بڑائی کا عبرت ناک انجام

سارہ خان

وفقہ اللہ
رکن
ایک آدمی کو اللہ نے اتنی زرعی زمین دی تھی کہ تین ریلوے اسٹیشن اس کی زمین میں بنے ہوئے تھے یعنی پہلا ریلوے اسٹیشن بھی اس کی زمین میں دوسرا بھی اس کی زمین میں تیسرا بھی اس کی زمین میں تھا اتنی جاگیر کا مالک کروڑوں پتی بندہ تھا ایک مرتبہ دوستوں کے ساتھ شہر کے مرکزی چوک میں کھڑا ہوا باتیں کر رہا تھا دوستوں نے کہا کہ کاروبار کی کچھ پریشانیاں ہیں وہ ذرا موڈ میں آکے کہنے لگا او بھوکے ننگو تمہارے پلے ہے ہی کیا کبھی کبھی جب پیٹ بھر کر کھانے کو مل جاتا ہے نا تو بندہ خدا کے لہجے میں بولنا شروع کر دیتا ہے اس نے دوستوں کو کہا کہ تم پریشان رہتے ہو کہ آئے کہاں سے اور میں تو پریشان پھرتا ہوں کہ لگاؤں گا کہاں بس یہ عجب کا بول اللہ تعالی کو ناپسند آگیا بیمار ہو گیا اور چند مہینوں کے بعد خود تو دینا سے رخصت ہوا اور ایک بیٹا پیچھے چھوڑ گیا جوان العمر بیٹا جب سر پر باپ نہیں اور کروڑوں کا سرمایہ ہاتھ میں ہے تو پھر اس کے کئی الٹے سیدھے دوست بن گئے اس کو انہوں نے شراب اور شباب والے کاموں میں لگا دیا اب جوانی بھی لٹ رہی ہے مال بھی لٹا رہا ہے ہیں وہ اپنی مستیاں اڑا رہا ہے کسی نے اس کو یہاں سے لاہور کا راستہ دکھایا پھر کسی نے لاہور سے کراچی کا راستہ دکھایا کسی نے اس کو جوئے کا راستہ دکھایا کسی نے کہا کہ تم پاکستان میں پڑے ہو چلو باہر کسی ملک میں چلتے ہیں اس نے اسے بنکاک کا راستہ دکھا دیا پانی کی طرح اس نے پیسہ بہایا اور جوئے میں پھر کروڑوں ہارے حتی کہ جتنا بینک میں تھا سارا لگ گیا زمینیں بکنا شروع ہو گئیں آہستہ آہستہ ایک ایک مربع زمین بکتی گئی اور وہ لگاتا گیا ایک وقت آیا جب ساری زمینیں بک گیئں پھر وہ وقت آیا کہ وہ نوجوان جس گھر میں رہتا تھا اس کو وہ گھر بھی بیچنا پڑا اب اس کے پاس اپنا گھر نہیں تھا کھانے کیلئے اس کے پاس کچھ نہیں تھا جس جگہ پر اس کے باپ نے بڑا بول بولا تھا اس کا بیٹا اسی جگہ پر آکر کھڑا ہوتا اور لوگوں سے بھیک مانگا کرتا تھا
اللہ اکبر کبیرا
اللھمہ انا نعوذبک من شرور انفسنا ومن سیات اعمالنا
اہل دل کے تڑپا دینے والے واقعات
 

محمد نبیل خان

وفقہ اللہ
رکن
بہت خوب ام احمد
بندہ کو ہمیشہ سوچ سمجھ کر کوئی بھی جملہ اپنی زبان سے ادا کرنا چاہیے
اللہ کریم غرور و تکبر سے ہماری حفاظت فرمائے آمین
 

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
وہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجہ میں
اللہ تعالیٰ ہم سب کو بڑے بول سے بچائے .
شکریہ ام احمد جی
 

سارہ خان

وفقہ اللہ
رکن
احمدقاسمی نے کہا ہے:
یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
وہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجہ میں
اللہ تعالیٰ ہم سب کو بڑے بول سے بچائے .
شکریہ ام احمد جی
بھائی صاحب اس آدمی کا نام اس واقعہ میں نہیں لکھا مگر جس نے لکھا ہے یہ واقعہ اس کا نام حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی ہے
 
Top