مکتوبات اشرف( حضرت سید مخدوم اشرف سمنانی رحمۃ اللہ علیہ

  • موضوع کا آغاز کرنے والا قاسمی
  • تاریخ آغاز
ق

قاسمی

خوش آمدید
مہمان گرامی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نام کتاب: مکتوبات اشرف( حضرت سید مخدوم اشرف سمنانی رحمۃ اللہ علیہ
مکتوب دس ۔بنام شیخ عبد الوہاب رحمۃ اللہ علیہ
نماز تہجد کے احوال اور بیدار شب کے اسباب کے بیان میں​
برادرم اعز وارشد۔۔۔۔۔ وفقہ اللہ تعالیٰ بعبادتہ ۔دعا ء درویشانہ۔ خداوند قدوس کا تقرب بخشنے والی عبادتوں میں سب سے اچھی عبادت نماز تہجد ہے کیو نکہ جس قدر اخروی فضائل اور معنوی فوا ئد نماز تہجد میں رکھے ہیں کسی اور عبادت میں نہیں رکھے۔ (اصل عبارت فارسی اور عربی میں ہے لیکن یہاں اردو ترجمعہ پر اکتفا کیا جا رہا ہے)
جو شخص دنیا میں صبح اٹھنے والا ہو وہ سورج کی طرح روشن رائے والا بن گیا ۔صبح کو نکلنے کی وجہ سے ستا رہ زہرہ کیلئے چلنے کے راستے رو شن بنا دئیے گئے ۔ تہجد نیکیوں کے شعا ر میں سے ہے اور وہ یہ ہے کہ آ دھی رات کو اٹھے وضو کرے اور نماز پڑھے ،نفل، اور کہا گیا ہے کہ تہجد نیند کا ترک کرنا ہے ۔نیز کہا گیا ہے کہ تہجد نماز کا پڑھنا ہے ۔ سونے کے بعد ۔ نیز تہجد نیند کا چھو ڑنا ہے نماز کے لئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرا ئض کے بعد سب سے بہتر رات میں نماز پڑھنا ہے ۔ اور نماز تہجد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض تھی ۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے کہ رات کی نفل نماز ، دن کی نماز سے بہتر ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے کہ رات کے کچھ حصہ میں بیدار رہے ۔
اوراس کا گھر میں ادا کرنا مسجد میں ادا کر نے سے بہتر ہے ۔اور افضل یہ ہے کہ ہر دو رکعت پر سلام پھیرے اور تہا ئی رات کا قیام یا دو تہا ئی رات کا قیام مستحب ہے ، اور کم سے کم مستحب را ت کے چھٹے حصے کا قیام ہے ۔ بس البتہ سوئے پہلے رات کے حصہ میں اور نما ز ادا کر ے نصف رات میں اور سوئے رات کے آخری چھٹے حصہ میں ۔یا رات کے نصف اول حصے میں اور نماز پڑھے اس کے تہا ئی حصہ میں اور سوئے چھٹے حصے میں اور رات کے نصف یا تہا ئی حصہ میں پڑھنا افضل ہے ۔نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے ۔ اٹھ رت کے کچھ حصے میں اگرچہ بکری کے دودھ نکا لنے کے بقدر ہو ،اور ایسی نیند کے وقت نہ پڑھے جو نماز سے غافل کر دے مگر جب کہ سمجھے اس کو جو پڑھ رہا ہے اور طالب کیلئے مناسب نہیں کہ فجر طلوع ہو جائے اور وہ سو رہا ہو مگر یہ کہ رات کی شروع میں اس کا قیام طویل ہو گیا پس وہ اس میں معذور ہے جب کہ وہ طلوع فجر سے کچھ پہلے بیدار ہوا ہو گذشتہ رات میں کسی قدر قیام کے ساتھ تو یہ افضل ہو گا طویل قیام سے ، پھر سو جا ئے طلوع فجر کے بعد تو تی الملک من تشا ء وتنزع ا لمک من تشاء۔ یہ قیام لیل ہے ۔اور جو محروم ہو گیا قیام لیل سے سستی یا عزیمت میں فتور کی وجہ سے یا
تیاری میں کو تا ہی کے سبب یا اپنے حال میں مغرور ہو کر پس چا ہئے کہ اپنے حال پر روئے ۔ایسے شخص سے خیر کا بہت سا طریقہ چھوٹ گیا ۔
کہا: وحی فرمائی اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کی طرف کہ ائے داؤد جو شخص ساری رات سوئے وہ جنت کے لا ئق نہیں۔
اور احیاء العلوم میں نقل کیا ہے کہ قیام شب مخلوق پر دشوار ہے مگر اس پر دشوار نہیں جو ظاہری وبا طنی شر طوں کی تو فیق دیا گیا ہو کہ یہ قیام کو آسان
کر دیتی ہے ۔
شرطیں چار ہیں۔۔۔۔ اول یہ کہ زیادہ نہ کھا ئے کیو نکہ زیادہ کھا نے سے پانی کی مقدار بڑھ جا تی ہے ۔ جس سے اس پر نیند کا غلبہ ہو تا ہے

اور قیام دشوار ہو جا تا ہے ۔ مشائخ روز گا رمیں ایک صاحب دستر خوان پر کھڑے ہو تے اور بلند وآواز سے کہتے کہ ائے راہ سلوک کے مریدو زیا دہ مت کھا ؤ کیونکہ یہ زیادہ پانی پینے کا سبب ہو گا اور اس سے نیند زیادہ آئیگی۔ یا درویش ساتھیوں کو مخاطب ہو کر کہتے اے طالبان راہ خدا !کھا نے میں اپنے آپ کو ہلکا رکھو اور پا نی پینے میں خشک رکھو تا کہ زیادہ سونے کا سبب زیادہ نہ ہو۔
قطعہ: جس کو راہ سلوک طے کر نیکی خواہش ہو اس کو پہلے خود کو ہلکا رکھنا چاہئے ۔جب تک سبک بار نہ ہو سالک اپنے را ستے پر صحیح کیسے رہ سکتا ہے۔
تخفیف معدہ کو اصلی بزرگی شما ر کیا جا تا ہے
دوسری شرط یہ ہے کہ روز آنہ ایسے کا م کر ے کہ بدن میں ہلکا پن رہے اور ایسا کا رو بار جس سے گرانی اور مشغولی زیادہ ہو اس سے دست کش ہو جا ئے کہ اعضا ء جب امور گرا نبار سے سستی قبو ل کر یں اور ان کے استعمال میں کو تا ہی پیدا ہو نے لگے تو یہ زیادہ سونے اور بے ضرورت تکلیف کا مو جب ہے ۔ تیسری شرط یہ ہے کہ قیلولہ میں ناغہ نہ کر ے کہ اس سے رات کے اٹھنے میں قوت حا صل ہو تی ہے ۔ چوتھی شرط یہ ہے کہ گنا ہوں سے مجتنب رہے کہ اس سے اس دولت سے محرومی کا مو جب ہے اور ایما نی وروحا نی ترقی میں رکا وٹیں پیدا کر تا ہے
قطعہ: قدرت جس کو بیدار بخت کرنا چاہتی ہےاس پر نیند کو حرام کر دیتی ہے ۔وصل حق کا خواب دیکھنے کیلئے چند چیزوں کا التزام کر نا چاہئے
۔دن کو اپنے کو بھاری کا موں سے بچانا چاہئے تا کہ رات میں جا گا جا سکے ۔ دوسری رات کے قیام کیلئے دن میں معدہ کو کھا نے سے خا لی رکھنا چا ہئے ۔تیسرے دن کھا نے کے بعد قیلولہ کرنا چاہئے یہ قیام شب کی تیاری کے اسباب میں سے ہے ۔ چوتھے دن میں گنا ہوں سے نفس کو روکنے کی کو شش کر نی چاہئےکیو نکہ گناہ ظلمت دل کے آئینے کو گندہ بنا دیتی ہے ۔بیداری دلہن کی طرح سے ہے اس کے زیور چار چیزوں
سے مکمل ہو تے ہیں ۔ جو بیداری کے دلہن سے ملنا چاہتا ہے وہ اپنے اوپر سونے کو حرام کر لیتا ہے ۔اشرف (رحمۃ اللہ علیہ) یہ دولت بیداری سے پا ئی ہے اس نے خواب، خور بالائے طاق رکھ دیا ۔
حضرت نوری فر ماتے تھے میں پا نچ مہینے قیام لیل سے محروم رہا ایک گناہ کے سبب جو مجھ سے سر زد ہو گیا تھا اور وہ یہ تھا کہ ایک شخص کے اشعار سن کر زور سے رونے لگا تھا۔
قطعہ " : ایک نا را ما رنے والے نے اتنی بلند آواز سے نعرہ ما را کہ ساتوں آسمان سے گذر گیا وہ خورشید تک پہنچنے والا آہ کا شعلہ ۔
میں نے دل میں خیال کیا کہ اس کی آہ سوز دل سے خالی نہیں ہے۔
اور با طن کے آئینے چا ر ہیں ۔اول مسلما نوں کے کینہ سے اور نئی نئی بد عات سے ، اور دنیا کے فضول کاموں سے دل کو محفوظ رکھنا، کیو نکہ جس کا دل دنیا کی تد بیروں میں مشغول رہتا ہے اسے قیام شب میسر نہیں آتا۔ اور اگر نماز میں کھڑا ہو تا ہے سوائے تفکر ات کے دوسرا دھیان دل میں نہیں گذرتا ۔ دوسرے چو کنا رہنا کہ دل کی امیدوں کی کو تا ہی کے ساتھ نگرا نی رکھنا کیو نکہ احوال آخرت کی فکر عا بدوں کی نیند اڑا دیتی ہے ۔ تیسرے یہ کہ آیات واحا دیث وآثار کا پڑھنا وسننا قیام شب کے ارادے کو قوی کر تا ہے یہا نتک کہ امید اور اس کے ثواب کا شوق مستحکم
ہو جا تا ہے اور اس کو مزید طلب درجات پر ابھارتا ہے۔
چوتھے خدا کے ساتھ دوستی ہو اور یہ شریف ترین اسباب میں سے ہے اور قوت ایمان اس بات پر کہ عبادت کے بارہ میں اپنی کو شش پر نطر نہ کرے ۔ منا جات میں پرور دگار سے درخواست کرے با وجو دیکہ وہ اسکی دلی آرزواؤں سے مطلع ہے اس کے دل میں جو کچھ آتا ہے اس کا مشاہدہ کر تا ہے اور وہ خطرات قلب حق تعالیٰ کی طرف سے خطاب ہے ۔
جو خدا کو دوست رکھے گا تو اس کے ساتھ خلوت کا لا محالہ دوست رکھے گا اور منا جات سے لذت پا ئیگا اور لذت منا جات اس کو دوست تک پہنچا ئیگی۔

قطعہ: ہر کرا باشد قیام شب مراد۔۔۔ جو رات کو جاگ کر عبادت کر نا چاہتا ہے۔

بایدش مقصود او وصل خدائے۔۔۔۔۔ اس کا مقصود خدا کا وصل ہونا چاہئے

در بر ناموس بیداری کند۔۔۔۔۔۔۔ وہ فرشتوں کی طرح بیداری کا اہتمام کرے

بخت بیدارس بود خواب آزمائے ۔۔۔اسکی بیداری قسمت نیند پر قابو پا لے۔
حق تعالیٰ مسلمانوں کو قیام وصیام کی تو فیق بخشے۔
 

بے باک

وفقہ اللہ
رکن
جو خدا کو دوست رکھے گا تو اس کے ساتھ خلوت کا لا محالہ دوست رکھے گا اور مناجات سے لذت پا ئیگا اور لذت مناجات اس کو دوست تک پہنچا ئیگی۔

بہت ہی زبردست ، شاندار ، کتنا بڑا سچ کہا ہے ،
 
Top