غیر مقلد کی امامت کا حکم

نعیم

وفقہ اللہ
رکن
غیر مقلد کی امامت کا حکم​

حضرت حکیم الامت مجدد ملت شاہ مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ کا ایک تفصیلی جواب عربی زبان میں امداد الفتاویٰ جلد1 ص 385 پر موجود ہے ۔ یہاں اس کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے ۔
سوال: حنفی غیر مقلد امام کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں آپ کا کیا قول ہے ؟

جواب: اما بعد ۔ میرے نزدیک مسئلہ میں تفصیل ہے کیوں کہ غیر مقلد بہت طرح کے ہیں ، بعضے ایسے ہیں ان کا اختلاف مقلدین کے ساتھ صرف مسائل اجتہادیہ میں ہے ، ان کی اقتدا کا حکم وہی ہے جو حنفی کے لئے شافعی امام کی اقتدا کا ہے یعنی اگر وہ نماز میں خلافیات کی رعایت کرتا ہے تو با الاتفاق اقتدا جائز ہے ،ورنہ جواز اقتدا میں اختلاف ہے ،اور جو جمہور کا فتویٰ عدم جواز ہے ، کیونکہ نماز کے معاملہ میں احتیاط ضروری ہے ۔
اور بعضے غیر مقلدین ایسے ہیں کہ ان کا اختلاف مقلدین کے ساتھ ان مسائل میں ہے جو اہل سنت والجماعت کے نزدیک اجماعی ہیں ، جیسے چار سے زائد عورتوں سے نکاح جائز قرار دینا اور سلف صالحین کے لئے سب وستم۔ ( گالی گلوچ)

ایسے لوگوں کا حکم بدعتی امام کے حکم کے ما نند ہے، یعنی بغیر کسی مجبوری کے ان کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے ،اور کسی مجبوری کے وقت مکروہ تنزیہی ہے ،اور جن مقلدین کا حال مشتبہ ہو اولیٰ یہ ہے کہ ان کے پیچھے نماز نہ پڑھ لی جائے تاکہ کوئی فتنہ نہ اٹھے اور بعد میں اعادہ کر لے تاکہ احتیاط پر عمل ہو جائے ،لیکن فتنہ اگر ان کے پیچھے نماز پڑھنے میں ہی ہے تو ان کے پیچھے نماز نہ پڑھے تاکہ مسلمانوں کو دھوکہ نہ ہو اور دین متین کے بارے میں بے باک نہ ہو جائیں۔
 
Top