علا مہ اقبال کی شاعری پند وموعظت کی آئینہ دار۔بشکریہ زریں شعائیں

  • موضوع کا آغاز کرنے والا قاسمی
  • تاریخ آغاز
ق

قاسمی

خوش آمدید
مہمان گرامی
علا مہ اقبال کی شاعری پند وموعظت کی آئینہ دار​
یاسمین بانو،D/oمرو تاج محمد،مولوی گنج -2-نزد سٹی بازار، تحصیل فتح پور، ڈسٹرک بارہ بنکی

مرزا اسد اللہ خان غالب کے بعد ہندوستان میں فارسی شاعری پر جو سکوت کے بادل مثل کالی رات سائے فگن ہوئے اس سے ارباب علم و اہل نظر نے یہ تو سمجھا کہ یہ سکوت کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ لیکن انہیں شاید اس بات کا اندازہ نہ تھا کہ یہ وقفہ رستخیز کی تیاری ہے جو ہند و ایران کو ہی نہیں بلکہ پورے عالم میں ایک انقلاب برپا کر دے گا، شاعری کی دنیا کو ایک نئی زمین میسر ہوگی۔ عشقیہ غزلوں کی جگہ فلسفیانہ مضامین اور صوفیانہ مثنویاں لے لیں گی۔ شاعری معاشرہ اور ملت کی اصلاح کے لئے ہونے لگے گی ۔فارسی شعر و ادب کے بحر بیکراں اس انقلاب کے محرک کے نام سے تو سارا عالم ہی واقف ہے جسے لوگ ادب و احترام سے سر محمد اقبال کہتے ہیں۔ علامہ اقبال کی عام فہم اردو شاعری سے تو نوخیز بچہ بھی اسی وقت آشنا ہو جاتا ہے جب اسے یہ ترانہ یاد کرایا جاتا ہے۔

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا

یا جب یہ دعا پڑتا ہے:

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

مگر علامہ اقبال کی بیشتر شاعری کے طلسم کو سمجھنے کے لئے دماغ و دل کو معمر بنانا پڑتا ہے کیونکہ پند و موعظت ، نوید زندگی ، فلسفہ، صوفیانہ مضامین کو ایسے موثر انداز میں شعریت کا جامعہ پہناتے ہیں جیسے چرخِ کہن میں ماہ ومہر ڈاکٹر محمد اقبال نے اردو کی تقریباً تمام صنف مثلاً غزل ، قطعہ، رباعی، مثنوی اور قصیدہ میں طبع آزمائی کی اور ہر ہر صنف کو اس کو بامِ عروج تک پہنچا دیا ۔ان کے کلام میں شاعرانہ لطافت ، شاعرانہ زور اور شاعرانہ رنگینی کا بہترین امتزاج جلوہ گر ہے۔ مگر اقبال کی اردو شاعری کی جو سب سے مقدم چیز ہے وہ ہے مثنوی مگر علامہ اقبال کی اردو شاعری پر روشنی ڈالنے سے قبل ان کے حالات زندگی جو کہ عموماً زبانِ زد خاص و عام ہیں تبرکاً قلم زد کرنا بے جا نہیں سمجھتی ہوں۔ علا مہ اقبال 22؍ فروری 1873ء میں سیال کوٹ میں پیدا ہوئے۔ان کے اباء و اجداد کشمیری برہمن تھے۔ اقبال کے والد شیخ نور محمد اگرچہ زیادہ پڑھے لکھے نہ تھے مگرعلم دینوی اور دنیاوی میں ایسی دسترس رکھتے تھے کہ لوگ انہیں ان پڑھ فلسفی کہتے تھے۔اپنے والد بزرگوار کی صحبت میں انہوں نے اسلامیات عرفان و تقویٰ و فلسفہ کی تعلیم پائی اور اس تربیت میں ان کے ذہن خداداد کو علوم دنیوی و علوم اسلامی سے منور کر دیا۔اقبال کے دو بڑے بھائی اور چار بڑی بہنیں تھیں۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کرنے کے بعد اسکاچ مشن اسکول میں داخلہ ہوا۔اپنے خداداد صلاحیتوں اور منور ذہن کی وجہ سے انہوں نے پرائمری مڈل و میٹرک میں وظیفہ حاصل کیا ۔ ایف اے کا امتحان اسکاچ مشن کالج سیال کوٹ سے پاس کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوگئے۔ بی اے میں عربی میں سارے پنجاب میں اول رہے۔ 1899ء میں ایم اے( فلسفہ) کا امتحان پاس کیا اور گولڈ میڈل بھی حاصل کیا۔ اس کے بعد انہوں نے چھوٹے چھوٹے اداروں میں تدریسی فرائض بھی انجام دیے اور علمی و ادبی کارنامے بھی انجام دیے ۔ 1903ء میں گورنمنٹ کالج میں فلسفہ کے اسسٹنٹ پروفیسر مقرر ہوئے اور شعر و شاعری کا آغاز کیا ۔تبھی سے ان کی نظمیں انجمن کے سالانہ جلسوں کی امتیازی خصوصیت بن گئیں۔ 1905ء میں انہوں نے تحصیل علم کے لئے بیرونی ملکوں کاسفر اختیار کیا وہ انگلستان و جرمنی گئے وہیں انہوں نے اپنی پی ایچ ڈی بھی مکمل کی۔ اور چھ ماہ کے لئے لندن یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر بھی رہے ۔ انہوں نے بیرسٹری کا امتحان بھی پاس کیا۔ واپس آنے پر گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفہ کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ حکومت نے انہیں درس وتدریس کے ساتھ ساتھ وکالت کی بھی اجازت دے رکھی تھی مگر کچھ دنوں بعد انہوں نے پروفیسری کو خیر آباد کہہ دیا اور وکالت سے دانستہ طور پر نبرد آزما ہوئے ۔ ہمہ گیر صلاحیتوں کے باوجود انہیں وہ مقام ابھی تک نہ ملا تھا جس کے وہ مستحق تھے مگر 1910ء میں شائع ہوئی ان کی تخلیق مثنوی ’’اسرار خودی‘‘ نے وہ شور بپا کیا کہ اقبال کا نام زبان زد و خاص و عام ہو گیا اور اس کے بعد پے در پے ان کی نظموں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور اقبال کے نام کا تیزی سے آسمان کی حدود کو چھونے کے لئے بڑھتا چلا گیا۔اقبال نے سیاست میں بہت کم حصہ لیا ان کا نصب العین اسلامی مقاصد کے تحفظ اور مسلمانوں کی بہبود کے لئے وقف تھا۔ 1926ء کے انتخابات میں وہ پنجاب کی مجلس قانون ساز کے رکن بنے۔1930ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس الہ آباد کے صدر چنے گئے گول میز کانفرنس کے آخری دو اجلاس میں بھی شریک رہے، مسلم کانفرنس کے صدر کی حیثیت سے اسلامی نصب العین کے تحفظ اور مسلمانوں کے قومی حقوق کے حصول کے لئے انہوں نے انتہائی استقامت سے کام لیا، اقبال کی اصلی شہرت کی کلید شاعری ہے مگر اس کے ذریعے بھی انہوں نے قوم کو بیدار کرنے سماج میں اصلاح پیدا کرنے اور نظام کو بہتر بنانے کو کوشش کی،دسمبر 1933ء میں پنجاب یونیورسٹی نے اس سے اگلے سال علی گڑھ یونیورسٹی نے اقبال کو ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی، اور 12؍اپریل 1938ء کو شہرہ آفاق شاعر، واحد زماں فلاسفر اور راہ حق شیدائی اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔
علامہ اقبال اردو کے منفرد شاعر تھے، نہ ان کی شاعری محبوب کی گھنی زلفوں کے سائے جیسی تھی نہ محبوب کی خوبصورت آنکھوں کے لئے، ان کے قلب میں جو سوز تھا وہ اسلام اور ملت کے لئے تھا انہوں نے ا پنی شاعری قوم کو راہ راست پر لانے کے لئے کی ورنہ جس شاعر نے نظموں کو اور مثنویوں کو ایسے بہترین پیرایہ میں ادا کیا کہ عوام کے دل پر حکومت کرنے لگا کیا اس کے دماغ میں محبوب کا خاکہ نہ تھا۔ کیا اس کے دل میں تغزل نہ تھا، اگروہ بھی چاہتا تو غالب اور میر کی طرح غزل کا بے تاج بادشاہ بن سکتا تھا، اقبال کی شاعرانہ لیاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے صفحوں کی نہیں دفتروں کی ضرورت ہوگی۔ ہم یہاں ان کی شاعری کو جھلک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔علامہ سر ڈاکٹر محمداقبال کی اردو شاعری کی ایک جھلک نظر گزار کریں۔
غزل: علامہ ا قبال کی اردو غزلیں تغزل کا بہترین نمونہ ہیں ، یہاں الفاظ مثل گہر پروئے گئے ہیں جن کے آب وتاب سے مضامین میں ایک عجب سوز و گداز پیدا ہو گیا ہے۔ ہر ہر شعر کی تشریح کے لئے ایک مستقل باب منظر عام پر آجاتا ہے۔ جو کہ ہم جیسے ناچیز طلب علموں کے لئے بھی مشعل راہ ثابت ہوتا ہے، کیونکہ ان کی غزلوں میں بھی اشارہ و کنایہ کے ذریعہ قوم کو راہ راست پر لانے کے تمام تر حربہ موجود ہیں، مثال کے طور پر چند اشعار ملاحظہ ہوں:
ملے گا منزل مقصود کا اسی کو سراغ
اندھیری شب میں ہے چیتے کی آنکھ جس کا چراغ
زندگی انساں کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں
دم ہوا کی موج ہے، رم کے سوا کچھ بھی نہیں
چمک تیری عیاں بجلی میں آتش میں شرارے میں
جھلک تیری ہویدا چاند میں سورج میں تارے میں
قطعات و رباعیات: خیالات اور جذبات کی عکاسی کرنے میں کوئی بھی شاعر علامہ اقبال کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتا، چونکہ قطعات و رباعیات کا کوئی اصل موضوع نہیں ہوتا یا یوں کہیں کہ یہ ا نصاف اپنے اندر مختلف مضامین کا ذخیرہ چھپائے رہتی ہیں اس لئے ان کے لئے اس صنف کی سب سے زیادہ ضرورت تھی ۔ اور اسی ضرورت کے لئے انہوں نے دودو شعر کے بکثرت قطعات لکھے۔چند قطعات حسب ذیل ہیں:
کل ایک شوریدہ خواب گاہ نبیؐ پہ رو رو کے کہہ رہا تھا
کہ مصر و ہندوستان کے مسلم بنائے ملت مٹا رہے ہیں
یہ زائران حریم مغرب ہزار رہبر بنیں ہمارے
ہمیں بھلا ان سے واسطہ کیا جو تجھ سے ناآشنا رہے ہیں
مشرق میں اصول دین بن جاتے ہیں
مغرب میں مگر مشین بن جاتے ہیں
رہتا نہیں ایک بھی ہمارے پلے
واں ایک کے تین تین بن جاتے ہیں
نظمیں: علامہ اقبال کی اردو نظموں میں قومیت اور وطنیت کے بجائے فلسفہ ، شعر اور سیاست جیسے مضامین جلوہ گر ہیں، علامہ ا قبال کی نظموں میں سیاست فلسفہ کے علاوہ ایرانی شعرا کے بہار یہ قصیدہ کی طرز پر چند بے مثال نظمیں قابل دید ہیں جن میں کشمیر کے دل فریب مناظر، خوش گوار آب و ہوا، اور باغ نشاط کا حسین منظر نظروں میں رقص کرتا نظر آتا ہے:
کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے
پیران کلیسا کو کلیسا سے اٹھا دوحق رابسجودے ، صنماں رابطوافے
بہتر ہے چراغ حرم و دیر بجھادو
میں نا خوش و بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے
میرے لئے مٹی کا حرم اور بنادو
مثنویاں: علامہ اقبال کی پہلی مثنویوں میں شاعرانہ اور والہانہ رنگ نظر آتا ہے وہ ان کی بعد مثنویوں گلشن راز جدید، جاوید نامہ، مسافر اور پس چہ باید کرد میں نظر نہیں آتا ان میں ان کا رنگ شاعرانہ رنگ پر واعظانہ رنگ حاوی ہوتا نظر آتا ہے لیکن ان میں جس اخلاق کا درس انہوں نے دیا ہے وہ شاید کہیں اور نہ نظر آئے جس کے متعلق پروفیسر عبدالقادر سروری صاحب اپنے مضمون ’’اقبال کی شاعری کا آخری دور‘‘ بحوالہ سب رس اقبال نمبر ص 91 پر یوں لب کشاں ہیں کہ: ’’غرض موجودہ زندگی کے بہت کم مسائل ہوں گے جن پر اقبال نے اس زمانے میں روشنی ڈالی ہو یا تنقید نہ کی ہو، اگر کوئی قوم جو حالت پستی میں ہو اقبال کے صرف آخری زمانے کے کلام کو ا پنی زندگی کا نصب العین بنائے تو یقین ہے کہ اس میں حیات کی ایک تازہ لہر پیدا ہو جائے گی۔‘‘چند اشعار ملاحظہ ہوں:

محکم کیسے ہو زندگانی

کس طرح خودی ہو لازمانی

آدم کو ثبات کی طلب ہے

دستور حیات کی طلب ہے

دنیا کی عشا ہو جس سے اشراق

مومن کی اذاں ندائے آفاق
علامہ اقبال کی شاعری کا صرف ایک ہی مقصد ہے ہمہ گیر انقلاب، اس زمانے میں انقلاب کے مدعی تو بہت ہیں لیکن ان کا انقلاب محدود ہے ، کوئی سیاست میں انقلاب لانا چاہتا ہے ، کوئی تعلیم میں کوئی مذہب میں اور کوئی تصوف میں انقلاب کا خواستگار ہے مگر اقبال ایسی واحد ہستی ہیں جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے ہر میدان میں انقلاب برپا کر دیا، علامہ اقبال نے اگر اپنی اپنے پورے شعری ورثہ میں صرف مندرجہ ذیل شعر ہی چھوڑے ہوتے تو ان کا متبادل بڑے بڑے شاعروں کے دیوانوں کی شکل میں بھی نہ ملتا مگر ان کے دواوین فارسی وار دو ایسا چرخ ہیں جس کا نہ اول ہے نہ آخر نہ حد ہے نہ دیوار، شعر ملاحظہ ہوں:

قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذبِ باہم جو نہیں، محفل انجم بھی نہیں
کٹی ہے رات تو ہنگامہ گشتری میں تیری

سحر قریب ہے اللہ کا نام لے ساقی

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

قدسی الاصل ہے رفعت پر نظر رکھتی ہے

خاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ نظر رکھتی ہے

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز

نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز

اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل

لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑئے
 

تانیہ

وفقہ اللہ
رکن
کلیم احمد قاسمی جی بہت خوب شیئرنگ ہے علامہ اقبال ایسی شخصیت ہیں جو ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہینگے ایک شاعر ، ایک مفکر ، ایک رہنما کے طور پہ ۔۔درست فرمایا گیا کہ بےشک انکی شاعری ہمہ گیری انقلابی شاعری ہے ۔۔۔تھینکس فار شیئرنگ
 
Top