رزق کا انتظام دشمن کے محل میں

سارہ خان

وفقہ اللہ
رکن
حضرت موسٰی علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے فرعون کو نجومیوں نے بتا دیا تھا کہ تمہاری مملکت میں ایک ایسا بچہ پیدا ہو گا جو تمہارے تخت وتاج کو چھین لے گا اس نے کہا اچھا میں اس کا بندوبست کرتا ہوں آئندہ دو سال تک وہ بنی اسرایئل کے بچوں کو ذبح کرواتا رہا جو بچہ پیدا ہوتا اسے ذبح کروادیتا مردوں کے الگ باغیچے بنادیئے تاکہ وہ بھی ادھر ہی کھائیں پیئں سوئیں بنی اسرایئل کے مردو عورت کا ملنا جلنا منع کر دیا گیا دو سال تک کوئی خاوند اپنی بیوی سے نہیں مل سکتا تھا مقصد یہ تھا کہ نہ ماں باپ ملیں گے نہ بچہ ہوگا اگر اس دوران کوئی بچہ پیدا ہو بھی گیا تو میں اسے قتل کروادوں گا مگر ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے کرنا خدا کا کیا ہوا کہ ان مردوں کا ایک بڑا افسر ان عورتوں کی ایک بڑی افسر دونوں میاں بیوی تھے جو فرعون کو رپورٹ پیش کرنے آتے تھے اور وہیں رات گزارتے تھے ان کو آپس میں ہمبستری کا موقع مل جاتا تھا ان میں سے ایک حضرت موسٰی علیہ السلام کا باپ تھا اور ایک ان کی ماں تھی حضرت موسٰی علیہ السلام ماں کے پیٹ میں پرورش پاتے رہے جب ولادت ہوئی تو آپ علیہ السلام کی ماں ڈری کہ ایسا نہ ہو کہ اس بچے کو ذبح کر دیا جائے اللہ تعالی فرماتے ہیں
واوحینا الی امہ موسٰی ان ارضعیہ
اور ہم نے وحی کی موسٰی علیہ السلام کی ماں کی طرف کہ تو اس کو دودھ پلا
فاذاخفت علیہ
اور اگر تجھے ڈر لگے کہ سپاہی اس کو نہ لے جائیں تو پھر اس کو ایک تابوت میں بند کر اور دریا میں ڈال دے،،فلیلقہ الیمہ وعدولہ.،،،،،وہ جو میرا بھی دشمن اور اس کا بھی دشمن
ام موسٰی عقل کہتی ہے واہ خدایا تیرے وعدے بھی عجیب تو بچے کو بچانا چاہتا ہے تو میں اس کو کسی کونے میں رکھ دوں گی تاکہ یہ پولیس والوں کو نظر ہی نہ آئے یا پھر کوئی پولیس والا اس گھر میں آہی نہ سکے تو نے بچانے کا وعدہ بھی کیا تو کتنا عجیب کہ اس کو تابوت میں ڈال اور تابوت کو دریا میں ڈال اب سوچئے اگر اس میں ہوا کے داخل ہونے کا بندوبست کریں تو سوراخ رکھنے پڑیں گے اگر سوراخ رکھے گئے تو پانی اس میں داخل ہو جائے گا گویا ضدیں جمع ہوگئیں بہر حال ماں نے دھڑکتے دل کے ساتھ اپنے بچے کو تابوت میں ڈال دیا عقل کی بات بالکل نہ سنی وہ جانتی تھی کہ یہ اللہ رب العزت کا وعدہ ہے جو میرا بھی پروردگار ہے اور بچے کا بھی پروردگار ہے وہی بچے کی پرورش بھی فرمائے گا چنانچہ کیا ہوا اس بچے کو فرعون اور اس کی بیوی نے پکڑا اللہ تعالی فرماتے ہیں
والقیت علیک محبتہ منی
میں نے اپنی طرف سے تیرے چہرے پر محبت ڈال دی القا کر دی چنانچہ فرعون کی بیوی نے حضرت موسٰی علیہ السلام کو دیکھا تو وہ بہت خوبصورت لگ رہے تھے کہنے لگی
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،لا تقتلوہ،،،،،،اس کو قتل نہیں کرنا،،،ان ینفعنا،،،ہو سکتا ہے یہ ہمیں نفع پہنچائے،،
اونتخذہ ولدًا....یا ہم اس کو اپنا بیٹا بنا لیتے ہیں.....
دیکھا قدرت کا کرشمہ قوم کے بچے مروانے والا خود اپنے دل کے ہاتھوں مرا پڑا ہے فرمان شاہی جاری ہوا تو بچے کو دودھ پلانے والی عورتیں آئیں مگر بچہ دودھ ہی نہیں پیتا فرعون پریشان ہے کہ بچہ دودھ نہیں پیتا عقل کا اندھا اس کی مت ماری گئی ساری قوم کے بیٹوں کو مرواتا رہا یہ سمجھ نہ آئی کہ اللہ تعالی اسی کے ہاتھوں سے بچوں کی پرورش کروارہے ہیں دوسری طرف حضرت موسٰی علیہ السلام کی ماں کا حال بھی عجیب تھا
واصبح فواد ام موسی فرغا ان کادت لتبدی بہ لولا ان ربطنا علی قلبھا لتکون من المومنین
اگر اللہ اس کے دل کو تسلی نہ دیتے تو وہ اپنا راز فاش کر بیٹھتی لیکن اللہ نے دل کو طاقت دے دی سنبھالا دے دیا بیٹی کو بھیتی ہے کہ دیکھ فرعون کے گھر کیا ہورہا ہے وہ فرعون کے گھر جا کر دیکھتی ہے کہ بچہ دودھ نہیں پی رہا فرعون سے کہنے لگی میں ایسے لوگوں کا پتہ نہ بتادوں جو اس بچے کی پرورش بھی کریں گے اوراس کے خیر خواہ بھی ہو نگے مفسرین نے لکھا ہے کہ فرعون کے دل میں خیال گزرا کہ یہ خیر خواہوں کا نام لینے والی کون آئی چنانچہ فرعون نے بچی سے پوچھا کہ کون ہیں اس کے خیر خواہ بچی ایسی ذہین بھی تھی کہ فوراً کہنے لگی کہ ساری قوم آپ کی خیر خواہ ہے جو بھی دودھ پلائے گی اس کی خیر خواہ ہوگی فرعون بچی کی بات سے مطمئن ہو گیا بچی نے گھر آ کر ماں کو صورت حال سے آگاہ کیا تو حضرت موسٰی علیہ السلام کی ماں بھی بچے کو دودھ پلانے تشریف لے گئیں بچے کو چھاتی سے لگایا تو بچے نے دودھ پینا شروع کر دیا فرعون خوشیاں منانے لگا اسے یہ بات سمجھ میں نہ آئی کہ ہو سکتا ہے یہ اس بچے کی ماں ہو کہتا ہے اچھا ہوا بچے نے تیرا دودھ پینا شروع کر دیا ہے تو اس بچے کو گھر لے جا کر اس کی پرورش ٹھیک کرنا اس کی ہر چیز کا خیال رکھنا میں تجھے سرکاری فنڈ سے اتنا وضیفہ دیتا رہوں گا اللہ نے جو وعدہ فرمایا تھا سچ کر دکھا یا چنانچہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
فرددنہ الی امہ کی تقر عینھا وال تحزن
کہ ہم نے لوٹا دیا اس کو ماں کے پاس تاکہ ماں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور اس کے دل میں کوئی غم نہ ہو
ولتعلم ان وعداللہ حق،،اور وہ جان لے کر اللہ کے وعدے سچے ہیں
ولکن اکثر الناس لا یعلمون
لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے ام موسٰی علیہ السلام اپنے بیٹے کو دودھ پلاتی تھیں اور سرکار سے وظیفہ ملتا تھا یوں اللہ تعالی اپنی ذات پر توکل کرنے والوں کو دوگنا منافع عطا دتیے ہیں


اہل دل کے تڑپا دینے والے واقعات

حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی
 
Top