تقلید مجھے سمجھا دو۔!

سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
تقلید مجھے سمجھا دو۔!​
السلام علیکم
مقلدین اور اہل حدیث کےہاں اختلافی مسائل میں سے ایک مسئلہ تقلید بھی ہے۔مقلدین حضرات کہتے ہیں کہ تقلید کی جائے گی بلکہ تقلید واجب ہے جب کہ اہل حدیث کہتے ہیں کہ تقلید نہیں کرنی چاہیے۔
ہم جیسی ان پڑھ اور سادہ لوح عوام سرگرداں،پریشان اور حیران ہے کہ اب کہاں جایا جائے۔؟
الغزالی فورم پر تقلید پر پوسٹ کچھ پڑھیں ہیں اور کچھ زیر مطالعہ ہیں۔ان بحثوں سے ازخود سمجھنا یا کسے سے پوچھ گوچھ اور سوال وجواب کے طرز پر سمجھنا بہت فرق ہے۔تقلید کی حقیقت جاننے کےلیے اس تھریڈ کا آغاز کررہا ہوں۔امید ہے کہ ان شاءاللہ سلجھے ہوئے انداز سے جب بات کی جائے گی تو کچھ سمجھنے میں مشکل نہ ہوگی۔
مجھے مختصرتقلید کے بارے میں بتایا جائے
سب سے پہلے تو مجھے یہ بتائیں کہ تقلید کی لغوی اور اصطلاحی تعریف کیا ہے۔اور ساتھ کسی معتبر کتاب کاحوالہ بھی ہو ۔اور ہاں اگر ممکن ہوتو کتاب کا لنک بھی ساتھ پیش کردیا جائے تاکہ کتاب کے مطالعہ کا بھی موقع مل سکے۔
 

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
‘‘سب سے پہلے تو مجھے یہ بتائیں کہ تقلید کی لغوی اور اصطلاحی تعریف کیا ہے۔اور ساتھ کسی معتبر کتاب کاحوالہ بھی ہو ۔اور ہاں اگر ممکن ہوتو کتاب کا لنک بھی ساتھ پیش کردیا جائے تاکہ کتاب کے مطالعہ کا بھی موقع مل سکے‘‘
بہت خوب!
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
میں آپ کے الفاظ سمجھ نہیں سکا کہ آپ نے حوصلہ بڑھانے کےلیےکہے ہیں یا طنزیہ انداز میں۔؟
اگر حوصلہ بڑھانے کےلیے کہے تو جزاک اللہ اوراگر طنزیہ انداز میں کہے ہیں تو پھر بھی جزاک اللہ
 

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
اصلی حنفی نے کہا ہے:
میں آپ کے الفاظ سمجھ نہیں سکا کہ آپ نے حوصلہ بڑھانے کےلیےکہے ہیں یا طنزیہ انداز میں۔؟
اگر حوصلہ بڑھانے کےلیے کہے تو جزاک اللہ اوراگر طنزیہ انداز میں کہے ہیں تو پھر بھی جزاک اللہ

جناب عالی
بھلا طنز کا کیا تُک ہے۔
 
M

Malang009

خوش آمدید
مہمان گرامی
آپ یہاں سے الکلام المفید فی اثبات التقلید ڈاونلوڈ کر کے پڑھ سکتے ہیں یہ تقلید کے مسئلہ پر جامع کتاب ہے

تقلید کی تعریف میں نے عوام کو سمجھانے کے لیے اپنے تجربے کی بنیاد پر ترتیب دی ہے

تقلید کسی شخص کے علم و تقویٰ پر اعتماد کر کے اسکی بات ماننے کا نام ہے ۔ باقی دیگر لغوی اور اصطلاحی تعریفات آپکو الکلام المفید میں مل جائیں گی ۔ لیکن ایک نطقہ میں آپ کو سمجھا دوں کہ عدمِ ذکر عدم وجود کی دلیل نہیں یعنی یہ ضروری نہیں کہ اگر یہ کہہ دیا جائے کہ کسی کی بات مان لینا بغیر دلیل کے تو دلیل کے بغیر ماننے کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ اس بات کی دلیل ہی موجود نہیں بلکہ اُسکا مطلب یہ ہو گا کہ سائل کو دلیل کی ضرورت نہیں ۔

اور اسکی مثال میں ایسے دیتا ہوں کہ ایک انپڑھ موچی کو دین کا مسئلہ بتا دیا اب دلیل نہ اُس نے پوچھی نہ ہم نے بتائی ، اگر بالفرض اُسکو ہم دلیل بتا بھی دیں تو وہ اُسکو کیا فائدہ دے گی ؟؟؟ جس بندے کو اُردو پڑھنی نہ آتی ہو اُسکو کیا فائدہ ہو گا یہ جان کر کہ اس مسئلہ کا حل کس حدیث سے قیاس کر کے نکالا گیا ہے ۔
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
Malang009 نے کہا ہے:
آپ یہاں سے الکلام المفید فی اثبات التقلید ڈاونلوڈ کر کے پڑھ سکتے ہیں یہ تقلید کے مسئلہ پر جامع کتاب ہے

جزاک اللہ پر میں سوال وجواب سے تقلید کی حقیقت جاننا چاہتاہوں ورنہ پڑھنے کےلیے تو الغزالی پر مضامین کی کمی نہیں

Malang009 نے کہا ہے:
تقلید کی تعریف میں نے عوام کو سمجھانے کے لیے اپنے تجربے کی بنیاد پر ترتیب دی ہے

بھائی اپنے تجربے کی تعریف نہیں پوچھی تھی بلکہ لغوی اور اصطلاحی کی بات کی تھی

Malang009 نے کہا ہے:
تقلید کسی شخص کے علم و تقویٰ پر اعتماد کر کے اسکی بات ماننے کا نام ہے۔

ہم پہلے لغوی اور اصطلاحی تعریف سیکھیں گے اور پھر بعد میں تجربوں کی بات ہوگی

Malang009 نے کہا ہے:
باقی دیگر لغوی اور اصطلاحی تعریفات آپکو الکلام المفید میں مل جائیں گی۔

میں نے ڈاؤنلوڈ کرلی ہے جزاک اللہ دیکھ لوں گا اور جو بات سمجھنےوالی ہوئی وہ یہاں پیش کردوں گا۔

Malang009 نے کہا ہے:
لیکن ایک نطقہ میں آپ کو سمجھا دوں کہ عدمِ ذکر عدم وجود کی دلیل نہیں یعنی یہ ضروری نہیں کہ اگر یہ کہہ دیا جائے کہ کسی کی بات مان لینا بغیر دلیل کے تو دلیل کے بغیر ماننے کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ اس بات کی دلیل ہی موجود نہیں بلکہ اُسکا مطلب یہ ہو گا کہ سائل کو دلیل کی ضرورت نہیں ۔

بعد کی باتیں

Malang009 نے کہا ہے:
اور اسکی مثال میں ایسے دیتا ہوں کہ ایک انپڑھ موچی کو دین کا مسئلہ بتا دیا اب دلیل نہ اُس نے پوچھی نہ ہم نے بتائی ، اگر بالفرض اُسکو ہم دلیل بتا بھی دیں تو وہ اُسکو کیا فائدہ دے گی ؟؟؟ جس بندے کو اُردو پڑھنی نہ آتی ہو اُسکو کیا فائدہ ہو گا یہ جان کر کہ اس مسئلہ کا حل کس حدیث سے قیاس کر کے نکالا گیا ہے ۔

بعد کی باتیں

نوٹ:
آپ مجھے کسی معتبر کتاب سے لغوی اور اصطلاحی تعریف پیش فرمادیں
 

نعیم

وفقہ اللہ
رکن
جناب پہلے آپ معتبر کتاب کا مفہوم واضح فرمادیں۔
ہوتا ہے یہ مراسلہ نگار کتاب پیش کرتا ہے ۔ سائل آسانی سے کہہ دیتا ہے جناب اس کتاب کومیں معتبر سمجھتا ہی نہیں۔
اس لئے یہ طئے ہو جائے کہ آپ کے نزدیک معتبر کتاب کا مفہوم کیا ہے ؟
 

ناصر نعمان

وفقہ اللہ
رکن
السلام علیکم ورحمتہ اللہ
محترم اصلی حنفی بھائی ہماری عادت ہے کہ ہم حتی الامکان اپنے مسلمان بھائیوں کے لئے حسن ظن رکھتے ہیں ۔۔۔۔چاہے وہ کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہو
لیکن نہ جانے کیوں آپ کے سوالات سے ہمیں محسوس ہورہا ہے کہ آپ مسئلہ تقلید سیکھنے کے بجائے مقلدین کو زیر کرنے کی خواہش رکھتے ہیں
اور ہمارے اس گمان کی پہلی وجہ یہ ہے کہ آپ خود کو ایک عام سادہ لوح مسلمان بھی ظاہر کررہے ہیں ۔۔۔تو دوسری طرف جب ملنگ بھائی نے ایک عام اور سادہ لوح مسلمان سمجھ کر آسان الفاظ میں تقلید کی حقیقت واضح کرنا چاہی تو جناب کو “معتبر کتاب کا حوالہ“ درکار ہے ؟؟
لہذا پہلے آپ یہ فیصلہ فرمالیں کہ آپ نے یہاں تقلید کی حقیقت ایک عام اور سادہ لوح مسلمان بن کر سجھنی ہے یا آپ نے تقلید پر مقلدین کو زیر کرنے کی جستجو فرمانی ہے ؟؟؟
کیوں کہ آپ کی طرف سے ایک طرف “عام سادہ لوح مسلمان ظاہر کرنا“ اور دوسری طرف کسی “معتبر کتاب کا حوالے کا مطالبہ“ آپ کے دو علیحدہ علیحدہ ارادے ظاہر فرمارہا ہے
لہذا پہلے اپنے ارادے کھل کر واضح فرمائیں تاکہ اُس کے مطابق یہاں کے ممبرز آپ کو اُس کے مطابق جواب دے سکیں۔
 

نورمحمد

وفقہ اللہ
رکن
نعیم بھائی اور ناصر نعمان صاحب۔۔۔ آپ دونوں بالکل صحیح کہہ رہے ہیں۔۔۔

اصلی حنفی صاحب کی باتیں مشکوک ضرور ہیں
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
نعیم نے کہا ہے:
جناب پہلے آپ معتبر کتاب کا مفہوم واضح فرمادیں۔
ہوتا ہے یہ مراسلہ نگار کتاب پیش کرتا ہے ۔ سائل آسانی سے کہہ دیتا ہے جناب اس کتاب کومیں معتبر سمجھتا ہی نہیں۔
اس لئے یہ طئے ہو جائے کہ آپ کے نزدیک معتبر کتاب کا مفہوم کیا ہے ؟
جن پر مقلدین عمل وغیرہ کرتے ہیں اور اس کتاب میں پیش بات حرف آخر ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہدایہ۔میرا مطلب یہ کہ آپ کے بڑے بڑے علماء کی طرف سے تصدیق ملتی جائے تاکہ بات اتھنٹک رہے۔
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
ناصر نعمان نے کہا ہے:
السلام علیکم ورحمتہ اللہ

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ناصر نعمان نے کہا ہے:
محترم اصلی حنفی بھائی ہماری عادت ہے کہ ہم حتی الامکان اپنے مسلمان بھائیوں کے لئے حسن ظن رکھتے ہیں ۔۔۔۔چاہے وہ کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہو
لیکن نہ جانے کیوں آپ کے سوالات سے ہمیں محسوس ہورہا ہے کہ آپ مسئلہ تقلید سیکھنے کے بجائے مقلدین کو زیر کرنے کی خواہش رکھتے ہیں

1۔اچھی بات ہے حسن ظن ہی بہتر ہے
2۔جب سٹارٹ پوسٹ میں کہا کہ میں سوال وجواب سے تقلید کو سمجھنا چاہتا ہوں تو اس میں زیر والی کیا بات ہے۔جو شکوک و تعارض میرے ذہن میں ابھریں گے میں تو ان کو پیش کروں گا۔

ناصر نعمان نے کہا ہے:
اور ہمارے اس گمان کی پہلی وجہ یہ ہے کہ آپ خود کو ایک عام سادہ لوح مسلمان بھی ظاہر کررہے ہیں ۔۔۔تو دوسری طرف جب ملنگ بھائی نے ایک عام اور سادہ لوح مسلمان سمجھ کر آسان الفاظ میں تقلید کی حقیقت واضح کرنا چاہی تو جناب کو “معتبر کتاب کا حوالہ“ درکار ہے ؟؟

تقلید واجب ہے۔تقلید کے بغیر گزارہ نہیں۔تقلید نہ کرنے کی وجہ سے آدمی گمراہ ہوجاتا ہے۔وغیرہ وغیرہ
تو سب باتیں کیا کسی عام مولوی کی لکھی ہوئی کتاب سے قبول کی جائیں۔نو نو نو
معتبر کتاب کے بارے میں بتا دیا گیا ہے۔

ناصر نعمان نے کہا ہے:
لہذا پہلے آپ یہ فیصلہ فرمالیں کہ آپ نے یہاں تقلید کی حقیقت ایک عام اور سادہ لوح مسلمان بن کر سجھنی ہے یا آپ نے تقلید پر مقلدین کو زیر کرنے کی جستجو فرمانی ہے ؟؟؟

تقلید مجھے سمجھا دو سے واضح ہے مزید بتانے کی شاید ضرورت نہیں

ناصر نعمان نے کہا ہے:
کیوں کہ آپ کی طرف سے ایک طرف “عام سادہ لوح مسلمان ظاہر کرنا“ اور دوسری طرف کسی “معتبر کتاب کا حوالے کا مطالبہ“ آپ کے دو علیحدہ علیحدہ ارادے ظاہر فرمارہا ہے
لہذا پہلے اپنے ارادے کھل کر واضح فرمائیں تاکہ اُس کے مطابق یہاں کے ممبرز آپ کو اُس کے مطابق جواب دے سکیں۔

واہ بہت خوب یعنی اگر میں کہوں کہ میں سیکھنے آیا ہوں تو آپ لوگوں کا پیمانہ اور ہوگا لیکن اگر میں کہوں کہ میں بحث ومباحثہ کےلیے آیا ہوں تو آپ لوگ اور طرح سے بات کریں گے۔
بھائی جان آپ جو مرضی سمجھ لیں مجھے تقلید سمجھانی ہے۔چاہے بحث ومباحثہ سمجھ لیں چاہے عامی کے سمجھانے کے انداز میں بات کریں
مجھے تقلید کی حقیقت جاننی ہے۔آپ سے گزارش ہے کہ موضوع پر ہی بات کی جائے چاہے جو بھی کرے اور جو سوالات اٹھائے جائیں ان کاجواب دیا جائے۔موضوع سے ہٹ کر بات کا جواب نہیں دیا جائے گا۔والسلام

سوال یہ تھا کہ
تقلید کی لغوی اور اصلاحی تعریف پیش کی جائے
 
M

Malang009

خوش آمدید
مہمان گرامی
اصلی حنفی نے کہا ہے:
Malang009 نے کہا ہے:
آپ یہاں سے الکلام المفید فی اثبات التقلید ڈاونلوڈ کر کے پڑھ سکتے ہیں یہ تقلید کے مسئلہ پر جامع کتاب ہے

جزاک اللہ پر میں سوال وجواب سے تقلید کی حقیقت جاننا چاہتاہوں ورنہ پڑھنے کےلیے تو الغزالی پر مضامین کی کمی نہیں

Malang009 نے کہا ہے:
تقلید کی تعریف میں نے عوام کو سمجھانے کے لیے اپنے تجربے کی بنیاد پر ترتیب دی ہے

بھائی اپنے تجربے کی تعریف نہیں پوچھی تھی بلکہ لغوی اور اصطلاحی کی بات کی تھی

Malang009 نے کہا ہے:
تقلید کسی شخص کے علم و تقویٰ پر اعتماد کر کے اسکی بات ماننے کا نام ہے۔

ہم پہلے لغوی اور اصطلاحی تعریف سیکھیں گے اور پھر بعد میں تجربوں کی بات ہوگی

Malang009 نے کہا ہے:
باقی دیگر لغوی اور اصطلاحی تعریفات آپکو الکلام المفید میں مل جائیں گی۔

میں نے ڈاؤنلوڈ کرلی ہے جزاک اللہ دیکھ لوں گا اور جو بات سمجھنےوالی ہوئی وہ یہاں پیش کردوں گا۔

Malang009 نے کہا ہے:
لیکن ایک نطقہ میں آپ کو سمجھا دوں کہ عدمِ ذکر عدم وجود کی دلیل نہیں یعنی یہ ضروری نہیں کہ اگر یہ کہہ دیا جائے کہ کسی کی بات مان لینا بغیر دلیل کے تو دلیل کے بغیر ماننے کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ اس بات کی دلیل ہی موجود نہیں بلکہ اُسکا مطلب یہ ہو گا کہ سائل کو دلیل کی ضرورت نہیں ۔

بعد کی باتیں

Malang009 نے کہا ہے:
اور اسکی مثال میں ایسے دیتا ہوں کہ ایک انپڑھ موچی کو دین کا مسئلہ بتا دیا اب دلیل نہ اُس نے پوچھی نہ ہم نے بتائی ، اگر بالفرض اُسکو ہم دلیل بتا بھی دیں تو وہ اُسکو کیا فائدہ دے گی ؟؟؟ جس بندے کو اُردو پڑھنی نہ آتی ہو اُسکو کیا فائدہ ہو گا یہ جان کر کہ اس مسئلہ کا حل کس حدیث سے قیاس کر کے نکالا گیا ہے ۔

بعد کی باتیں

نوٹ:
آپ مجھے کسی معتبر کتاب سے لغوی اور اصطلاحی تعریف پیش فرمادیں
دیکھو بھاو تم نے کہا کہ تم کو لغوی اور اصطلاحی تعریف چاہیے کتاب کا لنک چاہیے حوالہ چاہیے ، میں نے کتاب دے دی آپ نے ڈاونلوڈ بھی کر لی ۔ مجھے امید ہے کہ آپ نے وہ لغوی اور اصطلاحی تعریفات بھی پڑھ لی ہوں گی ۔ جب کتاب آپکو چاہیے تھی تو میرے خیال سے یہاں کتابوں سے تعریفیں یہاں چھاپنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔

دوسری بات یہ ہے کہ میں نے اپنے تجربے سے تعریف کو ترتیب دینے کی بات کی تھی بنانے کی بات نہیں کی تھی ۔ یہ چھوٹے چھوٹے الفاظ کا بہت بڑا فرق ہوتا ہے اس پر ابھی سے غور کرنا شروع کر دو ۔

اب اگلی پوسٹ تعریفیں پڑھ کر کرنا ۔
اللہ حافظ
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
لغات کی کتاب سے جو تقلید کی لغوی اور اصطلاحی تعریف سمجھ میں آتی ہے وہ کچھ یوں ہے
تقلید کی لغوی تعریف
المعجم الوسیط، القاموس الوحید، مصباح اللغات ، المنجد، حسن اللغات اورجامع اللغات میں تقلید کی لغوی تعریف کو دیکھا جائے تو یوں معلوم ہوتی ہے۔
’’دین میں بے سوچے سمجھے، آنکھیں بند کرکے، بغیر دلیل و بغیر حجت کے، بغیر غوروفکر کسی ایسے شخص کی (جو نبی نہیں ہے) بات ماننا ‘‘
مجھے تو لغت کی کتب سے یہ لغوی تعریف سمجھ آئی ہے۔اگر لغوی تعریف غلط ہے تو برائے مہربانی توجہ دلائیے۔
تقلید کی اصطلاحی تعریف
مسلم الثبوت، فواتح الرحموت، ابن ہمام حنفی، ابن امیر الحاج، قاضی محمد اعلی تھانوی حنفی، الجرجانی حنفی، محمد بن عبدالرحمن عید المحلاوی الحنفی، عبیداللہ الاسعدی، قاری چن محمد دیوبندی، اشرف علی تھانوی، سرفراز خان صفدر دیوبندی اور مفتی احمد یار نعیمی وغیرہہم نے جو تعریفات تقلید کی پیش کی ہیں ان سب کو ملا کر اگر خلاصۃ یہ کہا جائے کہ
’’غیر نبی کی بے دلیل بات کو آنکھ بند کرکے ، بےسوچے سمجھے ماننے کو تقلید کہتے ہیں۔‘‘
اگر اس اصطلاحی تعریف میں بھی نقص ہے تو واضح کریں
باقی جو آپ نے کتاب پیش کی اس میں بھی تقلید کی لغوی واصطلاحی تعریف پر غور کرنے سے یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے۔
اب ان دونوں تعریفات میں جو جو نقص ہے وہ واضح کیا جائے۔جزاکم اللہ خیرا
 
M

Malang009

خوش آمدید
مہمان گرامی
وہی ہوا جو میں نے کہا تھا '@-@ اللہ کا کرم اور میرا تجربہ ۔
خیر ۔ جناب آپ کی سمجھ نہایت سطحی ہے ۔ حالانکہ میں نے پہلے ہی بتایا تھا کہ بلا دلیل ماننے کا یہ مطلب نہیں کہ مجتہد کے پاس دلیل نہیں ہے اور آ نے جو دوسری لائن نیلی کی ہے اُس میں یہ ہی بات کر دی ۔
میں نے جو نتیجہ اُن تعریفات سے اخذ کیا تھا دوبارہ لکھ دیتا ہوں
کسی مجتہد کے علم و تقویٰ پر اعتماد کر کے اُس کی بات کو بغیر دلیل مانگے مان لینا ۔
بغیر دلیل ماننا اس لیے ہے کہ ہمیں اُس پر اعتماد ہے ۔
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
Malang009 نے کہا ہے:
جناب آپ کی سمجھ نہایت سطحی ہے ۔ حالانکہ میں نے پہلے ہی بتایا تھا کہ بلا دلیل ماننے کا یہ مطلب نہیں کہ مجتہد کے پاس دلیل نہیں ہے

ملنگ بابا اللہ تعالی آپ کو جزا دے
اکثر تعریفات میں غیر حجت، بلادلیل وغیرہ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔تو کیا یہ اس بات کی طرف اشارہ نہیں کہ بے دلیل بات ہی ماننے کا نام تقلید ہے؟
اچھا آپ کے کہنے کے مطابق جس مسئلہ میں تقلید کی جارہی ہے اس میں مجتہد کے پاس دلیل تو ہوتی ہے لیکن دلیل طلب نہیں کی جاتی۔
میرا یہاں پر ایک سوال ہے کہ دلیل طلب نہ کرنے کا امر کہاں ہے ؟ دلیل طلب کرنے اور نہ کرنے میں کیا فرق ہے؟ اور کیا حکمت ہے؟
اور پھر ایک ساتھ اضافی سوال بھی کہ مقلد کےلیے کس کا قول حجت ہوتا ہے؟

Malang009 نے کہا ہے:
میں نے جو نتیجہ اُن تعریفات سے اخذ کیا تھا دوبارہ لکھ دیتا ہوں
کسی مجتہد کے علم و تقویٰ پر اعتماد کر کے اُس کی بات کو بغیر دلیل مانگے مان لینا ۔
بغیر دلیل ماننا اس لیے ہے کہ ہمیں اُس پر اعتماد ہے ۔

میں دوبارہ پوچھ لیتا ہوں کہ کیا حکمت کارفرماں ہے کہ دلیل طلب نہیں کرنی پس مجتہد کی بات مان لینی ہے؟
اور پھر ساتھ یہ بھی بتائیں کہ دلیل کیا ہے؟ اور پھر
کیا اس مجتہد کی بیان شدہ بات ہی دلیل کہلائے گی ؟

اللہ تعالی آپ کے علم میں اضافہ فرمائے اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دے۔آمین
 

نعیم

وفقہ اللہ
رکن
اصلی حنفی صاحب کیوں تجاہل عارفانہ سے کام لے رہے ہیں ۔اگر آپ حق کے متلاشی تھےتو“الکلام فی اثبات التقلید “ کا مطالعہ کافی تھا وہ تمام گھسے پٹے سوالات جو اٹھا رہے ہیں مذکورہ کتاب میں کافی وشافی جوابات موجود ہیں۔
میری گزاش ہے باقی باتیں چھوڑ کر اصل مقصد کی طرف آجائیں۔ہم تم کو آزمائیں تم ہم کو آزماؤ۔کیونکہ یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ چکی ہے اس میدان کے آپ پرانے کھلاڑی ہیں ۔گستاخی معاف
 

ناصر نعمان

وفقہ اللہ
رکن
اصلی حنفی نے کہا ہے:
واہ بہت خوب یعنی اگر میں کہوں کہ میں سیکھنے آیا ہوں تو آپ لوگوں کا پیمانہ اور ہوگا لیکن اگر میں کہوں کہ میں بحث ومباحثہ کےلیے آیا ہوں تو آپ لوگ اور طرح سے بات کریں گے۔
کیوں کہ میرے بھائی جو لوگ سیکھنے کے خواہشمند ہوتے ہیں اُن کو معتبر کتابوں کے حوالہ جات کی ضرورت نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔ وہ صرف اپنے شبہات اور اشکالات دور کرتے ہیں ۔۔۔۔لہذا جب کسی ایسے شخص کو جوابات دئیے جائیں گے تو پپیمانہ (عام اور سادہ فہم زبان)اور ہے ۔۔۔۔لیکن جب کوئی شخص بحث مباحثہ کرنے کا خواہشمند ہوتا ہے تو اُس کے لئے پیمانہ (یعنی علمی اور تحقیقی جوابات)اور ہے۔
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آپ ان دونوں کیٹیگری میں شامل نہیں ہیں یعنی نہ تو آپ مسئلہ تقلید سیکھنے آئے ہیں ۔۔۔۔ اور نہ ہی علمی مباحثہ کرنے آئے ہیں ۔۔۔۔بلکہ جیسا کہ ہم نے لکھا تھا کہ آُ مقلدین کو زیر کرنے کا مقصد لئے آئے ہیں ۔۔۔۔۔ اس کی بنیادی وجہ آپ کی طرف سے صرف “معتبر کتاب کے حوالہ کا مطالبہ“ہے۔۔۔۔اور جو لوگ ایسے مطالبات رکھتے ہیں اُن کا مقصد علمی بحث نہیں بلکہ مخالف کو زیر کرنا ہوتا ہے ۔۔۔۔کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ کتابوں کی زبان نہیں ہوتی کہ وہ اپنی کسی عبارت کی تشریح کرکے وضاحت کریں ۔۔۔۔لہذا مخصوص کتابوں میں سے مخصوص الفاظ کےمطالبے سے مخالفین کو باآسانی زیر کیا جاسکتا ہے ۔
اُس کی زندہ مثال وہ منکرین حدیث ہیں جو قرآن پاک سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول پر مخصوص الفاظ میں آیت کا مطالبہ رکھتے ہیں ۔۔۔لیکن جب اُنہیں لاکھ احادیث پاک کے ذخائر اور اُن کی تشریحات سے مسئلہ واضح کیا جائے لیکن وہ لوگ ماننے پر تیار نہیں ہوتے
لہذا مخصوص کتابوں میں سے مخصوص الفاظ کی ضد چھوڑ کر تسلی سے مقلدین کا موقف سمجھنے کی کوشش کریں چاہے وہ کسی بھی کتاب سے اپنا موقف بیان کریں ۔۔۔۔کیوں کہ کتابوں کی زبانیں نہیں ہوتیں کہ وہ اپنی عبارتوں کی وضاحت خود کرسکیں ۔۔۔۔لہذا جو مقدمین علمائ کرام کی کتب ہیں اُن کی عبارتوں میں اگر کسی کو اشکال یا اعتراض محسوس ہوا تو یقینا پھر یہ متاخرین علماء کرام کا کام ہے کہ وہ لوگوں کے اشکالات اور اعتراضات یا شہبات کی وضاحتیں اور مقدمین علماء کرام کی عبارتوں کی تشریحات کریں
لہذا اگر تو آپ کا مقصد واقعی سنجیدگی سے مقلدین سے علمی مباحثہ سے اپنے شبہات اور اشکالات کو دور فرمانا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے مطالبات بالائے طاق رکھ کر اس نیت سے گفتگو کرنا ہوگی کہ ایک اچھے مسلمان کے ہر نیک عمل کی جستجو محض اللہ تعالیٰ رضا حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے ۔
اگر کوئی بات ناگوار گذرے تومعذرت چاہیں گے اس امید کے ساتھ کہ آپ سنجیدگی سے ہمارے نکات پر غور و فکر فرماکر اپنی بات چیت آگے جاری رکھیں گے۔جزاک اللہ
اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے۔آمین
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
بھائی جان ناصر۔!
اگر میری فرسٹ پوسٹ ہی غور سے پڑھ لی ہوتی تو اتنی لمبی گفتگو لکھنے پر کبھی ٹائم صرف نہ کرتے۔
معتبر کتب کے حوالہ جات لے د ے کر اور پھر سوال وجوابات کا سلسلہ قائم کرکے تقلید کو سمجھنے کےلیے آیا تھا ۔اور یہ بات شروع تھریڈ میں کہہ چکا ہوں۔اور پھر ساتھ یہ بھی کہا تھا آپ لوگوں کے اسرار پر کہ جس طرح آپ لوگ چاہیں بحث کریں۔ لیکن موضوع کے اندر رہتے ہوئے اور یہاں آپ لوگوں کو اجھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ مدعی کون ہے اور مدعا علیہ کون ہے؟
بات کو موضوع پر ہی رکھیں۔زیادہ پھیلا کر موضوع کو بے گھر مت کریں۔اللہ ہی سے ہدایت کاسوال ہے۔
 
M

Malang009

خوش آمدید
مہمان گرامی
اصلی حنفی نے کہا ہے:
Malang009 نے کہا ہے:
جناب آپ کی سمجھ نہایت سطحی ہے ۔ حالانکہ میں نے پہلے ہی بتایا تھا کہ بلا دلیل ماننے کا یہ مطلب نہیں کہ مجتہد کے پاس دلیل نہیں ہے

ملنگ بابا اللہ تعالی آپ کو جزا دے
اکثر تعریفات میں غیر حجت، بلادلیل وغیرہ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔تو کیا یہ اس بات کی طرف اشارہ نہیں کہ بے دلیل بات ہی ماننے کا نام تقلید ہے؟
اچھا آپ کے کہنے کے مطابق جس مسئلہ میں تقلید کی جارہی ہے اس میں مجتہد کے پاس دلیل تو ہوتی ہے لیکن دلیل طلب نہیں کی جاتی۔
میرا یہاں پر ایک سوال ہے کہ دلیل طلب نہ کرنے کا امر کہاں ہے ؟ دلیل طلب کرنے اور نہ کرنے میں کیا فرق ہے؟ اور کیا حکمت ہے؟
اور پھر ایک ساتھ اضافی سوال بھی کہ مقلد کےلیے کس کا قول حجت ہوتا ہے؟

Malang009 نے کہا ہے:
میں نے جو نتیجہ اُن تعریفات سے اخذ کیا تھا دوبارہ لکھ دیتا ہوں
کسی مجتہد کے علم و تقویٰ پر اعتماد کر کے اُس کی بات کو بغیر دلیل مانگے مان لینا ۔
بغیر دلیل ماننا اس لیے ہے کہ ہمیں اُس پر اعتماد ہے ۔

میں دوبارہ پوچھ لیتا ہوں کہ کیا حکمت کارفرماں ہے کہ دلیل طلب نہیں کرنی پس مجتہد کی بات مان لینی ہے؟
اور پھر ساتھ یہ بھی بتائیں کہ دلیل کیا ہے؟ اور پھر
کیا اس مجتہد کی بیان شدہ بات ہی دلیل کہلائے گی ؟

اللہ تعالی آپ کے علم میں اضافہ فرمائے اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دے۔آمین
بھاو دیکھو بلا دلیل کے جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں اُنکا مطلب میں بتا چکا ہوں ، کہ یہ ہی ہے کہ مقلد کو دلیل کی حاجت ہی نہیں ، وہ خود ہی دلیل نہیں مانگا ، وہ کیوں نہیں مانگتا اسکی وجہ بھی میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ اُسکو مجتہد کے علم و تقویٰ پر اعتماد ہے ۔ مثال کے طور پر طالب الرحمٰن اور مولانا الیاس گھمن میرے ہمسائے ہیں طالب الرحمٰن بائیں جانب والے گھر میں رہتا ہے اور مولانا الیاس گھمن صاحب دائیں جانب والے گھر میں ۔ طالب الرحمٰن کے بارے میں مشہور ہے کہ نہایت جھوٹا انسان ہے اور ہر وقت جھوٹ بولتا ہے ۔ اب میں ایک دن گھر سے دور لڑکوں کے ساتھ کرکٹ کھیل رہا تھا تو طالب الرحمٰن آگیا ، کہنے لگا تم یہاں کیا کر رہے ہو تمہارے گھر تو آگ لگی وی ، میں نے کہا چھوڑا یار جھوٹا انسان ہے کیا اعتبار آج اپریل کی پہلی تاریخ ہے مخول نہ کر را ہو ، میں نے ادھر اُدھر دیکھا دھوائیں کے کہیں آثار نہ تھے میں دوبارہ کھیلنے لگ گیا ، تھوڑی دیر بعد ہی مولانا گھمن صاحب آگئے کہ تمہارے گھر تو آگ لگی وی ، میں نے اُن کی بات سن کر فوراً گھر کی طرف دوڑ لگا دی ، کیونکہ مولانا گھمن صاحب پر اعتماد ہے ۔
دوسری بات بھی میں نے پہلے ہی بتائی تھی کہ ایک انپڑھ موچی دلیل نہیں مانگا ، لیکن اگر بالفرض آپ اُسکو بتا بھی دیں تو اُسکو کیا فائدہ ہو جائے گا؟؟؟ اُسکو تو اصولِ قیاس کا ہی نہیں پتا آپ اُسکو بتا رہے ہیں کہ فلاں حدیث سے فلاں اصول کے تحت قیاس کیا ہے ۔۔۔
مقلد کے لیے مقلد کا قول حجت ہے ۔ 
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
Malang009 نے کہا ہے:
بھاو دیکھو بلا دلیل کے جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں اُنکا مطلب میں بتا چکا ہوں ، کہ یہ ہی ہے کہ مقلد کو دلیل کی حاجت ہی نہیں، وہ خود ہی دلیل نہیں مانگا، وہ کیوں نہیں مانگتا اسکی وجہ بھی میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ اُسکو مجتہد کے علم و تقویٰ پر اعتماد ہے۔

بھائی جان بلا دلیل، بے دلیل، غیر حجت وغیرہ جیسے الفاظ سے جو میں نے پوچھا تھا وہ یہ تھا کہ جس مسئلہ میں تقلید کی جارہی ہے اس پر دلیل ہے کہ نہیں ؟
اس مسئلہ پر دلیل کامطالبہ کرنا یا بلامطالبہ بات مان لینا یہ تو بعد کی بات ہے پہلے یہ تو ثابت کیاجائے تقلید کی تعریف سے کہ اس مسئلہ پر دلیل ہوتی ہے کہ نہیں ؟
یاد رہے کہ مولانا ابن ہمام حنفی کی اس تقلیدی تعریف کو بھی سامنے رکھنا

" الْعَمَلُ بِقَوْلِ مَنْ لَيْسَ قَوْلُهُ إِحْدَى الْحُجَجِ بِلَا حُجَّةٍ"

یعنی یہاں پر میرا جو سوال ہے وہ یہ ہے کہ

جن مسائل میں تقلید کرنے کو کہا جاتا ہے اس کی دلیل شریعت میں موجود ہوتی ہے کہ نہیں ؟

Malang009 نے کہا ہے:
مثال کے طور پر طالب الرحمٰن اور مولانا الیاس گھمن میرے ہمسائے ہیں طالب الرحمٰن بائیں جانب والے گھر میں رہتا ہے اور مولانا الیاس گھمن صاحب دائیں جانب والے گھر میں ۔ طالب الرحمٰن کے بارے میں مشہور ہے کہ نہایت جھوٹا انسان ہے اور ہر وقت جھوٹ بولتا ہے ۔ اب میں ایک دن گھر سے دور لڑکوں کے ساتھ کرکٹ کھیل رہا تھا تو طالب الرحمٰن آگیا ، کہنے لگا تم یہاں کیا کر رہے ہو تمہارے گھر تو آگ لگی وی ، میں نے کہا چھوڑا یار جھوٹا انسان ہے کیا اعتبار آج اپریل کی پہلی تاریخ ہے مخول نہ کر را ہو ، میں نے ادھر اُدھر دیکھا دھوائیں کے کہیں آثار نہ تھے میں دوبارہ کھیلنے لگ گیا ، تھوڑی دیر بعد ہی مولانا گھمن صاحب آگئے کہ تمہارے گھر تو آگ لگی وی ، میں نے اُن کی بات سن کر فوراً گھر کی طرف دوڑ لگا دی ، کیونکہ مولانا گھمن صاحب پر اعتماد ہے ۔

علماء کے بارے میں بات کرنی ہو تو اخلاق کا دائرہ استعمال کرنا چاہیے۔پہلی اور آخری بار آپ کی یہ بات برداشت کی جارہی ہے۔اپنے گھر میں بیٹھ کر علماء پر اس طرح زبان درازی اچھی نہیں۔میری انتظامیہ سے گزارش ہے کہ ملنگ صاحب کو لگام ڈالی جائے۔ ورنہ ہم خود یہ فریضہ انجام دے لیں گے۔اسی طرح بہتان درازی سے نہیں بلکہ حقیقت کا آئینہ دکھا کر۔اور ہاں امید ہے کہ آئندہ اس طرح کی مثال قائم نہیں کریں گے۔

Malang009 نے کہا ہے:
دوسری بات بھی میں نے پہلے ہی بتائی تھی کہ ایک انپڑھ موچی دلیل نہیں مانگا ، لیکن اگر بالفرض آپ اُسکو بتا بھی دیں تو اُسکو کیا فائدہ ہو جائے گا؟؟؟

موچی صاحب کو دلیل کا فائدہ ہوگا یا نہیں ؟ اگر بتا دی جائے تو کیا نقصان اور کیا فوائد ہونگے؟ وغیرہ وغیرہ اس بات سے پہلے ہم عامی کے بارے میں جانیں گے کہ عام کس کو کہا جاتا ہے؟ اور تقلید کس پر واجب ہے؟ کس پر مستحب ہے؟ کس پر مندوب ہے؟ کس پر مکروہ ہے؟ اور کس پر حرام ہے۔؟

Malang009 نے کہا ہے:
مقلد کے لیے مقلد کا قول حجت ہے ۔ 

اوکے اس پر ان شاءاللہ بعد میں بات کریں گے۔بس سوال کاجواب لینا تھا۔
 
سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
Top