نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیث بھی فضائل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر ناطق ہیں چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :
[ میری امت کا بہترین طبقہ وہ لوگ ہیں جو کہ میرے زمانے والے ہیں ۔ پھر وہ جو ان کے بعد والے ( تابعین ) ہیں ۔ اور پھر وہ جو ان کے بعد والے ( تبع تابعین ) ہیں ] ۔
حضرت عمران رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے زمانے کے بعد دو زمانوں کا ذکر فرمایا یا تین کا ]
( صحیح بخاری )
اور بخاری و مسلم میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
[ میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کو گالی نہ دو ، تم میں سے اگر کوئی شخص جبل احد کے برابر سونا بھی صدقہ کر دے تو وہ کسی صحابہ کے ایک مد ( مٹھی بھر دانے ) صدقہ کرنے کا اجر تو کیا اس کا آدھا ثواب بھی نہیں پا سکتا ] ۔
( بخاری و مسلم )
تمام تر خیر و بھلائی اسی میں ہے جس پر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے انہی کے ذریعے اللہ تعالی نے اپنی کتاب کا تحفظ کروایا ، وہ امین در امین تھے حتی کہ انھوں نے اللہ کی اس امانت کو اس دیانتداری سے ادا کیا کہ پہلی امتوں میں ان کی مثال نہیں ملتی ۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک جماعت سنت و حدیث کے تحفظ کے لۓ تیار ھوئی اور وہ روۓ زمین کے کونے کونے میں پھیل گئی تا کہ وہ اسے عام کریں اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خلافت و نگرانی کی ذمہ داری اٹھائی ، جہاد کیا او فتوحات حاصل کیں اور امتوں کی امتیں اسلام میں داخل کر دیں ، ان کے نفوس کی تطہیر و تزکیہ کیا اور انھیں اللہ کے صراط مستقیم پر چلایا ۔ اور اللہ تعالی نے ان کے اوقات ( اور عمروں ) میں بڑی برکت فرمائی اور ان کے ہاتھوں پر صرف ایک سو سال میں اللہ نے وہ کارنامے اور انقلابات رونما کئے جو دوسری کسی قوم سے ممکن نہ ھو ۔
وہ ہر خیر و بھلائی کے معاملے میں لوگوں سے سبقت لے جانے میں کوشاں رہتے تھے ، میدان جہاد و قتال ھو کہ میدان دعوت و ارشاد ۔ اسلام کی خاطر خرچ و عطا ھو یا پھر کثرت عبادت و نوافل وہ ہر میدان کے شہسوار تھے ۔ رضی اللہ عنہم ۔
انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے غزوات اور جنگوں میں آپ کی مدد و نصرت میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور انھوں نے اللہ کی راہ میں اپنی جانیں تک قربان کر دینے کے لۓ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم خندق کی طرف تشریف لے گۓ ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے انصار و مہاجرین بذات خود سب خندق کھود رہے ہیں اور ان کے پاس غلام نہیں تھے جو کہ یہ خدمت انجام دیتے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے جب انھیں بھوک اور تھکن سے چور چور دیکھا تو ارشاد فرمایا :
[ اے اللہ ! اصل زندگی تو آخرت کی ہی زندگی ہے ۔
اے اللہ ! ان تمام انصار و مہاجرین کی مغفرت فرما دے ]
( صحیح بخاری )
اے اللہ ! ان تمام انصار و مہاجرین کی مغفرت فرما دے ]
( صحیح بخاری )
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت و ملاقات کا شرف اعظم حاصل رہا اور انھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت کرنے اور آپ کی تعظیم و توقیر کرنے کا حظ وافر نصیب ھوا جو ان سے پہلے کھبی کسی کو حاصل نہ ھوا اور نہ کوئی شخص آئندہ یہ مقام پا سکے گا ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے آپ لوگوں کی محبت کیسی تھی ؟ تو انھوں نے فرمایا :
" اللہ کی قسم ! آپ صلی اللہ علیہ و سلم ھمیں اپنے مال و اولاد ، ماؤں باپوں اور سخت پیاس میں ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ پیارے تھے ” ۔
بے مثال محبت و جان نثاری :
ابو سفیان رضی اللہ عنہ بن حرب ابھی مسلمان نہیں ھوۓ تھے کہ انھوں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے اس وقت پوچھا جبکہ انھیں قتل کرنے کے لۓ اہل مکہ نے حرم سے نکالا اور وہ ان کے یہاں اسیر و قیدی تھے ، اے زید ! میں تجھے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ھوں : کیا تمھیں یہ پسند ہے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ و سلم ) تمھاری جگہ ھوں اور ھم ان کی گردن مار دیں اور تمھیں چھوڑ دیں اور تم اپنے اہل و عیال میں جا نکلو ؟
اس پر حضرت زید نے فرمایا :
" مجھے اللہ کی قسم ہے ، مجھے تو یہ بھی پسند نہیں کہ میں اپنے اہل و عیال کے مابین جا بیٹھوں اور میری جگہ محمد ( صلی اللہ علیہ و سلم ) آ جائيں اور انھیں کانٹا جبھنے کی اذیت بھی برداشت کرنی پڑے ” ۔
یہ سن کر ابوسفیان نے کہا تھا :
" میں نے لوگوں میں کسی کو کسی سے اتنی محبت کرتے نہیں دیکھا جتنی محبت محمد ( صلی اللہ علیہ و سلم ) کے ساتھی ان سے کرتے ہیں ” ۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ میں اپنی اور اپنے مال کی باگ ڈور دے دی اور عرض کیا : یہ ھمارے اموال آپ کے قدموں میں ڈھیر ہیں ، ان میں آپ جو فیصلہ چاہیں فرمائیں اور یہ ھماری جانیں بھی آپ کے لۓ حاضر ہیں ۔ اگر ھمارے سامنے سمندر بھی آیا تو ھم اس میں بھی کود جائیں گے ، ھم آپ کے سامنے ، اپ کے پیچھے آپ کے دائیں اور آپ کے بائیں ہر جگہ لڑیں گے ” ۔ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ان کی زبردست محبت کی سچی تعبیر تھی ۔
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے بڑھ کرمجھے کوئی دوسرا محبوب نہیں تھا ۔ اور نہ ہی آپ سے بڑھ کر میری نگاہ میں کوئی جلیل القدر تھا ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی جلالت شان کی وجہ سے آنکھ بھر کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھ نہیں سکتا تھا اور اگر مجھ سے کہا جاۓ کہ میں آپ کے اوصاف بیان کروں تو یہ بات میرے بس سے باہر ہے کیونکہ میں نے کبھی آنکھ بھر کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھ ہی نہیں سکا ۔
حب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم :
ھم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت رکھتے ہیں اور ان میں سے کسی کی محبت میں افراط و غلو میں مبتلا نہیں ھوتے اور نہ ہی ان میں سے کسی سے بری ھونے کا اظہار کرتے ہیں اور انھیں صرف خیر و بھلائي کے ساتھ ہی یاد کرتے ہیں ۔
تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انصار و مہاجرین کے لۓ جنت ، رضاء الہی ، اجر و ثواب اور رحمت الہی کی گوائی موجود ہے اور یہ بات ضروری ہے کہ آپ کا علم اس بات کا اقرار کرے اور دل سے آپ کو یقین ھو کہ وہ شخص جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو چاہے ایک گھڑی ( گھنٹہ ) کے لۓ ہی کیوں نہ دیکھا ھو ، آپ کا دیدار و زیارت ہی نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان بھی لایا اور آپ کی اتباع و پیروی بھی کی ۔ وہ شخص اس سے بدرجہا افضل ہے جس نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو نہیں دیکھا اور نہ ہی آپ کے دیدار و زیارت سے شرفیاب ھوا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چھوٹے ھوں یا بڑے ، پہلے ھوں یا پچھلے ، ان سب کے لۓ رحمت و مغفرت اور رضاء کی دعا کرنا ، ان کے اوصاف حسنہ کا ذکر کرنا ، ان کے فضائل و محاسن کو عام کرنا ، ان کے طریقے کی پیروی کرنا اور ان کے نقش قدم پر چلنا ھم سب کے لۓ ضروری ہے ۔
مشاجرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ھمارا موقف :
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی برائیوں کے بارے میں مروی آثار میں سے کچھ تو وہ ہیں جو کہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں اور بعض وہ ہیں جن میں خود لوگوں نے اپنے مخصوص مقاصد و مفادات کے لۓ کمی بیشی کر دی ہے اور انھیں ان کے اصل رخ سے موڑ کر رکھ دیا ھوا ہے اور وہ آثار جو صحیح ہیں ، ان میں جن امور کا تذکرہ ہے ، ان میں وہ معذور (عذر والے ) ہیں کہ انھوں نے اجہتاد کیا اور صحیح و صواب کو پا گۓ ( دوھرا اجر لۓ گۓ ) یا پھر اجتہاد کیا مگر خطا کر کۓ ( پھر ایک اجر ان کے ہے ) ۔
حضرت انس بن مالک ر سے مرفوعا مروی ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
ایمان کی نشانی حب انصار ہے اور انصار سے بغض و نفرت نفاق کی علامت ہے ] ۔
( صحیح بخاری )
اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم میں مرفوعا مروی ہے ( کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
کوئی وہ شخص جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتاہے وہ انصار سے بغض و نفرت نہں رکھ سکتا-
( مسلم )
خلفاء راشدین اور عشرہ مبشرہ :
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے افضل ترین لوگ خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم ہیں ، ان کے بعد باقی چھ صحابہ جن سمیت دس لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جنت کی بشارت دی تھی اور وہ سب عشرہ مبشرہ کہلواتے تھے ۔
چنانچہ ارشاد نبوی ہے :
اس مت کے نبی کے بعد اس کے بہترین لوگ ابوبکر اور پھر عمر ہیں
۔ ( مسند احمد )
ایک حدیث میں فرمایا :
میرے بعد میں آنے والے دو لوگوں ابوبکر و عمر کی اقتداء و پیروی کرو ۔
( ترمذی ، ابن ماجہ ، مسند احمد )
صحیح مسلم میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک سفر میں تھے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
اگر لوگ ابوبکر و عمر کی اطاعت کریں گے تو رشد و ھدایت پر رہیں گے -
( صحیح مسلم )
مقام ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ :
صحیح بخاری میں حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے اپنے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا :
" اے میرے ابا جان ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد سب سے بہتر کون شخص ہے ؟ انھوں نے فرمایا : بیٹا ! کیا تمھیں معلوم نہیں ؟ میں نے عرض کیا : نہیں : تو انھوں نے فرمایا : وہ ابوبکر (رضی اللہ عنہ ) ہیں "
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں تو اللہ تعالی نے قرآن کریم میں کئی آیات نازل فرمائیں ہیں ۔
چنانچہ ارشاد الہی ہے :
اور تم میں سے جو لوگ فضیلت والے اور اہل ثروت و دولت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں ، محتاجوں اور وطن چھوڑ کر ہجرت کر جانے والوں کو کچھ خرچہ نہیں دینگے ، انھیں چاہیۓ کہ معاف کر دیں اور در گزر کریں ، کیا تم پسند نہیں کرتے ھو کہ اللہ تمھیں بخش دے اور اللہ تو بخشنے والا مہربان ہے ۔
( النور ۔٢٢ )
اور اس بات میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ھوئي ہے اور اس میں انھیں اہل فضل ( فضیلت والی شخصیت ) قرار دیا گیا ہے ۔
دوسری جگہ ارشاد الہی ہے :
" دو میں سے دوسرے جبکہ وہ دونوں غار ( ثور ) میں تھے "
( التوبہ ۔٤٠)
اس میں بھی کسی کا کوئي اختلاف نہیں کہ یہاں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ والے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی مراد ہیں گویا کہ اللہ رب العالمین نے ان کے صحابی ھونے کی گواہی دی ہے اور انھیں سکیت کے نزول کی بشارت سے نوازا ہے اور انھیں دو میں سے دوسرے ھونے کا حلۂ عظمت و وقار عطا فرمایا ہے جیسا کہ
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے :
" دو میں سے دوسرے سے افضل کون ھو سکتا ہے ؟ جبکہ ان کا تیسرا خود اللہ تعالی ہے "۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے :
" مجھے کسی مال نے اتنا نفع نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر کے مال نے پہنچایا ہے ۔
( یہ سن کر فرط مسرت کے جذبات سے مغلوب ھو کر ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور عرض کیا :
" اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ! میں اور میرا مال صرف آپ کے لۓ ہی تو ہیں "۔
( ابن ماجہ )
مقام عمر فاروق رضی اللہ عنہ :
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد صحیح بخاری میں ہے :
" شیطان تمھیں جس راستے آتا ھوا ملتا ہے وہ اس تیرے راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے میں بھاگ جاتا ہے " ۔
( بخاری )
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
"پہلی امتوں میں " محدث " ( وہ روشن ضمیر ، صائب الراۓ جسے اللہ کی طرف سے الہام ھوتا ھو ) ھوا کرتے تھے ؟ اور اگر میری امت میں بھی کوئی محدث ھو تو وہ حضرت عمر ھونگے "
(صحیح مسلم )
محدث کا معنی ہے وہ شخص جسے الہام ھوتا ھو اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو واقعی الہام ھوتا تھا حتی کہ کئی مواقع پر قرآن کریم نے ان کی تائيد و موافقت کی ۔ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ اپنی ازواج مطہرات کو پردہ کروائيں ۔
ایک مرتبہ انھوں نے عرض کیا :
اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ! اگر آپ مقام ابراھیم کو جائے نماز بنا لیں تو کیسا رہے ؟ اور بدری قیدیوں کے بارے میں انھوں مشورہءقتل دیا ۔ اور ان تمام مواقع پر اللہ تعالی نے ملہم و محدث امت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی راۓ کی موافقت کو قرآن کی تائيد عطا فرمائی ۔ اسی طرح اللہ تعالی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں بہت سی فتوحات کے دروازے کھولے ۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا لوگ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حتی کہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر نکتہ چینی کرتے ہیں ۔
تو انھوں نے فرمایا :
" اس میں تم تعجب والی کیا چیز پاتے ھو ؟ ( وفات کی وجہ سے ) ان کے اعمال کا مسئلہ تو منقطع ھو گیا لیکن اللہ نے یہ چاہا کہ ان کے اجر کا سلسلہ ختم نہ ھونے پاۓ ( لوگوں کے ان کی چغلی کھانے سے انھیں اجر و ثواب پہنچ رہا ہے " ۔
مقام عثمان غنی رضی اللہ عنہ :
جبکہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے مقام و مرتبہ کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے جیش العسرﺓ ( غزو ہء عسرہ کے لشکر ) کی تیاری شروع کی تو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اپنی چادر میں اس ایک ھزار دینار ڈال کر لے آۓ اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں پیش کر دیۓ ( جھولی میں ڈال دیۓ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان دیناروں کو اپنے دست مبارک سے الٹنا پلٹنا شروع کیا اور ساتھ ہی ساتھ آپ صلی اللہ علیہ و سلم یہ فرماتے جا رہے تھے :
"آج کے بعد ابن عفان چاہے کوئی بھی عمل کرتا رہے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا " ۔ آپ یہ کلمات بار بار دھرا رہے تھے ۔
مقام علی مرتضی رضی اللہ عنہ :
غزوہء خیبر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
" کل میں اس شخص کو جھنڈا عطا کروں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح عطا کرے گا اور وہ شخص اللہ اور اس کے رسول کو پسند کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اسے پسند کرتے ہیں ] ۔ لوگوں نے رات گزاری اور ہر شخص سوچتا رہا کہ کل جھنڈا کسے دیا جائيگا اور ہر شخص کی خواہش تھی کہ جھنڈا اسے ہی دیا جاۓ ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : علی کہاں ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ ان کی آنکھیں خراب ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنا لعاب مبارک ان کی آنکھوں میں لگایا اور ان کے لۓ شفا کی دعاء کی تو ان کی آنکھیں ( اسی وقت ) ٹھیک ھو گئيں اور یوں ھو گئیں کہ جیسے انھیں کچھ ھوا ہی نہ تھا ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے انھیں جھنڈا عنائت فرما دیا " ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
" میں ان سے تب تک جنگ کرتا رھوں گا جب تک کہ وہ ھماری طرح کے ( مسلمان ) نہ ھو جائیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : آرام آرام سے روانہ ھو جاؤ ، یہاں تک کہ ان ( یہودیوں ) کے علاقے میں پہنچ جاؤ ، پھر انھیں اسلام کی دعوت دو اور انھیں بتاؤ کہ ان پر کیا واجب ہے ۔ اللہ کی قسم ! تمھارے ذریعے اللہ کسی ایک شخص کو ھدایت دے دے تو یہ تمھارے لۓ سرخ اونٹوں کی دولت سے بھی بہتر ہے "۔
( بخاری و مسلم )
تمام صحابہ ہی جنتی :
تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی اہل جنت میں سے ہیں ۔
چنانچہ ارشاد الہی ہے :
" تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے اللہ کی راہ میں خرچ کیا، اور قتال کیا ہے وہ ( دوسروں کے ) برابر نہیں ، بلکہ ان سے بہت بڑے درجے کے ہیں جنھوں نے فتح کے بعد قرانیاں دیں اور جہاد کیا ہاں بھلائی کا وعدہ تو اللہ تعالی کا سب سے ہے جو کچھ تم کر رتے ھو ، اس سے اللہ خبردار ہے " ۔
(الحدید ۔١٠)
و صلی اللہ و سلم علی نبینا محمد
و علی آلہ و صحبہ اجمعین
سبحان ربك رب العزہ عما یصفون
و سلام علی المرسلین
و الحمد للہ رب العالمین
و علی آلہ و صحبہ اجمعین
سبحان ربك رب العزہ عما یصفون
و سلام علی المرسلین
و الحمد للہ رب العالمین
شان صحابہ ذندہ باد
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں
کہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
میری امت کا سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے
پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے
پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے۔
حضرت عمران کہتے ہیں
کہ
مجھے یاد نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین کا؟
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
تمہارے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہوگی
جو بغیر کہے گواہی دینے کے لیے تیار ہو جایا کرے گی
اور
ان میں خیانت اور چوری اتنی عام ہو جائے گی
کہ
ان پر کسی قسم کا بھروسا باقی نہیں رہے گا
اور
نذریں مانیں گے لیکن انہیں پورا نہیں کریں گے
(حرام مال کھا کھا کر) ان پر مٹاپا عام ہو جائے گا۔
صحيح بخاري
كتاب فضائل الصحابة
باب
فضائل اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم
كتاب فضائل الصحابة
باب
فضائل اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم