صبر اور شکر — اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک جامع جائزہ

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
صبر اور شکر — اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک جامع جائزہ
محمدداؤدالرحمن علی
صبر اور شکر دونوں اسلامی تعلیمات میں بنیادی اور نہایت اہم اخلاقی اوصاف ہیں۔ قرآن و سنت میں ان کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے، اور مومن کی زندگی کا دار و مدار انہی دو صفات پر ہے۔ صبر انسان کو آزمائشوں میں ثابت قدم رکھتا ہے جبکہ شکر اسے نعمتوں کی قدر اور اللہ کی رضا کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان فضیلت کے بارے میں علماء میں قدیم زمانے سے بحث جاری ہے۔
علماء کے اس بارے میں تین معروف اقوال ہیں: بعض کے نزدیک صبر شکر سے افضل ہے، بعض کے نزدیک شکر صبر سے افضل ہے، اور بعض کے نزدیک دونوں برابر ہیں۔ حضرت عمر فاروقؓ کا قول اس تیسری رائے کی واضح دلیل ہے کہ:
’’لو کان الصبر والشکر بعیرین ما بالیت أیہما رکبت‘‘
’’اگر صبر اور شکر دو سواریاں ہوتے تو مجھے کوئی پروا نہ ہوتی کہ میں کس پر سوار ہوتا۔‘‘
صبر کی فضیلت اور مقام:۔
قرآنِ کریم میں صبر کو بے حد اہمیت دی گئی ہے۔ تقریباً ایک سو سے زائد آیات میں صبر اور اہلِ صبر کا ذکر موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’إنما یوفی الصابرون أجرہم بغیر حساب‘‘
’’بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔‘‘ (الزمر:10)
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ صبر کا بدلہ مخصوص پیمانے میں محدود نہیں بلکہ اللہ کی غیر محدود عطا پر منحصر ہے۔
ایک اور مقام پر فرمایا:
’’وبشر الصابرین‘‘
’’ صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے۔‘‘ (البقرہ:155)
نبی کریم ﷺ نے روزے کو صبر سے تعبیر فرمایا اور فرمایا کہ روزہ اللہ کے لیے ہے اور اس کا اجر بے حساب ہے، کیونکہ روزہ دار اپنی خواہشات کو اللہ کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔
صبر اور انکسارِ قلب کی برکت:۔
حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’أنا عند المنکسرة قلوبہم من أجلی‘‘
’’ میں ان لوگوں کے ساتھ ہوں جن کے دل میری خاطر ٹوٹے ہوں۔‘‘ (فیض القدیر)
یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ انکسارِ قلب (دل کا جھک جانا) اللہ کی قربت کا ذریعہ ہے۔ جب انسان آزمائشوں اور صدمات سے گزرتا ہے تو اس کا دل نرم اور عاجز ہو جاتا ہے، اور یہی کیفیت اللہ کی رحمت کو جذب کرتی ہے۔
شکر کی فضیلت اور مقام:۔
شکر کو قرآن میں ایمان کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’لئن شکرتم لأزیدنکم‘‘
’’ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔ ‘‘(ابراہیم:7)
شکر کو اللہ نے اپنی پسندیدہ صفت قرار دیا ہے:
’’إن تشکروا یرضہ لکم‘‘
’’ اگر تم شکر کرو تو اللہ اسے تمہارے لیے پسند فرماتا ہے۔‘‘ (الزمر:7)
حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
’’إنہ کان عبدًا شکورًا‘‘
’’بے شک وہ (نوح علیہ السلام) بہت شکر گزار بندے تھے۔‘‘ (بنی اسرائیل:3)
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ شکر اللہ کے نزدیک محبوب ترین صفات میں سے ہے۔
صبر اور شکر کی عملی مثالیں:۔
نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی صبر کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ مکہ میں آپ ﷺ پر ظلم، طائف میں پتھراؤ، شعب ابی طالب میں معاشی مقاطعہ، اور مختلف اذیتیں آپ ﷺ نے برداشت فرمائیں، لیکن آپ کے صبر میں کوئی کمی نہ آئی۔
اسی طرح حضرت ایوب علیہ السلام کا واقعہ صبر کی عظیم مثال ہے، جنہوں نے بیماری، مال و اولاد کے نقصان اور طویل آزمائش کے باوجود کبھی شکایت نہ کی بلکہ اللہ کا شکر ادا کرتے رہے۔
صبر اور شکر کا باہمی تعلق:۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں صبر اور شکر ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
’’عجبًا لأمر المؤمن… إن أصابتہ سراء شکر فکان خیرًا لہ، وإن أصابتہ ضراء صبر فکان خیرًا لہ‘‘
’’مومن کا معاملہ عجیب ہے، اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے، اور اگر مصیبت آئے تو صبر کرتا ہے، اور دونوں اس کے لیے بہتر ہیں۔ ‘‘(مسلم)

اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کی تکمیل صبر اور شکر دونوں سے ہوتی ہے۔
عافیت کی دعا کی اہمیت:۔
احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مطلوب چیز عافیت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
’’سلوا اللہ العفو والعافیة‘‘
’’ اللہ سے معافی اور عافیت مانگو۔‘‘ (ترمذی)
ایک اور حدیث میں فرمایا:
’’فإذا أعطیت العافیة في الدنیا وأعطیتہا في الآخرة فقد أفلحت‘‘
’’اگر دنیا اور آخرت میں عافیت مل جائے تو تم کامیاب ہو گئے۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ مومن کو اصل دعا عافیت کی کرنی چاہیے، نہ کہ مصیبت یا آزمائش کی طلب۔
آزمائش اور صبر کا سبق:۔
اسلامی تعلیمات یہ بتاتی ہیں کہ آزمائشیں مومن کے درجات بلند کرنے کا ذریعہ ہیں، لیکن ان کی طلب نہیں کرنی چاہیے۔ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو صبر کی دعا کرتے ہوئے سنا تو فرمایا:
’’سألت اللہ البلاء، فسلہ العافیة‘‘
’’تم نے اللہ سے آزمائش مانگی ہے، اس سے عافیت مانگو۔‘‘ (ترمذی)
البتہ جب آزمائش آجائے تو اس وقت صبر ہی اصل مومن کا شعار ہے۔
صبر اور شکر دونوں ایمان کے دو بنیادی ستون ہیں۔ صبر انسان کو مصیبت میں ثابت قدم رکھتا ہے اور شکر اسے نعمتوں کی قدر سکھاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں: بندگی اور رضاِ الٰہی۔
مومن کی زندگی انہی دو کیفیتوں کے درمیان گزرتی ہے—نعمت ملے تو شکر، اور آزمائش آئے تو صبر۔ اور یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی تک پہنچاتا ہے۔
 

نور حیاء

وفقہ اللہ
رکن
جزاک اللہ خیرا!

اللہ آپ کے قلم میں مزید برکت دے اور اسے لوگوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنائے۔
 
Last edited:
Top