شان صحابہ زندہ باد "احادیث مبارکہ"

sahj

وفقہ اللہ
رکن
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الوفات میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کی نماز میں امامت کریں ۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امر خلافت کا ذکر ہوا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا


اللہ تعالیٰ اور مومن ، ابو بکر کے سوا ہر کسی کا انکار کرتے ہیں ۔





صحيح بخاري
كتاب الاحکام
باب : الاستخلاف
 

sahj

وفقہ اللہ
رکن
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا أبو عامر، حدثنا فليح، قال حدثني سالم أبو النضر، عن بسر بن سعيد، عن أبي سعيد الخدري ـ رضى الله عنه ـ قال خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم الناس وقال ‏"‏ إن الله خير عبدا بين الدنيا وبين ما عنده فاختار ذلك العبد ما عند الله ‏"‏‏.‏ قال فبكى أبو بكر، فعجبنا لبكائه أن يخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن عبد خير‏.‏ فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم هو المخير وكان أبو بكر أعلمنا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إن من أمن الناس على في صحبته وماله أبا بكر، ولو كنت متخذا خليلا غير ربي لاتخذت أبا بكر، ولكن أخوة الإسلام ومودته، لا يبقين في المسجد باب إلا سد، إلا باب أبي بكر ‏"‏‏.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کودنیا میں اور جو کچھ اللہ کے پاس آخرت میں ہے ان دونوں میں سے کسی ایک کا اختیار دیا تو اس بندے نے اختیار کرلیا جو اللہ کے پاس تھا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے ۔ ابوسعید کہتے ہیں کہ ہم کو ان کے رونے پر حیرت ہوئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو کسی بندے کے متعلق خبردے رہے ہیں جسے اختیار دیا گیا تھا ، لیکن بات یہ تھی کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ بندے تھے جنہیں اختیار دیا گیا تھا اور ( واقعتا ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ اپنی صحبت اور مال کے ذریعہ مجھ پر ابوبکر کا سب سے زیادہ احسان ہے اور اگر میں اپنے رب کے سوا کسی کو جانی دوست بناسکتاتو ابوبکر کو بناتا ۔ لیکن اسلام کا بھائی چارہ اور اسلام کی محبت ان سے کافی ہے ۔ دیکھو مسجد کی طرف تمام دروازے ( جو صحابہ کے گھروں کی طرف کھلتے تھے ) سب بند کردیئے جائیں ۔ صرف ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دروازہ رہنے دیاجائے۔


صحیح بخاری
 

sahj

وفقہ اللہ
رکن
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا سليمان، عن يحيى بن سعيد، عن نافع، عن ابن عمر ـ رضى الله عنهما ـ قال كنا نخير بين الناس في زمن النبي صلى الله عليه وسلم فنخير أبا بكر، ثم عمر بن الخطاب، ثم عثمان بن عفان رضى الله عنهم‏.‏


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ ہی میںجب ہمیں صحابہ کے درمیان انتخاب کے لیے کہا جاتا تو سب میں افضل اور بہتر ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قراردیتے ، پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو پھر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو۔

صحیح بخاری
 

sahj

وفقہ اللہ
رکن
حدثنا الحميدي، ومحمد بن عبد الله، قالا حدثنا إبراهيم بن سعد، عن أبيه، عن محمد بن جبير بن مطعم، عن أبيه،
قال أتت امرأة النبي صلى الله عليه وسلم فأمرها أن ترجع إليه‏.‏
قالت أرأيت إن جئت ولم أجدك كأنها تقول الموت‏.‏ قال عليه السلام ‏"‏ إن لم تجديني فأتي أبا بكر ‏"‏‏.



ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھر آئیو ۔ اس نے کہا : اگر میں آوں اور آپ کو نہ پاوں تو ؟ گویا وہ وفات کی طرف اشارہ کررہی تھی ۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم مجھے نہ پاسکو تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس چلی آنا ۔

صحیح بخاری
 

sahj

وفقہ اللہ
رکن
حدثنا عبدان، أخبرنا عبد الله، عن يونس، عن الزهري، قال أخبرني ابن المسيب، سمع أبا هريرة ـ رضى الله عنه ـ
قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول ‏
"‏ بينا أنا نائم رأيتني على قليب عليها دلو، فنزعت منها ما شاء الله،
ثم أخذها ابن أبي قحافة، فنزع بها ذنوبا أو ذنوبين، وفي نزعه ضعف، والله يغفر له ضعفه، ثم استحالت غربا،
فأخذها ابن الخطاب، فلم أر عبقريا من الناس ينزع نزع عمر، حتى ضرب الناس بعطن ‏"‏‏.‏


آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سو رہا تھا کہ خواب میں میں نے اپنے آپ کو ایک کنویں پر دیکھا جس پر ڈول تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے جتنا چاہا میں نے اس ڈول سے پانی کھینچا ، پھر اسے ابن ابی قحافہ ( حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ) نے لے لیا اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچے ، ۔ پھر اس ڈول نے ایک بہت بڑے ڈول کی صورت اختیار کرلی اور اسے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ۔ میں نے ایسا شہ زور پہلوان آدمی نہیں دیکھا جو عمر رضی اللہ عنہ کی طرح ڈول کھینچ سکتا ۔ انہوں نے اتنا پانی نکالا کہ لوگوں نے اپنے اونٹوں کو حوض سے سیراب کرلیا ۔

صحیح بخاری
 

sahj

وفقہ اللہ
رکن
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ایک جوڑا خرچ کیا ( یعنی دو پیسے یا دو روپیہ یا دو اشرفی ) تو جنت میں اسے پکارا جائے گا کہ اے اللہ کے بندے ! یہاں آ تیرے لئے یہاں خیر و خوبی ہے۔ پھر جو نماز کا عادی ہے وہ نماز کے دروازہ سے پکارا جائے گا، اور جو جہاد کا عادی ہے وہ جہاد کے دروازہ سے پکارا جائے گا، اور جو صدقہ کا عادی ہے وہ صدقہ کے دروازہ سے پکارا جائے گا اور جو روزہ کا عادی ہے وہ روزہ کے دروازہ سے پکارا جائے گا۔ تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کسی کے تمام دروازوں سے پکارے جانے کی ضرورت تو نہیں ہے، پھر بھی کیا کوئی ایسا ہو گا جو سب دروازوں سے پکارا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اور میں ( اللہ کے فضل سے ) امید رکھتا ہوں کہ تم انہی میں سے ہو گے۔


صحیح مسلم
 

sahj

وفقہ اللہ
رکن
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا يعقوب بن إبراهيم، قال حدثني أبي، عن صالح، عن ابن شهاب، أخبرني عبد الحميد، أن محمد بن سعد، أخبره أن أباه قال ح حدثني عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب، عن عبد الحميد بن عبد الرحمن بن زيد، عن محمد بن سعد بن أبي وقاص، عن أبيه، قال استأذن عمر بن الخطاب على رسول الله صلى الله عليه وسلم، وعنده نسوة من قريش يكلمنه ويستكثرنه، عالية أصواتهن على صوته فلما استأذن عمر بن الخطاب قمن فبادرن الحجاب فأذن له رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل عمر ورسول الله صلى الله عليه وسلم يضحك، فقال عمر أضحك الله سنك يا رسول الله‏.‏ فقال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ عجبت من هؤلاء اللاتي كن عندي فلما سمعن صوتك ابتدرن الحجاب ‏"‏‏.‏ فقال عمر فأنت أحق أن يهبن يا رسول الله‏.‏ ثم قال عمر يا عدوات أنفسهن، أتهبنني ولا تهبن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلن نعم، أنت أفظ وأغلظ من رسول الله صلى الله عليه وسلم‏.‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إيها يا ابن الخطاب والذي نفسي بيده ما لقيك الشيطان سالكا فجا قط إلا سلك فجا غير فجك ‏"‏‏.‏


ہم سے علی بن عبداللہ بن مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ان سے صالح نے ، ان سے ابن شہاب نے ، کہا مجھ کو عبدالحمید بن عبدالرحمن نے خبردی ، انہیں محمد بن سعد بن ابی وقاص نے خبردی اور ان سے ان کے والد ( حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا ( دوسری سند ) اور مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہاہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے صالح نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عبدالحمید بن عبدالرحمن بن زید نے ، ان سے محمد بن سعدبن ابی وقاص نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت چاہی ۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قریش کی چند عورتیں ( امہات المومین میں سے ) بیٹھی باتیں کررہی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نان ونفقہ میں زیادتی کا مطالبہ کررہی تھیں ، جوں ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی تو وہ تمام کھڑی ہوکر پردے کے پیچھے جلدی سے بھاگ کھڑی ہوئیں ۔ آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی اوروہ داخل ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسکرارہے تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے ۔ آپ نے فرمایا : مجھے ان عورتوں پرہنسی آرہی ہے جو ابھی میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں ، لیکن تمہاری آواز سنتے ہی سب پردے کے پیچھے بھاگ گئیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ڈرناتو انہیں آپ سے چاہیے تھا ۔ پھرانہوں نے ( عورتوں سے ) کہا اے اپنی جانوں کی دشمنو ! تم مجھ سے تو ڈرتی ہو اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتیں ، عورتوں نے کہاکہ ہاں ، آپ رضی اللہ عنہ ٹھیک کہتے ہیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں آپ رضی اللہ عنہ کہیں زیادہ سخت ہیں ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن خطاب ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر شیطان تمہیں کسی راستے پر چلتا دیکھتا ہے تو اسے چھوڑ کر وہ کسی دوسرے راستے پر چل پڑتا ہے ۔


صحیح بخاری
فضائل صحابہ
 

sahj

وفقہ اللہ
رکن
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، عن إسماعيل، حدثنا قيس، قال قال عبد الله ما زلنا أعزة منذ أسلم عمر‏.‏

ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے قیس نے بیان کیاکہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے بعد پھر ہمیں ہمیشہ عزت حاصل رہی


صحیح بخاری
فضائل صحابہ
 

sahj

وفقہ اللہ
رکن

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا

اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں۔

حضرت ابی نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام آپ کے سامنے لیا ہے؟

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں۔

حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ دونوں جہاں کے پروردگار کے ہاں میرا ذکر کیا گیا؟

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔

یہ سنتے ہی حضرت ابی رضی اللہ عنہ بن کعب کی دونوں آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

ایک اور روایت میں یوں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابی سے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے سورہ لم یکن الذین کفروا پڑھو۔ حضرت ابی نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔
(یہ سنتے ہی حضرت ابی رو پڑے)۔
(بخاری ومسلم)​

(تشریح: یہ عظیم شرف سن کر حضرت ابی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجانا خوشی کی وجہ سے تھا ایسی خوشی جو حقیقی عاشق کو محبوب کے وصال اور محبوب کی کرم فرمائی کے وقت حاصل ہوتی ہے ایسی صورت میں قلب کا حزن وملال سکون پاکر آنکھوں کی راہ سے نکل پڑتا ہے۔
خاص طور پر سورہ لم یکن ہی کو پڑھنے کا حکم اس لئے ہوا کہ یہ سورہ الفاظ کے اعتبار سے بہت مختصربھی ہے اور اس میں فوائد بھی بہت زیادہ ہیں کیونکہ اس سورۃ میں دین کے اصول ، وعد وعید اور اخلاص وغیرہ کے اعلیٰ مضامین مذکورہ ہیں۔ اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ماہر قرآن اور اہل علم وفضل کے سامنے قرآن پڑھنا مستحب ہے اگرچہ قاری سننے والے سے افضل نہ ہو۔)​
 
Top