تقلید مجھے سمجھا دو۔!

سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
عزیز بھائی بحث بہت پھیل چکی ہے۔ حالانکہ میرا مقصود بالکل یہ نہیں تھا۔ اور شاید آپ بھی یہ نہیں چاہتے ہونگے۔ میری اس پوسٹ پر غور کریں اور پھر مختصر جواب عنایت فرمادیں کہ تقلید بے دلیل ہوتی ہے یا بادلیل پر بلا مطالبہ دلیل۔

محترم ناصر بھائی ہماری بحث تقلید کی لغوی واصطلاحی تعریف پر ابھی مبنی ہے۔آپ سے پہلے بھی اس بات کا مطالبہ کیا گیا کہ آپ ہمیں متقدمین علماء کی کتب سے تقلید کی تعریف میں بلا مطالبہ دلیل وغیرہ دکھائیں۔ لیکن تاحال آپ نے یہ کوشش نہیں کی۔
اس پوسٹ میں آپ کے سامنے متقدمین اور متاخرین علماء کی تعریفات کو پیش کیاجاتا ہے۔جس میں ان شاءاللہ ہم سب کو یہ جاننے میں آسانی ہوگی کہ تقلید کی اصطلاحی تعریفات میں جو الفاظ بنا دلیل، بے دلیل یا غیر حجت کے استعمال کیے گئے ہیں۔اس سے مراد بلا مطالبہ دلیل ہے یا بے دلیل بات پر عمل کرنا ہے۔ یا کچھ اور ہے۔

1۔مسلم الثبوت ص289 طبع 1316ھ کی تعریف میں
’’تقلید غیر کے قول پر بغیر حجت کے عمل کانام ہے۔اور اسی تعریف میں یہ بھی ہے کہ نبی ﷺ اور اجماع پر عمل تقلید میں سے نہیں ہے۔اسی طرح عامی کاعالم سے سوال کرنا ، قاضی کا گواہوں کی طرف رجوع کرنا بھی تقلید نہیں لیکن عرف یہ ہے کہ عامی مجتہد کا مقلد ہے۔۔۔الخ‘‘

محترم بھائی آپ کے بقول کہ تقلید دلیل پر ہی ہوتی ہے لیکن دلیل کا مطالبہ نہیں ہوتا تو پھر اسی تعریف میں یہ کہنا کہ نبی کریم ﷺ اور اجماع یعنی مختصر مفہوم نص پر عمل تقلید نہیں ۔چہ معنی؟
یہاں سے تو صاف معلوم ہورہا ہے کہ الفاظ
’’ العمل بقول الغیر من غیر حجۃ ‘‘ اس بات پر واضح دال ہیں کہ تقلید بے دلیل بات کی ہی ہوتی ہے۔اگر دلیل موجود ہوتی لیکن طلب نہ کی جاتی تو پھر صاحب مسلم الثبوت یہ نہ کہتے کہ
’’فالرجوع الی النبی علیہ الصلاۃ والسلام او الی الاجماع لیس منہ۔۔۔الخ‘‘
آپ کی بات ایک منٹ کےلیے تسلیم بھی کرلی جائے تو پھر اسی تعریف میں ہی تضاد آجاتا ہے۔

2۔فواتح الرحموت بشرح مسلم الثبوت فی اصول الفقہ ج2 ص 400 سے بھی یہی بات اخذ ہوتی ہے۔( فصل ’’التقلید العمل بقول الغیر من غیر حجۃ) متعلق بالعمل والمراد بالحجۃ حجۃ من الحجج لاربع۔۔۔الخ‘‘

3۔اسی طرح ابن ہمام حنفی نے تحریر ابن ہمام فی علم الاصول ج3 ص 453میں ، قاضی محمد اعلی تھانوی حنفی کشاف اصطلاحات الفنون ج2 ص 1178 میں، علی بن محمد علی الجرجانی حنفی نے کتاب التعریفات ص 29 میں اور اسی طرح محمد بن عبدالرحمن عید المحلاوی الحنفی نے تسہیل الوصول الی علم الاصول میں،
ان سب علماء نے جو تقلید کی تعریف نقل کی ہے ۔ان تعریفات کو مختصر اگر بیان کیا جائے تو یہ مفہوم نکلتا ہے۔

بغیر دلیل والی بات کو تسلیم کرنا۔

اور پھر ان تعریفات میں یہ بات بھی واضح طور پر بیان کی گئی ہے کہ نص پر عمل تقلید نہیں۔مطلب جہاں دلیل ہوگی وہاں تقلید نہیں۔(ہاں عرفاً نص پر عمل کو آپ اتباع کانام دےلیں یا تقلید کا نام دے لیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں)
اور بھی اس پر حوالہ جات پیش کیے جاسکتے ہیں۔پر خلاصہ سب کابیان کردیا گیا ہے۔

لیکن آپ سمیت دور جدید کے مقلدین تقلید کامعنی ہی بدل دیتے ہیں ۔تاکہ عوام الناس کو تقلید کا اصل مفہوم معلوم نہ ہوجائے۔اور آپ لوگ تقلید کی تعریف یوں کرتے ہیں-

’’جس شخص کا قول ماخذ شریعت میں سے نہیں ۔اس پر حسن ظن کرتے ہوئے اس کےقول کو بلا مطالبہ دلیل مان لینا ، عمل کرلینا۔اور یہ سمجھ لینا کہ اس کے پاس دلیل ہوگی۔یا دلیل کے موافق بتلاوے گا۔وغیرہ وغیرہ‘‘


اور پھر اس سے ملتی جلتی تعریف محمد اسماعیل سنبھلی ،محمد تقی عثمانی، ماسٹر امین اوکاڑوی، محمد ناظم علی خاں قادری بریلوی، وغیرہ وغیرہ

نوٹ
یعنی متقدمین اور متاخرین کی تعریفات میں واضح فرق محسوس ہورہا ہے۔جو میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا لیکن آپ نے کہا کہ تقلید کی تعریف ناسمجھنے کی وجہ سے ہے۔اور آپ نے بلا مطالبہ دلیل کو تقلید کانام دیا ہے۔
یہاں پر ہی میں نے آپ سے سوال کیا تھا کہ آپ متقدمین علماء سے یہ ثابت کردیں کہ تقلید بلا مطالبہ دلیل کانام ہے مجتہد کی بے دلیل بات پر عمل کا نام نہیں۔
اب میں نے متقدمین علماء کی تعریفات پیش کرکے اس بات کو ثابت کردیا ہے کہ تقلید کہ تقلید بے دلیل ہوتی ہے۔
اور آپ کہہ رہے ہیں کہ نہیں دلیل ہوتی ہے۔
تو پھر تقلید کی کوئی ایسی جامع مانع تعریف کریں کہ جس میں سب اشکالات دور ہوجائیں۔یادر رہے جامع بھی ہو مانع بھی ہو۔
اور اس کے بعد پھر ہماری بات آگے چلے گی۔ اور ہاں اب بہت ہوچکا مزید شاید دوبارہ اگلی پوسٹ میں یہ بات نہ کروں۔لیکن اگر ضرورت ہوئی تو کچھ لکھوں گا۔ان شاءاللہ
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
حیران ہوں رؤوں دل کوکہ پیٹوں جگر کو میں

ذیشان نصر نے کہا ہے:
اصلی حنفی بھائی تقلید کے مختلف درجے ہیں ۔۔۔۔!

بہت خوب۔ کب سے بن گئے یہ مختلف درجے بھائی جان

ذیشان نصر نے کہا ہے:
پہلا درجہ جاہل اور ان پڑھ عوام کے لئے بلا دلیل اور بغیر حجت ہی ماننا تقلید ہے۔۔۔! کیونکہ ان کی عقلی سطح اور ان کا شعور ان دلائل کو سمجھنے سے قاصر ہے ۔۔۔!

بہت خوب ہر کوئی آتا ہے اور اپنا اپنا مفہوم بیان کرکے چلا جاتا ہے۔ اور اب تو خود ذیشان بھائی بھی کہہ رہے ہیں کہ ’’بلا دلیل اور بغیر حجت‘‘ اب اگر وضاحت پوچھی تو پتہ نہیں اس عبارت کو کہاں سےکہاں تک لے جایا جائے گا۔ اس لیے خاموشی ہی بہتر ہے۔ الفاظ خود بول بول کر بتارہےہیں کہ ہمارا مطلب کیاہے ؟

ذیشان نصر نے کہا ہے:
اہلِ علم حضرات کے لئے دلیل کا دوسرا درجہ ہے ۔۔۔ وہ بلا دلیل نہیں بلکہ با دلیل مانتے ہیں۔۔۔۔! جیسا کہ علماء حضرات اپنے سے بڑے اور پہلے کے بزرگانِ دین کے دلائل کو سمجھ کر ان کی بات کو مانتے ہیں ۔۔۔!

عجیب بات ہے۔ حیرانگی ہورہی ہے۔ کہ اس درجہ کےلوگ اپنے سے بڑے لوگوں کے دلائل کو سمجھ کر کیوں تقلید کرتے ہیں؟ اگر اپنے بڑوں اور بزرگوں کےدلائل کو سمجھ سکتے ہیں تو پھر قرآن وحدیث کو کیوں نہیں سمجھ سکتے ؟ کیا انسانی کلام رب کے کلام سے زیادہ آسان ہوتی ہے ؟ آخر کیا چیز مانع ہے کہ وہ بزرگوں کے دلائل کو تو دیکھیں اور سمجھیں اور پھر مانیں لیکن قرآن وحدیث کو نہ سمجھیں اور نہ مانیں ؟ انا للہ وانا الیہ راجعون


ذیشان نصر نے کہا ہے:
اور تیسرا درجہ دورِ حاضر کے مجتہد حضرات کا ہے ۔۔۔ وہ خود توبنیادی طور پر مقلد ہوتے ہیں مگر اپنے اجتہاد سے اپنے امام کے قول سے اختلاف کا حق رکھتے ہیں ۔۔۔۔! مگر دوسرے لوگوں پر اپنا اجتہاد زبردستی ٹھونس نہیں سکتے ۔۔۔۔!

بہت خوب ایک طرف مجتہد کہا جارہا ہے اور دوسری طرف مقلد۔ جب مجتہد ہے تو مقلد کس بات کا ؟ اور جب مقلد ہے تو مجتہد کس بات کا ؟ آپ کو معلوم ہےکہ مقلد کون ہوتا ہے ؟
اور پھر کس نے اختیار دیا ہے ان کو کہ وہ اپنے امام سے اختلاف کرسکتےہیں ؟ کیا مقلد کو اپنے امام سے اختلاف کرنےکاحق ہوتا ہے ؟
واہ ’’مگر دوسرے لوگوں پر اپنا اجتہاد زبردستی ٹھونس نہیں سکتے‘‘ کیوں نہیں ٹھونس سکتے ؟
اور پھر آپ کے بقول تو آج کےدور میں بھی بہت سارے مجتہدین ہیں ذرا چند کےنام بتانا پسند کرو گے؟


ذیشان نصر نے کہا ہے:
اگر آپ واقعی تقلید کے بارے میں سمجھنا چاہتے ہیں تو مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب کی کتاب ’’تقلید کی شرعی حیثیت ‘‘ کا مطالعہ کریں ۔۔۔ ! ان شاء اللہ آپ کے اشکالات دور ہو جائیں گے ۔۔۔!

ٹھیک ہےمیں پڑھونگا۔ ان شاءاللہ اور ویسے سرسری مطالعہ کیا ہوا ہے۔ اور آپ سے بھی گزارش ہےکہ تقلید کی حقیقت کو تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں، سمجھیں اور پڑھیں اور پھر مانیں بھی۔ کیونکہ اصل کام ہی عمل ہوتا ہے۔ صرف ماننا نہیں

ذیشان نصر نے کہا ہے:
اور اگر آپ کا مقصد محض بحث کرنا ہے اور مقلدین پر اعتراضات لگانا ہے تو اس کے لئے بھی فقیر حاضر ہو گا ۔۔۔۔! ان دنوں فقیر امتحانات کی تیاری کے سلسلہ میں مشغول ہے ۔۔۔ ان شاء اللہ امتحانات کے بعد آپ اپنا یہ شوق بھی پورا فرما سکتے ہیں ۔۔۔!

ٹھیک ہے بھائی جان اگر بحث کےلیے فقیر حاضر ہے تو پھر فقیر کےلیے بھی موضوع تیار ہے۔ جب فقیر واپس آئے گا تو پھر شوق پورا کردیاجائے گا۔
 

ناصر نعمان

وفقہ اللہ
رکن
محترم جناب اصلی حنفی صاحب جب تک آپ اختلافی عینک لگا کر مسئلہ سمجھنے کی کوشش کرتے رہیں گے تب آپ کا وہی حال ہوگا جو لال رنگ کی عینک لگانے والا سفید رنگ ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے
۔۔۔بس جس طرح اس لال عینک والے کو ہر چیز لالی میں نظر آرہی ہوتی ہے اسی طرح آپ کو اختلافی عینک
لگانے کے سبب ہر عبارت کا مفہوم اپنے مطلب کا ہی نظر آرہا ہے ۔۔۔۔ چاہے سامنے والا کچھ بھی سمجھا رہا ہو لیکن آپ کو تو ہر طرف لال ہی لال نظر آرہا ہے ۔
ملاحظہ فرمائیے اس کی ایک چھوٹی سی مثال :
ہم نے لکھا تھا :
دوبارہ سمجھیں کہ ایک طرف "بنا دلیل" سے مراد یہ نکلتی ہے کہ بغیر کسی شرعی دلیل کے کسی کی بات ماننا
تو "بنا دلیل" سے دوسری مراد یہ بھی نکلتی ہے کہ وہ قول جو شریعت کی حجتوں(یعنی کتاب اللہ ، حدیث رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم ، اجماع اور قیاس صحیح) میں سے نہ ہو اُس کی بات ماننا۔

جس کے جواب میں پہلے ہماری ہی بات نقل کی :’’ وہ قول شریعت کی حجتوں میں سے نہ ہو اس کی بات ماننا۔‘‘
پھر آپ نے کہا :
میں کچھ سمجھا نہیں ؟
پھر آپ نے ہمارے ہی الفاظ دہرا کر سوالیہ نشان بنادیا :
کیا آپ کی مراد یہ تو نہیں کہ ’’ جو قول شریعت کی حجتوں میں سے نہ ہو وہ ماننا ‘‘
اب دیکھ لیں حالانکہ ہم جو بات لکھی وہی آپ نے دہرائی ۔۔۔۔لیکن آپ نے بجائے ہمارے لفظوں پر غور کرکے ہماری بات سمجھنے کے آپ کو صرف اپنے مطلب کا ہی مفہوم سمجھ آیا؟؟؟؟
حالانکہ اگر آپ تھوڑا بہت بھی اپنی عینک اتار کر غیرجانبدارنہ غور کرتے تو جواب ملتا کہ “کسی قول کا شرعی حجت(یعنی قرآن و حدیث ،اجماع یا قیاس صحیح) ہونا ۔۔۔۔۔۔اور کسی کے قول کا شرعی حجت (قرآن وحدیث) سے اخذ ہونے میں زمین و آسمان کا فرق ہے
لیکن کیا کیا جائے تعصب کا جو سیدھی سادھی باتیں بھی نہیں سمجھنے دیتا ؟؟؟
(ان شاء اللہ اسی فرق کو ایک بار پھر ہم اگلی پوسٹ میں مثال سے سمجھانے کی کوشش کریں گے ۔۔۔شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات)
خیر آپ پچھلی پوسٹ پر اسی طرح تبصرہ کرنا شروع کریں تو یہ خواہ مخواہ بحث برائے بحث کہلائے گی اور محض وقت کا ضیاع ہوگا ۔۔۔۔البتہ آپ کی اس عبارت پر مختصر گذارش کریں گے :
کسی بھی سچے ، مخلص مسلمان کی یہ سوچ قطعاً نہیں ہوسکتی ۔کہ جو جس حال میں ہے اسی کو اسی حال میں مرنے دو۔ ہمیں اس سے کیا غرض۔ ہم تو اسلامی احکامات پر عمل کرنے والے ہیں۔
نہیں بھیا ہر مسلمان کے دل میں وہ جذبہ ہونا چاہیے جو جذبہ ہمارےنبی ﷺ کےدل میں تھا اور آپﷺ کو بستر پر آرام نہیں کرنےدیتا تھا۔

آپ کا یہ کہنا اپنی جگہ بجا ہے اور حق ہے ۔۔۔۔لیکن یہ تو سوچیں کہ ہم کسی کو صرف سمجھا ہی سکتے ہیں ۔۔۔کسی کو لٹھ لے کر سدھار نہیں سکتے ۔۔۔۔ہدایت اللہ رب العزت کے اختیار میں ہے ۔
جس سے سمجھنا ہوتا ہے وہ بلامشروط اپنے آپ کو حق سمجھنے کے لئے پیش کرتا ہے ۔۔۔۔۔لیکن جب کوئی من مانی شرائط کے ساتھ کچھ سمجھنے کا طلبگار ہوتا ہے۔۔۔تو وہ حق کا طلبگار نہیں کہلاتا بلکہ اپنی نفسانی خواہشات کی تسکین چاہتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔آمین
باقی آپ کی پوسٹ کے دوسرے حصہ پر ایک بار پھر ہم اپنا موقف مثال کے ساتھ پیش کرنا چاہیں گے آپ کے لئے اس حسن ظن کے ساتھ کہ شاید ہمارے ہی سمجھانے میں کوئی کمی کوتاہی ہورہی ہے ہے جو آپ کا بار بار ایک سادہ سی بات نہیں سمجھا سکے ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھانا اور آپ کو سمجھنا آسان فرمائے ۔آمین
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
ناصر نعمان نے کہا ہے:
محترم جناب اصلی حنفی صاحب جب تک آپ اختلافی عینک لگا کر مسئلہ سمجھنے کی کوشش کرتے رہیں گے تب آپ کا وہی حال ہوگا جو لال رنگ کی عینک لگانے والا سفید رنگ ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے
۔۔۔بس جس طرح اس لال عینک والے کو ہر چیز لالی میں نظر آرہی ہوتی ہے اسی طرح آپ کو اختلافی عینک
لگانے کے سبب ہر عبارت کا مفہوم اپنے مطلب کا ہی نظر آرہا ہے ۔۔۔۔ چاہے سامنے والا کچھ بھی سمجھا رہا ہو لیکن آپ کو تو ہر طرف لال ہی لال نظر آرہا ہے ۔

محترم بھائی یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی نقطہ پر انسان ذاتی طور پر تو یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ میں ٹھیک ہو اور میرا مخالف غلط ہے۔ لیکن حقیقت کچھ اور بھی ہوسکتی ہے۔ آپ مجھے بار بار یہ تلقین کرتے چلے آ رہے ہیں کہ آپ ایسا کریں آپ ایسا کریں۔ تو کیا کبھی آپ نے اپنے بارے میں یہ سوچا ہے ؟
تاویل در تاویل کرتے جا رہے ہیں۔ اور بس فریق مخالف کو ہی غلط سمجھ رہے ہیں۔ جب اس طرح کی سوچ انسانی ذہن میں آجائے تو پھر حق اس سے کوسوں دور چلا جاتا ہے۔(مگر جسے اللہ چاہے) اسی وجہ سے تو شیطان کی کوشش ہوتی ہے کہ بدعات کو رائج کردے تاکہ لوگ اس کو ثواب کی نیت سے کرتے رہیں اور شیطان کا مقصد بھی پورا ہوتا رہے۔
اور یہ شکل بہت ہی خطرناک ہوتی ہے۔ اس لیے آپ سے بھی گزارش ہے کہ آپ بھی ریڈ کلر کی عینک اتار کر ہی دیکھیں تاکہ آپ کو بھی سفید نظر آئے ورنہ سب ریڈ ہی ریڈ نظر آئے گا۔
اور پھر اپنی طرف سے مفہوم نہیں لیتا بھائی جو عبارات سے واضح ہورہا ہے ہوتا ہے وہ بیان کرتا ہوں۔ اور آپ کی پوسٹ میں کافی تشنگیاں ہوتی ہے۔ طوالت اور پھر ٹائم کے نہ ہونے کے سبب لکھ نہیں سکتا۔ لیکن جہاں کچھ واضح کروانا ہوتا ہے وہاں لکھ دیتا ہوں اور آپ اس کو اپنا مفہوم نکالنا کہہ رہے ہیں ؟

ناصر نعمان نے کہا ہے:
ملاحظہ فرمائیے اس کی ایک چھوٹی سی مثال :
ہم نے لکھا تھا :
دوبارہ سمجھیں کہ ایک طرف "بنا دلیل" سے مراد یہ نکلتی ہے کہ بغیر کسی شرعی دلیل کے کسی کی بات ماننا
تو "بنا دلیل" سے دوسری مراد یہ بھی نکلتی ہے کہ وہ قول جو شریعت کی حجتوں(یعنی کتاب اللہ ، حدیث رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم ، اجماع اور قیاس صحیح) میں سے نہ ہو اُس کی بات ماننا۔

جس کے جواب میں پہلے ہماری ہی بات نقل کی :’’ وہ قول شریعت کی حجتوں میں سے نہ ہو اس کی بات ماننا۔‘‘
پھر آپ نے کہا :
میں کچھ سمجھا نہیں ؟
پھر آپ نے ہمارے ہی الفاظ دہرا کر سوالیہ نشان بنادیا :
کیا آپ کی مراد یہ تو نہیں کہ ’’ جو قول شریعت کی حجتوں میں سے نہ ہو وہ ماننا ‘‘
اب دیکھ لیں حالانکہ ہم جو بات لکھی وہی آپ نے دہرائی ۔۔۔۔لیکن آپ نے بجائے ہمارے لفظوں پر غور کرکے ہماری بات سمجھنے کے آپ کو صرف اپنے مطلب کا ہی مفہوم سمجھ آیا؟؟؟؟

محترم بھائی اس عبارت میں تشنگی کیا تھی۔ چلو اب میں واضح کردیتا ہوں آپ نے ایک کہا کہ
’’دوبارہ سمجھیں کہ ایک طرف "بنا دلیل" سے مراد یہ نکلتی ہے کہ بغیر کسی شرعی دلیل کے کسی کی بات ماننا ‘‘
یہ عبارت واضح ہے اس میں کوئی تشنگی نہیں لیکن جو اگلی عبارت
’’تو "بنا دلیل" سے دوسری مراد یہ بھی نکلتی ہے کہ وہ قول جو شریعت کی حجتوں(یعنی کتاب اللہ ، حدیث رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم ، اجماع اور قیاس صحیح) میں سے نہ ہو اُس کی بات ماننا۔‘‘
تو یہاں ’’ اس کی ‘‘ سے کیا مراد ہے؟ حالانکہ یہاں اس کی نہیں بلکہ ’’وہ‘‘ آنا چاہیے تھا۔ اس لیے میں نے یوں سوال کردیا کہ
’’ کیا آپ کی مراد یہ تو نہیں کہ ’’ جو قول شریعت کی حجتوں میں سے نہ ہو وہ ماننا ‘‘
اگر ’’اس کی‘‘ کو ہی لیتے ہیں تو پھر آپ کی دونوں عبارتوں میں کوئی فرق ہی نہیں رہتا ؟
تو اس لیے اس بات کو واضح کرنے کےلیے دوبارہ نقل کرکے پوچھا اور آپ نے کہا کہ عینک اتار کر دیکھیں

ناصر نعمان نے کہا ہے:
حالانکہ اگر آپ تھوڑا بہت بھی اپنی عینک اتار کر غیرجانبدارنہ غور کرتے تو جواب ملتا کہ “کسی قول کا شرعی حجت(یعنی قرآن و حدیث ،اجماع یا قیاس صحیح) ہونا ۔۔۔۔۔۔اور کسی کے قول کا شرعی حجت (قرآن وحدیث) سے اخذ ہونے میں زمین و آسمان کا فرق ہے

جی بھائی ’’ کسی کا قول شرعی حجت ہونا اور کسی کا قول شرعی حجتوں سے اخذ ہونا ‘‘ فرق ہے۔ لیکن یہ فرق آپ کی پچھلی پوسٹ میں نہ تھا۔ اس لیے تو واضح کیا ہے۔ امید ہے اب سمجھ آگیا ہوگا۔ ان شاءاللہ

ناصر نعمان نے کہا ہے:
لیکن کیا کیا جائے تعصب کا جو سیدھی سادھی باتیں بھی نہیں سمجھنے دیتا ؟؟؟

تعصب تھا یا آپ کے الفاظ میں تشنگی۔ وہ واضح کردیا گیا ہے۔ اب آپ جو بھی نام دے لیں کوئی فرق نہیں۔ کیونکہ آپ میرے بڑے بھائی ہیں۔

ناصر نعمان نے کہا ہے:
(ان شاء اللہ اسی فرق کو ایک بار پھر ہم اگلی پوسٹ میں مثال سے سمجھانے کی کوشش کریں گے ۔۔۔شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات)

اس فرق کو میرے لیے واضح کرنے کے ساتھ ساتھ ذرا خود بھی تعصب کو دور کہیں پھینک کر سمجھنے ا ور سوچنے اور بیان کرنے کی کوشش کرنا۔ ان شاءاللہ بہت فائدہ ہوگا۔

ناصر نعمان نے کہا ہے:
خیر آپ پچھلی پوسٹ پر اسی طرح تبصرہ کرنا شروع کریں تو یہ خواہ مخواہ بحث برائے بحث کہلائے گی اور محض وقت کا ضیاع ہوگا ۔۔۔۔البتہ آپ کی اس عبارت پر مختصر گذارش کریں گے :

جی بالکل فضول باتوں سے اب میں بھی کوشش کرونگا کہ اجتناب ہی برتوں

ناصر نعمان نے کہا ہے:
آپ کا یہ کہنا اپنی جگہ بجا ہے اور حق ہے ۔۔۔۔لیکن یہ تو سوچیں کہ ہم کسی کو صرف سمجھا ہی سکتے ہیں ۔۔۔کسی کو لٹھ لے کر سدھار نہیں سکتے ۔۔۔۔ہدایت اللہ رب العزت کے اختیار میں ہے ۔
جس سے سمجھنا ہوتا ہے وہ بلامشروط اپنے آپ کو حق سمجھنے کے لئے پیش کرتا ہے ۔۔۔۔۔لیکن جب کوئی من مانی شرائط کے ساتھ کچھ سمجھنے کا طلبگار ہوتا ہے۔۔۔تو وہ حق کا طلبگار نہیں کہلاتا بلکہ اپنی نفسانی خواہشات کی تسکین چاہتا ہے۔

ہم پر بلیغ ہے۔ لیکن بلیغ کس کو کہتے ہیں ؟ اور کب بلیغ بلیغ ہوتا ہے۔ امید ہے آپ کو اس سے واقفیت ہی ہوگی

ناصر نعمان نے کہا ہے:
اللہ تعالیٰ سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔آمین

آمین ثم آمین

ناصر نعمان نے کہا ہے:
باقی آپ کی پوسٹ کے دوسرے حصہ پر ایک بار پھر ہم اپنا موقف مثال کے ساتھ پیش کرنا چاہیں گے آپ کے لئے اس حسن ظن کے ساتھ کہ شاید ہمارے ہی سمجھانے میں کوئی کمی کوتاہی ہورہی ہے ہے جو آپ کا بار بار ایک سادہ سی بات نہیں سمجھا سکے ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھانا اور آپ کو سمجھنا آسان فرمائے ۔آمین

ضرور بیان کریں۔ لیکن اب کی بار بے دلیل، بغیر دلیل، غیر حجت، بنا دلیل وغیرہ کو دلیل سے واضح کرنا۔ اپنی سمجھ سے نہیں۔ اور پھر اس دلیل پر ہی دلیل کے موافق سمجھ بیان کرنا۔ تو ان شاءاللہ قبول کی جائے گی۔
 

ناصرنعمان

وفقہ اللہ
رکن
ناصرنعمان نے کہا ہے:
جبکہ دوسری طرف وہ مسائل ہیں جن پر نصوص توموجود ہیں۔۔ لیکن ان منصوص مسائل پردو یا دو سے زائد نصوص ہوں اوران میں اختلاف ہو تو رفع تعارض کے لئے مجتھد اجتھاد کرتا ہے اور اپنے اجتھاد کی بنیاد پر ایک نص کو راجح قرار دیتا ہے۔ لیکن کیوں کہ جاہل نصوص میں اجتھاد کی اہلیت نہیں رکھتا اس لئے وہ مجتھد کی تقلید کرتا ہے۔

اصلی حنفی نے کہا ہے:
بھائی جان تقلید کی تعریف کو اگر دیکھاجائے تو یہ تقلید میں آتا ہی نہیں ہے۔ کیونکہ آپ نے بھی اس بات کو قبول کرلیا ہے کہ نص پر عمل تقلید نہیں۔ جب مجتہد نے دو نصوص میں سے ایک نص کے بارے میں بتا دیا کہ یہ راجح ہے۔ تو وہ راجح قرار دی جانے والی نص تو ہے۔ اور نص پر عمل تقلید نہیں کہلاتا اور اس بات کا اعتراف آپ خود کرچکے ہیں۔
تو پھر آپ کیوں کہہ رہےہیں کہ جاہل تقلید کرے گا۔ ؟ جاہل تو یہاں نص پر ہی عمل کررہا ہے۔ ہاں نص میں تعارض تھا اور جاہل کےلیے اس تعارض کو رفع کرنا مشکل تھا۔ اب اس کو مجتہد نے تعارض رفع کردیا ہے۔ تو وہ عمل مجتہد کی بات پر نہیں بلکہ نص پر کررہاہے۔

ناصرنعمان نے کہا ہے:
اسی طرح بہت سے ایسے مسائل سامنے آئے جن پر نصوص بھی موجود تھیں۔ اور اُن میں دیگر نصوص سے تعارض بھی نہ تھا ۔۔۔لیکن ایسی غیر معارض نصوص میں بعض نصوص محتمل ہوتی ہیں اوربعض محکم ہوتی ہیں۔۔۔۔ محتمل یعنی ایسی نص جس میں ایک سے زیادہ معنی کا احتمال پایا جائے۔۔۔۔لہذا مجتھد اجتھاد سے ایک معنی کو راجح قرار دیتا ہے اور مقلد اسکی تقلید کرتا ہے۔
اصلی حنفی نے کہا ہے:
یہ بھی پہلی صورت ہے۔ یعنی نص پر عمل ہی ہے۔

ناصرنعمان نے کہا ہے:
اور محکم وہ نص جو نہ معارض ہو نہ اسکے معنی میں کوئی احتمال ہو۔ اپنے مرادمیں واضح ہوں۔ ایسے نصوص میں کوئی اجتھاد نہیں۔ نا ہی ان میں تقلید ہے۔
اصلی حنفی نے کہا ہے:
ایک سوال ہے کہ کیا احناف واقعی ایسی نصوص کےمقابلہ میں تقلید نہیں کرتے ؟ یعنی نص کی موجودگی میں احناف تقلید نہیں کرتے ؟

ناصرنعمان نے کہا ہے:
باقی اس کے علاوہ جتنے بھی مقامات ہیں یعنی جو غیر منصوص ہوں۔۔۔ ۔ یا اگر کسی مسئلہ پر کسی آیت یا حدیث سے ثبوت پایا جاتا ہے تو وہ آیت یا حدیث اور بھی معنی اور وجوہ کا احتمال رکھتی ہو۔۔۔۔یا کسی دوسری آیت یا حدیث سے بظاہر متعارض معلوم ہوتی ہو۔۔۔۔ایسے تمام مقامات پر حضرات مجتھدین جتنا بھی غور وحوض کے ساتھ احتیاط کے ساتھ اجتھاد فرمایا ہو ۔۔۔لیکن آخر کار مجتھد حضرات کیوں کہ غیر نبی تھے ۔۔۔اور ان کی رائے کو ایسی سوفیصد یقینی اور قطیعت حاصل نہیں جیسا کہ صاحب وحی کے فرامین کو یقین اور قطعیت حاصل ہوتی ہے ۔۔۔۔لہذامجتھدین حضرات کی تمام تر احتیاط اور کوششوں کے باوجود اُن کے اجتھاد میں خطاءکا احتمال باقی رہتا ہے ۔
لہذاجب واضح ہوجاتا ہے کہ مجتھد کا اجتھاد اُس وقت ہوتا ہے کہ جب کسی مسئلہ پر قرآن و حدیث سے صریح ،محکم دلیل نہ پائی جاتی ہو ۔۔۔ تو پھر اس کے بعدقرآن وحدیث کی کسی بھی نص پر مجتھد کا اجتھاد اُس کا گمان تو ہوسکتا ہے کہ اس نص کا مفہوم فلاں مسئلہ کی دلیل ہے۔۔۔ لیکن مجتھد کے پاس صاحب وحی جیسا سوفیصدی یقین اور قطعی علم نہیں ہوتا کہ اسی نص کا مفہوم مسئلہ پر دلیل ہے ۔

اصلی حنفی نے کہا ہے:
بھائی پھر وہی بات کردی۔ آپ خود کہہ رہے ہیں کہ نص ہوتی ہے۔لیکن محکم نہیں محتمل۔ اور پھر مجتہد اس محتمل نص سے موجود محتمل مسائل کو قیاس کرکے یادوسرے الفاظ میں اجتہاد سے محکم بنادیتاہے۔ اور عامی مجتہد کی طرف سے بتائی جانے والی نص پر عمل کرتا ہے۔ نہ کہ مجتہد کی بات پر ۔ اورمیرے خیال میں نہ ہی اس کو قیاس کا نام دیاجاسکتا ہے۔
تو جب تقلید غیر منصوص مسائل میں ہوتی ہے تو بھائی جان یہاں تو نص ہے۔ اور نص پر عمل تقلید نہیں ہوتا۔ اقرار کرچکےہیں۔
اور پھر تقلید کی تعریف میں بھی یہ بات نہیں آتی
محترم جناب اصلی حنفی صاحب ہمارا تو اس پوری بات چیت میں‌آپ سے گلہ ہی رہ گیا کہ نہ تو آپ سامنے والے کی بات درست طریقے سے پڑھتے ہیں ...نہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ..... بس چند اپنے مطلب کے الفاظوں کو پکڑ کر اپنے وہی اعتراضات دہرادیتے ہیں جن کے جوابات دئیے گئے ہوتے ہیں ؟؟؟
ارے بھائی کم از کم اتنا ہی غور کرلیا کریں کہ جب آپ ایک اعتراض فرماچکے ہیں .... اور اُس کے جواب میں اگر کوئی شخص صفحہ کالا کررہا ہے ..... تو اس کالی روشنائی سے ترتیب دئیے گئے الفاظوں میں‌ یقینا کوئی ایسی بات بھی موجود ہے جو آپ کو آپ کے اعتراض کے جواب میں‌سمجھائی گئی ہے ..... لیکن آپ کو تو پورے مضمون میں‌وہی الفاظ نظر آتے ہیں جو آپ کے مطلب کے ہوتے ہیں ..... اور آپ اتنا بھی نہیں غور کرتے کہ آپ کے مطلب کے ہی الفاظ کے دائیں بائیں کچھ اور الفاظ موجود ہیں جو آپ کو کچھ وضاحت کرنے کے لئے پیش کئے گئے ہیں ..... لیکن کیا کیا جائے ؟؟
میرے بھائی آپ اپنے جواب میں "نص نص" اور "جب نص ہوگی تو تقلید نہیں" کا ورد تو فرماتے رہے .....لیکن اتنا تو غور کرنے کی تکلیف کرلیتے کہ ہم نے آپ کو کیا بات سمجھانے کی کوشش کی ہے ؟؟؟
بہرحال ہم اس دفعہ آپ کو مثال سے اپنی بات کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتے ہیں .... امید ہے کہ اس دفعہ آپ اپنے مطلب کے الفاظوں کے ساتھ ساتھ اُن الفاظوں پر بھی غور کریں گے کہ جن کے ساتھ آپ کو کچھ سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے .... اس کے بعدبھی آپ کو محسوس ہو کہ ہمارے لکھنے یا سمجھنے میں‌کوئی کمی کوتاہی ہے تو ضرور نشادہی فرمائیے گا.... تاکہ ہم اپنی اصلاح کرلیں.جزاک اللہ
ساتھ میں ایک گذارش یہ ہے کہ آپ ہماری باتوں کو الگ الگ توڑ توڑ کر جواب دیتے ہیں جس سے پورا مضمون ہی تتر بتر ہوکر الٹ پلٹ ہوجاتا ہے ۔۔۔۔میرے بھائی جواب دینے کے لئے ہماری عبارتوں کو علیحدہ علیحدہ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ مضمون کا خلاصہ ذہن میں رکھ کر یا نکتہ استدلال سمجھ کر اکھٹا جواب عنایت فرمایا کریں ۔۔۔۔۔کیوں کہ ہر عبارت ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔اور پھر یہ پوری لڑی کسی مقصد کو بیان کررہی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔لیکن آپ کی طرف سے عبارتوں کو توڑ توڑ کرجواب دینے کی وجہ سے آپ خود ہمارا نکتہ استدلال سمجھ نہیں پاتے ۔۔۔۔۔ لہذا ہمیں اگر کسی عبارت کا علیحدہ علیحدہ جواب درکار ہوا تو ہم خود ہی نشادہی فرمادیں گے ۔۔۔۔آپ یہ تکلف نہ فرمایا کریں۔
اب آجائیں مسئلہ کی طرف:
مثال کے طور پر جیسے مسئلہ رفع یدین ایک اجتھادی مسئلہ ہے ..... اور اس مسئلہ کے قائلین اور تارکین دونوں کے پاس اپنے اپنے دلائل ہیں
جیسے قائلین یہ روایت پیش فرماتے ہیں :
عبداللہ بن عمر رضی الله عنهما قال رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام في الصلاة رفع يديه حتى يكونا حذو منكبيه، وكان يفعل ذلك حين يكبر للركوع، ويفعل ذلك إذا رفع رأسه من الركوع ويقول ‏"‏ سمع الله لمن حمده‏"‏‏. ‏ ولا يفعل ذلك في السجود‏.‏
یعنی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو تکبیر تحریمہ کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین کیا۔ آپ کے دونوں ہاتھ اس وقت مونڈھوں ( کندھوں ) تک اٹھے اور اسی طرح جب آپ رکوع کے لیے تکبیر کہتے اس وقت بھی کرتے۔ اس وقت آپ کہتے سمع اللہ لمن حمدہ البتہ سجدہ میں آپ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
اور دوسری روایت یہ ہے :
عن نافع أن ابن عمر كان إذا دخل فى الصلاة كبر ورفع يديه ، وإذا ركع رفع يديه ، وإذا قال سمع الله لمن حمده . رفع يديه ، وإذا قام من الركعتين رفع يديه . ورفع ذلك ابن عمر إلى نبى الله - صلى الله عليه وسلم - . رواه حماد بن سلمة عن أيوب عن نافع عن ابن عمر عن النبى - صلى الله عليه وسلم - . (صحیح بخاری:ـکتاب الأذان:باب رفع الیدین اذاقام من الرکعتین،حدیث نمبر739)
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ جب نمازشروع کرتے توتکبیرکہتے اوراپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ،اورجب رکوع کرتے تودونوں ہاتھ اٹھاتے، اورجب سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تودونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب دورکعتوں سے اٹھتے تودونوں ہاتھ اٹھاتے،اورابن عمرَرضی اللہ عنہ اپنے اس عمل کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان کرتے(یعنی کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھاکرتے تھے)۔
اور تارکین کے پاس یہ روایات ہیں :
امام مسلم یہ روایت کرتے ہیں :
عن جابر بن سمرة قال خرج علينا رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم فقال مالی اراکم رفعی يديکم کانها اذناب خيل شمس اسکنوا فی الصلوٰة الخ(صحيح مسلم، 1 : 201، طبع ملک سراج الدين لاهور)
جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام ہماری طرف تشریف لائے۔ (ہم نماز پڑھ رہے تھے) فرمایا کیا وجہ سے کہ میں تمہیں شمس قبیلے کے سرکش گھوڑوں کی دموں کی طرح ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ نماز میں سکون سے رہا کرو۔
یہ حدیث امام احمد بن حنبل نے بھی روایت کی ہے، امام ابو داؤد نے بھی روایت کی ہے، مسند ابی عوانہ میں بھی روایت کی گئی، امام بیہقی نے سنن کبری میں روایت کی ہے، امام ترمذی اور امام ابو داؤد حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کرتے ہیں :
قال ابن مسعود الا اصلی بکم صلوٰة رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم فصلی فلم يرفع يديه الا فی اول مرة
ابن مسعود رضی اللہ عنہ (جلیل القدر صحابی اور تمام صحابہ سے فقہی ہیں) فرماتے ہیں کہ لوگوں کیا میں تمہیں وہ نماز پڑھاؤں جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز ہے؟ تو نماز پڑھائی اور رفع یدین نہیں کیا سوائے پہلی مرتبہ کے۔
اب سب سے پہلے(قطع نظر اس بحث کے دونوں فریقین نے اپنے اپنے دلائل پیش کرکے کیا موقف پیش کیا ہے ...... اور فریقین نے اپنے اپنے مخالفین کے کس کس اعتراض کے کیا کیا جوابات فرمائے ہیں.....برائے مہربانی ہمارا نکتہ استدلال سمجھنے کی کوشش کرنے کے بجائے یہاں رفع یدین پر بحث نہ شروع فرمائیے گا) تو یہاں یہ قیمتی نکتہ ذہن نشین کرنا ہے کہ نفس مسئلہ ہے کہ ’’کیا امتیوں کو نماز میں‌ رفع یدین کرنا ہے یا نہیں‌‘‘
نفس مسئلہ ذہن نشین کرنے کے بعد جب ہم دونوں طرح کی روایات پر نظر ڈالتے ہیں تو یہاں سمجھنے والی بات صرف اتنی ہے کہ دونوں طرح کی روایات میں نفس مسئلہ کی کوئی صراحت نہیں بلکہ آپس میں متعارض نظر آتیں ہیں ۔۔۔۔۔ یعنی دونوں طرح کی روایات میں یہ صراحت نہیں کہ آخری حکم کے مطابق جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی طرف سے امتیوں کے لئے رفع یدین متعین ہوا ہے یا ترک رفع یدین متعین ہوا ہے ۔
لہذا جب نفس مسئلہ پر جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی تعین نہیں ۔۔۔۔۔ بلکہ دونوں فریقین کے مجتہدین حضرات نے اپنے اپنے اجتہاد سے رفع یدین کرنے کی یا ترک رفع یدین کی رائے پیش فرمائیں ۔۔۔۔تو پھر واضح ہوجاتا ہے کہ دونوں فریقین کے عامی حضرات اپنے اپنے مجتھد کی رائے پر عمل کرتے ہیں ۔۔۔۔۔نا کہ دلیل پر ؟؟؟۔۔۔کیوں کہ نفس مسئلہ پر تو جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی طرف سے صریح دلیل موجود نہیں ۔
یوں عامی کا اپنی مجتھد کی رائے پر عمل کرنا بنا دلیل ہی ہوگا ۔
اور آپ لوگ سمجھتے ہیں کہ مجتھد نے جس نص سے مسئلہ اخذ کیا۔۔۔۔۔وہ نص ’’نفس مسئلہ‘‘ کی دلیل ہے ۔۔۔۔۔لہذا جب دلیل نظر آگئی تو مسئلہ تقلید سے خارج ہوگیا ؟؟؟کیوں کہ تقلید بنا دلیل کے ہوتی ہے ؟؟؟
جبکہ آپ لوگ یہ نہیں‌ سمجھتے کہ مجتھد کا نص سے مسئلہ اخذ کرنا اور بات ہے ......اور نص کا ’’نفس مسئلہ‘‘ پر دلیل ہونا اور بات ہے.۔
دلیل کتاب اللہ اور جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی غیر متعارض ،صریح ، واضح اورمحکم نص ہے ۔۔۔۔۔کسی مجتھد کی طرف سے نص سے اخذ کی گئی رائے کا نام دلیل نہیں​
یعنی جب کوئی مجتھد کسی غیر منصوص مسئلہ پر کسی نص سے اپنی رائے اخذ کرتا ہے تو یہاں‌ تو "غیر منصوص" سے خود واضح ہے کہ مسئلہ پر نص موجود نہیں ..
اور جب مجتھد کسی ایسے مسئلہ پر نظر ڈالتا ہے کہ جس پر محتمل نص (جس کے دو یا دو سے زائد معنی نکلتے ہوں) ہو..... تو بھی ایسی نص کئی معنی کا احتمال رکھنے کی وجہ سے نفس مسئلہ پر صریح دلیل نہیں ہوتی.......لہذا جب مجتھد ایسے کسی مسئلہ کے جواب کے لئے غور و حوض کے بعد مختلف معنوں‌میں سے کسی ایک معنی کا انتخاب کرکے کسی مسئلہ کا جواب دیتا ہے تو یہ جواب بھی نص کی پیروی نہیں‌ ہوتی بلکہ مجتھد کی رائے کی پیروی ہوتی ہے ...... لہذا عامی کا مجتھد کے بتائے ہوئے کسی ایسے مسئلہ پر عمل کرنا نص کی پیروی نہیں‌ بلکہ مجتھد کی رائے کی پیروی ہے ......لہذا یہ بھی بنادلیل تقلید کرنا ٹھرا.
اس کے بعد جو نصوص متعارض ہیں‌(جس کی مثال ہم اوپر واضح کرچکے ہیں) اُن پر بھی عامی مجتھد کی رائے پر عمل کرتا ہے ......دلیل کی نہیں‌.
البتہ جو نصوص غیر متعارض اور اپنی معنوں میں‌محکم اور صریح ہیں ان نصوص کے متعلق یہ کہنا درست ہے کہ ایسی نصوص غیرمتعارض اور صریح‌ محکم ہونے کی وجہ سے مسئلہ پر دلیل ہوتی ہیں‌....اور یہ وہ مقام ہے کہ جہاں‌ مقلدین حضرات خود بھی تقلید کے قائل نہیں(جیسا کہ ہم ماقبل بھی بیان کرچکے ہیں )
لہذا اس تفصیل کے بعد اب آپ کو باآسانی سمجھ آجانا چاہیے کہ حضرات فقھائے کرام کا "تقلید" کی اصطلاحی تعریف میں‌ "بنادلیل" سے مراد لوگوں کو یہ واضح کرنا مقصود تھا کہ مجتھدین حضرات کی رائے نصوص سے اخذ کی ہوئی ضرور ہوگی ..... لیکن مجتھد کی رائے "نص" نہیں‌ بن جائے گی ......لہذا تقلید اُس قول کی ہوگی جو حجت شرعیہ میں سے نہ ہو.
(واللہ و اعلم بالصواب )
اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح‌ سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے .آمین
ضروری گذارش :اگر کسی بھائی یا دوست کو ہمارے لکھنے یا سمجھنے میں کوئی کمی کوتاہی نظر آئے تو ہمیں ضرور نشادہی فرمائیں تاکہ ہم اپنی اصلاح کرلیں ۔جزاک اللہ
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
محترم بھائی آپ گلہ کرنے سے پہلے کچھ اس طرف بھی توجہ فرمالیتے کہ اگلا بھی کچھ طلب کررہا ہے۔ تو شاید یہ گلہ کرنے اور سوچنے کی نوبت ہی نہ آتی۔اور نہ پھر یہ الفاظ لکھنے پڑ جاتے کہ آپ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔؟

محترم میں تو کہہ رہا ہوں کہ آپ اپنی سمجھ کو فی الحال ایک طرف رکھیں آپ اپنے معتبر علماء و معتبر کتب سے ہی ثابت کردیں۔ لیکن تاحال آپ نے یہ کوشش نہیں معلوم نہیں کیا وجہ ہے؟ پس الفاظ کے تیر چلانے کے ساتھ اپنی معروضات پیش کرنے میں مگن ہیں۔اور پھر اعتراض کے جواب میں ہی صفحات کالے ہوں تو معقول بات ہے لیکن سوال گندم جواب چنا کی صورت اپنا کر صفحات درصفحات کالے کیے جارہے ہوں اور پھر ا گلے کو یہ باور کرایا جارہا ہوں کہ آپ کے اعتراض پر ہی لکھا جارہا ہے۔کتنی دور کی بات ہے۔؟

نص نص تو میں اس وجہ سے کہہ رہاہوں کہ آپ قبول فرما چکے ہیں ۔ لیکن آپ کے بھائی اس بات کو قبول کرنے کےلیے تیار نہیں۔ وہ شدت سے اس بات پر مصر ہوتے ہیں کہ نص پر عمل بھی تقلید ہے۔ وہ اس وجہ سے کہ تقلید اور اتباع میں کوئی فرق نہیں۔اور اب آپ اس بات کو واضح کرچکے ہیں کہ آپ کے نزدیک اتباع اور تقلید میں فرق ہے۔اگر فرق نہ ہوتا تو پھر آپ بھی کہتے کہ چاہے نص پر عمل کیاجائے یا مجتہد کے قول پر دونوں صورتوں میں تقلید ہی کہلائے گا۔

اب آپ نے ایک مثال قائم کی ۔ میں تو کہتا ہوں کہ سرے سے آپ کا مسئلہ رفع الیدین کی یہ مثال قائم کرنا ہی غلط اور ناقص علم اور ناقص فہم پر دلالت کرتا ہے۔کیوں غلط ہے یہ ہمارا موضوع نہیں۔کیونکہ اگر اس پر بات کی جائے تو پھر بات بہت لمبی ہوجائے گی۔آپ سے گزارش ہے کہ اجتہاد وقیاس کی ابحاث کو دوبارہ تازہ کرلیں۔اور پھر اس تازگی میں ہی دیکھ لیں کہ آپ کی یہ مثال ٹھیک ہے کہ نہیں؟ (لیکن اگر آپ اجتہاد کے لغوی معنی ذہن میں بٹھا کر یہ مثال دے رہے ہیں ۔تب مانی جاسکتی ہے)

چلیں آپ کی اس مثال کو درست مان لیتا ہوں اور اس مثال کےنتیجہ میں آپ نے کہا کہ

’’ تو پھر واضح ہوجاتا ہے کہ دونوں فریقین کے عامی حضرات اپنے اپنے مجتھد کی رائے پر عمل کرتے ہیں ۔۔۔۔۔نا کہ دلیل پر ۔۔۔کیوں کہ نفس مسئلہ پر تو جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی طرف سے صریح دلیل موجود نہیں ۔؟؟؟ ‘‘

پہلی تو بات یہ ہے کہ آپ کی یہ صریح غلطی ہے کہ نفس مسئلہ پر صراحت نہیں۔ ؟ یہ ہمارا موضوع نہیں۔ ورنہ بتایا جاتا۔ دوسری بات جو آپ نے بطور استدلال پیش کی کہ عامی مجتہد کی رائے پر عمل کررہا ہے نہ کہ دلیل پر؟ میں تو کہتا ہوں کہ جو مسائل نصوص سے ثابت ہیں چاہے نصوص محتمل ہیں یا متعارض ۔ان کے بارے میں یہ نقطہ نظر قائم کرنا کہ عامی تو مجتہد کی رائے پر ہی عمل کررہا ہے بہت ہی خطرناک ہے۔ میں آپ سے ایک سوال کرتا ہوں

’’ عامی مجتہد کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ کیا اللہ تعالی ایک ہے؟ اور اللہ تعالی کہاں ہے ؟ مجتہد دلیل بتائے بغیر کہہ دیتا ہے جی بالکل اس میں کوئی شک نہیں ۔اللہ تعالی ایک ہی ہے اور اللہ تعالی عرش پر ہے۔تو اب اس عامی کو ہم کیا کہیں گے ؟ مقلد ، متبع یا کچھ اور ۔؟؟؟ ‘‘

پھر آپ نے کہا کہ

’’ جبکہ آپ لوگ یہ نہیں‌ سمجھتے کہ مجتھد کا نص سے مسئلہ اخذ کرنا اور بات ہے ......اور نص کا ’’نفس مسئلہ‘‘ پر دلیل ہونا اور بات ہے.۔ ‘‘


بھائی ہم اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور اس بات کو ماننے پر پہلے بھی میں آپ کو بتا چکا ہوں ۔پتا نہیں کیوں آپ ہر بار یہ نقل کردیتے ہیں کہ آپ لوگ یہ نہیں سمجھتے۔بھائی جان اچھی طرح سمجھتے ہیں۔اللہ کے فضل سے۔

آپ کی باقی پیش کردہ تمام باتوں سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ نفس مسئلہ پر حقیقت میں دلیل ہوتی ہے۔لیکن جب مجتہد اس دلیل کو تلاش کرتا ہے اور عامی مجتہد کی اس تلاشی پر عمل کرتا ہے تو یہ تقلید کہلاتی ہے۔(یعنی عامی کے ذہن میں دلیل پر عمل کرنے کا مقصد نہیں ہوتا بلکہ مجتہد کی بات پر عمل کرنا ہوتا ہے) یعنی تقلید بے دلیل بات پر نہیں ہوتی بلکہ با دلیل لیکن بلا مطالبہ دلیل پر ہوتی ہے۔۔آخری بار میں آپ سے نیچے لکھے گئے ان چند ورڈ کی وضاحت طلب کرتا ہوں۔کیونکہ مزید ہم اسی پر ٹائم ضائع نہیں کرسکتے۔ کیونکہ واضح دلیل تو آپ نے پیش کرنی ہی نہیں ہے۔

جتنی بھی تقلید کی تعریفات آپ نے پیش کی چاہے لغوی تھیں یا اصطلاحی ان میں ’’بنا دلیل، بغیر دلیل، بے دلیل، غیر حجت ‘‘ وغیرہ کے الفاظ تھے۔اب میں آپ سے ان الفاظ کی وضاحت طلب کرنے کی کوشش کرتا ہوں

مثال کے طور پر آپ مجھ سے کوئی بات پوچھتے ہیں میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ بھائی جان یہ بات میں نے سنی تو ہے لیکن بنادلیل، بغیر دلیل، بے دلیل ہے۔لیکن وہ فلاں بات اس میں نہیں آتی۔ تو آپ مجھے بتائیں کہ آپ میرے یہ الفاظ کسی اور کوسمجھانا،بتانا چاہیں تو کیسے سمجھائیں گے۔؟؟؟


کئی بار میں آپ کو اس بات کا کہہ چکا ہوں کہ بھائی آپ مجھے یہ ثابت کرکے دیں کہ تقلید با دلیل ہوتی ہے لیکن بلا مطالبہ دلیل۔آپ اپنی توجیحات تو پیش کرتے چلے جارہے ہیں۔لیکن تاحال کسی معتبر کتاب و عالم سے یہ بات ثابت نہیں کرپائے۔
نوٹ:
اس پوسٹ میں ایک سوال اور ایک مثال کی وضاحت پوچھی ہے۔امید ہے کہ آپ اپنی معروضات کی تفصیل ان دو پر ہی پیش کریں گے۔ان شاءاللہ
 

ناصر نعمان

وفقہ اللہ
رکن
اصلی حنفی بھائی بہت معذرت کے ساتھ ہم اپنی پوری کوشش کرچکے ۔۔۔لیکن اگر کسی نے میں نا مانوں کا ورد کرتے ہوئے بات کرنی ہے تو یقینا یہ لاعلاج مرض ہے۔
ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں بات اُن کو سمجھ میں آتی ہے جو اپنے دلوں میں دوسرے کی بات سننے سمجھنے کا جذبہ رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔لیکن ضد و ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں ہے ۔
آپ نے فرمایا کہ ہمیں بھی اس نکتہ پر سوچنا چاہیے کہ "کہیں ہم غلطی پر تو نہیں ہیں"...تو جناب کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ الحمدللہ ہم اپنے دل میں نہ صرف دوسرے کا موقف سننے سمجھنے کی گنجائش رکھتے ہیں بلکہ اللہ رب العزت سے دعا بھی کرتے ہیں کہ جو ہدایت کا راستہ ہے اللہ تعالیٰ ہمیں وہ سمجھنا آسان فرمائے.....اللہ رب العزت دلوں کے حال بہتر جانتا ہے......لہذا ہمیں اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں .

لیکن جہاں تک تو آپ کا سوال ہے ...... تو یہ ٹھیک ہے کہ ہمیں آپ کے دل کے حال کا علم نہیں ...لیکن جب آپ کے جوابات دیکھتے ہیں ..... تو بلآخر ہم سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ آپ نے اب تک محض جانبدار رویہ اختیار کیا ہوا ہے ....بلکہ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ آپ کے جوابات سے آپ کا سخت متعصب رویہ کی جھلک باآسانی دیکھی جاسکتی ہے.....اس کی زندہ مثال آپ کا یہ فرمانا ہے کہ "ہمارا یہ سمجھنا غلط ہے کہ رفع یدین کے نفس مسئلہ پر صراحت نہیں"
یعنی آپ کے نزدیک اس مسئلہ پر صراحت موجود ہے ؟؟؟
گویا آپ کہہ رہے ہیں کہ جو کچھ آپ نے یا آپ کے مجتھدین نے رفع یدین کرنے پر نصوص سے سمجھا ہے وہ صریح ہے ...... باالفاظ دیگر آپ کے مجتہدین کی رائے نص قطعی بن گئی ہے ..... اور اُس میں غلطی کی گنجائش نہیں ہے ؟؟؟
گویا مجتھدین حضرات کی رائے (یعنی رفع یدین کرنا) ہی جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی قطعی اور سو فیصد یقینی منشاء ہے ؟؟؟
کیوں کہ اگر تو آپ صریح نہ سمجھتے تو آپ کو محتمل تو سمجھنا پڑے گا ..... جس کے بعد ہمارا موقف ہی واضح ہوتا ہے؟؟؟
لیکن معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنے مجتھدین حضرات کے لئے وحی کے نزول کا عقیدہ رکھتے ہیں ....کیوں کہ ایسا سوفیصد یقینی اور قطعی علم تو سوائے صاحب وحی کے کسی کو نہیں ہوتا ؟؟؟
حالانکہ معتبر بزرگوں(جنہیں آپ بھی قابل اعتبار تسلیم کرتے ہیں )نے بھی اس مسئلہ پر دونوں طرح کے دلائل کے پیش نظر بلآخر یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ "رفع یدین یا ترک رفع یدین دونوں طرح سنت سے ثابت ہے"
اور یہ وہ بزرگ ہیں کہ جنہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام کے لئے وقف کی ..... اور دینی علوم حاصل کرکے ایک مقام حاصل کیا .
جیسے شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
میرے نزدیک حق بات یہ ہے کہ رفع الیدین کرنا یا نہ کرنا دونوں طرح سنت ہے۔(حجتہ اللہ بالغہ)

اور ترک اور رفع یدین سے متعلق شاہ عبدالقادر دہلوی کا موقف بھی دونوں کے سنت ہونے کا ہے۔
فرماتے ہیں: جس طرح رفع یدین سنت ہے اسی طرح ارسال بھی سنت ہے۔(ارواح ثلاثہ، صفحہ 114)

لیکن ہمیں یاد آیا کہ آپ کے یہاں عام لوگوں کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ بزرگوں کی جو بات آپ کی عقل میں نہ اترے اُسے رد کردو.... چاہے اُن بزرگ کا جو بھی مقام و مرتبہ ہو ..... چاہے اُن کے دینی علوم کے مقابلے میں آپ کو علم کتنا ہی کیوں نہ ناقص ہو ..... لیکن سب باتوں کو بالائے طاق رکھ کر" بس رد کردو؟؟؟

جبکہ عقلی طور پر یہ بات باآسانی سمجھی جاسکتی ہے کہ یہ حکم مجتھد کے لئے تو ہوسکتا ہے تاکہ اُس کے پاس کسی امتی کا قول رد کرنے کا مضبوط جواز(یعنی اُس کا وسیع علم) ہو لیکن عام مسلمان کے لئے یہ کیسے ممکن ہے؟؟؟

کیوں یہ معمولی بات تو ہر کوئی سمجھ سکتا ہے کہ دنیا میں سارے لوگوں کی عقل و فہم ایک برابر نہیں ہوتی ....کسی کی کمزور کسی کی نسبتا بہتر ..... لیکن جب عام مسلمانوں کی یہ تعلیم دی جائے گی کہ آپ کسی بھی بزرگ کا قول رد کرسکتے ہیں..... تو یقینا لوگ ایک وقت میں آکر اپنی کمزور عقل و فہم کی وجہ سے اُن کے اقوال بھی کو بھی رد کرسکتے ہیں .... جو اُنہیں کو اس کی تعلیم دے رہے ہیں.
کیوں کہ بہت سی نصوص ایسی ہیں جو اپنے ظاہری معنی پر دلالت نہیں کرتیں ...... لیکن کمزور عقل و فہم والے اس نکتہ سے بے خبر تو صرف یہ دیکھیں گے کہ فلاں بزرگ کا قول تو حدیث کے مخالف نظر آرہا ہے ...... لہذا یہ بزرگ جو بھی ہیں اوردنیائے اسلام میں اپنے علم و فقاہت کی وجہ سے جو بھی مقام رکھتے ہیں ...لیکن یہ عام لوگ ان تمام نکات کو پس پشت ڈال کر یہ بھی نہیں دیکھیں گے کہ ہوسکتا ہے کہ بزرگوں کے قول کی حکمت ان کی کمزور عقل و فہم کی وجہ سے سمجھ نہیں آرہی ہے........بلکہ وہ تو یہ سمجھیں گے کہ فلاں بزرگ کا قول کو حدیث کے مخالف نظر آرہا ہے ...لہذا بس اسے رد کردیا جائے ؟؟؟؟ بصورت دیگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ انہوں نے حدیث سے سمجھا ہے وہ جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی مراد ہے ...... گویا ایسے عام لوگوں کی کمزور عقل و فہم(معاذ اللہ) حدیث بن جاتی ہے ....جس کی بنا پر وہ بڑے بڑے علماء دین کو حتی کہ اُن لوگوں کا بھی رد کردیں گے جنہوں نے ایسے عام لوگوں کو مجتھد بننے کی تعلیم دی ؟؟؟
اور یہ سب قیاس آرائی نہیں بلکہ حقیقت کے قریب تر ہے ....کیوں‌کہ یہ بات جو حضرت شاہ ولی اللہ اور شاہ عبد القادر رحمہم اللہ نے فرمائی ہے .....وہی بات آپ کے بزرگوں نے بھی فرمائی ہے:
مولانا سید نذیر حسین صاحب دہلوی اپنے فتاویٰ نذیریہ جلد1 صفحہ 141 میں فرماتے ہیں
کہ رفع یدین میں جھگڑاکرنا تعصب اور جہالت کی بات ہے ، کیونکہ آنحضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے دونوں ثابت ہیں ، دلایل دونوں طرف ہیں۔
نواب صدیق حسن خاں صاحب بھوپالی جماعتِ غیر مقلدین کے بڑے اونچے عالم اور مجدد وقت تھے ، ان کی کتاب روضہ الندیہ غیر مقلدین کے یہاں بڑی معتبر کتاب ہے، نواب صاحب اس کتاب میں حضرت شاہ ولی اللہ صاحب سے نقل کرتے ہوے فرماتے ہیں۔
۔"رفع یدین و عدم رفع یدین نماز کے ان افعال میں سے ہے جن کو آنحضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے کبھی کیا ہے اور کبھی نہیں کیا ہے ، اور سب سنت ہے ، دونوں بات کی دلیل ہے ، حق میرے نزدیک یہ ہے کہ دونوں سنت ہیں۔۔۔(صفحہ 148)"۔
اور اسی کتاب میں حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ کا یہ قول بھی نقل کرتے ہیں ولا یلام تارکہ و ان ترکہ مد عمرہ (صفحہ 150)۔ یعنی رفع یدین کے چھوڑنے والے کو ملامت نہیں کی جاے گی اگرچہ پوری زندگی وہ رفع یدین نہ کرے

لہذا اب ہم دیکھے گے اپنے اوپر والی قیاس کی عملی تصویر ....آیا کہ آپ اپنے ہی اُن بزرگوں کی بات کو رد کرتے ہیں ...جنہوں نے آپ جیسے عام لوگوں کو امتی کا قول رد کرنے کی تعلیم دی ...... یا آپ اپنے ہی بزرگوں کی بات تسلیم کرکے ہمارا موقف تسلیم کرلیتے ہیں ..
اور ہمارا مقصد نہ تو اس مسئلہ پر بحث کرنا ہے اور نہ آپ سے اپنا موقف تسلیم کروانا ہے ...بلکہ آپ کو آئینہ دکھانا ہے .....کہ کیوں آپ لوگوں کو حضرات فقہائے کرام کے اقوال سمجھ نہیں آتے ؟؟؟

کیوں کہ آپ لوگ اپنی عقل و فہم سے سمجھے گئے مفہوم کو حدیث کے درجہ تک لے جاتے ہو..... کہ بس جو ایک بار ذہن میں اتر گیا وہ ہی حق ہے ...اُس کے سوا سب باطل ہے ...... اور جب آپ کو معتبر بزرگوں کی عبارتیں بھی دکھائی جائیں تو آپ باآسانی امتی کا قول کہہ کر رد کردیتے ہو .....یہ نہیں سوچتے کہ ایک مسئلہ پر اگر مختلف فیہ اقوال ہیں تو یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ آپ کی عقل و فہم میں جو مسئلہ آیا ہے وہ درست نہ ہو ...یا کم از کم یہی سمجھ لیں کہ ہوسکتا ہے کہ آپ بھی امتی ہیں اور آپ لوگوں سے بھی خطاء کا احتمال ہوسکتا ہے ...تو پھر اس احتمال کو ہی پیش نظر رکھ کر آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ پھر قطعیت کے ساتھ کسی دوسرے پر باطل کا حکم لگانا کیوں کر درست ہوسکتا ہے ؟؟؟
اور اگر آپ اپنی رائے کو خطاء سے پاک سمجھتے ہیں تو پھر اس کا کوئی علاج نہیں ...پھر آپ جس کے متعلق جو چاہے سمجھتے رہیں ...ہم بس آپ کے لئے اپنے لئے سب کے لئے ہدایت کی دعا کرسکتے ہیں.
اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے.آمین
ضروری گذارش : آپ ہمیں جواب نہ دیجیے گا ....بس ہمارے پیش کردہ نکات پر غور کرلییجے گا .... اور اس ساری بات چیت میں ہماری طرف سے آپ کو کوئی تکلیف پہنچی ہو تو معاف فرمادیجیے گا...... ہم یہ بات چیت مزید آگے لے کر چلنے سے قاصر ہیں.
 

شرر

وفقہ اللہ
رکن افکارِ قاسمی
شرر نے کہا ہے:
اصلی حنفی نے کہا ہے:
محترم قابل قدر شرر صاحب
امید ہے کہ مزاج گرامی اعلیٰ ہونگے۔ان شاءاللہ
جاری بحث میں شامل اگر ہونا بھی ہو تو یہ انداز بالکل غیر مناسب ہوتا ہے
آپ نے سیکھنے سکھانے کی بات کی تھی اور یہ طئے نہیں ہے کہ کس سے سیکھیں گے جو کوئی آپ کو کچھ سکھانے کی اہلیت رکھتا ہے خود آپ کے کہنے کے مطابق آپ کو سمجھانے کی کوشش کر سکتا ہے ۔میرا انداز غیر مناسب ہے تو قرآن اور حدیث صحیح کی روشنی میں آپ مناسب طریقہ تحریر فر مادیں ہم آپ کے ممنون ہوں گے ۔

۔
دل تو کرتا ہے کہ انتظامیہ سےکہہ کر آپ کی یہ پوسٹ ڈیلیٹ کروا دوں
مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ اتنے پہنچے ہوئے ہیں ۔ویسے اگر آپ چاہیں تو کوشش کر کے دیکھ لیں ۔ہمیں امید ہے کہ آپ کے دل میں یہ آرزو عمل با الحدیث کے جذبے ہی سے پیدا ہو ئی ہوگی ۔باقی اللہ جانے۔
لیکن ایک بار معاف کیا جاتا ہے۔
شکریہ ۔جزا ک اللہ۔چلئے آج معلوم ہوا کہ آپ ہی بندوں کو معاف کرنے والے ہیں۔یغفر اللہ لنا ۔
آپ نے کچھ معروضات لکھی۔ان معروضات پر کچھ عرض ہے۔اب آئندہ جو سوال اور تضاد ماقبل پیش کیا گیا ہو ا
ور جس پر بحث جاری ہو۔ اسی کے حوالے سے کچھ کہنا ہو تو درمیان میں حائل ہونا
حضور والا کبھی پیچھے پلٹ کر دیکھ لیا کیجئے۔جاری بحث کے سلسلہ میں میری معروضات اس لنک پر دیکھ سکئتے ہیں۔http://www.algazali.org/gazali/showthread.php?tid=4301&page=3 ویسے یہ کس نے طئے کیا ہے کہ فلاں فلاں لکھ سکتے ہیں اور شرر نہیں لکھ سکتا ۔اصلی حنفی صاحب کو دوسرے جواب دے سکتے ہیں شرر نہیں ۔ پھر اگر آپ کو پسند نہ ہو تو آپ لکھ دیں میں انشاء اللہ غور کروں گا۔
ورنہ خاموشی سے جزاک اللہ کہتے ہوئے گزر جانا۔
جزاک اللہ کس بات پر محترم ؟

شرر نے کہا ہے:
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ جن کو نواب صدیق حسن خان بانی غیر مقلدیت نے سراہا، تر جمان القرآن مولانا محمد جونا گڈھی نے جن کی تعریف کی،حافظ ارشاد الحق اثری جن کے مدح خواں ہیں۔شیخ الحدیث مولانا اسماعیل سلفی نے تحریک آزادی فکر اور ولی اللہ کی مساعٰ جمیلہ نامی کتاب لکھی۔،مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم جن کو اہل حدیث اور مخالف غیر مقلد سمجھتے تھے اور جو حنفیوں کے یہاں انتہائی محترم سمجھے جاتے ہیں ،انھوں نے جو تقلید کی تعریف فر مائی اسے قبول کیوں نہیں کیا گیا؟


آپ تو ایسے ہی غصہ کررہے ہیں آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ اب تک کی گئی بحث میں کہاں پر دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی تعریف زیر بحث آئی ہے۔؟
اسی لنک پر آگئی ہے ذرا آپ آنکھیں تو کھولیں۔
جب تعریف زیر بحث آئی ہی نہیں اور میرے بھائی ناصر نے یہ تعریف پیش ہی نہیں کہ تو پھر قبول کیوں نہیں کیا جا رہا چھ معنی؟
آپ کے ناصر بھائی نے نہیں شرر بھائی نے۔ اگرآپ کو اعتراض نہ ہو ۔
آپ سے گزارش ہے کہ پوسٹ نمبر34 میں ناصر بھائی نے تقلید کی لغوی واصطلاحی تعریفات پیش کی ہیں۔ از بر یاد کرلیں۔ جزاک اللہ
تعریف تو احقر نے بھی پیش کی ہے اور ناصر بھائی نے اس پر اعتراض بھی نہیں کیا ہے ۔اگر آپ کو اس تعریف پر اعتراض ہو تو لکھیں ۔ویسے تو ایک اہل حدیث عالم کی تعریف میں نے لکھی ہے ۔امید ہے کہ کسی ا ہل حدیث کو اس پر اعتراض نہ ہوگا ۔
شرر نے کہا ہے:
۔۔۔۔واضح فر مائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کا جواب تو آپ دیں گے ۔احقر نے تقلید نہ کر نے کو تھوڑا ہی لکھا ہے ۔
آپ نے تقیہ کرتے ہوئے اپنا نام اصلی حنفی لکھا ہے یہ نام قرآن وحدیث میں کہا ں کہاں ہے ۔شروع سے اخیر تک جو کچھ لکھا ہے میری مؤدبانہ درخواست ہے ایک ایک جملے کو قرآن وحدیث سے ثابت کردیں احقر بھی ممنون ہوگا اور قاری کی معلومات میں بھی اضافہ ہوگا اور اگر یہ سب قرآن وحدیث کے خلاف آپ نے کیا ہے تو اب قرآن وحدیث کی دہائی کیوں دے رہے ہیں۔کیا قرآن وحدیث پر عمل کرنا صرف اس ناچیز پر فرض ہے اور مرفوع القلم ہیں باقی جواب انشاء اللہ بعد میں
پہلی بات شاہ صاحب کی تعریف بیان ہی نہیں کی گئی

دوسری بات معذرت کے ساتھ کچھ سخت لفظ لکھ رہا ہوں امید ہے کہ انتظامیہ درگزر کرے گی۔ لیکن اگر درگزر کے قابل نہ ہوتو مناسب الفاظ سےترمیم کردے گی۔
یہ سوال جہالت پر مبنی ہے۔
اس جملے پر نظر ثانی فر مالیں ۔
اس لیے لب کشائی سے پرہیز کیا جارہا ہے۔

یہ پر ہیز ہے تو اتنی ساری باتیں کسی اور کی بکواس ہیں کیا؟
اگر ایسی بات ہے جو آپ کہہ رہے ہیں تو پھر آپ اپنا مسلمان ہونا اپنے امام سے ثابت کرو؟ ؛کہ امام صاحب نے فرمایا ہو کہ ایک آدمی شرر ہوگا اس کا کلر اور قد یہ ہوگا۔وہ فلاں قبیلہ سے تعلق رکھے گا۔ اصلی نام اور ہوگا لیکن جب نیٹ چلائے گا تو نام کچھ اچھا نہیں رکھے گاوغیرہ ویغرہ وہ یہ یہ کام کرے گا اور وہ مسلمان ہوگا۔
یہ تو آپ کے بارے میں بھی کہیں قرآن میں نہیں لکھا ہوا ہے بلکہ کسی معتبر کتاب میں نہیں لکھا ہے کہ تقیہ باز بھی مسلمان ہو سکتے ہیں ۔
ا
س طرح کے سوالات وہی لوگ کرتے ہیں جن کا مقصد اصلاح نہیں ہوتا بلکہ کھپ ڈالنا ہوتا ہے۔
آپ اگر نظر اصلاح سے بیچ میں آنا چاہیں تو ویلکم ورنہ دوبارہ اس طرح کی پوسٹ کرنے کی زحمت مت کرنا۔شکریہ اور پیشگی معذرت برادرعزیز
آپ کا مقصد کس قدر اصلاحی ہے وہ دوسرے لوگوں کے تبصرے سے اور آپ کے انداز سے اور تحریر سے ظاہر ہے

شرر نے کہا ہے:
انتہائی آسان اور عام فہم تعریف ہے ۔کسی ماہر کی رہنمائی میں روایت کا اتباع تقلید ہے ۔
پہلی بات حوالہ کے بغیر کوئی بات قابل قبول نہیں کی جاتی
یہ کس قرآن کس حدیث میں ہے حوالہ پیچھے مضًمون میں دیکھ لیں۔عقد الجید حوالہ ہے ۔تقلید کے بارے میں تو امام حرم کا فتویٰ اور تقلید کی شرعی حیثیت کے تعلق سے آپ پڑھ لیتے تو آپ کو ایک حرف لکھنے کی زحمت نہ کرنی پڑتی۔
دوسری بات یہ تعریف ماقبل پیش ہی نہیں ہوئی
تیسری بات حنفی علماء کی معتبر کتب سے جو تعریفات پیش کی گئی ہیں کیا آپ ان کو نہیں مانتے ؟ کیونکہ ہم انہیں تعریفات پر ہی بات کررہے ہیں۔
چوتھی بات مسائل میں کسی ایک حدیث وآیات پر فیصلہ نہیں کیاجاتا۔بلکہ ماخذ شریعت پر کلی نظر گھما کر ایک اتھنٹک فیصلہ کیا جاتا ہے۔
پانچویں بات آپ کی اس تعریف میں اتباع اور تقلید دو لفظ استعمال ہوئے ہیں کیا آپ کے نزدیک یہ دونوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ؟ اصطلاحاً
جی ہاں اتباع اور تقلید دونوں ایک ہیں اور اقتداء کا لفظ بھی اس کے ہم معنیٰ ہے اگر آپ کو تقلید سے شرم آئے تو آپ اقتداء یا اتباع کا لفظ اپنے لئے چن سکتے ہیں ۔(حوالہ اختلاف امت اور صراط مستقیم ۔از مولانا یوسف صاحب لدھیانوی)
چھٹی بات آپ کو اس تعریف سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ شاہ صاحب یہاں تقلید مصطلح مراد لے رہے ہیں ؟ عرفی نہیں
محترم ! شاہ ولی اللہ صاحب نے تقلید کی جو تعریف لکھی ہے وہ اصطلاحی ہے اور ضرورت پڑی تو ہم اس کو ثابت بھی کریں گے اگر آپ کو اختلاف ہے تو کسی معتبر کتاب سے ثابت فر مائیں ۔ نیز آپ خاص تقلید کی عرفی تعریف کی تعریف اور خاص تقلید کی اصطلاحی تعریف کی تعریف تو نہیں کر سکیں گے براہ کرم مطلق عرفی تعریف کی تعریف ( عرفی یا اصطلاحی ) اور مطلق اصطلاحی تعریف عرفی یا اصطلاحی تعریف قرآن سے یا کسی ضعیف حدیث سے ہی لکھد یں اور اگر قرآن وحدیث سے آپ نہ لکھ سکیں تو کسی کستند کتاب کے حوالہ سے تحریر فر مائیں تاکہ مجھے آپ کو جواب دینے میں اور قارئین کو سمجھنے میں آسانی ہو ۔

ساتویں بات آپ کی یہ تعریف اپنے بھائی کے موقف سے مترادف ہے۔ جو وہ معتبر کتب کی روشنی میں بیان کرچکےہیں۔
فا لحمد للہ ۔

شرر نے کہا ہے:
اس تعریف میں میں کوئی خامی ہو تو واضح فر مائیں ۔ورنہ بحث کو آگے بڑھائیں۔

بحث تو ہم آگے بڑھا ہی رہے تھے۔آپ سے گزارش ہے کہ اگر آپ بحث جاری کرنا چاہتے ہیں تو ماقبل پوچھی گئی وضاحت پیش فرمائیں۔
ورنہ پھر ایک طرف ہوکر ناصر بھائی کےجواب کے منتظر ہوں اور ہاں آپ کی پوسٹ پر جو معروضات میں نے پیش کی ہیں ان کا جواب وغیرہ لکھنے کی بھی کوشش مت کرنا۔
جو بات ناصر بھائی سے مجھے مطلوب ہے اس کا جواب فراہم کردینا ۔
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
محترم ناصر نعمان بھائی کی پوسٹ نمبر66 پر گزارشات

میرا بنیادی سوال کہ ’’تقلید بے دلیل ہوتی ہے یا بادلیل ‘‘ کو معتبر دلائل سے ثابت کریں۔ جس کے عوض آپ نے صفحات در صفحات تو کالے کردیئے لیکن کوئی دلیل پیش نہیں کی ۔بلکہ اپنی من مانی اور مطلب کی تشریحات پیش کرتے چلے گئے اور پھر الزام یہ ملتا رہا کہ آپ تعصب و ہٹ دھرمی میں بات کو نہیں مان رہے۔

بھائی صاحب کئی بار اس بات کو واضح کیا کہ آپ ٹھوس دلیل سے اس بات کو ثابت کردیں کہ ’تقلید با دلیل ہوتی ہے لیکن بلا مطالبہ دلیل‘ تو میں مان جاؤں گا۔ لیکن آپ نے یہ کوشش ابھی تک نہیں کی۔اور پھر مسلم الثبوت کی تعریف پیش کرکے بھی اس بات کو ثابت کردیا کہ اگر ہم مان لیں کہ تقلید بادلیل مگر بلا مطالبہ دلیل ہوتی ہے تو اسی تعریف میں ہی تضاد آجاتا ہے۔ آپ نے اس تضاد کو بھی رفع کرنے کی کوشش نہیں کی۔الغرض کئی طرح سے سوالات واعتراضات کرکے ثبوت مانگا گیا۔ تاحال آپ ناکام ہی رہے۔ایک بار پھر آپ سے یہی گزارش کی جات ہے کہ اس پر کوئی ٹھوس اور واضح دلیل پیش کریں۔

میں نے جب کہا تھا کہ آپ کی پیش کردہ تعریفات سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ تقلید بے دلیل بات پر ہوتی ہے۔آپ نے کہا تھا۔

ایک ہوتا ہے عامی کا عالم سے مسئلہ پوچھنا۔ اس کو تقلید نہیں کہیں گے کیونکہ یہ نص سے ثابت ہے۔اور بقول آپ کے بھی نص پر عمل تقلید نہیں۔
دوسرا ہوتا ہے عالم کا جو جواب ہو اس پر عامی کا عمل کرنا ۔آپ نے کہا تھا یہ تقلید ہے۔کیونکہ عالم کا یہ جواب قرآن وحدیث نہیں ہوتا۔


یہاں پر میں نے آپ سے سوال کیا تھا کہ آیا جو جواب عالم عامی کو دے گا تو کیا وہ دلیل کی روشنی میں نہیں دے گا ؟ جب دلیل کی روشنی میں دے گا تو تقلید نہیں ہوگی بلکہ دلیل پر ہی عمل ہوگا۔اس پر آپ نے لمبی ابحاث منصوص ، غیر منصوص و متعارض وغیرہ کی تو شروع کردیں تاکہ بات الجھ جائے اور کسی کو سمجھ نہ آئے پر دلیل پیش نہ کرسکے۔

حالانکہ آپ کا یہاں پر حق تھا کہ آپ اس بات کو مختصر ثابت کرتے کہ عالم آیا دلیل کی روشنی میں جواب دے گا یا نہیں ؟ اور پھر اسی دلیل کی روشنی میں دیئے گئے جواب پر عامی کا عمل تقلید کہلائے گا یا نہیں؟
چلیں خیر قارئین سب کومعلوم ہی ہے کہ ہٹ دھرمی کون کررہا ہے اور مثبت بات کون کررہا ہے۔


آپ کی دو باتوں پر کچھ جواب جاننا چاہتا ہوں

1۔آپ نے ایک بات کی کہ ہم نصوص قطعی میں تقلید نہیں کرتے۔؟
2۔ اور دوسری بات کی کہ مجتہد عامی کو جو جواب دے گا اور عامی اس پر عمل کرے گا ۔یہ تقلید ہے۔


میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ ایک موچی جس کو کچھ بھی نہیں معلوم کہ نصوص قطعی کیا ہوتی ہیں؟ نصوص ظنی کیا ہوتی ہیں؟ وہ عالم سے ایک ایسا مسئلہ پوچھتا ہے جو نص قطعی سے ثابت ہوتا ہے۔عالم اس کو نص قطعی بتائے بغیر جواب دے دیتا ہے تو اس موچی کو ہم کس نام سے پکاریں گے۔مقلد؟ متبع ؟ یا کچھ اور نام سے ؟

اور پھر یہی موچی مجتہد سے ایک ایسا مسئلہ پوچھتا ہے جس میں اجتہاد یا قیاس کی ضرورت ہوتی ہے۔اور مجتہد عامی کو کچھ تذکرہ کیے بغیر (یعنی دلیل کیا ہے یا قرآن وحدیث سے اس نے کیسے اجتہاد کیا ہے) بتا دیتا ہے تو اس موچی کو ہم کس نام سے پکاریں گے۔۔ مقلد؟ متبع؟ یا کچھ اور نام سے؟

اور پھر جس نام سے پکاریں گے ۔وہ نام موچی کو کیوں دیں گے؟ اس کی بھی وضاحت طلب ہے۔

اضافی سے بات
آپ نےمیری ایک بات کہ ’’آپ کی یہ بات بھی غلط ہے کہ اس مسئلہ پر نص سے صراحت نہیں‘‘ کےجواب میں اسی تھریڈ میں ایسی پوسٹ کردی کہ جس سے تو یہ تاثر ملتا ہے کہ بحث مسئلہ رفع الیدین پرہورہی ہے کہ ناکہ تقلید پر۔اور مجھے اس بات کا بھی علم ہے کہ موضوع سے بھاگنے کی آپ کی یہ کاوش کیوں ہے۔

محترم بھائی صاحب
آپ کی باتوں میں ہی اتنے تضادات ہوتے ہیں کہ اگر ان کو پیش کیا جاتا رہے تو بات کہیں سے کہیں جاکر نکلے گی۔مثال کےطور پر

آپ نے مسئلہ رفع الیدین کو اجتہادی مسئلہ قرار دیتے ہوئے دو حدیثیں نقل کیں

1۔ایک وہ جس میں اس بات کی صراحت ہے کہ اختلافی رفع الیدین کرنی چاہیے۔
2۔دوسری وہ (حالانکہ اس میں نا شبہ ہے ، نا اشکال ہے، اور نہ دور تک کوئی تاویل سے یہ بات ثابت کی جاسکتی ہے کہ رفع الیدین منسوخ ہے) کہ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رفع الیدین کی جاتی تھی پھر آپ ﷺ نےمنع کردیا۔


یعنی پہلی حدیث سے ثابت ہورہا ہے کہ رفع الیدین کرنا چاہیے۔ اوردوسری حدیث سے ثابت ہورہا ہے کہ رفع الیدین نہیں کرنا چاہیے۔
اور آپ نے جو اقوال ذکر کیے وہ ان دونوں سے باہر ہیں ان میں تو یہ ہےکہ رفع الیدین کر لیا جائے یا نہ کرلیا جائے یعنی اقوال دونوں کے درمیان کے ہیں۔
آپ کے پیش کردہ اقوال میں ایک قول شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا ہے اور دوسرا قول شاہ عبدالقادر دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔
دونوں کے قول کا خلاصہ یہ ہے کہ رفع الیدین کرنا بھی سنت ہے اور نہ کرنا بھی سنت ہے۔یعنی کروگے تب بھی سنت پر عمل کروگے اور نہیں کروگے تب بھی سنت پر عمل کرو گے۔

بہت خوب بیان ہے آپ کا بھائی جان یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک چیز کا ترک بھی سنت ہو اور اس کی اداء بھی سنت ہو۔کیا آپ کی عقل اس بات کو ماننے پر تیار ہے ؟

اور پھر آپ کی ترک رفع پر پیش کی گئی حدیث میں تو یہ الفاظ ہیں ’’اسکنو ا فی الصلاۃ ‘‘ تو یہاں اسکنوا فی الصلاۃ میں تو ترک ہی ہے۔
تو آپ کیسے بزرگوں کے اقوال سے یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ رفع اور عدم رفع دونوں سنت ہیں ؟ یا تو آپ عدم رفع کےدلائل ہی پیش نہ کریں۔ یا جب آپ عدم رفع کےدلائل پیش کرتے ہیں تو پھر ایک بات ہی درست ہوگی
رفع یا عدم رفع
کبھی یہ دیکھا گیا ہے کہ ایک چیز حلال بھی ہو اور حرام بھی ؟

نوٹ
مسئلہ رفع الیدین کی بحث خارج از موضوع ہے اس لیے میں اس پر مزید کوئی بحث نہیں کرنا چاہتا۔آپ سے جو مطالبہ ہے آپ اسی کو پورا فرمائیں۔جزاکم اللہ خیرا

دیکھیں بھائی ایک بار پھر آپ کو بتا دوں کہ
کہ جب تقلید کا آغاز ہوا تو جو تقلید کے مخالف تھے انہوں نے کس بات میں مخالفت کی اور آج تک علماء کس تقلید کو شرک وغیرہ کہتے آئے ہیں ۔آپ نشاندہی کریں ؟
کیونکہ تقلید کوئی آج کا مسئلہ نہیں ہے۔اس پر دونوں طرف سے سیر بحث کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ اور جو جس کو آپ تقلید کا نام دے رہے ہیں ۔میرے خیال میں اس کا تو کوئی بھی مخالف و انکاری نہیں ہے۔
جس پر مخالفت چلی وہ تقلید کیا تھی ۔میں اس تقلید کی تعریف پوچھ رہا ہوں۔ اسی وجہ سے تو میں تقلید کی اصطلاحی تعریف ہی جاننے کی کوشش کررہا ہوں۔
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
محترم مولانا شرر صاحب کی پوسٹ نمبر68


ایز اے شرارت آپ نے پھر اپنی پوسٹ دوبارہ نقل کردیں۔ آپ کو بخوبی علم ہوجانا چاہیے تھا کہ جب آپ نے ایک بار پوسٹ کی اورپھر دوسری بار کی تو آپ کی پوسٹ پر کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا تو یہ سمجھ آجاتی کہ آپ کی پوسٹ کی کیا اہمیت تھی ؟ یا وہ اس قابل تھی کہ اس کا جواب دیا جاتا ؟

شاید آپ نے دوبارہ نقل ہی اس وجہ سے کردی کہ آپ کی پوسٹ پر کچھ گزارشات کا پیش کیا جانا بہت ضروری ہے تو چلو آپ کی بات مان ہی لیتے ہیں۔

1۔آپ کا یہ فرمانا کہ اصلی حنفی صاحب ’’ آپ نے سیکھنے سکھانے کی بات کی ہے‘‘ ٹھیک ہے جناب میں نے سیکھنے سکھانے کی ہی بات کی ہے۔اور جو بھی اس مسئلہ پر میری تشفی فرمائے گا میں اس کا ممنون ہوگا۔اگر آپ میں اہلیت ہے تو آپ بھی میدان میں آجائیں۔لیکن ذرا اخلاق کا دائرہ کیا ہوتا ہے ۔اس کو بھی تازہ کرلیں۔
اور پھر درمیان میں آکر ایک نئی بات کردینا بھی اچھا نہیں ہوتا ۔اگر دخل اندازی کرنی بھی ہو تو مناسب طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جو بات چل رہی ہے ۔اسی پر گزارشات پیش کی جائیں۔تاکہ بات پوائنٹ پر ہی رہے۔آپ آئیں کوئی اور بات کردیں۔کوئی دوسرا آئے وہ اور بات کردے پھر تیسرا آئے وہ کوئی اور بات کردے ۔تو یہ طریقہ اچھا نہیں لگتا۔

انداز مناسب کیا ہوتا ہے اور غیر مناسب کیا ہوتا ہے ۔اس کے طرائق و طرق و طریق تحریر فرمانے کی ضرورت نہیں۔اگر آپ کو ابھی تک مناسب انداز کیا ہوتا ہے اور غیر مناسب کیا ہوتا ہے ۔اس بات کا نہیں معلوم تو پھر اس بحث میں کیاکرنے آئے ہیں ۔؟ آرام سے ایک سائٹ ہوکر پڑھتے جایئے ۔اور آپ سے گزارش بھی یہی ہے۔

2۔پھر آپ نے بات کی کہ ’’مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ اتنے پہنچے ہوئے ہیں۔۔الخ‘‘ جناب من اگر نہیں معلوم تھا تو اب معلوم ہو ہی گیا ہے۔اب احتیاط رکھنا اور ہاں باقی رہی آپ کی یہ بات کہ ’’ ویسے اگر آپ چاہیں تو کوشش کرکیں دیکھ لیں‘‘ تو جناب محترم یہ تو مجھے پہلے سے ہی معلوم تھا کہ کیونکہ فورم آپ لوگوں کا ہے تو بات بھی آپ لوگوں کی مانی جائے گی۔ اگر انتظامیہ یکطرفہ نہ ہوتی تو اب تک یہ پوسٹ ریموو بھی کی جاچکی ہوتی کیونکہ اس کا ریموو نہ کیا جانا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ انتظامیہ یکطرفہ ہی دیکھتی ہے۔(میری یہ بات انتظامیہ کو بری لگے تو پیشگی معذرت۔کیونکہ حقیقت کوبیان کرنے سے ڈر نہیں لگتا)

3۔آپ کا فرمان عالی شان کہ ’’آج معلوم ہوا کہ آپ ہی بندوں کو معاف کرنے والے ہیں‘‘ محترم پہلے کب آپ کو معلوم تھا کہ میں آپ جیسے معصوم لوگوں کو معاف نہیں کرتا ؟ آپ کے الفاظ سے تو یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید آپ مجھے پہلے سے ہی جانتے ہیں اور کئی بار واسطہ پڑ چکا ہے۔حالانکہ یہ کبھی ہوا ہی نہیں ۔
تو پھر آپ کا یہ سراسر جھوٹ اور بہتان ہے۔ شاید آپ اس کو جائز سمجھتے ہوں اس لیے آگے کچھ نہیں لکھتا۔

4۔آپ کی طرف سے دیئے گئے لنک پر کچھ تقلید پر لکھنے کی کوشش کی ہے۔ یہاں پر آپ سے ایک سوال ہے کہ کیا آپ شاہ صاحب کی پیش کردہ تعریف سے مکمل اتفاق رکھتے ہیں ؟ کیا یہی تعریف آپ کےلیے حجت ہے؟ کیا یہ تعریف جامع و مانع ہے ؟ آپ ان سوالوں کے جواب دیں ۔پھر بات ہوگی۔

5۔جزاک اللہ کہیں یا نہ کہیں آپ کو مجبور نہیں کرتے۔کیونکہ شاید آپ کو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ جزاک اللہ کا مطلب کیاہے؟ کیوں کہا جاتا ہے ؟ کیا اثر ہوتا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ کیونکہ آپ مقلد ہیں اور مقلد جاہل ہی ہوتا ہے۔(اگر حوالہ جات کی ضرورت ہوتو بتا دینا۔آپ کے گھر سے ہی گواہی پیش کردی جائے گی۔جس کا انکار نہیں کرسکو گے۔ان شاءاللہ)۔معذرت

باقی آپ کی باتیں ایسی ہیں کہ جن پر عقل سلیم کچھ بھی نہیں کہے گی۔بس یہ سوچ کر کہ یہ بچگانہ حرکتیں ہیں ۔ان پر کیابولنا اور کیا لکھنا۔

گزارش:
محترم اگر آپ اتنے بے تاب ہیں اور آپ چاہتے ہیں کہ میں ہی اصلی حنفی کو مسئلہ سمجھاؤ تو ٹھیک ہے آپ آجائیں لیکن بات وہاں سے شروع ہوگی جہاں پر اب موجود ہے۔پٹھان کی طرح دوبارہ ایک سے گنتی نہیں ہوگی۔کیونکہ میرے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ میں پھر سے نئے سرے سے اس پر بات کا آغاز کروں۔
محترم ناصر نعمان صاحب نے دو تعریفات پیش ہیں ان سے میں نے ثابت کردیا تھا کہ تقلید بے دلیل بات پر ہوتی ہے۔لیکن ناصر بھائی نے اس کی توجیہ میں مزید بات لمبی کرکے بات کو خلط ملط کردیا ہے۔اب آپ سے گزارش ہےکہ آپ معتبر دلائل سے اس بات کو ثابت کردیں کہ تقلید بے دلیل نہیں بلکہ دلیل پر ہوتی ہے لیکن بلا مطالبہ دلیل ۔
یاد رہے اس پر آپ کی عقلی گزارشات قبول نہیں کی جائیں گی۔ شکریہ
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
ذیشان نصر نے کہا ہے:
اصلی حنفی بھائی ذرا اس دھاگے پر تشریف لائیے !
تقلید کو سمجھو میرے بھائی !

جزاک اللہ ٹھیک بھائی جان اگر آپ مجھےسمجھانے کی کوشش کرتےہیں اور اس موضوع پر بحث ومباحثہ کرنا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے۔ میں آپ کی پوسٹ پر ٹائم ملتے ہی لکھنے کی کوشش کرونگا۔
میرے پاس ٹائم زیادہ نہیں ہوتا جب بھی ٹائم ملے گا۔ جواب آجایاکرے گا۔ اگر جواب نہ آ پائے تو جو مرضی نتیجہ نکال لینا۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں۔کیونکہ ہماری بحث اسی موضوع پر ہی اسی فورم پر جاری ہے۔
 

شرر

وفقہ اللہ
رکن افکارِ قاسمی
اصلی حنفی نے کہا ہے:
محترم مولانا شرر صاحب کی پوسٹ نمبر68


ایز اے شرارت آپ نے پھر اپنی پوسٹ دوبارہ نقل کردیں۔ آپ کو بخوبی علم ہوجانا چاہیے تھا کہ جب آپ نے ایک بار پوسٹ کی اورپھر دوسری بار کی تو آپ کی پوسٹ پر کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا تو یہ سمجھ آجاتی کہ آپ کی پوسٹ کی کیا اہمیت تھی ؟ یا وہ اس قابل تھی کہ اس کا جواب دیا جاتا ؟

کبھی آدمی لا جواب ہو جاتا ہے اس میں اخلاقی جرات ہو تو اعتراف کر لیتا ہے کبھی آدمی لا جواب ہو جاتا ہے اور اخلاقی جراءت نہ ہو نے کی وجہ سے خاموشی اختیار کر لیتا ہے ۔سامنے والا اس سے نچلے درجہ کا ہو تو کٹ حجتی شروع کر دیتا ہے ۔میں نے آپ کو اس درجہ کا نہیں سمجھا تھا ۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کیا آدمی متوجہ نہیں ہوتا اسکی نظر کہیں نہیں پہونچ پاتی اس کو دکھانا پڑتا ہے۔

شاید آپ نے دوبارہ نقل ہی اس وجہ سے کردی کہ آپ کی پوسٹ پر کچھ گزارشات کا پیش کیا جانا بہت ضروری ہے تو چلو
آپ کی بات مان ہی لیتے ہیں۔

جزا ک اللہ

1
۔آپ کا یہ فرمانا کہ اصلی حنفی صاحب ’’ آپ نے سیکھنے سکھانے کی بات کی ہے‘‘ ٹھیک ہے جناب میں نے سیکھنے سکھانے کی ہی بات کی ہے۔اور جو بھی اس مسئلہ پر میری تشفی فرمائے گا میں اس کا ممنون ہوگا۔اگر آپ میں اہلیت ہے تو آپ بھی میدان میں آجائیں۔لیکن ذرا اخلاق کا دائرہ کیا ہوتا ہے ۔اس کو بھی تازہ کرلیں۔

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار تم سے
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں۔
آجائیے ۔دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے ۔


اور پھر درمیان میں آکر ایک نئی بات کردینا بھی اچھا نہیں ہوتا ۔اگر دخل اندازی کرنی بھی ہو تو مناسب طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جو بات چل رہی ہے ۔اسی پر گزارشات پیش کی جائیں۔تاکہ بات پوائنٹ پر ہی رہے۔آپ آئیں کوئی اور بات کردیں۔کوئی دوسرا آئے وہ اور بات کردے پھر تیسرا آئے وہ کوئی اور بات کردے ۔تو یہ طریقہ اچھا نہیں لگتا۔

محترم ذرا چشمہ لگا کر دیکھئے ۔میں نے کونسی نئی بات کردی ۔تقلید کی تعریف ہی تو آپ کو سمجھائی ہے ۔آپ نہ سمجھ سکیں تو احقر کیا کر سکتا ہے ؟

ا
نداز مناسب کیا ہوتا ہے اور غیر مناسب کیا ہوتا ہے ۔اس کے طرائق و طرق و طریق تحریر فرمانے کی ضرورت نہیں۔اگر آپ کو ابھی تک مناسب انداز کیا ہوتا ہے اور غیر مناسب کیا ہوتا ہے ۔اس بات کا نہیں معلوم تو پھر اس بحث میں کیاکرنے آئے ہیں ۔؟
حضور ۔ بعض لوگ اشاروں میں سمجھ لیتے ہیں اور بعضوں کو دوسرے طریقے سے سمجھانا پڑتا ہے ۔بعض حالات میں سامنے والے کو سمجھنے کے لئے اور اس کا دنداں شکن جواب دینے کے لئے اس سے سوالات کئے جاتے ہیں ۔بڑا اچھا ہوتا آپ اس کو ٹالتے نہیں پھر پتہ چلتا آپ کے اخلاق کا ،اطوار کا ، کردار کا ،اور معیار کا بھی ۔

آرام سے ایک سائٹ ہوکر پڑھتے جایئے ۔اور آپ سے گزارش بھی یہی ہے۔

2۔پھر آپ نے بات کی کہ ’’مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ اتنے پہنچے ہوئے ہیں۔۔الخ‘‘ جناب من اگر نہیں معلوم تھا تو اب معلوم ہو ہی گیا ہے۔اب احتیاط رکھنا اور ہاں باقی رہی آپ کی یہ بات کہ ’’ ویسے اگر آپ چاہیں تو کوشش کرکیں دیکھ لیں‘‘ تو
جناب محترم یہ تو مجھے پہلے سے ہی معلوم تھا کہ کیونکہ فورم آپ لوگوں کا ہے تو بات بھی آپ لوگوں کی مانی جائے گی۔

پھر آپ نے یہ غلطی کیوں کی ۔اگر غیر مقلدانہ تعصب سے یہاں کام لیا جاتا تو سب سے پہلے آپ کا مضمون ڈلیٹ کیا جاتا ۔یہ انتظامیہ کا انصاف ہے کہ امام ابو حنیفہ کے دشمنوں کو اصلی حنفی کے نام سے فورم پر مذہب حنفی کے خلاف لکھنے دیا جاتا اور اس قدر طول طویل بکواس کو جاری رکھا ہوا ہے ۔میں نے تو اس لئے کہا تھا کہ الغزالی انتطامیہ آپ جیسے ڈبلی کیٹ لوگوں کو برداشت کرتی ہے تو مجھ سے کیا دشمنی ہے ؟ کہ میرا مضمون انتظامیہ ڈلیٹ کردے ۔جب تک آپ کو جواب نہیں ملا تھا تب تک انتظامیہ منصف تھی اب منہ کی کھانی پڑی تو انتظامیہ جانبدار ہو گئی ۔

اگر انتظامیہ یکطرفہ نہ ہوتی تو اب تک یہ پوسٹ ریموو بھی کی جاچکی ہوتی کیونکہ اس کا ریموو نہ کیا جانا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ انتظامیہ یکطرفہ ہی دیکھتی ہے۔(میری یہ بات انتظامیہ کو بری لگے تو پیشگی معذرت۔کیونکہ
حقیقت کوبیان کرنے سے ڈر نہیں لگتا)

آپ کتنے نڈر ہیں ، کتنے بے باک ، کتنے شجاع اور کیسے سورما ہیں یہ تو ہر کوئی جان رہا ہے اپنا اصلی نام تک تو لکھنے کی جراءت نہیں ۔اصلی حنفی کا نقاب کیوں ڈالا ہوا ہے ؟

3۔آپ کا فرمان عالی شان کہ ’’آج معلوم ہوا کہ آپ ہی بندوں کو معاف کرنے والے ہیں‘‘ محترم پہلے کب آپ کو معلوم تھا کہ میں آپ جیسے معصوم لوگوں کو معاف نہیں کرتا ؟
آپ کے الفاظ سے تو یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید آپ مجھے پہلے سے ہی جانتے ہیں اور کئی بار واسطہ پڑ چکا ہے۔حالانکہ یہ کبھی ہوا ہی نہیں ۔

یہ سب کچھ بکواس ہے اور جاہلانہ انداز ہے لہذا سلام۔

تو پھر آپ کا یہ سراسر جھوٹ اور بہتان ہے۔ شاید آپ اس کو جائز سمجھتے ہوں اس لیے آگے کچھ نہیں لکھتا۔

اتنی باریکی سے تو آپ کی قوم قرآن وحدیث کو بھی نہیں دیکھتی ۔میں نے کہاں کہا کہ میں پہلے سے آپ کو جانتا ہوں ۔میں نے کہا تو آپ جھوٹے اور قرآن میں آیا ہے لعنۃ اللہ علیٰ الکاذبین۔
جب میں نے نہیں لکھا کہ میں آپ کو پہلے سے جانتا ہوں اس کے بعد آپ زبردستی مجھ پر یہ الزام تھوپ رہے ہیں۔میرے یہاں تو بہتان اور جھوٹ دونوں گناہ ہیں ۔آپ نے ارتکاب کیا ہے اور ثبوت یہیں موجود ہے ۔تو آپ بتلائیں کہ آپ نے جائز کیا ہے یا نا جائز کیا ہے آپ آگے کیا لکھیں گے جھوٹ یا مزید بہتان ؟

4
۔آپ کی طرف سے دیئے گئے لنک پر کچھ تقلید پر لکھنے کی کوشش کی ہے۔ یہاں پر آپ سے ایک سوال ہے کہ کیا آپ شاہ صاحب کی پیش کردہ تعریف سے مکمل اتفاق رکھتے ہیں ؟ کیا یہی تعریف آپ کےلیے حجت ہے؟ کیا یہ تعریف جامع و مانع ہے ؟ آپ ان سوالوں کے جواب دیں ۔پھر بات ہوگی۔

جی ہاں اگر آپ کو مذکورہ بالا تعریف سے اختلاف ہے تو ہاں یا نا میں جواب دیں ۔



5۔جزاک اللہ کہیں یا نہ کہیں آپ کو مجبور نہیں کرتے۔کیونکہ شاید آپ کو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ جزاک اللہ کا مطلب کیاہے؟ کیوں کہا جاتا ہے ؟ کیا اثر ہوتا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ کیونکہ آپ مقلد ہیں
اور مقلد جاہل ہی ہوتا ہے۔(اگر حوالہ جات کی ضرورت ہوتو بتا دینا۔آپ کے گھر سے ہی گواہی پیش کردی جائے گی۔جس کا انکار نہیں کرسکو گے۔ان شاءاللہ)۔معذرت

مقلد نہیں بلکہ غیر مقلد مولانا ابو الکلام آزاد کی خود نوشت سوانح اٹھا کر دیکھ لیجئے مولانا نے لکھا ہے کہ غیر مقلد مقلد اعمیٰ ہوتا ہے ۔اعمیٰ کیا دیکھ سکتا ہے کون عالم ہے اور کون جاہلاور باقی مزید القاب وخطابات اگر چاہیں تو آپ کی کتاب سے پیش کردوں

ب
اقی آپ کی باتیں ایسی ہیں کہ جن پر عقل سلیم کچھ بھی نہیں کہے گی۔بس یہ سوچ کر کہ یہ بچگانہ حرکتیں ہیں ۔ان پر کیابولنا اور کیا لکھنا۔

عقل سلیم آپ کہان سے لائیں گے ۔یہ کسی دکان میں نہیں ملتی۔ عقل کی بات کرکے آپ نے اپنے مذہب کی مٹی پلید کردی آپ تو غیر مقلد بھی نہیں رہے۔

گزارش:
محترم اگر آپ اتنے بے تاب ہیں اور آپ چاہتے ہیں کہ میں ہی اصلی حنفی کو مسئلہ سمجھاؤ تو ٹھیک ہے آپ آجائیں لیکن بات وہاں سے شروع ہوگی جہاں پر اب موجود ہے۔پٹھان کی طرح دوبارہ ایک سے گنتی نہیں ہوگی۔کیونکہ میرے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ میں پھر سے نئے سرے سے اس پر بات کا آغاز کروں۔
محترم ناصر نعمان صاحب نے دو تعریفات پیش ہیں ان سے میں نے ثابت کردیا تھا کہ تقلید بے دلیل بات پر ہوتی ہے۔لیکن ناصر بھائی نے اس کی توجیہ میں مزید بات لمبی کرکے بات کو خلط ملط کردیا ہے۔اب آپ سے گزارش ہےکہ آپ معتبر دلائل سے اس بات کو ثابت کردیں کہ تقلید بے دلیل نہیں بلکہ دلیل پر ہوتی ہے لیکن بلا مطالبہ دلیل ۔
یاد رہے اس پر آپ کی عقلی گزارشات قبول نہیں کی جائیں گی۔ شکریہ
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
محترم شرر صاحب لگتا ہے بلکہ یوں کہتا ہوں کہ یقین ہے کہ آپ پہنچی ہوئی سرکار ہیں۔ اورپھر میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا تھوہ تھوہ۔ مزا تو تب آتا کہ فضول، لایعنی اور بے مقصد باتوں سے در گزر کرتے ہوئے جو باتیں پوچھی گئی تھی ان کا جواب دیتے۔ ان باتوں کے جواب کی تو ہمت نہیں ہوئی پر اپنا بھی ٹائم لکھنے میں ضائع کیا اور میرا ٹائم پڑھنے میں ضائع کیا ۔
آپ کی پوسٹ پر میرے اتنے الفاظ ہی کافی ہیں۔ کیونکہ کوئی علمی بات تو ہے نہیں کہ جس کاجواب دیا جائے یا پھر کچھ اس پر لکھا جائے۔باقی مجھےخوشی ہے کہ ناصر نعمان بھائی تو اپنی بات ثابت نہ کرسکے۔شاید وہی بات آپ ثابت کرسکیں۔

چلیں پھر آپ کو ہی آزما کر دیکھ لیتے ہیں۔لیکن ایک بات یاد رکھنا اپنی فضول بکواسات اپنے پاس ہی رکھنا۔اور مطلب کی بات کرنا۔اور میں بھی اپنی معروضات صرف مطلب تک ہی رکھوں گا۔ ان شاءاللہ

چلیں ہماری بات جہاں پہنچی تھی وہاں سے آگے میں آپ سے ہی مخاطب ہوتا ہوں۔

ناصر بھائی اور میری بات یہاں تک پہنچی تھی کہ تقلید بے دلیل ہوتی ہے یا دلیل پر مگر بلا مطالبہ دلیل؟
ناصر بھائی نے اس ضمن میں کافی باتیں پیش کیں۔آپ مزید ان باتوں کا مطالعہ کرلینا۔ان باتوں کاخلاصہ بیان کردیتا ہوں

ناصر بھائی نے کہا تھا کہ تقلید ہوتی دلیل پر ہے لیکن دلیل کا مطالبہ نہیں کیاجاتا۔ لیکن میں نے ان کی ہی پیش کی گئی تعریفات سے اس بات کو ثابت کردیا تھا کہ تقلید بے دلیل بات پر ہوتی ہے۔اسی ضمن میں انہوں نےکچھ یوں تشریح کی تھی کہ

مسائل کئی طرح کے ہوتے ہیں۔کچھ نصوص قطعیہ والے، کچھ نصوص ظنیہ والے ، کچھ محتمل نصوص والے، کچھ متعارض نصوص والے۔وغیرہ وغیرہ

نصوص قطعیہ کے علاوہ باقی سب میں عامی کو مجتہد کی تقلید کرنی پڑتی ہے۔(حالانکہ یہ بات بھی تقلید میں نہیں آتی۔کیونکہ مجتہد جب نص میں موجود ظن کو یا احتمال کو یا تعارض کو رفع کردیتا ہے۔اورعامی کو بتا دیتا ہے کہ اس نص پر عمل نہیں کرنا بلکہ اس نص پر عمل کرنا ہے تو یہ کیسے تقلید بن جاتی ہے۔؟ اور دوسری طرف خود اقرار کرچکے ہیں کہ نص پر عمل تقلید بھی نہیں۔اس تضاد کی حقیقت؟؟؟) لیکن وہ یہاں پر اس بات کو ثابت نہ کرسکے کہ تقلید بھی دلیل پر ہوتی ہے لیکن بلا مطالبہ دلیل۔ کیونکہ دلیل (نص) پر عمل کرنے کو وہ کہہ چکے تھے کہ تقلید نہیں ہوتی ۔بلکہ ان کے علاوہ آپ کے بڑوں نے بھی کہا ہے۔

مزید انہوں نے اس پر یہ بات بھی کی تھی کہ
عامی کا مجتہد سے مسئلہ پوچھنا تقلید نہیں ۔کیونکہ عامی کو یہ حکم نص سے ثابت ہے اور نص پر عمل تقلید نہیں۔لیکن مجتہد کا عامی کو مسئلہ بتانا اور پھر اس مسئلہ پر عامی کا عمل کرنا یہ تقلید ہے۔

اس پر سوال کیا گیا تھا کہ جو مجتہد مسئلہ بتائے گا وہ نص سے یا نص کی روشنی میں نہیں بتائے گا۔؟ اس کے جواب میں ناصر بھائی نے کہا کہ اصل میں ایک ہوتا ہے قرآن وحدیث اور ایک ہوتا ہے قرآن وحدیث سے مجتہد کا مسئلہ اخذ کرنا۔اور جو مجتہد مسئلہ بتارہا ہے ۔مجتہد کا یہ بتانا قرآن وحدیث نہیں ہے۔اس لیے عامی کا مجتہد کی یہ بات مانناتقلید میں آتا ہے۔

حالانکہ یہ جواب بول بول کر بتارہاہے کہ میں ناقص ہوں۔ٹھیک ہے اس بات کو میں بھی مانتا ہوں کہ مجتہد کے الفاظ یا تشریح قرآن وحدیث نہیں۔لیکن اس مجتہد کے الفاظ کی بنیاد تو قرآن وحدیث ہی ہے۔اگر ہم اسی اصول پر رہیں تو پھر یہ کہنا بھی لایعنی ہیں کہ نص قطعی پر تو تقلید حرام ہے۔لین باقی نصوص پر تقلید واجب یا جو بھی کہہ لو۔ یہ کہنا کیوں لایعنی ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہم نے ایک اصول بنا دیا کہ مجتہد کے الفاظ قرآن وحدیث نہیں تو پھر نص قطعی کو سمجھانے کےلیے مجتہد عامی کو جو الفاظ بولے گا وہ الفاظ بھی قرآن وحدیث نہیں ہونگے۔؟ نص قطعی میں بھی عامی مجتہد کے الفاظ سن کر عمل کررہا ہے اور باقی نصوص میں بھی عامی مجتہد کے الفاظ سن کر عمل کررہا ہے۔تو ایک میں تقلید واجب اور ایک میں تقلید حرام؟ اس فرق کی کیاحقیقت ہے ۔کوئی نہیں سمجھا سکے گا۔


مطلبی گزارش
وضاحت میں بات کافی پھیل گئی اور شاید آپ کےلیے سمجھنا بھی مشکل ہوجائے۔ اس لیے دوبارہ بیان کردیتا ہوں

1۔نص پر عمل آپ کے نزدیک تقلید ہے یا نہیں ۔(ہاں یا ناں میں جواب۔)
2۔تقلید بے دلیل ہوتی ہے یا دلیل پر مگر بلا مطالبہ دلیل۔؟ (بیان کی گئی باتوں کے علاوہ کوئی توجیح ہوتو پیش کرنا ۔ورنہ خاموشی میں بہتری ہے)
3۔اگر آپ کہیں کہ تقلید دلیل پر ہوتی ہے لیکن دلیل کا مطالبہ نہیں کیاجاتا ۔ تو برائے مہربانی اس کاثبوت ضرور پیش کرنا۔شاید آپ کے پاس ثبوت ہو ورنہ ناصر بھائی تو ثبوت پیش نہ کرسکے۔
4۔تقلید کی جامع مانع تعریف بھی ایک بار دوبارہ اپنے معصوم ہاتھوں سے نقل کردینا تو نوازش ہوگی۔

نوٹ:
شرر صاحب ایک بات کی طرف دوبارہ اشارہ کردوں کہ جو بات بطور حوالہ پیش کی جانے کے قابل ہو اس کو بغیر حوالہ پیش نہ کریں۔ تاکہ ہمارا ٹائم اسی میں ضائع نہ ہو کہ آپ ایک بات کردیں یا پھر میں کوئی بات کردوں بغیر حوالہ۔ اور پھر بعد میں حوالہ کی طلب کرتے پھریں۔اس لیے میں بھی کوئی بات بغیر حوالہ کے پیش نہیں کرونگا۔آپ بھی مت کیجئے گا۔
 
M

Malang009

خوش آمدید
مہمان گرامی
1۔ اسکا جواب نمبر چار کے تحت آیگا ۔
2۔سمجھ ہی نہیں آیا کہ آپ پوچھنا کیا چاہتے ہیں
3۔کس چیز کا ثبوت ؟ تقلید کے با دلیل ہونے کا ؟ بلا دلیل ہونے کا ؟ یا پھر دلیل کا مطالبہ نہ کرنے کا ؟
4۔غیر منصوص علیہا اور منصوصہ متعارض فیہا مسائل کے دفع تعارض میں کسی مجتہد کے علم و تقویٰ پر اعتماد کرتے ہوئے اسکی بات کو بلا دلیل مان لینا گو کہ مجتہد کے پاس دلیل ہو ۔
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
Malang009 نے کہا ہے:
1۔ اسکا جواب نمبر چار کے تحت آیگا ۔

بھائی نمبر چار کے تحت آئے گا یا نمبر چار کے تحث آ چکا ہے؟ اگر آ چکا ہے تو پلیز دوبارہ یہاں نقل کردیں۔جزاک اللہ خیرا

Malang009 نے کہا ہے:
2۔سمجھ ہی نہیں آیا کہ آپ پوچھنا کیا چاہتے ہیں

آپ کہہ رہے ہیں کہ سمجھ نہیں آیا اور نمبر ایک میں آپ نے کہا کہ جواب نمبر چار کے تحث آگیا ہے یا آئے گا۔تو نمبر ایک میں آپ نے میرے کس سوال کے جواب کا تذکرہ کیا ہے؟
وہ سوال نقل کردیں۔ تاکہ بات واضح ہوجائے

Malang009 نے کہا ہے:
3۔کس چیز کا ثبوت ؟ تقلید کے با دلیل ہونے کا ؟ بلا دلیل ہونے کا ؟ یا پھر دلیل کا مطالبہ نہ کرنے کا ؟

اب آپ کیا چاہتے ہیں کہ میں گتنی پھر ایک سے شروع کروں؟ چلو دوبارہ ماقبل پوسٹ کے ہی الفاظ نقل کردیتا ہوں

مطلبی گزارش
’’وضاحت میں بات کافی پھیل گئی اور شاید آپ کےلیے سمجھنا بھی مشکل ہوجائے۔ اس لیے دوبارہ بیان کردیتا ہوں

1۔نص پر عمل آپ کے نزدیک تقلید ہے یا نہیں ۔(ہاں یا ناں میں جواب۔)
2۔تقلید بے دلیل ہوتی ہے یا دلیل پر مگر بلا مطالبہ دلیل۔؟ (بیان کی گئی باتوں کے علاوہ کوئی توجیح ہوتو پیش کرنا ۔ورنہ خاموشی میں بہتری ہے)
3۔اگر آپ کہیں کہ تقلید دلیل پر ہوتی ہے لیکن دلیل کا مطالبہ نہیں کیاجاتا ۔ تو برائے مہربانی اس کاثبوت ضرور پیش کرنا۔شاید آپ کے پاس ثبوت ہو ورنہ ناصر بھائی تو ثبوت پیش نہ کرسکے۔
4۔تقلید کی جامع مانع تعریف بھی ایک بار دوبارہ اپنے معصوم ہاتھوں سے نقل کردینا تو نوازش ہوگی۔ ‘‘

Malang009 نے کہا ہے:
4۔غیر منصوص علیہا اور منصوصہ متعارض فیہا مسائل کے دفع تعارض میں کسی مجتہد کے علم و تقویٰ پر اعتماد کرتے ہوئے اسکی بات کو بلا دلیل مان لینا گو کہ مجتہد کے پاس دلیل ہو ۔

ان الفاظ میں آپ نے چند باتیں ذکر کیں

1۔غیر منصوص اور منصوص متعارض مسائل
2۔ مجتہد کا تعارض کو دفع کرنا
3۔مجتہد کی بات بلا دلیل مان لینا
4۔مجتہد کے پاس دلیل ہوگی

ان سب باتوں پر تفصیلی با دلائل بات ہوگی لیکن آپ مجھے پہلے وہ بات بادلیل بتائیں جو میں نے اپنی ماقبل پوسٹ سے نقل کردی ہے۔ جزاکم اللہ خیرا
 

عام آدمی

وفقہ اللہ
رکن
تقلید سمجھنے کیلئے عقل چاہئے ہوتی ہے جو غیر مقلدین میں مفقود ہے۔ حیرانی کی بات ہے ہمارے بھائی ایک بے عقل کو سمجھانے کیلئے مستعد بیٹھے ہیں۔ بھایئوں اپنے اوقات کوجان بوجھ کر انجان بننے والوں پر ضائع مت کرو۔اصلی حنفی نامی غیر مقلد صاحب اگر تقلید سیکھنا ہے تو امام صاحب کو اپنا ابا جان مان لو اور انکی تقلید شروع کردو۔ انشاء اللہ تقلید سمجھ جاوگے۔
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
عام آدمی نے کہا ہے:
تقلید سمجھنے کیلئے عقل چاہئے ہوتی ہے جو غیر مقلدین میں مفقود ہے۔

محترم عامی آدمی صاحب میں آپ کا بے حد احترام کرتا ہوں کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ آپ کی شخصیت کیسی ہے۔ اس لیے بادب گزارش ہے کہ اگر لکھنا بھی ہے تو تمیز سے لکھو ورنہ پھر چپ سادھ کے بیھٹے رہو۔
(جب میں نے دیکھا کہ کسی اور بھائی نے اس تھریڈ پر لکھا ہے تو میرا دل باغ باغ ہوگیا کہ ضرور دلیل مہیا کی ہوگی لیکن پڑھ کر بہت دکھ ہوا کہ یہاں تو پوشیدہ گند ظاہر کیا گیا ہے۔)
عقل مفقود کی بات ہے تو میں بادلائل اس بات کو ثابت کرسکتا ہوں کہ مقلد جاہل ہوتا ہے۔ آپ لوگ صرف بت پرستوں کی طرح بات تو کرسکتے ہیں اور پھر آگے کوئی جواب نہ بن پڑے تو الزام تراشی اور ذاتی دشمنی تو لے سکتے ہیں۔ بادلائل گفتگو نہیں کرسکتے۔
اور مجھے یہ بھی محسوس ہورہا ہے کہ شاید کچھ دنوں تک بلاوجہ میری آئی ڈی بھی بلاک کردی جائے گی۔

عام آدمی نے کہا ہے:
حیرانی کی بات ہے ہمارے بھائی ایک بے عقل کو سمجھانے کیلئے مستعد بیٹھے ہیں۔

بے عقل اور جاہل کون ہیں اور کون ہوتا ہے ۔ دلیل سے بات کرنی ہے تو میدان میں آ۔ ورنہ مفت کے مشورے اپنے پاس رکھ کیونکہ مفت کے مشوروں کی آج کے دور میں کوئی قدر نہیں ہوتی۔

عام آدمی نے کہا ہے:
بھایئوں اپنے اوقات کوجان بوجھ کر انجان بننے والوں پر ضائع مت کرو۔

میں کہیں بھی کسی جگہ بھی انجان نہیں بنا۔ جب لغوی تعریف پیش ہوئی مان لیں۔جب اصطلاحی تعریف پیش ہوئی مان لیں۔ لیکن اس اصطلاحی تعریف میں ایک بات بے دلیل اور با دلیل پر بلا مطالبہ دلیل کی بات تھی۔ جس کا ثبوت مانگ مانگ کر پٹ گیا ہوں ابھی تک ثابت نہیں کرسکے۔

عام آدمی نے کہا ہے:
اصلی حنفی نامی غیر مقلد صاحب اگر تقلید سیکھنا ہے تو امام صاحب کو اپنا ابا جان مان لو اور انکی تقلید شروع کردو۔ انشاء اللہ تقلید سمجھ جاوگے۔

دلی گند نکالنے کا بہت شکریہ ۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ جس جس کی تقلید کرتے ہیں سب سے پہلے اس کو ابا جان بناتے ہیں- اچھا پھرتقلید میں یہ بھی ہے کہ احکام الحوادث میں عامی پر تقلید واجب ہے۔ اور احکام الحوادث پر اجتہاد کرنے اب امام صاحب رحمہ اللہ تو نہیں آئیں گے۔ اس لیے ضرور مقلدین آج کے علماء سے حل کروائیں گے اور جب حل کروائیں گے تو تقلید ہوگی اور جب تقلید کریں گے تو پہلے ابا جان بنانا ہوگا۔

نوٹ
اچھا تو یہ تھا کہ نہ بولتے اور نہ سنتے۔ اس لیے آپ سے ایک بار پھر بادب گزارش ہے کہ ادھر ادھر کی باتیں نہ کریں اگر کریں گے تو چپ میں بھی نہیں بیٹھونگا۔
اگر آپ اس بحث میں آنا چاہتے ہیں تو پھر آپ میرے اس سوال کاجواب دیں جو پہلے پیش کیا جا چکا ہے۔
 

عام آدمی

وفقہ اللہ
رکن
اصلی حنفی نے کہا ہے:
عام آدمی نے کہا ہے:
بھایئوں اپنے اوقات کوجان بوجھ کر انجان بننے والوں پر ضائع مت کرو۔

میں کہیں بھی کسی جگہ بھی انجان نہیں بنا۔

چور کی داڑھی میں تنکہ

محترم عامی آدمی صاحب میں آپ کا بے حد احترام کرتا ہوں
شکریہ
کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ آپ کی شخصیت کیسی ہے۔
مومن مومن کا آئینہ ہوتا ہے
اس لیے بادب گزارش ہے کہ اگر لکھنا بھی ہے تو تمیز سے لکھو ورنہ پھر چپ سادھ کے بیھٹے رہو۔
آپ کے الفاظ میں ہی جواب دونگا۔
مفت کے مشورے اپنے پاس رکھ کیونکہ مفت کے مشوروں کی آج کے دور میں کوئی قدر نہیں ہوتی۔
آپ کے جملے سے زاری اور زور چھلک رہے ہیں کیا تمیز داری ہے۔ واہ واہ

اور مجھے یہ بھی محسوس ہورہا ہے کہ شاید کچھ دنوں تک بلاوجہ میری آئی ڈی بھی بلاک کردی جائے گی۔
آپکا سوئے ظن ہے اور صرف اور صرف اپنے نفس سے حسن ظن کا نتیجہ بھی []---

آپ نے عنوان لگایا ہے۔ تقلید مجھے سمجھا دو!
دعوٰی سمجھنے کا کر رہے اور دعوت بحث کی
اگر آپ اس بحث میں آنا چاہتے ہیں تو پھر آپ میرے اس سوال کاجواب دیں
دعوٰی اور دعوت میں موافقت نہیں۔ کچھ تو خیال کر۔۔۔۔۔۔
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
معززین!
تقلید کی لغوی یا پھر اصطلاحی تعریفات دیکھی جائیں تو ہر جگہ بنا دلیل، بے دلیل، بغیر حجت، بلادلیل کے الفاظ نظر آتے ہیں۔
اس پر سوال کیا گیا تھا کہ کیا دلیل بے دلیل بات پر ہوتی ہے یا پھر با دلیل بات پر۔ جواب ملا کہ بادلیل مگر بلا مطالبہ دلیل۔
تو پھر سوال کیا گیا کہ ٹھیک ہے لیکن اس کا ثبوت کہ تقلید دلیل پر ہوتی ہے لیکن مجتہد سے دلیل کا مطالبہ نہیں کیا جاتا ۔
بھائیوں نے اپنی اپنی توجیہات پیش فرماکر واضح کرنے کی کوشش کی ہے لیکن سب کی اپنی اپنی سمجھ تھی جو کہ بہت سارے علماء سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔ ٹھوس اور واضح ثبوت کاکہا گیا لیکن ابھی تک ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
اگر ایک منٹ کےلیے میں مان لوں کہ تقلید دلیل پر ہوتی ہے لیکن بلا مطالبہ دلیل تو پھر اس عبارت
’’محمود الحسن دیوبندی فرماتے ہیں:
’’ والحق والانصاف ان الترجیح للشافعی فی ھذہ المسالۃ ونحن مقلدون یجب علینا تقلید امامنا ابی حنیفۃ۔‘‘
کا کیا جواب ہوگا ؟
امام شافعی رحمہ اللہ کو اس مسئلہ میں ترجیح کس بنیاد پر دی جارہی ہے اور تقلید ابی حنیفہ رحمہ اللہ کا لزوم کس بیناد پر کیا جارہا ہے ؟
اگر تقلید دلیل پر ہوتی ہے تو پھر یوں ہونا چاہیے کہ جس طرح دلیل قوی اسی طرف یعنی اس کی تقلید۔
اس لیے برائے مہربانی یا اس بات کا ثبوت پیش کریں کہ تقلید با دلیل مگر بلا مطالبہ دلیل ہوتی ہے۔ یا پھر کہہ دیں کہ ہمارے پاس اس کا ثبوت نہیں۔ تاکہ پھر بات کو آگے چلایا جائے ۔
 
سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
Top