سید محمد جونپوری کی مہدوی تحریک اکابر امت کی نظر میں

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
[size=x-large]سید محمد جونپوری کی مہدوی تحریک اکابر امت کی نظر میں​

ملا عبد القادر بدایونی منتخب التواریخ میں لکھتے ہیں کہ سید محمد ایک عارف صاق تھے اور فقر ومعرفت کی دنیا میں وہ بڑے پایہ کی ہستی تھےلیکن ان کے مریدوں نے غلط راستہ اختیار کر لیا ۔ مفتی غلام سرور لاہوری لکھتے ہیں کہ وہ بڑے حال مست بزرگ تھے جس طرح بعض صوفیا نے جذب ومستی کی حالت میں ‘‘انا اللہ‘‘ اورانا الحق‘‘ کہہ دیا تھا اسی طرح ان کی زبان سے بھی ‘‘انا مہدی‘‘ نکل گیا تھا ، لیکن جب وہ ہوش میں آئے تو تائب ہوئے اور اپنے مہدی موعود ہونے سے انکار کیا ۔تاہم بعض جاہل لوگوں نے ان کی دوسری بات کا اعتبار نہ کیا اور ان کی پہلی بات پر ہی اصرار کیا اور وہ ان کو مہدی موعود سمجھنے لگے ۔گویا وہ تمام چاہِ ذلت میں گر گئے اور دوسرے 72 فر قوں کی طرح اپنے فرقہ کو ‘‘مہدویہ ‘‘ کہنے لگے ۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ بعض لوگوں کے خیال میں ان کے ‘‘انا مہدی‘‘ کہنے سے مطلب امام مہدی نہ تھا بلکہ اس کا مطلب ھادی ومہدی تھا اور یہ اسی طرح ہے جس طرح بعض لوگ اولیاء کرام کو ان کی روحانی بلندی وصف کی بناء پر ہادی ومہدی کہہ دیا کرتے ہیں ۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ خود سید محمد جونپوری نے اپنے پیر کاروں کو سمجھایا کہ میں مہدی مو عود نہیں ہوں لیکن انہوں نے ان کی بات کا یقین نہ کیا اور اپنے ہی عقیدہ پر قائم رہے ۔
شیخ عبد الرحمٰن چشتی مرآۃ الاسرا میں لکھتے ہیں کہ سید محمد بہت بڑے عارف تھے لیکن کشف میں غلطی کر گئے اور علامہ ابو الفضل آئین اکبری میں لکھتے ہیں کہ سید محمد علوم ظاہری ومعنوی کے بڑے عظیم المرتبت عالم تھے ،لیکن دیوانگی کی حالت میں دعوی مہدویت کے مرتکب ہوئے ۔
[/size]
 

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
اسداللہ شاہ نے کہا ہے:
جزاک اللہ فی الدارین

لیکن دیوانگی کی حالت میں دعوی مہدویت کے مرتکب ہوئے ۔
کیا اللہ یہ غلطی معاف کردے گا؟
شاہ صاحب ڈور الجھی ہو ئی ہے ۔سرا غائب ہے۔رائے قائم کرنا شدید دشوار ہے۔اللہ ہی بہتر جانے۔
 
Top