے۔
میں نے چائے کا کپ ہاتھ میں لیا، ایک لمبی سانس لی، اور دل میں کہا: یہ سب لکھ لینا چاہیے۔۔۔
تو جناب قصہ شروع ہوتا ہے گزشتہ جمعے سے۔۔۔
جمعہ کے دن ہمارے گھر کی رونق ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ مغرب کے بعد بچوں کی ٹولیاں آ جاتی ہیں، ہفتے بھر کا حفظ سنایا جاتا ہے۔
بچے آتے ہیں، قرآن کی آوازیں، ہنسی، دوڑ، کبھی کسی کی تجوید ٹھیک ہو رہی ہوتی ہے، کبھی کسی کی شرارت۔
لیکن اس جمعہ۔۔۔ کچھ زیادہ ہی محبت بہہ رہی تھی۔
پہلا بچہ آیا ہاتھ میں چاکلیٹس کا باؤل، وہ بھی ایسا جیسے کسی شادی سے اٹھا کر لایا ہو: "آنٹی! یہ صرف آپ کے لیے ہے۔ کسی اور کو نہیں دوں گا!"
دوسرا آیا کپ کیکس کے ساتھ، آئسنگ آدھی پگھلی ہوئی: "آنٹی! میں نے خود نہیں بنائے۔۔۔ لیکن دل سے لایا ہوں!"
تیسرا آیا خالی ہاتھ، مگر زبان بھرپور: "آنٹی! آپ آج بہت اچھی لگ رہی ہیں!"
اور میرا اپنا لختِ جگر، ہادی، اس دن مما مما کی رٹ لگائے ہوئے تھا۔
میں نے دل میں سوچا: "یا اللہ! آج کیا ہو گیا ہے؟ کیا واقعی فرشتے اتر آئے ہیں۔۔۔ یا کچھ بہت بڑا چھپایا جا رہا ہے؟"
چند ہی لمحوں بعد راز کھل گیا۔ یہ ساری رشوتیں، یہ سارے تحفے، یہ سارا پیار، دراصل اس طوفان کی پیشگی معافی تھی جو انہوں نے تھوڑی دیر پہلے برپا کیا تھا۔
ان سب موصوف حضرات نے مل کر لیفٹیننٹ کرنل صاحب کی فیملی کے بچوں کو مارا تھا۔ اور صرف مارا ہی نہیں، بلکہ پورے "فوجی انداز" میں مارا تھا۔
اب مصیبت یہ ہوئی کہ وہ بچے میرے پاس شکایت لے کر آئے۔
آنکھوں میں آنسو، بال بکھرے ہوئے، سانس پھولی ہوئی: "آنٹی! ہمیں مارا گیا ہے!"
"کس نے؟"
جواب آیا: "ولی!"
میں نے سکون کا سانس لیا: "ولی تو ہاسٹل میں ہے، اتنی دور سے آ کر وہ تمہیں کیسے مار سکتا ہے۔۔۔"
بچے نے انگلی اٹھا کر کہا: "آنٹی۔۔۔ یہی ہے وہ ولی!"
میں نے نظر گھمائی۔۔۔ اور دیکھا میرا اپنا "کوڈ نیم سپیشلسٹ" ہادی، دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے، ایسے کھڑا تھا جیسے اسے دنیا کے حالات سے کوئی غرض ہی نہ ہو۔
"ہادی! یہ کیا ہے؟"
وہ بالکل پرسکون لہجے میں بولا: "مما، پینک نہ کریں۔ یہ سب سٹریٹیجی کا حصہ ہے۔"
پھر وضاحت: "ہم 'فوج اور ڈاکو' کھیل رہے تھے۔۔۔ اس لیے میرا کوڈ نیم آج 'ولی' تھا۔"
پھر ذرا فخر سے: "اور میں اکیلا نہیں تھا۔۔۔ سب نے اپنے بھائیوں کے نام استعمال کیے ہیں۔ یہ ہماری ٹیم کی ایس او پی ہے!"
معاملہ تو میں نے سنبھال لیا۔۔۔ لیکن میرا بیٹا کہاں رکنے والا تھا۔
ہادی کی شرارت کبھی پہلے مرحلے پر نہیں رکتی۔ اس کا اگلا موڈ ہوتا ہے جسے میں "جنگی زون" کہتی ہوں۔ اس موڈ میں وہ خود کو کوئی پاکستانی ریمبو سمجھنے لگتا ہے۔
اب اسے شکایت کا دکھ تھا: "میں نے تو مذاق کیا تھا۔۔۔ انہوں نے مما سے شکایت کیوں کی؟"
تو اس نے فیصلہ کیا: "اب اصل جنگ ہوگی۔"
پھر کیا تھا۔۔۔ کہیں سے گزرتے ہوئے ہلکا سا دھکا، سیڑھیوں پر جاتے ہوئے اچانک "اوہ سوری!" کہہ کر ٹانگ اڑانا، اور پھر بھاگتے ہوئے قہقہہ: "پکڑو مجھے اگر پکڑ سکتے ہو!"
ایک بار تو میں نے دیکھا وہ کونے میں چھپ کر خود ہی "مشن امپوسیبل" کی طرح دیوار کے ساتھ لگ کر کسی کے گزرنے کا انتظار کر رہا تھا!
اور پھر۔۔۔ کل شام۔
وہ لمحہ جو ہر ماں کی کہانی میں ایک "سلو موشن سین" بن جاتا ہے۔
ہادی نے بچوں کو ان کے دروازے کے سامنے مارا۔۔۔ اور جیسے ہی وہ لپکے وہ پوری رفتار سے بھاگا۔
میں نے دور سے دیکھا۔۔۔ اور دل میں کہا: "یہ اب گرے گا۔۔۔"
اور واقعی سیڑھی۔۔۔ پاؤں پھسلا۔۔۔ اور پھر۔۔۔ دھڑام! دھڑ۔۔۔ دھڑ۔۔۔ دھڑام!
ایسا لگا جیسے کوئی ڈرامہ نہیں، بلکہ پوری فلم کا کلائمکس چل رہا ہو۔
جب میں پہنچی۔۔۔
وہ نیچے پڑا تھا، آنکھوں میں آنسو، مگر زبان ابھی بھی ایکٹو: "مما۔۔۔ میں ٹھیک ہوں۔۔۔ بس تھوڑا سا۔۔۔ زیادہ ٹھیک نہیں ہوں۔۔۔"
گھٹنے چھلے ہوئے، ماتھے پر گومڑا۔۔۔ اور بازو۔۔۔ ٹوٹی ہوئی چھڑی کی طرح مڑا ہوا۔ یعنی فریکچر۔
سی ایم ایچ کا وہ منظر۔۔۔ شاید میں کبھی نہ بھول سکوں۔
ہادی درد سے تڑپ رہا تھا۔۔۔ مگر زبان اب بھی "فعال" تھی۔
نرس اس کا بلڈ پریشر چیک کر رہی تھی، اور وہ اسے بڑی سنجیدگی سے کہہ رہا تھا:
"آنٹی۔۔۔ یہ مشین صحیح بتا رہی ہے نا؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ میرا ہاتھ بھی غلط جگہ پر ٹھیک کر دیں۔"
ڈاکٹر، جو خود ایک میجر تھے، مسکرا کر بولے: "بیٹا! یہ کیسے ہوا؟"
ہادی نے کراہتے ہوئے جواب دیا: "دشمن سے۔۔۔ اور فکر نہ کریں، داہنا ہاتھ بچا لیا ہے کیونکہ امتحان دینا ہے۔"
ایمرجنسی میں کھڑے ایک بزرگ ہنس پڑے: "بیٹی! یہ بچہ تو رپورٹ بھی فوجی زبان میں دے رہا ہے!"
جب ڈاکٹر نے اس کا بازو سیدھا کرنے کے لیے پکڑا۔۔۔
تو ہادی نے آنکھیں زور سے بند کر لیں، پھر اچانک ایک آنکھ کھول کر بولا:
"مما۔۔۔ کیا پاپا کو بتائیں گی؟"
میں نے کہا: "نہیں۔"
وہ فوراً بولا: "پھر ٹھیک ہے انکل، آپ اپنا کام کریں۔ میں نیگوشیٹ کر چکا ہوں۔"
پلستر چڑھنے کے بعد۔۔۔ وہ چند لمحوں کے لیے بالکل خاموش ہو گیا۔
میں نے سوچا شاید اب درد غالب آ گیا ہے۔۔۔ شاید اب وہ نرم ہو گیا ہے۔۔۔
لیکن نہیں۔ چند سیکنڈ بعد وہ اپنے پلستر کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے کسی نے اسے نیا کھلونا دے دیا ہو۔
"مما۔۔۔ یہ تو بالکل سفید بورڈ ہے!"
میں نے حیران ہو کر کہا: "تو؟"
وہ بولا: "ہم اس پر سب کے سگنیچرر لیں گے۔۔۔ جیسے سلیبرٹی کرتے ہیں!"
پھر تھوڑی دیر سوچ کر بولا: "اور سب سے اوپر۔۔۔ اسی بچے کا نام لکھیں گے۔۔۔ تاکہ اسے پتا چلے کہ وہ وی آئی پی ہے۔"
میں دل میں پگھل گئی۔۔۔ لیکن پھر اس نے اگلا جملہ کہا: "لیکن لکھنے سے پہلے میں اسے تھوڑا سا ڈرا دوں گا۔۔۔ تاکہ وہ سپلنگ صحیح لکھے!"
گھر واپس آئے۔۔۔ تو ہادی کی انٹری کسی زخمی سپاہی سے کم نہیں تھی۔
دروازے سے داخل ہوتے ہی بولا: " اٹنیشن ایوری ون! میں واپس آ گیا ہوں!"
میرے بستر پر لٹانے بعد "مما پانی۔۔۔ نہیں نہیں، جوس۔۔۔ نہیں، اصل میں دونوں لے آئیں، میں ڈیسائیڈ کر لوں گا۔"
پھر اچانک بولا: "اور ہاں، مجھے ریموٹ بھی دے دیں۔۔۔ ریکوری بورنگ نہیں ہونی چاہیے۔"
رات کو جب سب سو گئے۔۔۔ میں اس کے پاس بیٹھی تھی۔
وہ آہستہ سے بولا: "مما۔۔۔ درد ہو رہا ہے۔"
میں نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ پھر تھوڑی دیر بعد۔۔ اسی نرم آواز میں: "مما۔۔۔ وہ بچے مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں؟"
یہ وہ لمحہ تھا۔۔۔ جہاں شرارت کے پیچھے چھپا ہوا دل نظر آتا ہے۔
اگلی صبح۔۔۔ ہادی نے پلستر کو اپنی زندگی کا سب سے اہم پراجیکٹ بنا لیا تھا۔
"مما! مارکر کہاں ہے؟ موٹا والا چاہیے۔۔۔ پتلا والا نہیں، وہ امپریشن نہیں دیتا۔"
پوری ٹولی آئی۔۔۔ اور ہادی نے باقاعدہ رول کال لیا: "سب اپنے اپنے نام لکھیں گے۔۔۔ کوئی سپیلنگ غلط نہیں کرے گا۔۔۔ اور کوئی میرا ہاتھ زیادہ زور سے نہیں پکڑے گا، یہ آل ریڈی ڈیمجیڈ ہے!"
پھر اس نے اسی بچے کو بلایا۔۔۔ "ادھر آؤ۔۔۔ تم وی آئی پی ہو۔"
وہ بچہ پہلے تو ہچکچایا۔۔۔
ہادی نے سنجیدگی سے کہا: "میں نے تمہیں تنگ کیا۔۔۔ اللہ نے مجھے فوراً پکڑ لیا۔ اب تم مجھے معاف کر دو۔۔۔ تاکہ میں ریکور ہو سکوں۔"
کمرے میں ایک لمحے کی خاموشی چھا گئی۔۔۔ پھر بچے نے مارکر اٹھایا۔۔۔ اور پورے پلستر پر لکھ دیا: "ہادی = شیطان کی نانی!"
ایک لمحہ۔۔۔ پھر قہقہہ!
ہادی نے پہلے اسے گھورا۔۔۔ پھر خود ہنس پڑا: "چلو۔۔۔ کم سے کم کرئیٹو تو ہے!"
پھر تو جیسے فلڈگیٹ کھل گیا۔
"شیر!"
"جلدی ٹھیک ہو!"
"کرکٹ ابھی باقی ہے!"
اور ایک بچے نے آہستہ سے لکھ دیا: "ولی بھائی کو سلام"
ہادی نے اسے ایسے دیکھا جیسے ابھی کورٹ مارشل ہونے والا ہو۔
وہ بچہ فوراً بولا: "میں مٹا دیتا ہوں! قسم سے غلطی ہو گئی!"
شام کو۔۔۔ جب وہی فیملی آئی۔ تو ہادی پہلے ہی سیدھا ہو کر بیٹھ گیا، جیسے انسپکشن ہونے والا ہو۔
انہوں نے پیار سے کہا: "کیسا ہے میرا بہادر سپاہی؟"
ہادی نے فوراً جواب دیا: "میں ٹھیک ہوں۔۔۔ بس ٹمپریری ڈیمیج ہے۔"
پھر آہستہ سے بولا: "اور میں نے معافی بھی مانگ لی ہے۔۔۔"
رات کو۔۔۔ میں نے اسے سوتے ہوئے دیکھا۔ پلستر پر لکھے نام۔۔۔ کسی ہڈی کے ٹوٹنے کی کہانی نہیں تھے، وہ اس کی چھوٹی سی دنیا کے سگنیچر تھے۔۔۔ دوستی کے، شرارت کے، اور معافی کے۔
میں نے دل میں کہا: "یا اللہ۔۔۔ اس کے ہاتھ کو شفا دے۔۔۔ اور اس دل کو بھی ہمیشہ ایسا ہی نرم رکھ جو شرارت بھی کرے۔۔۔ اور ماننا بھی جانتا ہو۔"
 

فاطمہ زہرا

وفقہ اللہ
رکن
آج میں بیٹھی ہوں۔۔۔ اور میرا بیٹا ہادی اپنے کمرے میں، پلستر بندھے بازو کے ساتھ کبھی کروٹ بدلتا ہے، کبھی نیند میں کچھ بڑبڑاتا ہے۔
گھر میں ایک عجیب سا سکون ہے۔۔۔
وہ والا سکون نہیں جو عبادت کے بعد آتا ہے بلکہ وہ والا سکون۔۔۔ جو توپوں کی گرج، چیخوں اور "مماااا!" کی صداؤں کے بعد میدانِ جنگ پر اترتا ہے۔
میں نے چائے کا کپ ہاتھ میں لیا، ایک لمبی سانس لی، اور دل میں کہا: یہ سب لکھ لینا چاہیے۔۔۔
تو جناب قصہ شروع ہوتا ہے گزشتہ جمعے سے۔۔۔
جمعہ کے دن ہمارے گھر کی رونق ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ مغرب کے بعد بچوں کی ٹولیاں آ جاتی ہیں، ہفتے بھر کا حفظ سنایا جاتا ہے۔
بچے آتے ہیں، قرآن کی آوازیں، ہنسی، دوڑ، کبھی کسی کی تجوید ٹھیک ہو رہی ہوتی ہے، کبھی کسی کی شرارت۔
لیکن اس جمعہ۔۔۔ کچھ زیادہ ہی محبت بہہ رہی تھی۔
پہلا بچہ آیا ہاتھ میں چاکلیٹس کا باؤل، وہ بھی ایسا جیسے کسی شادی سے اٹھا کر لایا ہو: "آنٹی! یہ صرف آپ کے لیے ہے۔ کسی اور کو نہیں دوں گا!"
دوسرا آیا کپ کیکس کے ساتھ، آئسنگ آدھی پگھلی ہوئی: "آنٹی! میں نے خود نہیں بنائے۔۔۔ لیکن دل سے لایا ہوں!"
تیسرا آیا خالی ہاتھ، مگر زبان بھرپور: "آنٹی! آپ آج بہت اچھی لگ رہی ہیں!"
اور میرا اپنا لختِ جگر، ہادی، اس دن مما مما کی رٹ لگائے ہوئے تھا۔
میں نے دل میں سوچا: "یا اللہ! آج کیا ہو گیا ہے؟ کیا واقعی فرشتے اتر آئے ہیں۔۔۔ یا کچھ بہت بڑا چھپایا جا رہا ہے؟"
چند ہی لمحوں بعد راز کھل گیا۔ یہ ساری رشوتیں، یہ سارے تحفے، یہ سارا پیار، دراصل اس طوفان کی پیشگی معافی تھی جو انہوں نے تھوڑی دیر پہلے برپا کیا تھا۔
ان سب موصوف حضرات نے مل کر لیفٹیننٹ کرنل صاحب کی فیملی کے بچوں کو مارا تھا۔ اور صرف مارا ہی نہیں، بلکہ پورے "فوجی انداز" میں مارا تھا۔
اب مصیبت یہ ہوئی کہ وہ بچے میرے پاس شکایت لے کر آئے۔
آنکھوں میں آنسو، بال بکھرے ہوئے، سانس پھولی ہوئی: "آنٹی! ہمیں مارا گیا ہے!"
"کس نے؟"
جواب آیا: "ولی!"
میں نے سکون کا سانس لیا: "ولی تو ہاسٹل میں ہے، اتنی دور سے آ کر وہ تمہیں کیسے مار سکتا ہے۔۔۔"
بچے نے انگلی اٹھا کر کہا: "آنٹی۔۔۔ یہی ہے وہ ولی!"
میں نے نظر گھمائی۔۔۔ اور دیکھا میرا اپنا "کوڈ نیم سپیشلسٹ" ہادی، دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے، ایسے کھڑا تھا جیسے اسے دنیا کے حالات سے کوئی غرض ہی نہ ہو۔
"ہادی! یہ کیا ہے؟"
وہ بالکل پرسکون لہجے میں بولا: "مما، پینک نہ کریں۔ یہ سب سٹریٹیجی کا حصہ ہے۔"
پھر وضاحت: "ہم 'فوج اور ڈاکو' کھیل رہے تھے۔۔۔ اس لیے میرا کوڈ نیم آج 'ولی' تھا۔"
پھر ذرا فخر سے: "اور میں اکیلا نہیں تھا۔۔۔ سب نے اپنے بھائیوں کے نام استعمال کیے ہیں۔ یہ ہماری ٹیم کی ایس او پی ہے!"
معاملہ تو میں نے سنبھال لیا۔۔۔ لیکن میرا بیٹا کہاں رکنے والا تھا۔
ہادی کی شرارت کبھی پہلے مرحلے پر نہیں رکتی۔ اس کا اگلا موڈ ہوتا ہے جسے میں "جنگی زون" کہتی ہوں۔ اس موڈ میں وہ خود کو کوئی پاکستانی ریمبو سمجھنے لگتا ہے۔
اب اسے شکایت کا دکھ تھا: "میں نے تو مذاق کیا تھا۔۔۔ انہوں نے مما سے شکایت کیوں کی؟"
تو اس نے فیصلہ کیا: "اب اصل جنگ ہوگی۔"
پھر کیا تھا۔۔۔ کہیں سے گزرتے ہوئے ہلکا سا دھکا، سیڑھیوں پر جاتے ہوئے اچانک "اوہ سوری!" کہہ کر ٹانگ اڑانا، اور پھر بھاگتے ہوئے قہقہہ: "پکڑو مجھے اگر پکڑ سکتے ہو!"
ایک بار تو میں نے دیکھا وہ کونے میں چھپ کر خود ہی "مشن امپوسیبل" کی طرح دیوار کے ساتھ لگ کر کسی کے گزرنے کا انتظار کر رہا تھا!
اور پھر۔۔۔ کل شام۔
وہ لمحہ جو ہر ماں کی کہانی میں ایک "سلو موشن سین" بن جاتا ہے۔
ہادی نے بچوں کو ان کے دروازے کے سامنے مارا۔۔۔ اور جیسے ہی وہ لپکے وہ پوری رفتار سے بھاگا۔
میں نے دور سے دیکھا۔۔۔ اور دل میں کہا: "یہ اب گرے گا۔۔۔"
اور واقعی سیڑھی۔۔۔ پاؤں پھسلا۔۔۔ اور پھر۔۔۔ دھڑام! دھڑ۔۔۔ دھڑ۔۔۔ دھڑام!
ایسا لگا جیسے کوئی ڈرامہ نہیں، بلکہ پوری فلم کا کلائمکس چل رہا ہو۔
جب میں پہنچی۔۔۔
وہ نیچے پڑا تھا، آنکھوں میں آنسو، مگر زبان ابھی بھی ایکٹو: "مما۔۔۔ میں ٹھیک ہوں۔۔۔ بس تھوڑا سا۔۔۔ زیادہ ٹھیک نہیں ہوں۔۔۔"
گھٹنے چھلے ہوئے، ماتھے پر گومڑا۔۔۔ اور بازو۔۔۔ ٹوٹی ہوئی چھڑی کی طرح مڑا ہوا۔ یعنی فریکچر۔
سی ایم ایچ کا وہ منظر۔۔۔ شاید میں کبھی نہ بھول سکوں۔
ہادی درد سے تڑپ رہا تھا۔۔۔ مگر زبان اب بھی "فعال" تھی۔
نرس اس کا بلڈ پریشر چیک کر رہی تھی، اور وہ اسے بڑی سنجیدگی سے کہہ رہا تھا:
"آنٹی۔۔۔ یہ مشین صحیح بتا رہی ہے نا؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ میرا ہاتھ بھی غلط جگہ پر ٹھیک کر دیں۔"
ڈاکٹر، جو خود ایک میجر تھے، مسکرا کر بولے: "بیٹا! یہ کیسے ہوا؟"
ہادی نے کراہتے ہوئے جواب دیا: "دشمن سے۔۔۔ اور فکر نہ کریں، داہنا ہاتھ بچا لیا ہے کیونکہ امتحان دینا ہے۔"
ایمرجنسی میں کھڑے ایک بزرگ ہنس پڑے: "بیٹی! یہ بچہ تو رپورٹ بھی فوجی زبان میں دے رہا ہے!"
جب ڈاکٹر نے اس کا بازو سیدھا کرنے کے لیے پکڑا۔۔۔
تو ہادی نے آنکھیں زور سے بند کر لیں، پھر اچانک ایک آنکھ کھول کر بولا:
"مما۔۔۔ کیا پاپا کو بتائیں گی؟"
میں نے کہا: "نہیں۔"
وہ فوراً بولا: "پھر ٹھیک ہے انکل، آپ اپنا کام کریں۔ میں نیگوشیٹ کر چکا ہوں۔"
پلستر چڑھنے کے بعد۔۔۔ وہ چند لمحوں کے لیے بالکل خاموش ہو گیا۔
میں نے سوچا شاید اب درد غالب آ گیا ہے۔۔۔ شاید اب وہ نرم ہو گیا ہے۔۔۔
لیکن نہیں۔ چند سیکنڈ بعد وہ اپنے پلستر کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے کسی نے اسے نیا کھلونا دے دیا ہو۔
"مما۔۔۔ یہ تو بالکل سفید بورڈ ہے!"
میں نے حیران ہو کر کہا: "تو؟"
وہ بولا: "ہم اس پر سب کے سگنیچرر لیں گے۔۔۔ جیسے سلیبرٹی کرتے ہیں!"
پھر تھوڑی دیر سوچ کر بولا: "اور سب سے اوپر۔۔۔ اسی بچے کا نام لکھیں گے۔۔۔ تاکہ اسے پتا چلے کہ وہ وی آئی پی ہے۔"
میں دل میں پگھل گئی۔۔۔ لیکن پھر اس نے اگلا جملہ کہا: "لیکن لکھنے سے پہلے میں اسے تھوڑا سا ڈرا دوں گا۔۔۔ تاکہ وہ سپلنگ صحیح لکھے!"
گھر واپس آئے۔۔۔ تو ہادی کی انٹری کسی زخمی سپاہی سے کم نہیں تھی۔
دروازے سے داخل ہوتے ہی بولا: " اٹنیشن ایوری ون! میں واپس آ گیا ہوں!"
میرے بستر پر لٹانے بعد "مما پانی۔۔۔ نہیں نہیں، جوس۔۔۔ نہیں، اصل میں دونوں لے آئیں، میں ڈیسائیڈ کر لوں گا۔"
پھر اچانک بولا: "اور ہاں، مجھے ریموٹ بھی دے دیں۔۔۔ ریکوری بورنگ نہیں ہونی چاہیے۔"
رات کو جب سب سو گئے۔۔۔ میں اس کے پاس بیٹھی تھی۔
وہ آہستہ سے بولا: "مما۔۔۔ درد ہو رہا ہے۔"
میں نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ پھر تھوڑی دیر بعد۔۔ اسی نرم آواز میں: "مما۔۔۔ وہ بچے مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں؟"
یہ وہ لمحہ تھا۔۔۔ جہاں شرارت کے پیچھے چھپا ہوا دل نظر آتا ہے۔
اگلی صبح۔۔۔ ہادی نے پلستر کو اپنی زندگی کا سب سے اہم پراجیکٹ بنا لیا تھا۔
"مما! مارکر کہاں ہے؟ موٹا والا چاہیے۔۔۔ پتلا والا نہیں، وہ امپریشن نہیں دیتا۔"
پوری ٹولی آئی۔۔۔ اور ہادی نے باقاعدہ رول کال لیا: "سب اپنے اپنے نام لکھیں گے۔۔۔ کوئی سپیلنگ غلط نہیں کرے گا۔۔۔ اور کوئی میرا ہاتھ زیادہ زور سے نہیں پکڑے گا، یہ آل ریڈی ڈیمجیڈ ہے!"
پھر اس نے اسی بچے کو بلایا۔۔۔ "ادھر آؤ۔۔۔ تم وی آئی پی ہو۔"
وہ بچہ پہلے تو ہچکچایا۔۔۔
ہادی نے سنجیدگی سے کہا: "میں نے تمہیں تنگ کیا۔۔۔ اللہ نے مجھے فوراً پکڑ لیا۔ اب تم مجھے معاف کر دو۔۔۔ تاکہ میں ریکور ہو سکوں۔"
کمرے میں ایک لمحے کی خاموشی چھا گئی۔۔۔ پھر بچے نے مارکر اٹھایا۔۔۔ اور پورے پلستر پر لکھ دیا: "ہادی = شیطان کی نانی!"
ایک لمحہ۔۔۔ پھر قہقہہ!
ہادی نے پہلے اسے گھورا۔۔۔ پھر خود ہنس پڑا: "چلو۔۔۔ کم سے کم کرئیٹو تو ہے!"
پھر تو جیسے فلڈگیٹ کھل گیا۔
"شیر!"
"جلدی ٹھیک ہو!"
"کرکٹ ابھی باقی ہے!"
اور ایک بچے نے آہستہ سے لکھ دیا: "ولی بھائی کو سلام"
ہادی نے اسے ایسے دیکھا جیسے ابھی کورٹ مارشل ہونے والا ہو۔
وہ بچہ فوراً بولا: "میں مٹا دیتا ہوں! قسم سے غلطی ہو گئی!"
شام کو۔۔۔ جب وہی فیملی آئی۔ تو ہادی پہلے ہی سیدھا ہو کر بیٹھ گیا، جیسے انسپکشن ہونے والا ہو۔
انہوں نے پیار سے کہا: "کیسا ہے میرا بہادر سپاہی؟"
ہادی نے فوراً جواب دیا: "میں ٹھیک ہوں۔۔۔ بس ٹمپریری ڈیمیج ہے۔"
پھر آہستہ سے بولا: "اور میں نے معافی بھی مانگ لی ہے۔۔۔"
رات کو۔۔۔ میں نے اسے سوتے ہوئے دیکھا۔ پلستر پر لکھے نام۔۔۔ کسی ہڈی کے ٹوٹنے کی کہانی نہیں تھے، وہ اس کی چھوٹی سی دنیا کے سگنیچر تھے۔۔۔ دوستی کے، شرارت کے، اور معافی کے۔
میں نے دل میں کہا: "یا اللہ۔۔۔ اس کے ہاتھ کو شفا دے۔۔۔ اور اس دل کو بھی ہمیشہ ایسا ہی نرم رکھ جو شرارت بھی کرے۔۔۔ اور ماننا بھی جانتا ہو۔"
سچ میں یہ بچہ منی کمانڈو ہے
اللہ تعالی صحت کاملہ عطا فرماے
ہمارے ہادی سے زیادہ شرارتی رافع ہے
 
Top