غیر مقلدین کی ہذیان سرائی کا جواب

ش

شاہد نذیر

خوش آمدید
مہمان گرامی
اگر میں یہاں جاری بحث کے بارے میں کچھ عرض کروں تو برملا کہوں گا کہ اگر اخلاقیات اور اسلامی تعلیمات کو دیکھا جائے تو محترم مائلی شبلی صاحب حق پر ہیں۔ لیکن اگر اکابرین دیوبند کے انداز کو دیکھا جائے تو شرر صاحب اور نعیم صاحب حق پر ہیں کیونکہ اکابرین دیوبند کا یہی اخلاقی معیار رہا ہے جسے کا ایک ادنی نمونہ شرر صاحب نے یہاں پیش کیا ہے۔ دیوبندی علماء نے اپنے اکابرین سے اخلاقیات کا کیسا درس لیا ہے اس کا ایک ادنی سا اندازہ مفتی طارق لدھیانوی دیوبندی کی کتاب شادی کی پہلی دس راتیں پڑھ کر ہوتا ہے جس میں مصنف نے شرم و حیا کا جنازہ نکال دیا ہے۔ مذکورہ کتاب کے ٹائیٹل پر موجود تنبیہ صرف شادی شدہ پڑھیں، دیوبندی اخلاقیات بتانے کے لئے کافی ہے۔
 

اسداللہ شاہ

وفقہ اللہ
رکن
شاہد نذیر نے کہا ہے:
اگر میں یہاں جاری بحث کے بارے میں کچھ عرض کروں تو برملا کہوں گا کہ اگر اخلاقیات اور اسلامی تعلیمات کو دیکھا جائے تو محترم مائلی شبلی صاحب حق پر ہیں۔

جزاک اللہ فی الدارین
میں بھی اختلاف کے خلاف ہوں

لیکن اگر اکابرین دیوبند کے انداز کو دیکھا جائے تو شرر صاحب اور نعیم صاحب حق پر ہیں کیونکہ اکابرین دیوبند کا یہی اخلاقی معیار رہا ہے جسے کا ایک ادنی نمونہ شرر صاحب نے یہاں پیش کیا ہے۔
بھائی ذرا عرف عام میں اہلحدیث حضرات کا اخلاق بھی دیکھ لیں

مولوی رحیم بخش پنجابی غیر مقلد کا ایک شعر اور اسکے بعد احقر کا جواب ملاحظہ کیجئے

[size=x-large]
گلے میں ڈال کر تقلید کا زنار بد مذہب
کہ ہیں مشرک مقلد جھوٹے بے تکرار بد مذہب​
دیوبندی علماء نے اپنے اکابرین سے اخلاقیات کا کیسا درس لیا ہے اس کا ایک ادنی سا اندازہ مفتی طارق لدھیانوی دیوبندی کی کتاب شادی کی پہلی دس راتیں پڑھ کر ہوتا ہے جس میں مصنف نے شرم و حیا کا جنازہ نکال دیا ہے۔ مذکورہ کتاب کے ٹائیٹل پر موجود تنبیہ صرف شادی شدہ پڑھیں، دیوبندی اخلاقیات بتانے کے لئے کافی ہے۔

جناب والا! حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت امی حفصہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں آپ کیا ارشاد فرمائیں گے جب امیرالمومنین نے حضرت اُم المومنین سے سوال دریافت کیا تھا؟
 
ش

شاہد نذیر

خوش آمدید
مہمان گرامی
شرر نے کہا ہے:
میں اس سے پہلے سورہ بقرہ کی آیت نمبر 193 پیش کرتا ہوں ۔ فمن اعتدیٰ علیکم فاعتدوا علیہ بمثل مااعتدیٰ علیکم ۔ ترجمہ: سو جو تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس پر زیادتی کرو جیسی اس نے تم پر زیادتی کی ہے ۔

قرآن کی اس آیت سے شرر صاحب کا استدلال تو درست ہے لیکن اس کا استعمال غلط ہے۔محترم شرر صاحب صرف بدلے تک ہی محدود رہتے تو انکی عاقبت کے لئے اچھا ہوتا لیکن انہوں نے بدلے سے آگے بڑھتے ہوئے ظلم اور ناانصافی کے ذریعے اپنا نامہ اعمال سیاہ کر لیا۔

شرر صاحب کی جوابی تحریر کو بدلہ اس لئے نہیں کہا جاسکتا کہ اہل حدیث اور شرردیوبندی کی تحریرات کے تقابل سے پتا چلتا ہے کہ اہل حدیث عالم نے سخت زبان استعمال کی لیکن شر نے زیادتی کرتے ہوئے گالم گلوچ شروع کردی حتی کہ اہل حدیث کو بدکار،بدکردار اور زانی تک قرار دے دیا۔انااللہ وانا الیہ اجعون۔
اس کے علاوہ اہل حدیث عالم نے جو سخت بات کہی وہ سچی ہے یعنی تقلید کے شرک ہونے کی جس کا ثبوت قرآن وحدیث اور امت کے اسلاف سے باآسانی پیش کیا جاسکتا ہے جبکہ شرر صاحب نے جوابی حملے میں جابجا بہتان طرازی اور خالص کذب بیانی سے کام لیا ہے۔

مقلدین کا انداز ہمیشہ ہی سے یہ رہا ہے کہ اگر ان کی فقہ کے کسی خود ساختہ مسئلہ پر انگلی اٹھائی جائے تو یہ لوگ جوابا قرآن وحدیث پر اعتراض کردیتے ہیں حتی کے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور رسول کے اصحاب کو بھی الزام دینے سے باز نہیں آتے۔ یہی روایتی انداز شرر صاحب کی اس پوسٹ کا بھی ہے جس میں اہل حدیث پر تین طلاق کو ایک طلاق قرار دینے پر انتہائی یقین کے ساتھ زنا کا شرمناک فتوی لگایا گیا ہے۔ جبکہ صحیح مسلم کی حدیث بروایت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے پتا چلتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے پورے دور میں اور عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے ابتدائی دو سالوں تک جب بھی کوئی شخص اکھٹی تین طلاقیں دیتا تھا تو اسے ایک ہی شمار کیا جاتا تھا۔ اب آپ خود اندازہ کرلیں کہ شرر صاحب کے زنا کے فتوے کی زد اہل حدیث کے علاوہ اور کن کن مبارک ہستیوں پر پڑتی ہے۔ ہم ایسے مذہب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں جس کے دفاع کے لئے اسکے پیروکاروں کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ پر الزام تراشی اور ان مبارک ہستیوں کی کردارکشی کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ ہو۔

اگر کوئی کافر مسلمانوں کو گالی دے تو اس کی زد بلا استثناء ہر مسلمان پر پڑتی ہے اور اس گالی کا مصداق ہر مسلمان ہوتا ہے چاہے وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتا ہو چاہے وہ دیوبندی ہو حنفی ہو یا اہل حدیث کیونکہ ان کے درمیان مسلمان ہونے کی قدر مشترک ہے۔ بعینہ اسی طرح جب کوئی غیر مقلد کو گالی دیتا ہے تو اس کی زد مشہور غیرمقلد ابوحنیفہ پر بھی پڑتی ہے۔ کیونکہ بقول اشرف علی تھانوی، امام اعظم ابوحنیفہ کا غیر مقلد ہونا یقینی ہے۔(مجالس حکیم الامت)

اگر شرر صاحب اہل حدیث اور امام ابوحنیفہ کی غیر مقلد ہونے کی مشترک قدر پر ہی زرا غور فرمالیتے تو شاید ان کے انداز میں کچھ شائستگی آجاتی۔ جو شخص اہل حدیث کی مخالفت میں اتنا بے لگام ہوجائے کہ اپنے ہی امام کی عزت کے درپے ہوجائے تو ایسے شخص کو معقول تو نہیں کہا جاسکتا۔ شرر صاحب کو غیر مقلدین کو گالی دینے سے پہلے ہزار بار سوچنا چاہیے تھا کہ خود ان کے امام بھی یقینی غیر مقلد تھے۔ اس لئے غیرمقلدین کی عزت پر حملہ سب سے پہلے امام ابوحنیفہ کی عزت پر حملہ ہے۔ لیکن افسوس کے تعصب انسان کو اندھا کردیتا ہے۔ جو فرقہ اہل حدیث کے بغض میں اپنے نبی کی عزت کا پاس نہیں کرتا وہ اپنے امام کو کیا اہمیت دے گا۔
 

جمشید

وفقہ اللہ
رکن
پہلے کچھ شرر صاحب کی تحریر کے متعلق عرض کروں!
اس طرح کی تحریر مفید نہیں ہوتی۔ سامنے والے کو ضد اورانانیت پکڑلیتی ہے۔ اس کے بجائے اگردلیل سے بات کہی جائے توزیادہ بہتر رہتاہے ویسے یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ امام ابوحنیفہ کے تعلق سے ان کے ہذیان جو تحریر کی صورت میں ہوتے ہیں پڑھنے کے بعد بے ساختہ ویساہی جواب دینے کی طبعیت کرتی ہے جو شررصاحب نے اختیار کیاہے۔ لیکن اصل کام یہی ہے کہ اپنے اوپر اوراپنے نفس پر ضبط کیاجائے ۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ “غیرمقلد“ تھے۔ یہ عمومی اعتبار سے درست ہوسکتاہے جیساکہ ہرانسان “حیوان“ ہے۔ ہرانسان “ماکول“ہے لیکن ظاہر سی بات ہے کہ یہ اپنے وسیع اورعمومی مفہوم کے اعتبار سے ہے۔ بات اگرچہ صحیح ہی کیوں نہیں لیکن ہم اگرشاید نذیر صاحب کو یاکسی کو “حیوان“کہیں تویہ قطعامناسب نہیں ہوگا۔
اسی طرح عمومی اعتبار سے اوراس لحاظ سے کہ امام ابوحنیفہ مجتہد تھے کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے ان کو “غیرمقلد“ کہاجاسکتاہے لیکن مجتہد اوردور حاضر کے اہل حدیث،غیرمقلد یااورکچھ دوسرانام ہو ان کو ان سے کوئی نسبت نہیں ہوسکتی بلکہ جیساکہ سابق میں تحریر کرچکاہوں کہ
جس طرح ایک علم ہے
ایک جہل ہے
ایک دونوں کے درمیان جہل مرکب ہے۔
اسی طرح
ایک مجتہد ہے۔
ایک مقلد ہے
اوران کے درمیان “غیرمقلد“ ہے۔
ان کو درمیان میں رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ نہ خود اجتہاد کی صلاحیت کے حامل ہیں اورنہ ہی یہ کسی کی تقلید پر آمادہ ہیں۔ لیکن ان کی جگہ تیسری صف میں ہی بنتی ہے۔
مقلدین کا انداز ہمیشہ ہی سے یہ رہا ہے کہ اگر ان کی فقہ کے کسی خود ساختہ مسئلہ پر انگلی اٹھائی جائے تو یہ لوگ جوابا قرآن وحدیث پر اعتراض کردیتے ہیں
یہ غلط بیانی مناسب نہیں ہے قرآن وحدیث پر کوئی اعتراض نہیں کرتا قرآن وحدیث سے آپ حضرات نے جوکچھ سمجھاہے اس پر اعتراض کیاجاتاہے۔ اپنی اوراپنے علماء کی فہم کو قرآن وحدیث تونہ بنائیں۔
 

sahj

وفقہ اللہ
رکن
جمشید نے کہا ہے:
اپنی اوراپنے علماء کی فہم کو قرآن وحدیث تونہ بنائیں۔

جزاک اللہ خیرا بھائی جمشید

والسلام​
 

نعیم

وفقہ اللہ
رکن
مجھے شاہد نذیر کی پوسٹ پر ہنسی آرہی ہے۔
بقول شخصے ۔بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا۔۔کچھ نہ سمجھے خدا کر ے کوئی۔
جناب من:میں نے ہر پوسٹ میں آپ کو فراری ہی دیکھا ہے۔سوائے بغض ابو حنیفہ کچھ اور بھی ہے۔؟
خدا جانے الغزالی ناظمین اور قارئین کو کیا ہوا کہ جو شخص سیدھی بات نہ لکھ سکے۔اسکی پوسٹ کو اہمیت دی جائے۔
بحر حال تمام (بزعم خود) بخاری دوراں سے التماس ہے کہ پچھلے تمام مطالبات کا جواب دے کر آگے بڑھیں
 

شرر

وفقہ اللہ
رکن افکارِ قاسمی
شاہد نذیر نے کہا ہے:
شرر نے کہا ہے:
میں اس سے پہلے سورہ بقرہ کی آیت نمبر 193 پیش کرتا ہوں ۔ فمن اعتدیٰ علیکم فاعتدوا علیہ بمثل مااعتدیٰ علیکم ۔ ترجمہ: سو جو تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس پر زیادتی کرو جیسی اس نے تم پر زیادتی کی ہے ۔

قرآن کی اس آیت سے شرر صاحب کا استدلال تو درست ہے لیکن اس کا استعمال غلط ہے۔
محترم شرر صاحب صرف بدلے تک ہی محدود رہتے تو انکی عاقبت کے لئے اچھا ہوتا لیکن انہوں نے بدلے سے آگے بڑھتے ہوئے ظلم اور ناانصافی کے ذریعے اپنا نامہ اعمال سیاہ کر لیا۔

شرر صاحب کی جوابی تحریر کو بدلہ اس لئے نہیں کہا جاسکتا کہ اہل حدیث اور شرردیوبندی کی تحریرات کے تقابل سے پتا چلتا ہے کہ اہل حدیث عالم نے سخت زبان استعمال کی لیکن شر نے زیادتی کرتے ہوئے گالم گلوچ شروع کردی حتی کہ اہل حدیث کو بدکار،بدکردار اور زانی تک قرار دے دیا۔انااللہ وانا الیہ اجعون۔

الغزالی کے سیدھے سادھے معلمین اخلاق اور خود ساختہ شرافت کے علمبردار اور غیر مقلدین میرے معروضات پڑھیں اس کے بعد انصاف سے جو لکھنا ہو لکھیں ۔
جناب من مولوی رحیم بخش پنجابی کے صرف دو مصرعے میں نے نقل کئے تھے جو غلطی سے شعر درج ہو گیا ہے۔مولوی صاحب کی یہ پوری نظم ہے۔چند اشعار ملا حظہ ہوں( بقیہ اشعار بوقت ضرورت)
کیا ہے بے حیا اس مرتبہ تقلید نے ان کو
کہ ہردم افترا کر نے کو ہیں تیار بد مذہب
مقلد افترا وکذب کے ہر دم پو جاری ہیں
گلے میں ڈال کر تقلیدکا زنار بد مذہب

ازل کے روز سے ہے جھوٹ یارو ان کی طینت میں
نہ بولیں گے کبھی سچ فاجرو بد کار بد مذہب
تراب اب ہو گیا شہرہ یہ عالم میں بحمد للہ
کہ ہیں مشرک مقلد جھوٹے بے تکرار بد مذہب ( اشاعۃ الدین المتین ۔ص 55)
(نشان زدہ الفاظ بار بار پڑھیں )
میں تمام احباب کو دعوت دیتا ہوں چاہے غیر مقلد ہوں یا مقلد ،حنفی ہوں یا کوئی اور۔ آئیں اور بتائیں کہاں زیادتی ہوئی ہے ۔ بے غیرتی اور گروہی تعصب نے کس کو اندھا کیا ہے ۔کس کے اخلاق کا دیوالیہ نکلا ہے ۔ علمائے دیوبند کی فکر بعد میں ،پہلے غیر مقلدوں کے اخلاق کا ماتم کیا جائے ۔
میں نے غیر مقلدیت کا مطالعہ کیا ہے۔ اس فرقے کی بنیادوں میں جھانک کر دیکھا ہے میں جانتا ہوں غیر مقلدیت کیا ہے ۔جو خود کو غیر مقلد کہتے ہیں وہ اپنے مولویوں کی اندھی تقلید کرتے ہیں ۔
مولانا ابو الکلام آزاد غیر مقلد تھے وہ خود اپنے بارے میں لکھتے ہیں ‘‘تا ہم میں خود سر سید کا نہ صرف مقلد اعمیٰ ( اندھی تقلید کرنے والا) تھا بلکہ تقلید کے نام سے پرستش کرتا تھا ‘‘(آزاد کی کہانی ص384) بحوالہ سوانح اعلیٰ حضرت ص 54
میں نے غیر مقلدوں کو بد کار لکھا ہے اس کی پانچ دلیلیں ہیں ۔
(1)غیر مقلدوں نے مقلدوں کو فاجر وبد کار لکھا ہے ۔میں نے صرف بد کار لکھا ہے (2) غیر مقلدین تین طلاقیں دے کر بھی مطلقہ بیوی کو رکھ لیتے ہیں اور قرآن وحدیث کی مخالفت کرتے ہیں اس طرح بد کاری کرتے ہیں۔(3) میں نے ایک غیر مقلد کی تین بچیوں کو پڑھا یا ہے ان بچیوں کی سب سے بڑی بہن ایک مقلد وہ بھی حنفی کے ساتھ بھاگ گئی تھی ۔
بال بچے والے جوان بیٹے کی ایک غیر مقلد ماں غیر مقلد شوہر کے ہوتے ہوئے ایک ‘‘قصائی‘‘ کے ساتھ بھاگ نکلی ۔وہ بھی حنفی مقلد تھا ۔یہ کون سا نیک کام ہے ؟
(4) حافظ عبد اللہ غازی پوری اہل حدیث کا فتویٰ ہے ۔
فتویٰ : رنڈی نے زنا سے مال کمایا اور اس کے بعد اس نے تو بہ کرلی تو وہ مال اس کے اور تمام مسلمانوں کیلئے حلال اور پاک ہو جاتا ہے ۔ مؤرخہ 23 ربیع الاخر 1329ھ (بحوالہ قطع الوتین)
کیا اب بھی احناف کو زنا کی کمائی حلال کرنے کا جھوٹا طعنہ دیں گے ؟
(5) سیاحت الجنان بمناکحۃ اہل الایمان کے چند اقتباسات ۔
(1) اہل حدیثوں کی کیسی بے غیرتی اور بے شرمی ہے کہ ان سب فر قوں کو گمراہ بھی جانتے ہیں اور پھر ان سے منا کحت بھی کرتے ہیں جب یہ مشرک اور بدعتی ہیں تو پھر ان سے محبت کی مجالست اور مناکحت کس طرح روا ہو سکتی ہے کچھ غیرت سے جواب دو،ص 10
(2) حنفیوں کی لڑکیاں مراسم شرکیہ کر نے والیاں چوں کہ عند الشرع ‘‘کافرہ‘‘ ہیں لہذ امؤحدین اہل حدیث کو ان کو نکاح میں لانا اور ان کے نکاح پر اقامت رکھنا حرام ہوا ۔ص 17
(3) اس زمانہ کے نام نہاد اہل حدیث حسب ونسب مال وجمال پر فریفتہ ہو کر نکاح کرتے ہیں اور زات پرستی کا اس قدر رواج ہے کہ ہندوؤں کا نمونہ بنے ہوئے ہیں ۔ص 18
اب آئیں غیر مقلدین ۔خم ٹھوکیں اور پہلوانی فر مائیں ہم بھی دیکھیں گے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے۔
فقہ پر اعتراض کرنے والے قرآن وحدیث پر اعتراض کرتے ہیں ۔اللہ اور پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے ہیں ۔
قرآن میں ہے لیتفقھوا اس کا اصل مادہ ہے فقہ ۔ دوسری آیت ہے الذین یستنبطونہ منھم ۔ پہلی آیت میں فقہ سیکھنے کا حکم ہے ۔دوسری آیت میں فقیہ کی طرف رجوع کرنے کا حکم ہے اور حدیث میں ہے من یرد اللہ بہ خیر ایفقہ فی الدین( اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں اس کو فقہ فی الدین عطا فر ماتے ہیں۔
بتائیے کہ مشرک اور کافر اور بدعتی اور فاجر وبدکار کہنا شرافت کی کون سی قسم ہے اور کیسے اخلاق کا نمونہ ہے ۔جو غیر مقلد نہیں ہیں وہ ان غیر مقلدوں کی ان گالیوں کے جواب میں اپنی شرافت کا ڈھنڈورہ پیٹتے رہیں اور مجھے ائمہ اسلاف کا ۔ تمام مسلمانوں کا دفاع کرنے سے منع مت فر مائیں۔کرم ہوگا
 

شرر

وفقہ اللہ
رکن افکارِ قاسمی
شاہد نذیر نے کہا ہے:
شرر نے کہا ہے:
میں اس سے پہلے سورہ بقرہ کی آیت نمبر 193 پیش کرتا ہوں ۔ فمن اعتدیٰ علیکم فاعتدوا علیہ بمثل مااعتدیٰ علیکم ۔ ترجمہ: سو جو تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس پر زیادتی کرو جیسی اس نے تم پر زیادتی کی ہے ۔

قرآن کی اس آیت سے شرر صاحب کا استدلال تو درست ہے لیکن اس کا استعمال غلط ہے۔
محترم شرر صاحب صرف بدلے تک ہی محدود رہتے تو انکی عاقبت کے لئے اچھا ہوتا لیکن انہوں نے بدلے سے آگے بڑھتے ہوئے ظلم اور ناانصافی کے ذریعے اپنا نامہ اعمال سیاہ کر لیا۔

شرر صاحب کی جوابی تحریر کو بدلہ اس لئے نہیں کہا جاسکتا کہ اہل حدیث اور شرردیوبندی کی تحریرات کے تقابل سے پتا چلتا ہے کہ اہل حدیث عالم نے سخت زبان استعمال کی لیکن شر نے زیادتی کرتے ہوئے گالم گلوچ شروع کردی حتی کہ اہل حدیث کو بدکار،بدکردار اور زانی تک قرار دے دیا۔انااللہ وانا الیہ اجعون۔

الغزالی کے سیدھے سادے معلمین اخلاق اور خود ساختہ شرافت ٹھیکے دار اور ائمہ کرام گالیاں دینے والے سے گزارش ہے ذرا انصاف سے فر مائیں!
کہاں زیادتی ہوئی ہے ۔ بے غیرتی اور گروہی تعصب نے کس کو اندھا کیا ہے ۔کس کے اخلاق کا دیوالیہ نکلا ہے ۔ علمائے دیوبند کی فکر بعد میں ،پہلے غیر مقلدوں کے اخلاق کا ماتم کیا جائے ۔الغزالی کے سیدھے سادھے معلمین اخلاق اور خود ساختہ شرافت کے علمبردار اور غیر مقلدین میری معروضات پڑھیں اس کے بعد انصاف سے جو لکھنا ہو لکھیں ۔
جناب من مولوی رحیم بخش پنجابی کے صرف دو مصرعے میں نے نقل کئے تھے جو غلطی سے شعر درج ہو گیا ہے۔مولوی صاحب کی یہ پوری نظم ہے۔چند اشعار ملا حظہ ہوں( بقیہ اشعار بوقت ضرورت)
کیا ہے بے حیا اس مرتبہ تقلید نے ان کو​
کہ ہردم افترا کر نے کو ہیں تیار بد مذہب
مقلد افترا وکذب کے ہر دم پو جاری ہیں
گلے میں ڈال کر تقلیدکا زنار بد مذہب

ازل کے روز سے ہے جھوٹ یارو ان کی طینت میں
نہ بولیں گے کبھی سچ فاجرو بد کار بد مذہب
تراب اب ہو گیا شہرہ یہ عالم میں بحمد للہ
کہ ہیں مشرک مقلد جھوٹے بے تکرار بد مذہب​
( اشاعۃ الدین المتین ۔ص 55)
(نشان زدہ الفاظ بار بار پڑھیں )​
میں تمام احباب کو دعوت دیتا ہوں چاہے غیر مقلد ہوں یا مقلد ،حنفی ہوں یا کوئی اور۔ آئیں اور بتائیں
میں نے غیر مقلدیت کا مطالعہ کیا ہے۔ اس فرقے کی بنیادوں میں جھانک کر دیکھا ہے میں جانتا ہوں غیر مقلدیت کیا ہے ۔جو خود کو غیر مقلد کہتے ہیں وہ اپنے مولویوں کی اندھی تقلید کرتے ہیں ۔
مولانا ابو الکلام آزاد غیر مقلد تھے وہ خود اپنے بارے میں لکھتے ہیں ‘‘تا ہم میں خود سر سید کا نہ صرف مقلد اعمیٰ ( اندھی تقلید کرنے والا) تھا بلکہ تقلید کے نام سے پرستش کرتا تھا ‘‘(آزاد کی کہانی ص384) بحوالہ سوانح اعلیٰ حضرت ص 54
کجا امام ابو حنیفہ اور کجا یہ آج کل کے غیر مقلد ۔وہ فقیہوں کے امام اور یہ فقہ کی مخالفت کر نے والے۔
میں نے غیر مقلدوں کو بد کار لکھا ہے اس کی پانچ دلیلیں ہیں ۔
(1)غیر مقلدوں نے مقلدوں کو فاجر وبد کار لکھا ہے ۔میں نے صرف بد کار لکھا ہے (2) غیر مقلدین تین طلاقیں دے کر بھی مطلقہ بیوی کو رکھ لیتے ہیں اور قرآن وحدیث کی مخالفت کرتے ہیں اس طرح بد کاری کرتے ہیں۔(3) میں نے ایک غیر مقلد کی تین بچیوں کو پڑھا یا ہے ان بچیوں کی سب سے بڑی بہن ایک مقلد وہ بھی حنفی کے ساتھ بھاگ گئی تھی ۔
بال بچے والے جوان بیٹے کی ایک غیر مقلد ماں غیر مقلد شوہر کے ہوتے ہوئے ایک ‘‘قصائی‘‘ کے ساتھ بھاگ نکلی ۔وہ بھی حنفی مقلد تھا ۔یہ کون سا نیک کام ہے ؟
(4) حافظ عبد اللہ غازی پوری اہل حدیث کا فتویٰ ہے ۔
فتویٰ : رنڈی نے زنا سے مال کمایا اور اس کے بعد اس نے تو بہ کرلی تو وہ مال اس کے اور تمام مسلمانوں کیلئے حلال اور پاک ہو جاتا ہے ۔ مؤرخہ 23 ربیع الاخر 1329ھ (بحوالہ قطع الوتین)
کیا اب بھی احناف کو زنا کی کمائی حلال کرنے کا جھوٹا طعنہ دیں گے ؟
(5) سیاحت الجنان بمناکحۃ اہل الایمان کے چند اقتباسات ۔
(1) اہل حدیثوں کی کیسی بے غیرتی اور بے شرمی ہے کہ ان سب فر قوں کو گمراہ بھی جانتے ہیں اور پھر ان سے منا کحت بھی کرتے ہیں جب یہ مشرک اور بدعتی ہیں تو پھر ان سے محبت کی مجالست اور مناکحت کس طرح روا ہو سکتی ہے کچھ غیرت سے جواب دو،ص 10
(2) حنفیوں کی لڑکیاں مراسم شرکیہ کر نے والیاں چوں کہ عند الشرع ‘‘کافرہ‘‘ ہیں لہذ امؤحدین اہل حدیث کو ان کو نکاح میں لانا اور ان کے نکاح پر اقامت رکھنا حرام ہوا ۔ص 17
(3) اس زمانہ کے نام نہاد اہل حدیث حسب ونسب مال وجمال پر فریفتہ ہو کر نکاح کرتے ہیں اور زات پرستی کا اس قدر رواج ہے کہ ہندوؤں کا نمونہ بنے ہوئے ہیں ۔ص 18
اہل حدیثوں کے اس فتوے کے مطابق کافرہ عورتوں اور کافر مردوں سے نکاح کرنے والے ۔والیاں بد کار نہیں ہوئے؟
اب آئیں غیر مقلدین ۔خم ٹھوکیں اور پہلوانی فر مائیں ہم بھی دیکھیں گے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے۔
فقہ پر اعتراض کرنے والے قرآن وحدیث پر اعتراض کرتے ہیں ۔اللہ اور پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے ہیں ۔
قرآن میں ہے لیتفقھوا اس کا اصل مادہ ہے فقہ ۔ دوسری آیت ہے الذین یستنبطونہ منھم ۔ پہلی آیت میں فقہ سیکھنے کا حکم ہے ۔دوسری آیت میں فقیہ کی طرف رجوع کرنے کا حکم ہے اور حدیث میں ہے من یرد اللہ بہ خیر ایفقہ فی الدین( اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں اس کو فقہ فی الدین عطا فر ماتے ہیں۔
بتائیے کہ مشرک اور کافر اور بدعتی اور فاجر وبدکار کہنا شرافت کی کون سی قسم ہے اور کیسے اخلاق کا نمونہ ہے ۔جو غیر مقلد نہیں ہیں وہ ان غیر مقلدوں کی ان گالیوں کے جواب میں اپنی شرافت کا ڈھنڈورہ پیٹتے رہیں اور مجھے ائمہ اسلاف کا ۔ تمام مسلمانوں کا دفاع کرنے سے منع مت فر مائیں۔کرم ہوگا۔
 

محمد نبیل خان

وفقہ اللہ
رکن
جناب شرر صاحب میں بھی ان کو جانتا ہوں اور ان کے گھر کے اندر سے ہو کر آیا ہوں ۔ ان کے پاس تعصب کے سوا کچھ نہیں ملا ۔÷
 

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
ہمارے دوست مفتی ابوالکلام صاحب مظاہرعلوم میں استاذہیں ان کوکلکتہ میں ایک غیرمقلدمل گیا،غیرمقلدنے حسب عادت چھیڑخانی کی اورمفتی صاحب سے کہنے لگاکہ آپ لوگ امام ابوحنیفہ کی تقلیدکرتے ہیں لیکن میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداکرتاہوں۔
مفتی صاحب نے برجستہ اس کے کلین شیوچہرے پرہاتھ پھیرتے ہوئے کہاکہ کیایہی تقلیدکرتے ہو؟شرم نہیں آتی ہے نبی کی تقلیدکانعرہ لگاتے ہواوران ہی کی سنت کاجنازہ نکالتے ہو؟مجھے بتاؤکہ کبھی بھی سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈاڑھی منڈائی ہے۔
 
Top