مسئلہ تقلید

sahj

وفقہ اللہ
رکن

قرآن و حدیث اور اقوال سلف کی روشنی میں

بسم اللہ الرحمان الرحیم


تقلید کا وجوب اور اس کی ضرورت

اس امر سے کسی مسلمان کو اختلاف نہیں ھو سکتا کہ دین و شریعت کی حفاظت انتہائی ضروری اور واجب ھے۔ کیونکہ دین کی حفاظت کے بغیر انسان نہ تو دین پر چل سکتا ھے اور نہ ہی ان کامیابیوں کو حاصل کرسکتا ھے جن کی طرف دین لے جاتا ھے۔ یہی وجہ ھے کہ قرآن و حدیث میں بار بار دین اور امور دین کی حفاظت کی تاکید و تلقین آئی ھے ۔ دین کے وہ معاملات جن کا صراحت اور وضاحت کے ساتھ کتاب و سنت میں حکم آیا ھے ان کو واجب بالزات کہتے ہیں ۔ اسی طرح بعض وہ واجبات ھوتے ہیں کہ کتاب و سنت سے واجب قرار دئے ھوئے اعمال پر عمل کرنا ان کے بغیر ممکن نہیں ھو سکتا۔

چونکہ وہ واجب کی ادائگی کا مقدمہ اور ذریعہ بنتے ہیں اور شرعی ضابطہ ھے کہ واجب کا مقدمہ بھی واجب ھوتا ھے اور یہ ضابطہ مسلم شریف کی اس حدیث سے بھی ثابت ھوتا ھے ۔

" عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ھے کہ جو شخص تیر اندازی سیکھ کر چھوڑ دے وہ ہم سے خارج ھے یا یہ فرمایا کہ وہ گنہگار ھے۔"
( رواہ مسلم،،،مشکوٰۃ شریف ص 38 )

(فائدہ)
ظاھر ہے تیر اندازی کوئی عبادت مقصود نہیں ھے، مگر چونکہ بوقت ضرورت ایک واجب یعنی اعلائے کلمۃ اللہ کا مقدمہ ھے اس لئے اس کے ترک کرنے پر وعید فرمائی جو اس کے واجب ھونے کی علامت ھے، تو اس حدیث سے ثابت ہوا کہ واجب کا مقدمہ بھی واجب ھوتا ھے۔

شریعت میں اس کی بہت سی مثالیں ہیں مثلاً قرآن کریم اور احدیث شریفہ کو جمع کرکے لکھنے کی کتاب و سنت میں کہیں تاکید نہیں آتی ھے ، لیکن ان کے محفوظ رکھنے ، ضایع ھونے سے بچانے کی زبردست تاکید آئی ھے اور تجربہ اور مشاھدہ سے معلوم ھے کہ کتابت کے بغیر ان کا محفوظ رہنا عادۃً ممکن نہیں، اس لئے قرآن و حدیث کی کتابت کو ضروری سمجھا جائے گا ۔ چنانچہ اس کے واجب اور ضروری ہونے پر پوری امت کا دلالۃً اجماع ھے اس قسم کے واجب کو " واجب بالغیر" کہتے ہیں ۔

تقلید شخصی کا واجب ھونا بھی اسی قبیل سے ، کیونکہ دین کی حفاظت جو ہر مسلمان پر فرض اور واجب ھے وہ خیر القرون کے بعد تقلید شخصی کے بغیر ممکن نہیں ھے ۔ تقلید نہ کرنے سے دین کے بے شمار امور بلکہ پورے دین میں ذبردست خلل واقع ھوتا ھے اس حقیقت کو وضاحت کے ساتھ یوں سمجھئے کہ مسائل فرعیہ دو قسم کے ھوتے ہیں ایک وہ جن کا ثبوت ایسی آیت کریمہ یا احادیث صحیحہ سے صراحتہً ھوتا ھے جن میں بظاھر نہ تو کوئی تعارض ھوتا ھے اور نہ ہی وہ کئی معانی اور وجوہ کا احتمال رکھتی ہیں بلکہ مسائل پر ان کی دلالت قطعی اور ہتمی ہوتی ھے۔ ایسے مسائل کو منصوصہ غیر متعارضہ کہتے ہیں، اس طرح کے مسائل میں کسی بھی مجتہد کیلیئے اجتہاد کرنا جائز نہیں کیونکہ اجتہاد کی شرائط میں سے ھے کہ وہ حکم صراحۃً ثابت نہ ھو۔ اور جب ان مسائل میں اجتہاد نہیں تو ان مسائل میں کسی کی تقلید بھی نہیں ۔
دوسری قسم ان مسائل کی ھے جن کا ثبوت وضاحت کے ساتھ کسی آیت اور حدیث میں نہیں ملتا۔ یا اگر ثبوت پایا جاتا ھے تو وہ آیت اور حدیث اور بھی معنی اور وجوہ کا احتمال رکھتی ھے ، یا کسی دوسری آیت یا حدیث سے بظاھر متعارض معلوم ھوتی ھے۔ ایسے مسائل کو مسائل اجتہادیہ کہتے ہیں اور ان کا صحیح حکم مجتہد کے اجتہاد ہی سے معلوم ھوسکتا ھے ۔ وہ شخص جو اپنے اندر اجتہاد کی قوت نہیں رکھتا، اگر ان مسائل میں رائے زنی کرنے لگے تو نفسانی خواھشات کے پھندوں میں الجھ کر رہ جائے گا۔ اسلئے ضروری ہوا کہ امت کے بعض افراد کو ایسی قوت استنباط و اجتہاد عطا کی جائے جس کے زریعے وہ نصوص کتاب و سنت میں غور و فکر کرکے مسائل غیر منصوصہ کے احکام حاصل کرکے عام امت کے سامنے پیش کردے تاکہ انکے لئے دین پر عمل کا راستہ بے خطر اور آسان ھوجائے ۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین میں سے وہ حضرات جو ہمہ وقت دربار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضر باش تھے، انہیں اس قوت اجتہاد سے کام لینے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ان کیلئے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہی ہر مسئلہ کا حل اور ہر سوال کا کافی و شافی جواب تھی۔

اے لقائے تو جواب ہر سوال
مشکل از تو حل شو د بے قیل و قال



اسلئے وہ ہر بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست معلوم کرسکتے تھے، مگر وہ حضرات جو اس دور مبارک میں دربار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے باہر قیام پزیر تھے یا وہ حضرات جو بعد میں حلقہ بگوش اسلام ھوئے یا وہ حضرات جو بعد میں پیدہ ھوئے وہ اس قوت اجتہاد کے حد درجہ محتاج تھے کیونکہ ان کے دین کی حفاظت ہی اس قسم کے مسائل اجتہادیہ میں اسی اجتہاد کے ذریعہ ھوسکتی تھی۔
اسلئے خدائے رحیم و کریم نے بے شمار صحابہ کرام تابعین عظام، تبع تابعین اور بعد والوں کو اس دولت اجتہاد سے سرفراز فرمایا۔
جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے ھوئے صاف لفظوں میں نعمت اجتہاد کی تائید و تحسین اور اس پر اپنی مسرت کا اظہار فرمایا ۔

ابوداؤد شریف کی روایت میں ھے

" حضرت معاذ ن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ھے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یمن بھیجا تو فرمایا ، جب کوئی قضیہ پیش آئے تو کس طرح فیصلہ کرو گے ؟ عرض کیا ، کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اگر وہ مسئلہ کتاب اللہ میں نہ ملے تو ؟ عرض کیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اگر کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں میں نہ ملے تو ؟ عرض کیا، اس وقت اپنی رائے سے فیصلہ کروں گا اور (حق تک پہنچنے کی کوشش میں) کوئی کوتاہی نہیں کروں گا ، اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اپنے رسول کے قاصد کو اس بات کی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول راضی ھے۔"

ابوداؤد ص149،،،مشکوٰۃ ص324،



الغرض ! دور صحابہ کرام سے ہی حضرات مجتہدین نے مسائل شریعہ غیر منصوصہ میں اجتہاد کا سلسلہ شروع فرمایا۔ اور جو حضرات رتبہ اجتہاد تک نہیں پہنچ سکتے تھے انہوں نے یہ یقین کرکے کہ یہ حضرات مجتہدین علم و تقوٰی ،فہم و فراست ،دین و دیانت اور توفیق الٰہی سے سرفراز ھونے میں ہم سے بڑھے ھوئے ہیں اور انہوں نے بزریعہ اجتہاد جوکچھ معلوم کیا ھے وہ درحقیقت یا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ احادیث ہیں جو بغرض اختصار موقوف کردی گئی ہیں، یا صحیح استنباط ہیں جو نصوص کتاب و سنت سے لئے گئے ہیں اسلئے وہ بہرحال قابل اتباع ہیں، اس بناء پر عمل شروع کردیا۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں

" اور (تبع تابعین) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین کے اقوال سے استدلال کیا کرتے تھے کہ یہ قول یا تو حدیث ہیں جو منقول ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جن کو مختصر کرکے موقوف بنالیا ھے یا یہ اقوال حکم منصوص سے حضرات صحابہ و تابعین کے استنباط ہیں یا ان کی رایوں سے بطور اجتہاد لئے گئے ہیں اور صحابہ و تابعین ان سب باتوں میں ان لوگوں سے بہتر ہیں جو ان کے بعد میں ہوئے۔ صحت تک پہنچنے میں اور زمانے کے اعتبار پیشتر اور علم کے لحاظ سے بڑھ کر ہیں اسلئے ان کے اقوال پر عمل کرنا متعین ھوا۔"

(الانصاف،،ص20،،21)


بزرگوں پر اعتماد کرنا ہی اصل شریعت ہے



اپنے اسلاف پر اعتماد کرنا اور ان کے ساتھ حسن ظن کا معاملہ رکھنا وہ دولت ہے جس کے صدقہ میں آج دین اپنی صحیح شکل میں ہمارے ہاتھوں میں محفوظ ہے اسی بات کو حضرت شاہ ولی اللہ دھلوی رحمۃ اللہ نے بیان فرمایا ھے۔
"معرفت شریعت میں تمام امت نے بالاتفاق سلف گزشتہ پر اعتماد کیا ھے،چنانچہ تابعین نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تبع تابعین نے تابعین پر اعتماد کیا اسی طرح بعد والے علماء اپنے متقدمین پر اعتماد کرتے آئے۔ اور عقل سلیم بھی اسی کو اچھا سمجھتی ھے کیونکہ شریعت بغیر نقل اور استنباط کے معلوم نہیں ھوسکتی اور نقل اسی وقت صحیح ھوگی جب بعد والے پہلوں سے اتصال کے ساتھ لیتے چلے آئیں۔ "

(عقیدالجید،،،ص36)

خطیب بغدادی نے " الفقیہہ و المتفقہ " میں اجتہاد اور تقلید کی ان ضروریات کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ھے چنانچہ لکھتے ہیں:
"احکام کی دو قسمیں ہیں ۔ عقلی اور شرعی۔
عقلی احکام میں تقلید جائز نہیں ہے، جیسے صانع عالم اور اس کی صفات کی معرفت اس طرح رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے سچے ھونے کی معرفت وغیرہ ، عبید اللہ حسن عنبری سے منقول ھے کہ وہ اصول دین میں بھی تقلید کو جائز کہتے تھے۔ لیکن یہ غلط ھے اس لیئے کہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں ،" تمہارے رب کی جانب سے جو وحی آئی اسی پر عمل کرو اس کے علاوہ دوسرے اولیاء کی اتباع نہ کرو کس قدر کم تم لوگ نصیحت حاصل کرتے ھو"۔ اسی طرح اللہ تعالٰی فرماتے ہیں "جب ان لوگوں سے کہا جاتا ھے کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کی اتباع کرو تو وہ لوگ کہتے ہیں نہیں ہم اس چیز کی اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ھے ،چاھے ان کے باپ دادا بے عقل اور بے ھدایت ہوں"۔

(الفقیہہ و المتفقہ،،ج 2، ص 128،،مطبوعہ دار ابن الجوزیہ)



دوسری قسم احکام شریعہ، اور ان کی دو قسمیں

(1) دین کے وہ احکام جو وضاحت و صراحت کے ساتھ معلوم ہوں۔ جیسے روزہ ، نماز، حج ، زکوٰۃ اسی طرح زنا اور شراب کا حرام ہونا وغیرہ ، تو ان میں تقلید جائز نہیں ھے۔ کیونکہ ان کے جاننے میں سارے لوگ برابر ہیں اسلئے ان میں تقلید کا کوئی معنی نہیں۔

(2) دین کے وہ احکام جن کو نظر و استدلال کے بغیر نہیں جانا جاسکتا ،جیسے عبادات معاملات،نکاح وغیرہ کے فروعی مسائل تو ان میں تقلید کرنی ھے اللہ تعالٰی کے کلام " فاسئلو ا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون " کی دلیل سے ۔ اور وہ لوگ جنکو تقلید کرنی ھے وہ حضرات ہیں جنکو احکام شریعہ کے استنباط کے طور طریقے معلوم نہیں ہیں۔ تو ان کے لئے کسی عالم کی تقلید اور اس کے قول پر عمل کئے بغیر چارہ نہیں ھے۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد ھے کہ " اہل علم سے معلوم کرو ، اگر تم کو معلوم نہیں"۔۔۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ھے کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں زخمی ھوگئے پھر انہیں غسل کی حاجت ھوگئی، لوگوں نے انہیں غسل کرنے کا حکم دے دیا جس کی وجہ سے ان کی موت ھوگئی۔ اس کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ھوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ان کو برباد کرے ان لوگوں نے تو اس بے چارے کو قتل کردیا۔ عاجز رہ جانے والے کی کامیابی سوال کرلینے میں ہی ھے۔

دوسری اسکی دلیل یہ ھے کہ یہ شخص اہل اجتہاد میں سے نہیں ھے تو اس پر تقلید ہی فرض ھے۔ جیسے اندھا انسان، جب اسکے پاس ذریعہ علم نہیں ھے تو قبلہ کے سلسلہ میں اسکو کسی دیکھنے والے کی بات ماننی ھو گی۔



تقلید کی حقیقت


جب یہ بات ثابت ھوگئی کہ تمام شریعت کی جڑ ہی گزشتہ بڑوں پر اعتماد و اعتبار ہے تو اب تقلید کا معنیٰ سمجھنا آسان ھوگیا کہ کسی آدمی کا کسی رہنمائے دین کے قول و فعل کو محض ظن کی بناء پر تسلیم کرکے عمل کرلینا اور اپنے تسلیم و عمل کو اس بزرگ کی دلیل معلوم ھونے تک ملتوی نہ کرنا ۔

مولانا قاضی محمد اعلٰی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔

ترجمہ:- تقلید انسان کا اپنے غیر کی اتباع کرنا اس کے قول یا فعل میں اسے حق سمجھتے ھوئے دلیل پر نظر کئے بغیر گویا اس متبع نے غیر کے قول یا فعل کو بلا کسی دلیل کے مطالبہ کے اپنی گردن کا ہار بنالیا۔
(کشاف اصطلاحات الفنون ،ص116)

ترجمہ:-
تقلید غیر کی اتباع کرنا ،اسکے برحق ھونے کے گمان پر بلا کسی دلیل کے مطالبہ کے۔
(نامی شرح حسام ، ص190)

دونوں تعریفوں کا حاصل یہی ھے کہ مجتہد کے قول و فعل کو معلوم کرکے محض حسن ظن اور عقیدت کی بنا پر تسلیم اور عمل کرے اور تسلیم و عمل کے وقت مجتہد کی دلیل کی فکر نہ کرے۔ اور نہ اس سے دلیل طلب کرے خواہ بعد میں وہی دلیل معلوم ھوجائے جو مجتہد کے پیش نظر تھی یا اپنے مطالعہ اور تحقیق سے اس مسئلہ کے بہت سے دلائل معلوم ھوجائیں ، تو یہ معلوم ھوجانا تقلید کے خلاف نہیں ھے۔ تقلید کے مفہوم میں عمل کرتے وقت اور تسلیم کرتے وقت دلیل کا مطالبہ نہ کرنا داخل ھے لیکن دلیل نہ ھونا یا دلیل کا علم نہ ھونا یا دلیل کا علم نہ ھونا یہ مفہوم تقلید میں داخل نہیں ھے۔ لہٰذا لوگوں کا یہ کہنا کہ تقلید لوازم جہالت ھے صحیح نہیں ھے۔

تقلید شخصی اور غیر شخصی کی تعریف

تقلید کی تعریف کے بعد یہ جاننا چاھئے کہ تقلید کی دو قسمیں ہیں
(1)
تقلید شخصی
(2)
تقلید غیر شخصی

تقلید شخصی یہ ھے کہ ایک معین مزھب کی تقلید کرنا جس کی نسبت کسی ایک امام کی طرف ھو۔
اور
تقلید غیر شخصی یہ ھے کہ ایک معین مزھب کی تمام مسائل میں پابندی نہ کرنا بلکہ کوئی مسئلہ کسی مجتہد کا لینا اور کوئی مسئلہ کسی اور مجتہد کا لینا۔


تقلید غیر شخصی کا دور

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں مسائل دینیہ حاصل کرنے کے تین طریقے تھے، ایک تو خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ،دوسرا طریقہ اجتہاد، تیسرا تقلید۔ جولوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھے یا ان کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات یا رابطہ آسان تھا وہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرلیتے تھے۔ لیکن جن لوگوں کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات یا رابطہ نہیں ھوسکتا تھا ، تو وہ حضرات اپنے اندر خود اجتہاد کی صلاحیت رکھتے تھے، تو اجتہاد کرلیتے تھے اور اگر صلاحیت اجتہاد نہ ھوتی یا اجتہاد نہ کرنا چاھتے تو جو معتبر عالم مل جاتا اس سے تحقیق کرلیتے تھے اور عمل پیرا ھوجاتے تھے۔۔۔۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اب دین حاصل کرنے کے دوہی طریقے رہ گئے تھے ایک اجتہاد اور دوسرے تقلید ۔ خدائے کریم کے اس امت پر خصوصی فضل و کرم کی وجہ سے امت میں بے شمار مجتہدین پیدہ ھوئے۔ مگر ابتداء میں کسی مجتہد کے اصول و قواعد منضبط اور مرتب نہیں ھوئے تھے، نہ ہی ان کے مسائل اجتہاد فرعیہ منضبط اور مدون ھوئے تھے اس لئے کسی خاص مجتہد کے تمام مسائل اجتہادیہ کی اطلاع حاصل کرنا اور اس پر عمل کرنا آسان نہ تھا۔
اس وجہ سے جس کو جو مجتہد مل جاتا اس سے اپنی ضرورت کا مسئلہ دریافت کرکے اس مسئلہ میں اسی کی تقلید کرلیتا تھا۔ کسی خاص مجتہد کی پابندی نہ تھی اور لوگوں کے طبائع میں دین اور تقوٰی کے غلبہ کی وجہ سے اس کی ضرورت بھی نہ تھی اور نہ ہی اس وقت یہ ممکن تھا یہ سلسلہ دوسری صدی کے اخیر تل بلا کسی نکیر کے جاری رہا۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی عقد الجید میں فرماتے ہیں۔

ترجمہ:- اس لئے کہ لوگ زمانہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمٰعین سے مزاہب اربعہ کے ظاھر ھونے تک ،جو علماء انہیں مل جاتے تھے ان کی تقلید کرلیا کرتے تھے اس پر کسی معتبر آدمی نے انکار بھی نہیں کیا اگر یہ غلط ھوتا تو لوگ ضرور اس پر نکیر کرتے۔
(عقد الجید ، ص، 33)


تقلید شخصی کا رواج

دوسری صدی ھجری میں مجتہدین کرام کے اصول و فروع کی تدوین اور ترتیب کا سلسلہ شروع ھوا ۔ مجتہدین کرام کے قابل قدر شاگردوں نے اپنے اساتزہ کرام کے مزاھب کی بقا اور ان کی ترویج و اشاعت کی کوشش کرنی شروع کیں تو دوسری صدی کے بعد اکثر لوگوں میں مزھب معین کی تقلید کا سلسلہ شروع ھوا۔ مگر اس وقت چونکہ مجتہدین حضرات کے مزاھب کے مدون اور مرتب مجموعے ہر جگہ موجود نہ تھے اور نہ ہر شخص کو بآسانی فراہم ھوسکتے تھے، اسلئے یہ مجموعے جن حضرات کی دسترس سے باھر تھے وہ اب بھی حسب دستور تقلید غیر شخصی پر ہی عامل تھے ۔ اور جو حضرات تقلید شخصی پر عمل کرنے لگے تھے وہ بھی ان چار مزاھب تک ہی محدود نہ تھے بلکہ ان چار کے علاوہ بہت سے مجتہدین کے مزاھب اور ان کے ماننے والے پائے جاتے تھے اور تقلید شخصی اور غیر شخصی کی ملی جلی ، مگر تقلید شخصی کے غلبہ کی یہ کیفیت چوتھی صدی ھجری تک جاری رہی۔

حضرت شاہ ولی اللہ صاحب الانصاف میں فرماتے ہیں۔

ترجمہ:- دوسری صدی کے بعد لوگوں میں متعین مجتہدین کے مزھب پر چلنے کا رواج ظاھر ھوا۔ کسی غیر متعین مزھب پر نہ چلنے والوں کی تعداد بہت کم ھوگئی اور اس زمانے میں یہی واجب تھا۔
(الانصاف،ص،52)

مزاھب اربعہ میں تقلید شخصی کا انحصار

مگر چوتھی صدی ھجری میں جب مزاھب اربعہ (حنفی،شافعی،مالکی،حنبلی) کی کتابیں مرتب اور مدون ھوکر اطراف عالم میں پھیل گئیں اور ان مزاھب پر عمل کرنا آسان ھوگیا،اور ان چاروں حضرات کے علاوہ دیگر مجتہدین کرام کے مزاھب کے آثار جو چوتھی صدی ھجری سے قبل کچھ نہ کچھ پائے جاتے تھے رفتہ رفتہ مفقود ھوتے گئے۔ یہاں تک کہ ان طاروں حضرات کے مزاھب کے سوا اہل حق کا کوئی اور مزھب باقی نہ رہ گیا اور اب کسی نئے اجتہاد کی ضرورت بھی نہ تھی تو مشیت الٰہی سے انہیں چاروں مزاھب کے اندر تقلید شخصی کا انحصار ھوگیا۔

حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں

ترجمہ:-
جب ان چاروں کے علاوہ دیگر مزاھب حقہ ناپید ھوگئے تو اب ان کی اتباع ہی سواد اعظم کی اتباع ھے۔
(عقد الجید ، ص،33)


علامہ ابن خلدون رحمۃ اللہ علیہ مقدمہ تاریخ میں فرماتے ہیں

دیار و امصار میں انہیں ائمہ کرام پر تقلید آکر ٹھرائی گئی اور ان کے علاوہ کے مقلدین حضرات ختم ھوگئے لوگوں نے اختلاف کے راستے اور دروازے بند کردئے ،چونکہ اصطلاحات علمیہ بدل گئیں اور لوگ رتبہ اجتہاد تک پہنچنے سے باز رہ گئے اور یہ خوف پیدہ ھوا کہ کہیں اجتہاد کا سلسلہ ایسے آدمی تک نہ پہنچ جائے جو اس کا اہل نہ ھو اور اس کی رائے اور دین داری قابل اعتماد نہ ھو ۔ اس بناء پر علمائے کرام نے اجتہاد سے اپنا عجز اور اس کے دشوار ھونے کی صراحت کردی اور لوگ جن مجتہدین کی تقلید کرتے چلے آرہے تھے انہیں کی تقلید کی ہدایت کرنے لگے،انہوں نے اس بات کا خطرہ محسوس کرلیا کہ کبھی کسی اور کبھی کسی اور کی تقلید دین کو کھیل نہ بنادے۔ لہٰزا اب صرف مزاھب فقہ کی نقل باقی رہ گئی۔ اصول کی تصیح اور سند کے اتصال کا لحاظ کرکے ہر مقلد اپنے مجتہد کی تقلید کرنے لگا۔ اور اب فقہ کا حاصل اسکے سوا کچھ نہیں رہ گیا اور اس زمانے میں اجتہاد کا دعوٰی کرنے والا قابل رد اور اس کی تقلید قابل ترک ھے اب اہل اسلام کا انہیں چاروں مزاھب کی تقلید پر اجماع ہوگیا۔
(مقدمہ ابن خلدون ،ص،44



فضل الٰہی سے صرف ائمہ اربعہ کے مزاھب کا باقی رہ جانا

حاصل یہ رہا کہ چوتھی صدی ھجری کے بعد سارے مزاھب فقیہہ ناپید ھوگئے پورے عالم میں اہل حق کے گروہ میں سے صرف ائمہ اربعہ کے مقلدین ہی باقی رہ گئے تو اب دو ہی صورتیں سامنے رہ گئیں ،یا تو لوگ اپنی رایوں اور خیالوں کو کافی سمجھ کردین کو کھیل و تماشہ بنالیں اور خواھشات نفسانی کا اتباع کرنے لگیں یا پھر ائمہ اربعہ کے محفوظ اور برحق مزھب میں سے کسی کی تقلید کرکے اپنے دین کو بچالیں۔ چونکہ اللہ تعالٰی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو قیامت تک گمراہی سے بچانہ تھا اسلئے اللہ تعالٰی نے غیب سے یہ نظم فرمایا کہ خود بخود لوگوں کے قلوب میں ائمہ اربعہ کی تقلید شخصی کی محبت پیدہ ھوگئی اور ان کا دین و ایمان اختلاف و انتشار کا شکار ھونے سے بچ گیا۔

حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی فرماتے ہیں

ترجمہ:- ائمہ اربعہ کے مزاہب کو اختیار کرلینا ایک راز ھے جو اللہ نے اس امت کے علماء کے قلوب میں ڈال کر انہیں اس پر جمع کردیا۔ خواہ وہ اس راز کو سمجھیں یا نہ سمجھیں۔
(الانصاف،)


چنانچہ چوتھی صدی ھجری کے بعد جتنے بڑے بڑے علماء کرام اور محدثین عظام گزرے ہیں وہ سب کے سب ائمہ اربعہ میں سے کسی نہ کسی کے مقلد ھوئے ہیں۔

حافظ زیلعی
علامہ طیبی
ابن الہمام
ملاعلی قاری وغیرہ رحمہ اللہ علیہم اجمٰعین جو علم حدیث میں جلیل القدر رتبوں کے حامل ہیں حنفی المزھب تھے۔
ابن البر رحمۃ اللہ علیہ جیسے عالی مرتبہ محدث مالکی تھے۔
امام نوی
بغوی
خطائی
ذہبی
عسقلانی
سیوطی رحمہ اللہ تعالٰی علیہم اجمٰعین وغیرہ حنبلی تھے۔


اب تک کی بات کا حاصل یہ نکلا کہ حالات زمانہ کے پیش نظر دوسری صدی تک تو تقلید غیر شخصی ہی رائج رہی، پھر دوسری صدی کے بعد تیسری صدی کے اخیر تک تقلید غیر شخصی کم اور تقلید شخصی زیادہ رائج رہی پھر چوتھی صدی ھجری میں تقلید شخصی ہی کے انحصار پر امت مرحومہ کے سواد اعظم کا اجماع ھوگیا۔ جو اللہ کے فضل سے آج تک باقی ھے،اور اس امت مرحومہ کے حق میں رحمت الٰہی تائید ربانی اور نصرت غیبی ھے۔اور بقول صاحب تفسیر احمدی کے" یہ فضل الٰہی کسی توجیہہ اور دلیل کا محتاج نہیں۔"(تفسیر احمدی،ص،297
)
لیکن بد قسمتی سے کچھ لوگوں کو حفاظت شریعت اور ھدایت امت کا یہ غیبی اور ربانی سلسلہ پسند نہیں آیا اور اس کے خلاف اک ہنگامہ برپا کرکے اسے ناجائز حرام بدعت بلکہ شرک تک کہنے کی جسارت میں مبتلا ھوگئے اور سادہ لوح عوام کو شکوک و شبہات میں مبتلا کرکے انہیں تقلید ائمہ سے روکنا شروع کردیا۔ اسلئے اس سلسلے میں کتاب و سنت سے کچھ دلائل پیش کئے جاتے ہیں تاکہ حق طلب طبیعتیں مطمئین ھوسکیں۔ یہ بات معلوم ھوچکی ھے کہ تقلید کی دو قسمیں ہیں شخصی اور غیر شخصی اس لئے نفس تقلید کے ثبوت سے ان دونوں کا ثبوت ھوگا کیونکہ تقلید میں دونوں داخل ہیں۔



جاری ہے​
 

sahj

وفقہ اللہ
رکن


بسم اللہ الرحمان الرحیم





تقلید کا ثبوت قرآن سے



پہلی آیت :-

فَاسْأَلُواْ أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ
(النحل 43)

-:ترجمہ:-

سو اگر تمہیں معلوم نہیں تو اہلِ علم سے پوچھ لو


صاحب روح المعانی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں

-:ترجمہ:-
اس آیت سے استدلال کیا گیا ھے کہ جس بات کا خود علم نہ ھو اس میں علماء کی جانب رجوع کرنا واجب ھے۔
(روح المعانی ،،ص،148،ج،4)


حافظ ابوعمر ابن عبدالبر المتوفی 463 ھجری فرماتے ہیں

ترجمہ:-
علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ھے کہ عوام کے لئے اپنے علماء کی تقلید واجب ھے اور اللہ کے قول فاسئلو اھل الزکر ۔۔ الخ۔ سے یہی لوگ مراد ہیں۔اور سب کا اتفاق ھے کہ اندھے پر جب قبلہ مشتبہ ھوجائے تو جس شخص کی تمیز پر اسے بھروسہ ہے ،قبلہ کے سلسلہ میں اس کی بات ماننی لازم ہے اسی طرح وہ لوگ جو علم اور دینی بصیرت سے عاری ہیں ان کے لئے اپنے عالم کی تقلید لازم ہے۔
(جامع بیان العلم و فضلہ ،ص989،،ج 2)

ابوبکر احمد علی الخطیب بغدادی متوفی 462ھ کے حوالے سے بھی یہ بات گزر چکی ھے کہ اس آیت میں اھل الزکر سے "اہل علم" ہی مراد ہیں۔۔۔۔۔۔ حاصل یہ کہ اس آیت سے تقلید کا ثبوت نہایت وضاحت اور صراحت سے ھوتا ھے۔


-:دوسری آیت :-

وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُواْ بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُوْلِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ
(النساء 83)

-:ترجمہ:-
اور جب انکے پاس امن یا خوف کا کوئی معاملہ آتا ھے تو اسے مشہور کردیتے ہیں۔ اگر پیغمبر خدا اور اپنے میں سے اولی الامر کے پاس اسے لے جاتے تو ان میں سے جو اہل استنباط (یعنی مجتہدین) ہیں اسے اچھی طرح جان لیتے


اس آیت میں از خود عمل کرنے اور اہم معاملات کی تشہیر کرنے کو منع کرکے مجتہدین کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا گیا ھے کیونکہ مسئلہ کی حقیقت کماحقہ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں ،نیز اس آیت میں معاملہ کو لوٹانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ علماء مجتہدین کو شریک کرکے یہ اشارہ کیا گیا ھے کہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب رجوع کرنا محض حسن ظن اور اعتبار و اعتماد کی بنا پر ھے اسی طرح مجتہدین کی طرف رجوع کرنا محض حسن ظن اعتبار و اعتماد کے ساتھ ہونا چاھئے ، گو اعتماد کی نوعیت میں دونوں جگہ بڑا فرق ہے۔ اسی چیز کو اصطلاح میں تقلید کہا جاتا ھے۔

امام رازی رحمۃ اللہ علیہ "تفسیر کبیر" میں اس آیت سے چند امور اخز کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔

-:ترجمہ:-
تو ثابت ھوا کہ استنباط حجت ہے اور قیاس یا تو استنباط ہے یا اس میں داخل ، تو وہ بھی ہوا۔ اور جب یہ بات ثابت ہوگئی تو ہم کہتے ہیں کہ آیت چند امور پر دلالت کرتی ہے۔
(1)
پیش آمدہ مسائل میں بعض ایسے امور ہیں،جو نص سے نہیں بلکہ استنباط سے جانے جاسکتے ہیں۔
(2)
استنباط حجت ھے ۔
(3)
عام آدمی کے لئے ان پیش آمدہ مسائل میں علماء کی تقلید واجب ھے ۔
(تفسیر کبیر ،،ص،،273،،ج3،)



-:تیسری آیت:-

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنكُمْ
(النساء 59)
-:ترجمہ:-
اے ایمان والو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے میں سے اولوالامر کی اطاعت کرو ۔


لفظ " اولی الامر " کی تفسیر مفسرین کرام نے حکام و سلاطین اور علمائے مجتہدین دونوں سے کی ہے۔ مگر یہاں علمائے مجتہدین مراد لینا زیادہ بہتر اور راجح ھے،کیونکہ حکام دنیوی، احکام دینیہ میں خود مختار مہیں ہیں ۔ بلکہ وہ علمائے شریعت کے بتلائے ہوئے احکام پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔ لہٰزا علمائے کرام حکام دنیاوی کے حاکم اور امیر ھوئے۔

صاحب تفسیر کبیر فرماتے ہیں
ترجمہ:- بے شک امراء و سلاطین کے اعمال علماء کے فتاوٰی پر موقوف ہیں اور علمائ درحقیقت سلاطین کے بھی امیر ہیں، تو لفظ "اولی الامر " کا ان پر محمول کرنا زیادہ بہتر ھے ۔
(تفسیر کبیر،،ص،،344،،ج،3)

اسلاف میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ بن عبداللہ ، حضرت عطاء رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ، حضرت مجاھد رحمہ اللہ، حضرت حسن بصری رحمہ اللہ علیہ ، حضرت ضحاک رحمہ اللہ علیہ ، حضرت امام مالک رحمہ اللہ علیہ کی یہی رائے ھے کہ " اولی الامر " سے علماء فقہاء اور مجتہدین مراد ہیں۔

(تفسیر خازن ۔ مدارک وغیرہ)


یہ بات ذہن میں رہے کہ " اولی الامر " کی تفسیر میں علماء اور فقہاء کا جو لفظ آیا ہے اس سے مجتہدین ہی مراد ہیں ۔

صاحب روح المعانی فرماتے ہیں
ترجمہ:-
بے شک علماء سے مراد وہ حضرات ہیں جو احکام کا استنباط اور انہیں اخز کرتے ہیں۔
(روح المعانی ، ص ، 65 ، ج ، 5 )

جب یہ بات واضح ہوگئی کہ شریعت میں اولی الامر سے مجتہدین مراد ہیں ، تو ان کی بھی اتباع واجب ھوئی اور اتباع وہی کرتا ھے جو متبوع کے درجے کو نہ پہنچے تو اس آیت سے صاف ثابت ھوا کہ وہ مسلمان جو خود مجتہد نہیں ہے اس کے لئے کسی مجتہد کی اطاعت اور اس کی تقلید واجب ھے ۔ اب رہی یہ بات کہ مجتہد کا اجتہاد محض حسن ظن کی بنیاد پر مان لیا جائے یا اس سے دلیل طلب کی جائے ۔ تو اس کا جواب خود آیت سے طلب کیا جائے، چنانچہ " اولی الامر " کو فعل اطاعت کے اعادہ کے بغیر "الرسول" پر عطف کیا گیا ھے۔ جو اشارہ ہے اس بات کی جانب کہ جس طرح رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بغیر دلیل طلب کئے ہوئے محض حسن ظن کی بنیاد پر واجب ھے اسی طرح مجتہد کی اطاعت بھی مسائل اجتہادیہ میں حسن ظن کی بنیاد پر دلیل طلب کئے بغیر ہونی چاھئے۔ اگرچہ حسن ظن کا منشاء دونوں جگہ الگ الگ ھے ۔ پہلی جگہ حسن ظن کا منشا ذات رسالت ھے جس کی اطاعت واجب قطعی ہے۔ دوسری جگہ حسن ظن کا منشاء مجتہد کا تقوٰی اور اس کا علم صحیح ہے جس کی اطاعت واجب ظنی ہے۔ اور کسی مجتہد کی ایسی اطاعت جس کی بنیاد حسن ظن ہو اسی کو تقلید کہتے ہیں۔ لہٰذا اس آیت سے ثبوت تقلید اظہر من الشمس ہوگیا ۔





احادیث مرفوعہ سے تقلید کا وجوب


(1)
عن ابی حزیفہ قا ل قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اقتدوا باللزین من بعدی ابی بکر و عمر ۔
(ترمزی ،، ص،507،،ج2،،)
-:ترجمہ:-
ان دونوں کی اقتداء اور پیروی کرو جو میرے بعد ہو یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ ۔

اس حدیث میں شیخین کی اقتداء کا حکم دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ان سے دلیل طلب کرنے کا حکم نہیں فرمایا گیا، اسی کو تقلید کہتے ہیں ۔


(2)
عن العرباض ابن ساریہ یقول قام فینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال سترون من بعدی اختلافاً شدیداً فعلیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین۔

(ابن ماجہ،،ص،،5،)

-:ترجمہ:-
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں خطبہ دیا (اور اسکے درمیان فرمایا) میرے بعد تم لوگ بہت سے اختلافات دیکھو گے تو میری سنت اور میرے ھدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کی پابندی کرو ۔

اس حدیث سے علمائے کرام نے خلفائے راشدین کے عموم میں ائمہ مجتہدین کو بھی داخل کیا ھے۔



حضرت شاہ عبدالغنی صاحب رحمہ اللہ حاشیہ ابن ماجہ میں تحریر فرماتے ہیں

ومن العلماء من کان علی سیرۃ علیہ السلام من العلماء والخلفاء کاالائمہ الاربعہ المتبوعین المجتھدین و الائمہ العادلین کعمر بن عبدلعزیز کلھم موارد لھد الحدیث۔
(انجاح الحاجۃ علی ابن ماجہ ص5،،)

ترجمہ:-
جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر ہوں ،جیسے چاروں ائمہ اور عادل حکام ، جیسے عمر بن عبدالعزیز سب اس حدیث کے مصداق ہیں ۔



علمائے کرام کے اقوال سے تقلید کا ثبوت


چوتھی صدی ھجری کے بعد جتنے مستند اور معتبر علمائے کرام گزرے ہیں سب نے تقلید کی ھے اور تقلید کے وجوب کو بیان فرمایا ھے۔ چنانچہ بہت سارے اہم ترین علمائے کرام کے اقوال گزشتہ مباحث میں بیان کئے جاچکے ہیں اگر ان تمام علمائے کرام کے اقوال کو جمع کیا جائے تو ایک دفتر بے پایاں ہوجائے۔ یہاں بطور اختصار مزید چند علماء کرام کے اقوال نقل کئے جاتے ہیں ۔


علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں

ترجمہ:-
عام لوگ اور وہ حضرات جو اجتہاد کے درجے کو نہ پہنچیں ان پر مزاھب مجتہدین میں سے کسی ایک معین کی تقلید واجب ہے ۔
(شرح جمع الجومع بحوالہ خیر التنفید ،،ص،،175،،)


حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں

ترجمہ:-
اس میں شک نہیں کہ ان چاروں مزاھب کی اب تک تقلید کے جائز ہونے پر تمام امت کا یا جنکی بات کا اعتبار کیا جاسکتا ھے اجماع ہے اسلئے کہ یہ مدون ھوکر تحریری صورت میں موجود ہیں اور اس میں جو مصلحتیں ہیں وہ بھی مخفی نہیں ، خصوصاً اس زمانے میں جبکہ ہمتیں بہت ہی زیادہ پست ھوچکی ہیں اور ہر صاحب رائے اپنی ہی رائے پر نازاں ہے ۔
(حجۃ اللہ البالغہ،، ص،،154،،ج،،1،، طبع مصر)


بحر العلوم مولانا عبدالعلی فرنگی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں

وعلیہ بنا ابن الصلاح منع التقلید غیر الائمہ الاربعہ ۔

ترجمہ:-
اسی بناء پر ابن صلاح رحمہ اللہ نے ائمہ اربعہ کے سوا دوسروں کی تقلید سے ممانعت فرمائی ھے ۔
(فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت،،ص،،269،،)


علامہ شیخ احمد المعروف بہ ملا جیون صاحب فرماتے ہیں۔

ترجمہ:-
اس پر اجماع ھوگیا ھے کہ اتباع صرف ائمہ اربعہ ہی کی جائز ہے۔۔ ان حضرات کے بعد پیدہ ھونے والے ان کے مسلک کے مخالف مجتہد کی تقلید درست نہیں
(تفسیرات احمدیہ،،ص،،346،،)

انشاء اللہ یہ مختصر مباحث مسئلہ تقلید کی حقیقت سمجھنے میں مفید ہوں گے۔ اللہ تعالٰی ہم سب لوگوں کو حق سمجھنے اور اسے اختیار کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔
آمین



از قلم
جناب مولانا مفتی محمد راشد صاحب اعظمی

استاذ دارالعلوم دیوبند

 
ش

شاہد نذیر

خوش آمدید
مہمان گرامی
محترم سہج بھائی ہم نے آپ کے مضمون کے چیدہ چیدہ حصوں کا مطالعہ کیا لیکن ایک بات سمجھ میں نہیں آئی برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں۔ بقول آپ کے تقلید شخصی واجب ہے تو کیا اامام ابوحنیفہ بھی اس واجب پر عمل کرتے ہوئے کسی کی تقلید کرتے تھے یا پھرانہیں تقلید شخصی سے استثنیٰ حاصل تھا؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو قرآن یا حدیث سے امام صاحب کے استثنیٰ کی دلیل نقل فرمایئے۔ اور اگر نہیں تو بتائیں امام ابوحنیفہ کس کے مقلد تھے؟

اور یہ بھی بتائیں کہ امام ابوحنیفہ پیدائش سے لے کر وفات تک تمام عمر مجتہد تھے؟ اگر ہاں تو اس کی دلیل کیا ہے؟ پھر تو ان کا کوئی استاد بھی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ استاد سے علم حاصل کرنا اور کسی سے سوال پوچھنا آپ لوگوں کے نزدیک تقلید ہے۔ اور اگر ایسا نہیں بلکہ امام صاحب علم حاصل کرنے کے بعد درجہ مجتہد پر فائز ہوئے تو بتائے اس سے پہلے کس کی تقلید شخصی کرکے قرآن و حدیث اور اجماع سے بقول آپکے ثابت شدہ واجب پر عمل کرتے رہے؟
 
M

Malang009

خوش آمدید
مہمان گرامی
شاہد نذیر نے کہا ہے:
محترم سہج بھائی ہم نے آپ کے مضمون کے چیدہ چیدہ حصوں کا مطالعہ کیا لیکن ایک بات سمجھ میں نہیں آئی برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں۔ بقول آپ کے تقلید شخصی واجب ہے تو کیا اامام ابوحنیفہ بھی اس واجب پر عمل کرتے ہوئے کسی کی تقلید کرتے تھے یا پھرانہیں تقلید شخصی سے استثنیٰ حاصل تھا؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو قرآن یا حدیث سے امام صاحب کے استثنیٰ کی دلیل نقل فرمایئے۔ اور اگر نہیں تو بتائیں امام ابوحنیفہ کس کے مقلد تھے؟

اور یہ بھی بتائیں کہ امام ابوحنیفہ پیدائش سے لے کر وفات تک تمام عمر مجتہد تھے؟ اگر ہاں تو اس کی دلیل کیا ہے؟ پھر تو ان کا کوئی استاد بھی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ استاد سے علم حاصل کرنا اور کسی سے سوال پوچھنا آپ لوگوں کے نزدیک تقلید ہے۔ اور اگر ایسا نہیں بلکہ امام صاحب علم حاصل کرنے کے بعد درجہ مجتہد پر فائز ہوئے تو بتائے اس سے پہلے کس کی تقلید شخصی کرکے قرآن و حدیث اور اجماع سے بقول آپکے ثابت شدہ واجب پر عمل کرتے رہے؟
میرے خیال سے آپ کے لیے الفاظوں میں تھوڑی تبدیلی ہونی چاہیے ۔۔۔تقلید شخصی غیر مجتہد پر واجب ہے ۔ یہ آپ کے پورے پہلے پیرا کا جواب ہے ۔۔ پورے پیرا کا جواب چھ سے سات الفاظ ۔۔ عجیب لیکن ایسا ہی ہے ۔ کسی شخص کا پیدائش سے لے کر وفات تک مجتہد ہونا محال عادی ہے ۔۔ جب آپ خود یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ ہمارے نزدیک استاد سے علم حاصل کرنا اور کسی سے سوال پوچھنا تقلید ہے تو آپکو یہ بھی معلوم ہو گا کہ ہم آپ کی طرح خود سے پڑھنے والے بندے کو مجتہد نہیں مانتے ۔۔۔ ۔۔۔
 

sahj

وفقہ اللہ
رکن
محترم سہج بھائی ہم نے آپ کے مضمون کے چیدہ چیدہ حصوں کا مطالعہ کیا لیکن ایک بات سمجھ میں نہیں آئی برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں۔ بقول آپ کے تقلید شخصی واجب ہے تو کیا اامام ابوحنیفہ بھی اس واجب پر عمل کرتے ہوئے کسی کی تقلید کرتے تھے یا پھرانہیں تقلید شخصی سے استثنیٰ حاصل تھا؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو قرآن یا حدیث سے امام صاحب کے استثنیٰ کی دلیل نقل فرمایئے۔ اور اگر نہیں تو بتائیں امام ابوحنیفہ کس کے مقلد تھے؟

اور یہ بھی بتائیں کہ امام ابوحنیفہ پیدائش سے لے کر وفات تک تمام عمر مجتہد تھے؟ اگر ہاں تو اس کی دلیل کیا ہے؟ پھر تو ان کا کوئی استاد بھی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ استاد سے علم حاصل کرنا اور کسی سے سوال پوچھنا آپ لوگوں کے نزدیک تقلید ہے۔ اور اگر ایسا نہیں بلکہ امام صاحب علم حاصل کرنے کے بعد درجہ مجتہد پر فائز ہوئے تو بتائے اس سے پہلے کس کی تقلید شخصی کرکے قرآن و حدیث اور اجماع سے بقول آپکے ثابت شدہ واجب پر عمل کرتے رہے؟


چاروں اماموں سے پہلے بھی ہر قوم اپنی قوم کے فقیہ کی تقلید کرتی تھی ۔ وَ مَا کَانَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لِیَنۡفِرُوۡا کَآفَّۃً ؕ فَلَوۡ لَا نَفَرَ مِنۡ کُلِّ فِرۡقَۃٍ مِّنۡہُمۡ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوۡا فِی الدِّیۡنِ وَ لِیُنۡذِرُوۡا قَوۡمَہُمۡ اِذَا رَجَعُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ لَعَلَّہُمۡ یَحۡذَرُوۡنَ( سورۃ التوبہ آیت : 122 )ترجمہ:-اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن سب کے سب نکل آئیں تو یوں کیوں نہ کیا کہ ہر ایک جماعت میں سے چند اشخاص نکل جاتے تاکہ دین کا علم سیکھتے اور اس میں سمجھ پیدا کرتے۔ اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آتے تو انکو ڈر سناتے تاکہ وہ بھی محتاط ہو جاتے۔

لعلمه الذین یستنبطونه منهم ( سورۃ النساء آیت : 83 )ترجمہ:- تحقیق کرتے اس کو جو ان میں تحقیق کرنے والے ہیں اس کی۔
چاروں اماموں سے پہلے اپنے علاقے یا قوم کے مجتہد کی تقلید ہوتی تھی اس وقت واجب تھی ،لیکن چونکہ ان کے مذاہب مدون نہ تھے اور نہ عمل متواتر ہوا ، اس لئے ان کی وفات کے بعد ان کا مذہب مٹ گیا ، تقلید ختم ہوگئی جیسے مسجد کے امام کی وفات کے بعد اقتداء ختم ہوجاتی ہے ۔

امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالٰی علیہ جب تک فقہ میں ماہر نہیں ہوگئے اس وقت تک یقیناً وہ اپنے استادوں کی اتباع کرتے رہے ۔ اور جب وہ فقہ میں ماہر ہوگئے تو انہوں نے اجتہاد کیا ۔ اوپر میں نے نماز کے امام کی مثال دی تھی ویسی ہی اک اور مثال دیتا ہوں کہ جب کوئی مسلمان نماز شروع کرتا ہے تو شروع میں سیکھتا ہے کہ نماز کی ادائگی کا کیا طریقہ ہے پھر اسے ادا کرتا رہتا ہے ، امام کے پیچھے مقتدی بن کر بھی اور اکیلا بھی ۔ لیکن وہ امامت نہیں کرواتا نہ ہی اسے کوئی امام کہتا ہے ۔ نماز پڑھتے پڑھتے بندہ نماز کی ادائگی کا پابند بھی ہوجاتا ہے اور ماہر بھی ،یعنی تمام مسائل نماز کا ماہر۔ پھر اگر اسے کوئی کہے کہ نماز کی امامت کروادیجئے تو وہ تیار ہوجاتا ہے جبکہ جب تک وہ نماز کے مسائل سے واقفیت نہیں رکھتا تھا تو وہ کبھی بھی تیار نہ ہوسکتا اور ناہی اسے کوئی کہتا۔ایسے ہی ہمارے امام صاحب رحمہ اللہ جب تک فقہ میں ماہر نہیں تھے اس وقت تک وہ اپنے استادوں کی تقلید کرتے رہے اور جب فقہ میں ماہر ہوچکے تو انہوں نے فقہ کو مدون کروانا شروع کردیا ۔
امام صاحب سے پہلے کسی نے دین کے مسائل کو نہیں لکھوایا تھا یہی وجہ ہے کہ امام صاحب سے پہلے کے مجتہدین کی تقلید ان مجتہدین کے دنیا سے جاتے ہی ختم ہوجاتی تھی سوائے تواتر پانے والے مسائل کے۔ لیکن امام صاحب رحمہ اللہ علیہ کی تقلید آج بھی جاری ہے کیونکہ ان کی مدون کروائی ہوئی فقہ پر آج بھی تواتر کے ساتھ عمل کیا جارہا ہے ۔
جیسے
مکہ مکرمہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، ان کے بعد حضرت عطاء رحمہ اللہ کی تقلید ہوتی رہی مدینہ میں اپنی اپنی خلافت میں خلفاء راشدین رضی الله عنهم ، زید بن ثابت ، ان کے بعد فقہاء سبعہ کی تقلید ہوتی رہی ، کوفہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، انکے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ پھر حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کی تقلید ہوتی رہی ، بصرہ میں حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کی تقلید ہوتی رہی ، ان کے چونکہ مذاہب مدون نہ ہوسکے اس لئے ان کے جو مسائل عملا متواتر تھے ان کو ائمہ اربعہ نے اپنی فقہ میں لے لیا ، جو ان سے شاذ اقوال مروی تھے ان کو ترک کردیا گیا۔یہ ایسے ہی ہے۔جیسے صحابہ رضی اللہ عنهم کے زمانہ میں بہت سے قاری تھے مگر انہوں نے اپنی قرأت کو مکمل طور پر مدون نہ فرمایا ، پھر سات قاریوں نے صحابہ رضی اللہ عنهم کی متواتر قرأت کو مدون کیا ، شاذ و متروک قرأت کو ترک کردیا ، اب ان سات متواتر قرأتوں میں تلاوت کرنے میں صحابہ رضی اللہ عنهم کی متواتر قرأت پر عمل ہورہا ہے ، البتہ ان سات قرأتوں کے علاوہ کوئی قرأت صحابہ رضی اللہ عنهم کی طرف منسوب ہو تو اس کی تلاوت جائز نہیں کیونکہ متواتر کے خلاف شاذ واجب الترک ہے ۔ اسی طرح صحابہ رضی اللہ عنهم کے متواتر فقہی مسائل پر ائمہ اربعہ رحمہ اللہ کی تقلید میں عمل ہورہا ہے ، ان متواترات کے خلاف کوئی شاذ قول کسی صحابی رضی اللہ عنه ، مجتہد یا تابعی کی طرف منقول ہو تو اس پر عمل جائز نہیں کیونکہ متواتر کے خلاف شاذ واجب الترک ہے ۔

امید ہے شاہد نذیر صاحب سمجھنے کی کوشش کریں گے ۔
آخر میں اک سوال آپ سے بھی کرلیتا ہوں اگر مناسب سمجھے تو جواب عنایت کردیجئے گا۔

سات مختلف فیہ قاریوں میں مکی، مدنی، بصری قاری بھی تھے آپ نے ان سب کو چھوڑ کر قاری عاصم کوفی کی قرات کو ہی اختیار کیوں کیا؟


شکریہ
 
Top