تقلید مجھے سمجھا دو۔!

سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
تم نے ابھی تک سہج حرامی سے سہج حلالی ہونے پر قول امام پیش نہیں کیا ؟ تو میں کیسے تمہیں سہج حلالی سمجھوں ۔ میں تو کہوں گا کہ آپ حرامی ہیں۔
اس لیے اگر آپ میرے سامنے اور باقی عوام الناس کے سامنے سہج حلالی بننا چاہتے ہیں تو پھر اپنے حلالی ہونے کا ثبوت صرف اور صرف قول امام سے پیش کریں۔ کیونکہ آپ مقلد ہیں اور مقلد کیسے صرف اور صرف قول امام ہی حجت ہوتا ہے۔ مقلد کےلیےنہ قرآن حجت ۔ نہ حدیث حجت نہ صحابہ حجت نہ قیاس واجماع حجت ہوتے ہیں۔
اس لیے جو بات آپ کےلیے حجت ہے پہلے اس سے اپنے حلالی ہونے کا ثبوت پیش کریں۔ اور اس ثبوت کے بعد آپ کی بیان شدہ بکواسات پر بھی تفصیل لکھتا ہوں ۔لیکن پہلے تجھے حلالی تو جانوں۔
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
sahj نے کہا ہے:
“شریعت اسلام میں توخود پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی طرف سے بغیر وحی کے کچھ فرمائیں تو وہ بھی حجت نہیں ۔‘‘(طریق محمدی،مسٹر محمد جوناگڑہی)

سہج حرامی یا حلالی یا منافق یا اغیرہ وغیرہ کی باقی سب باتوں کا جواب بالتفصیل بعد میں دیا جائے گا۔ لیکن مسٹر عبداللہ بن ابی نے جو یہ بات کی ہے۔ اس کا جواب سنیں مسٹر عبداللہ بن ابی

اتنے غلیظ ذہن کے مالک ہو اتنا تک بھی نہیں معلوم کہ مولانا جونا گڑھی صاحب کی اس عبارت کا کیا مطلب ہے؟ (سچ کہتے ہیں علماء کہ مقلد اندھا، متعصب، جاہل، بے وقوف اور ناکارہ ہوتا ہے۔ اگر میری باتوں پہ یقین نہ آئے تو تو بتا دینا حوالہ جات پیش کیے جائیں گے)

عبداللہ بن ابی صاحب اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کا ذاتی مشورہ اور رائے ہے۔ اگر اس ذاتی مشورہ نہ ماننے پر آپ ہمیں لعن طعن کی بکواس کررہے ہیں تو پھر آپ کو اتنا بھی معلوم ہونا چاہے کہ آپ کی اس بکواس کی انتہاء کہاں تک جا پہنچتی ہے۔ ایک حوالہ پیش ہے۔

جنگ بدر میں ہی جب کفار مکہ نے بدر کی وادی کے عدوۂ قصوی پر ڈیرہ ڈالا تو آنحضرتﷺ نے صحابہ کے ساتھ ماءِ بدرکے قریب پڑاؤفرمایا۔ اس موقعہ پر حضرت حباب بن المنذرؓ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور پوچھا ، یا رسول اللہ کیااس مقام پر قیام کرنے کاحکم خدا نے آ پ کو دیاہے کیونکہ اگر ایساہے تو پھر اس جگہ سے ادھر ادھر نہیں ہو سکتے یا کہ پھر یہ آپ کی رائے ہے اور جنگی حربہ ہے۔ آپؐ نے فرمایا بلکہ یہ رائے ہے اور جنگی حربہ ہے۔ اس پر حبابؐ نے کہا کہ اگر ایسی بات ہے تو پھر یہ جگہ ہمارے ٹھہرنے کی نہیں ہے بلکہ میرا مشورہ یہ ہے کہ ہمیں پانی کے اس کنارے پر پڑاؤ کرنا چاہئے جو کفار کے نزدیک ہے۔ اس طرح ہم پیچھے کی جانب زمین کھود کر حوض بنالیں گے اور پانی اس میں سٹور کر لیں گے ۔ یوں جنگ کے دوران ہم تو پانی پی سکیں گے جبکہ وہ اس سے محروم رہیں گے ۔ آنحضرت ﷺکو یہ مشورہ بہت پسند آیا چنانچہ آپ اٹھے اور وہی جگہ قیام کے لئے اختیار فرمائی جس کی طرف حبابؓ نے اشارہ کیا تھا۔ اور فرمایا اے حبا بؓ تمہاری رائے واقعی بہت اچھی ہے ۔
(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام۔ الجزء الثانی صفحہ ۲۷۲۔ دارالقلم بیروت ۔ الطبعۃ الاولیٰ ۱۹۸۰؁ء۔ ۔ الطبقات الکبریٰ لابن سعد الجزء الثانی صفحہ ۱۱ دارالکتب العلمیہ الطبعۃ الاولیٰ ۱۹۹۰؁ء)

او مسٹر عبداللہ بن ابی منافق اب لگا صحابی رسولﷺ پر حکم۔؟ جب رسول پاکﷺ ایک عمل کرچکے ہیں تو کسی صحابی کی کیا جرات کے اس کے خلاف مشورہ دے۔؟ اس لیے مسٹر منافق مولانا جونا گڑھی صاحب کے الفاظ پر غور کرو لکھا ہے
’’اپنی طرف سے بغیر وحی کے‘‘
اور جو اپنی طرف سے بغیر وحی کے ہوگا وہ کیا ہوگا مسٹر منافق یا مشورہ ہوگا یا رائے ہوگی۔ چاہے اس کا تعلق عمل سے ہو یا قول سے۔ تو جب صحابی رسولﷺ آپ کے ذاتی عمل کے خلاف مشورہ پیش کرسکتا ہے اور آپﷺ اس پرعمل بھی کرلیتے ہیں تو پھر اگر آج ہم یہ کہہ دیں تو ہماری اوپر لعن طعن کی بکواسات شروع کردی جاتی ہیں۔ حضور مسٹر منافق اتنے اندھے ہو کہ اتنا تک بھی نہیں جانتے کہ اگر اس فعل پر ہم ان کو قصور وار ٹھہرا رہے ہیں تو اس فعل کا ارتکاب تو صحابہ کرام بھی کرچکے ہیں۔ کیا ہمارے اس غلیظ بکواسات کی زد میں کہیں صحابہ کرام تونہیں آتے۔۔شاید پہلے تم نے نہیں سوچا ہوگا۔۔امید ہے اب ضرور سوچو گے۔

نوٹ
باقی باتوں کا جواب بھی اسی طرح دیا جاسکتا ہے لیکن پہلے اب مسٹر عبداللہ بن ابی منافق یعنی سہج حرامی اپنے حلالی ہونے پر قول امام پیش کریں گے۔
 

ذیشان نصر

وفقہ اللہ
رکن
اصلی حنفی صاحب اور سہج صاحب اور دوسرے تمام صاحبان سے گذارش ہے کے گالم گلوچ سے پرہیز کر کے نفسِ مسئلہ پر گفتگو کریں ۔۔۔ ! ورنہ انتظامیہ ایسی پوسٹس کو حذف کرنے کا حق رکھتی ہے۔۔۔!اور اس روش کو نہ چھوڑنے پر آی ڈی مستقل طور پر بین بھی کی جاسکتی ہے۔۔! امید ہے احباب اس پر عمل کریں گے۔۔۔
شکریہ۔۔۔!
 

بنت حوا

فعال رکن
وی آئی پی ممبر
سہج حرامی یا حلالی یا منافق یا اغیرہ وغیرہ کی باقی سب باتوں کا جواب بالتفصیل بعد میں دیا جائے گا۔ لیکن مسٹر عبداللہ بن ابی نے جو یہ بات کی ہے۔

میں عمومئ طور پر ایسی بحثوں کا حصہ نہیں بنتی ۔۔ مگر اصلی حنفی کے انداز سے آض مجھے بہت افسوس ہوا ہے
اس فورم کا مقصد اشاعت دین ، فروغ اردو ہے نا کہ گالی گلوچ ۔ ۔۔ ۔
اصلی حنفی صاحب آپ دلائل سے بات کریں نا کہ گالی گلوچ سے میرے خٰال میں گالی گلوچ کی نوبت تب آتی ہے جب دلائل ختم ہو جائیں تو آپ کی گالی گلوچ سے ہم کیا سمجھیں کہ آپ کے دلائل ختم ہو گئے ؟؟؟؟؟

خدارا ! مقلد اور غیر مقلد بننے سے پہلے اچھا مسلمان ضرور بنیں ۔ ۔ شکریہ​

[b]نوٹ : میرے خیال میں جو گالی گلوچ ہوا ہے اس پہ معذرت کی جائے اور دوستانہ ماحول میں بات آگے بڑھائی جائے[/b]
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
واہ بہت خوب گالی گلوچ اور ماحول کو خراب کرنے کی کوشش میں نے کی ہے۔ واہ بہت خوب۔

بنت حوا اگر آپ نے کچھ بولنا اورنصائح ومصائح وشرائح کرنے تھے تو پہلے ماقبل پوسٹ کاجائزہ لے لیا ہوتا اور دیکھ لیا ہوتا کہ ماحول کس کی وجہ سے خراب ہوا ہے۔ تاکہ آپ صحیح فیصلہ کرتے ہوئے پھر نصائح کی طرف قدم بڑھاتیں۔
آپ میری بہن ہیں اور مجھے یہ بھی یقین ہے کہ آپ کی ایج اور میری ایج میں بہت فرق ہوگا یعنی آپ بڑی اور میں آپ سے یقینی طور پر چھوٹا ہوں گا۔ میں آپ کی عزت اپنی بڑی بہنوں کی طرح کرتا ہوں۔ لیکن اگر آپ بھی بڑی بہنوں جیسا سلوک کرتیں تومجھے اچھا لگتا۔ چلیں خیر اب آپ کو آئینہ دکھاؤں تاکہ آپ کا یہ خیال باطل کہ اصلی حنفی نے گالی گلوچ میں پہل کی ہے۔ اور آپ نے نام لے کر مجھے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔تو دیکھو بہن جی

پوسٹ نمبر93 سے فضلیت مآب مولانا سہج صاحب رحمۃاللہ علیہ تشریف لائے اور آتےہی کیا کہا
’’منافقوں والا طریقہ چھوڑ دیں‘‘
اس کے جواب میں لکھی گئی میری پوسٹ نمبر94 موجود ہے۔ میں ان کے اس طرز عمل پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔ اورعزیز بھائی کا لقب دیا۔
جس کا جواب پوسٹ نمبر95 میں سہج نے دیا اور کیا لکھا ’’آپ منافق کیوں بنے؟‘‘ پھر ’’آپ جیسے سادے اور انپڑھ منافق ٹائپ بندوں کے سوالوں کے جواب‘‘ پھر ’’سادہ لوح انپڑھ قسم کے منافق ٹائپ بندے بنام اصلی حنفی‘‘
پھر میری پوسٹ نمبر96 دیکھیں سوائے چند ڈانٹ ڈپٹ جملوں اور واضح تنبیہ کہ سہج اس طرح کی بکواسات سے گریز کرو کے باوجود بھی سہج نے جوابی پوسٹ97 میں یوں لکھا
’’مسٹر اصلی منافق ‘‘ پھر ’’کفریہ فتوٰی ‘‘ پھر ’’بکواس‘‘پھر ’’آپ کا مولوی کفر بکتا دنیا سے چلا گیا ؟‘‘
یہاں تک برداشت اور بار بار تنبیہ کے بعد جب سہج کی زبان نہیں رکی تو پھر میرا لہجہ کیوں نہ سخت ہوتا ؟
اب اگر میرا لہجہ بار بار انتظامیہ و سہج وغیرہ کو متنبہ کرنے کے بعد سخت ہوا ہے تو آپ کو نصائح کرنا یاد آگیا ؟
اگر آپ کہتی ہے کہ اصلی حنفی بھائی ماحول خراب آپ نےکیا ہے تو مجھے اس اللہ کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میری اس فورم پر جتنی بھی پوسٹ ہیں سب میں ترمیم کرکے کوئی ایسا جملہ باقی نہیں رکھوں گا جو غیر مناسب اور اخلاق سے گرا ہوا ہوں۔
یا انتظامی کو آپ کے اقرار کے بعد کھلی اجازت دے دوں گا کہ وہ میری پوسٹ سے غیر مناسب جملے نکال باہر پھینکے۔

جی بہنا آپ مجھے یہ بتائیں کہ گالم گلوچ کی ابتداء میں نے کی یا آپ کے ہی ہم مسلک لوگوں نے ؟
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
بنت حوا نے کہا ہے:
میں عمومئ طور پر ایسی بحثوں کا حصہ نہیں بنتی ۔۔ مگر اصلی حنفی کے انداز سے آض مجھے بہت افسوس ہوا ہے

محترم بہنا اس افسوس کی وضاحت ماقبل پوسٹ میں بیان کردی گئی ہے۔ کہ اگر آپ طرفداری سے بیزار ہوکر فریقین کی پوسٹوں کو دیکھتے ہوئے کچھ فیصلہ کرتی تو آپ کو یہ افسوس اٹھانے کی بھی تکلیف برداشت نہ کرنا پڑتی۔

بنت حوا نے کہا ہے:
اس فورم کا مقصد اشاعت دین ، فروغ اردو ہے نا کہ گالی گلوچ ۔ ۔۔ ۔

جی بالکل میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ اور جب سےمیں اس فورم پہ آیا ہوں تب سے لے کر مسٹر سہج کی دخل اندازی سے پہلے تک آپ میری تمام پوسٹوں کا ایک جائزہ لیں اور دیکھیں کہ بارہا دفعہ اسی طرز پر فریق مخالف کو متنبہ کرتےہوئے اپنے طرز گفتگو کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتا رہا۔ اور کسی کے غلط انداز پر کئی بار انتظامیہ کو بھی متنبہ کیا۔ لیکن سہج نے اتنا مجبور کیا کہ اس کا نتیجہ آپ نے پڑھا۔
محترم میں نے کئی بار یہ بھی کہا کہ میرے سے جس انداز سے گفتگو کروگے آگے سے وہی انداز ملے گا۔ لیکن اگر تھوڑی سے بھی بدتمیزی کرنے کی کوشش کی تو اینٹ کاجواب پتھر سے ملے گا۔ لیکن افسوس کہ سہج کے کان تک جوں نہیں رینگی

بنت حوا نے کہا ہے:
اصلی حنفی صاحب آپ دلائل سے بات کریں نا کہ گالی گلوچ سے

جناب صاحبہ!
بالکل آپ سچ وٹھیک کہہ رہی ہیں۔ لیکن نام لے لے کر ذرا یہ ہدایت ان بیچارے مقلدوں کو بھی کردیں تاکہ ہوش میں آجائیں۔ اور اپنےپرانےکشکول سے کوئی دلیل تلاش کرلائیں

بنت حوا نے کہا ہے:
میرے خٰال میں گالی گلوچ کی نوبت تب آتی ہے جب دلائل ختم ہو جائیں تو آپ کی گالی گلوچ سے ہم کیا سمجھیں کہ آپ کے دلائل ختم ہو گئے ؟؟؟؟؟

واہ دلائل ختم ہوگئے۔ محترم پہلی بات آپ کومعلوم ہی نہیں کہ یہاں پر کیا ہورہا ہے؟ میں آپ لوگون سے دلائل مانگ رہا ہوں دلائل دے نہیں رہا ؟ آئی سمجھ۔اوردوسری بات گالم گلوچ کا آغاز جب مقلدین میری باتوں کے جوابات بادلائل دینے سے عاجز آگئے تب سہج کے منہ سے شروع ہوا۔ اب آپ انصاف کا دامن بھرتے ہوئے بتائیں کہ دلائل کس کے پاس ختم ہوگئے ؟

بنت حوا نے کہا ہے:
خدارا ! مقلد اور غیر مقلد بننے سے پہلے اچھا مسلمان ضرور بنیں ۔ ۔ شکریہ​

ہا ہا ہا ہا مقلد کی ضد غیر مقلد ۔۔۔۔ ذرا یہ بتانا پسند فرمائیں گی کہ کونسی لغت کی کتاب میں مقلد کی ضد غیر مقلد لکھی ہوئی ہے ؟ یا آپ نے بھی بس نام سنے ہوئے ہیں؟ کہ مقلد اور غیر مقلد کچھ بلاؤں کےنام ہیں۔
اور ہاں اچھا مسلمان آدمی تب ہی بنتا ہے جب اپنے لیے اسوۃ رسولﷺ کی زندگی کو بنائے نہ کہ کسی مجتہد وامام کو ؟ اس لیے آپ سب سے گزارش ہے کہ اگر اچھا مسلمان بننا چاہتے ہو تو تقلید کا طوق گلے سے باہر نکال کر اطاعت رسولﷺ کا ہار پہن لو۔

بنت حوا نے کہا ہے:
[b]نوٹ : میرے خیال میں جو گالی گلوچ ہوا ہے اس پہ معذرت کی جائے اور دوستانہ ماحول میں بات آگے بڑھائی جائے[/b]

جی بالکل میں اس پر تیار ہوں اگر آپ کہتی ہیں کہ اصلی حنفی آپ سے گالی گلوچ کا آغاز ہوا ہے تو پھر واضح طور پر معافی مانگنے کو تیار ہوں۔ اور اگر سہج نے کیا ہے تو سہج سے معافی منگوائی جائے۔
معافی کےبعد ہی بات آگے چلے گی۔ اور اس بات کافیصلہ محترم آپ پر ہے۔
 

sahj

وفقہ اللہ
رکن
السلام علیکم

اصلی حنفی نے کہا ہے:
sahj نے کہا ہے:
“شریعت اسلام میں توخود پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی طرف سے بغیر وحی کے کچھ فرمائیں تو وہ بھی حجت نہیں ۔‘‘(طریق محمدی،مسٹر محمد جوناگڑہی)

سہج حرامی یا حلالی یا منافق یا اغیرہ وغیرہ کی باقی سب باتوں کا جواب بالتفصیل بعد میں دیا جائے گا۔ لیکن مسٹر عبداللہ بن ابی نے جو یہ بات کی ہے۔ اس کا جواب سنیں مسٹر عبداللہ بن ابی

اتنے غلیظ ذہن کے مالک ہو اتنا تک بھی نہیں معلوم کہ مولانا جونا گڑھی صاحب کی اس عبارت کا کیا مطلب ہے؟ (سچ کہتے ہیں علماء کہ مقلد اندھا، متعصب، جاہل، بے وقوف اور ناکارہ ہوتا ہے۔ اگر میری باتوں پہ یقین نہ آئے تو تو بتا دینا حوالہ جات پیش کیے جائیں گے)

عبداللہ بن ابی صاحب اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کا ذاتی مشورہ اور رائے ہے۔ اگر اس ذاتی مشورہ نہ ماننے پر آپ ہمیں لعن طعن کی بکواس کررہے ہیں تو پھر آپ کو اتنا بھی معلوم ہونا چاہے کہ آپ کی اس بکواس کی انتہاء کہاں تک جا پہنچتی ہے۔ ایک حوالہ پیش ہے۔

جنگ بدر میں ہی جب کفار مکہ نے بدر کی وادی کے عدوۂ قصوی پر ڈیرہ ڈالا تو آنحضرتﷺ نے صحابہ کے ساتھ ماءِ بدرکے قریب پڑاؤفرمایا۔ اس موقعہ پر حضرت حباب بن المنذرؓ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور پوچھا ، یا رسول اللہ کیااس مقام پر قیام کرنے کاحکم خدا نے آ پ کو دیاہے کیونکہ اگر ایساہے تو پھر اس جگہ سے ادھر ادھر نہیں ہو سکتے یا کہ پھر یہ آپ کی رائے ہے اور جنگی حربہ ہے۔ آپؐ نے فرمایا بلکہ یہ رائے ہے اور جنگی حربہ ہے۔ اس پر حبابؐ نے کہا کہ اگر ایسی بات ہے تو پھر یہ جگہ ہمارے ٹھہرنے کی نہیں ہے بلکہ میرا مشورہ یہ ہے کہ ہمیں پانی کے اس کنارے پر پڑاؤ کرنا چاہئے جو کفار کے نزدیک ہے۔ اس طرح ہم پیچھے کی جانب زمین کھود کر حوض بنالیں گے اور پانی اس میں سٹور کر لیں گے ۔ یوں جنگ کے دوران ہم تو پانی پی سکیں گے جبکہ وہ اس سے محروم رہیں گے ۔ آنحضرت ﷺکو یہ مشورہ بہت پسند آیا چنانچہ آپ اٹھے اور وہی جگہ قیام کے لئے اختیار فرمائی جس کی طرف حبابؓ نے اشارہ کیا تھا۔ اور فرمایا اے حبا بؓ تمہاری رائے واقعی بہت اچھی ہے ۔
(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام۔ الجزء الثانی صفحہ ۲۷۲۔ دارالقلم بیروت ۔ الطبعۃ الاولیٰ ۱۹۸۰؁ء۔ ۔ الطبقات الکبریٰ لابن سعد الجزء الثانی صفحہ ۱۱ دارالکتب العلمیہ الطبعۃ الاولیٰ ۱۹۹۰؁ء)

او مسٹر عبداللہ بن ابی منافق اب لگا صحابی رسولﷺ پر حکم۔؟ جب رسول پاکﷺ ایک عمل کرچکے ہیں تو کسی صحابی کی کیا جرات کے اس کے خلاف مشورہ دے۔؟ اس لیے مسٹر منافق مولانا جونا گڑھی صاحب کے الفاظ پر غور کرو لکھا ہے
’’اپنی طرف سے بغیر وحی کے‘‘
اور جو اپنی طرف سے بغیر وحی کے ہوگا وہ کیا ہوگا مسٹر منافق یا مشورہ ہوگا یا رائے ہوگی۔ چاہے اس کا تعلق عمل سے ہو یا قول سے۔ تو جب صحابی رسولﷺ آپ کے ذاتی عمل کے خلاف مشورہ پیش کرسکتا ہے اور آپﷺ اس پرعمل بھی کرلیتے ہیں تو پھر اگر آج ہم یہ کہہ دیں تو ہماری اوپر لعن طعن کی بکواسات شروع کردی جاتی ہیں۔ حضور مسٹر منافق اتنے اندھے ہو کہ اتنا تک بھی نہیں جانتے کہ اگر اس فعل پر ہم ان کو قصور وار ٹھہرا رہے ہیں تو اس فعل کا ارتکاب تو صحابہ کرام بھی کرچکے ہیں۔ کیا ہمارے اس غلیظ بکواسات کی زد میں کہیں صحابہ کرام تونہیں آتے۔۔شاید پہلے تم نے نہیں سوچا ہوگا۔۔امید ہے اب ضرور سوچو گے۔

نوٹ
باقی باتوں کا جواب بھی اسی طرح دیا جاسکتا ہے لیکن پہلے اب مسٹر عبداللہ بن ابی منافق یعنی سہج حرامی اپنے حلالی ہونے پر قول امام پیش کریں گے۔
الحمدللہ
مسٹر اصلی غیر مقلد مان چکے ہیں کہ ان کا یعنی نام نہاد غیر مقلدین یا فرقہ اہل حدیث کے عقائد میں یہ بات شامل ہے کہ “شریعت اسلام میں توخود پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی طرف سے بغیر وحی کے کچھ فرمائیں تو وہ بھی حجت نہیں ۔‘‘
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات سچ ھے

- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُغِيثٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَىْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُرِيدُ حِفْظَهُ فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ وَقَالُوا أَتَكْتُبُ كُلَّ شَىْءٍ تَسْمَعُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَشَرٌ يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا فَأَمْسَكْتُ عَنِ الْكِتَابِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَوْمَأَ بِأُصْبُعِهِ إِلَى فِيهِ فَقَالَ ‏"‏ اكْتُبْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَخْرُجُ مِنْهُ إِلاَّ حَقٌّ ‏"‏ ‏.

ترجمہ:-

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں جو حدیث ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا ، اس کو لکھ لیتا اپنے یاد کرنے کے لیے۔
پھر قریش کے لوگوں نے مجھ کو لکھنے سے منع کیا اور کہا کہ : تم ہر بات لکھ لیتے ہو حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں ، غصے اور خوشی کی دونوں حالتوں میں باتیں کرتے ہیں۔
یہ سن کر میں نے لکھنا چھوڑ دیا۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے انگلیوں سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا :
اكتب فوالذي نفسي بيده ما يخرج منه إلا حق
لکھا کر ! قسم اس ذات پاک کی جس کے اختیار میں میری جان ہے ، اس منہ سے سوائے سچ کے ، کوئی بات نہیں نکلتی۔

ابو داؤد ، كتاب العلم ، باب : في كتابة العلم۔

باقی رہا اس واقعہ کی بات جس کو آپ جواز میں پیش کررہے ہیں اس باطل عقیدے کے ۔ تو مسٹر اصلی غیر مقلد جنگ کے حالات میں مشورہ کی مثال دے کر آپ جوناگڑھی کی طرف سے کہے الفاظ کی اندھی تقلید کرکے یہ ثابت کرچکے ہیں کہ آپ ہی اہل ہیں اندھی تقلید کے۔ ہم تو اہل السنت والجماعت ہیں ہمارے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول بھی سنت ہے اور صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قول و فعل بھی حجت ہے مزید یہ کہ جماعت صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی ہم حجت مانتے ہیں اور یہی واقعہ جو آپ نے اندھی تقلید کرتے ہوئے پیش کیا ہے اس جیسے کئی واقعات حضرت ابوبکر،حضرت عمر رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ادوار میں خود ان کے ساتھ پیش آئے حالت جنگ میں جب انہوں نے اک حکم دیا اور انکے ماتحت صحابی نے انکو برخلاف بتلایا اور انہوں نے جنگی حکمت عملی کے بارے میں اسے مان لیا ۔ ایسے ہی اک واقعہ “خندق“ میں بھی پیش آیا جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابی رسول سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورہ پر پیٹ پر پتھر بھی باندھنے پڑے ۔
ارے مسٹر اصلی غیر مقلد ایسے واقعات سے تو یہ نتیجا نکالو کہ صحابی کی درایت حجت ہے اسکے برعکس تم لوگوں یعنی فرقہ اہل حدیث کا عقیدہ باطلہ ہے کہ “قول صحابی حجت نیست“۔
امید ہے بات سمجھ جائیں گے آپ اور اب آخری بات کا بھی جواب دے دیجئے
4
تقلید ایک کی چھوڑی جائے یا سب کی ؟
اسکا جواب بھی دے ہی دو مسٹر اصلی غیر مقلد ، تاکہ کم ازکم یہ تو معلوم ہو ہی جائے کہ آپ کس درجہ کے غیر مقلد ہو۔

شکریہ
 

sahj

وفقہ اللہ
رکن
السلام علیکم

ضروری وضاحت

مسٹر اصلی حنفی یعنی جو اصلی غیر مقلد ہیں ، نے اصلی حنفی نام رکھ کر مسلمانوں کو دھوکہ دیا اسلئے انہیں “اصلی منافق“ کہا اور اسمیں کوئی شک نہیں کہ بعد میں انہوں نے اپنے عقائد غیر مقلدین کے عین مطابق گالیوں کی بارش شروع کردی جو کہ ان ہی غیر مقلدین کے ہاں دکھائی دینا ان کا خاصہ ہے ۔

میں نے جو الفاظ استعمال کئے وہ صرف اسی لئے تھے، اب جب کہ مسٹر اصلی غیر مقلد اچھی طرح تھیلے سے باہر آچکے ہیں اور نقاب اتار کر پھینک چکے ہیں تو پھر انہیں اب اپنا عقیدہ بتانا چاھئیے کہ نہیں ؟؟
یعنی
4
تقلید ایک کی چھوڑی جائے یا سب کی ؟


ان شاء اللہ مسٹر اصلی غیر مقلد جب یہ بتادیں گے کہ ان کا تقلید کے بارے میں کیا عقیدہ ہے صاف اور آسان الفاظ میں ، تو پھر ان سے ان کے عقایدے کی روشنی میں بات کریں گے۔

والسلام
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
سہج مقلد آپ کی باتوں کا تفصیلی جواب بہت ہی احسن اور خاموش کرانےوالا دیا جاسکتا ہے۔ جس کے بعد امید ہے کہ ماقبل روٹین کی طرح بے تکے سوالوں کے گیت گانا شروع کردو گے۔ لیکن پہلے محترمہ بنت حوا کا بیان عالیشان آجائے کیونکہ انہوں نےکہا تھا کہ

’’نوٹ : میرے خیال میں جو گالی گلوچ ہوا ہے اس پہ معذرت کی جائے اور دوستانہ ماحول میں بات آگے بڑھائی جائے‘‘


میں اب اسی انتظار میں ہوں کہ محترمہ کب تشریف لاکر فیصلہ فرماتی ہیں۔ میں علی الاعلان کہہ چکا ہوں کہ اگر محترمہ کہیں کہ اصلی حنفی آپ نے ماحول کو خراب کیا ھے تو میں معذرت کرنے کےلیے تیار ہوں۔ اور اگر سہج مقلد نے یہاں آکر گند پھیلایا ہے تو پھر اس سے علی الاعلان معذرت کرائی جائے گی۔
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
محترمہ بنت حوا آپ کہاں چلی گئی ہیں۔؟ ذراتشریف لاکر بات کو سمیٹیں تاکہ سہج مقلد کی افسانہ مثل باتوں پر کچھ لکھا جائے۔
 

عام آدمی

وفقہ اللہ
رکن
میرے خیال میں اس تھریڈ کو اب مقفل کرانا چاہیے۔ اور بحث کے اہم نکات کو نئے تھریڈزمیں مثبت اندازسے اور نئے زاویوں سے پیش کرنا چاہئے۔ بسا اوقات جب ہمیں ہماری توقعات کے مطابق جواب نہیں ملتا۔ اور فریق ثانی اپنا موقف واضح انداز میں پیش کر دیتا ہے۔ ایسے میں ہم لا شعوری طور پر فریق ثانی کی صحیح موقف کو ٹھکرانے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ اسکی وجہ ایک تو حد سے بڑھا ہوا تعصب ہے اور دوسرا اپنے اساتذہ ، والدین اور احباب کی وہ حکایتیں و نظریات ہوتی ہیں جو وہ ہمارے اذہان میں غیر شعوری طور ہر نقش کراچکے ہوتے ہیں۔ ایسے مین انسان اپنے نظریات سے متصادم صحیح بات کو بھی رد کردیتا ہے اوربعض اوقات اس موقف اور اسکے حامیان کا دشمن ہو جاتا ہے۔ اس طرح نوبت کھبی کھبار ایک دوسرے کی اہانت کی بھی آ جاتی ہے۔ ناصر نعمان صاحب نے بڑے ہی احسن انداز میں حق کو واضح کیا اور سہج اور شرر صاحبان نے بھی اہم نکتوں کی نشاندہی کی۔ اصلی حنفی صاحب سلجھے ہوئے انسان لگتے ہیں۔ اگر وہ ناصر نعمان صاحب
کے پوسٹس کو تعصب اور اپنے گرد و پیش کے نظریات سے بالا ہو کر پڑھیں تو انشاء اللہ ان کے اشکالات کا حل ہو جائے گا۔
والسلام
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
سب سے پہلے میری گزارش ہے کہ تب تک اس تھریڈ کو مقفل نہیں کیا جانا چاہیے جب تک محترمہ بنت حوا یہ نہیں کہہ دیتی کہ ماحول اصلی حنفی نے خراب کیا ہے یاسہج مقلد نے؟ اور پھر محترمہ جس کا نام لیں گیں اس کو علی الاعلان دوسرے سے معافی مانگنی ہوگی۔ اگر محترمہ قرآن وسنت کی تعلیمات اور عدل وانصاف کے پیمانے کو مدنظر رکھتےہوئے میرا نام لیتی ہیں تو میں علی الاعلان معافی مانگنے کوتیار ہوں اوراگر سہج مقلد کا نام لیتی ہے تو اس سے معافی منگوائی جائے گی۔۔ اس کے بعد چاہے مقفل کردیں یا اوپن رکھیں مجھے کوئی غرض نہیں۔

عام آدمی نے کہا ہے:
میرے خیال میں اس تھریڈ کو اب مقفل کرانا چاہیے۔

مقفل کیا جانا چاہیے یا ناں۔ اسب بارے وضاحت فرمادی ہے۔ لیکن اگر میری وضاحت غیر مناسب ہے تو بے شک مقفل کردیا جائے۔ کیونکہ لاجوابی کا ایک ہی حل تو ہے۔

عام آدمی نے کہا ہے:
اور بحث کے اہم نکات کو نئے تھریڈزمیں مثبت اندازسے اور نئے زاویوں سے پیش کرنا چاہئے۔

محترم جناب اہم نکات اور وہ بھی نئے اورمثبت انداز میں؟ کتنے نکات ہیں؟ میرا صرف ایک ہی سوال ہے۔ اگر سوال غلط ہے تو بتائیں اوراگر سوال بھی درست ہے اور پھر بھی آپ لوگوں کے پاس اس کا جواب نہیں تو ٹھیک ہے اگر نئے تھریڈ سے اسی سوال پر نئے انداز سےگفتگو کا پروگرام ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔

عام آدمی نے کہا ہے:
بسا اوقات جب ہمیں ہماری توقعات کے مطابق جواب نہیں ملتا۔ اور فریق ثانی اپنا موقف واضح انداز میں پیش کر دیتا ہے۔ ایسے میں ہم لا شعوری طور پر فریق ثانی کی صحیح موقف کو ٹھکرانے کے درپے ہو جاتے ہیں۔

جزاک اللہ آپ کی بات درست ہے۔ لیکن یادر رہے کہ ایسا مقلدین حضرات کرتے ہیں۔ کیونکہ ان پر اپنے امام کی تقلید واجب ہوتی ہے۔ اس لیے انہیں قرآن وحدیث سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ چاہے قرآن وحدیث کے واضح دلائل اس کے سامنے پیش کر دیئے جائیں۔ مثلاً

سیدنا ابن عمر﷜ سےروایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر نشہ دینے والی چیز شراب ہے اور ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے۔ (مسلم ج2 کتاب الاشربۃ، باب بیان ان کل مسکر خمرالخ)

لیکن اس کے مقابلےمیں تقلید نے ہمیں کیا سبق دیا کہ

’’یعنی گندم، جو، شہد اور جوار سے شراب بنانا ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک حلال ہے۔ اس کے پینے والے پر اگرچہ اس کو نشہ ہی کیوں نہ ہو کوئی حد نہیں‘‘(ہدایۃ آخیرین ج4، کتاب الاشربۃ ص 496)

اب دیکھیں ایک طرف رسول کریمﷺ کا واضح فرمان ہے اور دوسری طرف ہم نے تقلید کرتے ہوئے حدیث مخالف مسئلہ اپنے گلے کا ہار بنالیا۔ اس لیے جناب یہ سب مقلدین حضرات ہی کرتے ہیں۔ ان کے سامنے جتنے دلائل رکھ دیئے جائیں لیکن اپنے امام کے قول کو درست ثابت کرنے کےلیے قرآن وحدیث کا قیمہ بناتے چلے جائیں گے۔

عام آدمی نے کہا ہے:
اسکی وجہ ایک تو حد سے بڑھا ہوا تعصب ہے اور دوسرا اپنے اساتذہ ، والدین اور احباب کی وہ حکایتیں و نظریات ہوتی ہیں جو وہ ہمارے اذہان میں غیر شعوری طور ہر نقش کراچکے ہوتے ہیں۔

میں کہتا ہوں کہ آدمی کو حقائق قبول کرنےوالا ہونا چاہیے۔ ضد اور ہٹ دھرمی اوروہ بھی دین کے کسی مسئلہ میں؟ یہ سمجھ سے بالا تر ہے۔۔ جب دلائل سامنے ہوں تو بات کو بات لینا ہی بہت بڑی بہادری ہے۔ اور شریعت کی بھی یہی تعلیم ہے۔ کتنے سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کےواقعات ملیں گے کہ جب دلیل سامنے آجاتی تو سر تسلیم خم کرلیتےتھے۔

عام آدمی نے کہا ہے:
ناصر نعمان صاحب نے بڑے ہی احسن انداز میں حق کو واضح کیا اور سہج اور شرر صاحبان نے بھی اہم نکتوں کی نشاندہی کی۔

واہ بہت خوب چلیں آپ نیو تھریڈ قائم کرکے میرے کیے گئے سوال کا جواب ناصر بھائی کی پوسٹ ہی نکال کر سامنے رکھ دیں کہ اصلی حنفی ناصر بھائی کی ان باتوں میں تمہارے سوال کاجواب ہے۔ تاکہ مجھے بھی معلوم ہوجائے کہ ناصر بھائی کی اتنی لمبی پوسٹس میں میرےسوال کاجواب کہاں چھپا ہوا ہے۔

عام آدمی نے کہا ہے:
اصلی حنفی صاحب سلجھے ہوئے انسان لگتے ہیں۔ اگر وہ ناصر نعمان صاحب کے پوسٹس کو تعصب اور اپنے گرد و پیش کے نظریات سے بالا ہو کر پڑھیں تو انشاء اللہ ان کے اشکالات کا حل ہو جائے گا۔
والسلام

جناب عامی آدمی صاحب میں نے پڑھا ہے اور بارہا پڑھا ہے لیکن مجھے میرے سوال کاجواب کہیں نظر نہیں آیا۔
 

ذیشان نصر

وفقہ اللہ
رکن
ایک بار پھر میری تمام دوستوں سے گذارش ہے کہ یہ تھریڈ موضوع سے ہٹ رہا ہے ۔
مہربانی فرماکر نفس مسئلہ پر گفتگو کریں اور گالم گلوچ اور غیر اخلاقی گفتگو سے پرہیز کریں اس روش کو برقرار رکھنے کی صورت میں آئی ڈی بلاک کی جاسکتی ہے۔ امید ہے احباب اس تنبیہہ پر عمل کریں گے۔۔۔ شکریہ
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
ذیشان نصر نے کہا ہے:
ایک بار پھر میری تمام دوستوں سے گذارش ہے کہ یہ تھریڈ موضوع سے ہٹ رہا ہے ۔

جزاک اللہ اور یہی گزارشات میں کئی بار کر چکا ہوں اور اس بات کو بھی برملا کہہ چکا ہوں کہ محترمین انداز بیان سلجھا ہوا اپنائیں۔ لیکن بھائیوں کے انداز بیاں کی وجہ سے میں نے مجبوراً سختی اور اخلاق سے گری ہوئی پوسٹیں کیں جو کہ مجھے نہیں کرنی چاہیے تھیں۔
ان شاءاللہ اب یہ تمام باتیں میری پوسٹ میں نظر نہیں آئیں گی اور نہ ہی موضوع سے ہٹ کر بات ہوگی۔
مقلدین کی یہی توسب سے بڑی پریشانی ہے کہ وہ موضوع پر بادلائل صحیحہ بات کرہی نہیں سکتے اور نہ ہی کرنے کی طاقت ہے۔ اس لیے تو ادھر ادھر کی باتیں کرکے خواہ مخواہ بات کو طول کے ساتھ الجھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
اللہ تعالی حق بات کو بیان کرنے اور اسے بغیر خوف وخطر قبول کرنے کی توفیق دے۔آمین

ذیشان نصر نے کہا ہے:
مہربانی فرماکر نفس مسئلہ پر گفتگو کریں

جی ضرور میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ نفس مسئلہ پر ہی گفتگو ہو

ذیشان نصر نے کہا ہے:
اور گالم گلوچ اور غیر اخلاقی گفتگو سے پرہیز کریں

ضرور بھائی جان

ذیشان نصر نے کہا ہے:
اس روش کو برقرار رکھنے کی صورت میں آئی ڈی بلاک کی جاسکتی ہے۔

ان شاءاللہ اب میری طرف سے کوئی بداخلاقی نہیں ہوا کرے گی۔ باقی رہے مقلدین تو ان کے کھاتے میں لکھی ہی بداخلاقی ہے۔ بے چارے مجبور ہیں۔

ذیشان نصر نے کہا ہے:
امید ہے احباب اس تنبیہہ پر عمل کریں گے۔۔۔ شکریہ

ان شاءاللہ

نوٹ:
محترمہ بنت حوا سے ایک بار پھر بادب گزارش ہے کہ وہ آکر اپنا فیصلہ سنا جائیں۔ بہت مہربانی ہوگی ۔ کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ اگر میری طرف سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو برملا معافی مانگ لوں تاکہ کل قیامت کو معاوضہ نہ دینا پڑے۔ اور اگر میرے مخالف سے یہی حرکت ہوئی تو وہ بھی برملا معافی کا اعلان کرے اور آئندہ اس طرح کی گفتگو سے ہمیشہ کےلیے تائب ہوجائے۔ شکریہ محترمہ
 

sahj

وفقہ اللہ
رکن
السلام علیکم

مسٹر اصلی غیر مقلد صاحب جو کہ یہاں اصلی حنفی کی آئی ڈی سے پہچانے جارہے ہیں، آپ کو شاید یاد نہیں رہا کہ آپ سے کچھ سوالات پوچھے تھے


sahj نے کہا ہے:
السلام علیکم جناب اصلی حنفی

پہلے ان سوالوں کے جواب دیجئے

1
اصلی حنفی صاحب اگر آپ واقعی اصلی حنفی ہیں تو پھر اپنے آپ کو اصلی حنفی ثابت کردیں۔

2
اگر جھوٹ موٹ اصلی حنفی بن کر آئے ہیں تو پھر اپنا اصلی عقیدہ بھی بتادیں۔

3
منافقوں والا طریقہ چھوڑ دیں اور آپ جو ہیں ، وہی بن کر بات کریں۔
(یعنی غیر مقلد،شیعہ،بریلوی،وغیرہ)

4
تقلید ایک کی چھوڑی جائے یا سب کی ؟


نوٹ:- بلکل سچی سچی جواب دینا ہے جناب پھر ان شاء اللہ آپ کو تقلید آپ کے ہی طریقے سے سمجھانے کی کوشش کروں گا۔



شکریہ

اسکے جواب میں آپ نے پہلے تین سوالوں کے جواب اپنے خاص انداز میں بتلادئے ہیں اور ہم سمجھ بھی چکے ہیں بلکہ پہلے سے جانتے تھے ۔

اب اک آخری سوال نمبر چار رہ گیا ہے بے چارہ اسکا جواب بھی عنایت کردیجئے صاف صاف اور آسان آسان الفاظ میں کیونکہ ان شاء اللہ آپ کے جواب نمبر چار کے بعد ہی بات آگے بڑھ سکتی ہے ۔بصورت دیگر السلام علیکم کہوں گا آپ کو صرف۔
جواب دینے سے پہلے آپ پہلے اس اقتباس کو پڑھ لیجئے تاکہ آپ کو جواب بنانے میں آسانی ہوجائے۔

مولانا محمد حسین بٹالوی لکھتے ہیں:
“ جہاں نص نہ ملے وہاں صحابہ تابعین و ائمہ مجتہدین کی تقلید کرتے ہیں خصوصاً آئمہ مزھب حنفی کی “
(اشاعۃ السنہ۔ج23،ص290)

“خاکسار نے رسالہ نمبر6 جلدنمبر 20 کے صفحہ 201 اپنے بعض اخوان اور احباب اہلحدیث کو یہ مشورہ دیا ہے کہ اگر ان کو اجتہاد مطلق کا دعوٰی نہیں اور جہاں نص قرآنی اور حدیث نہ ملے وہاں تقلید مجتہدین سے انکار نہیں تو وہ مزہب حنفی یا شافعی(جس مزہب کے فقہ و اصول پر بوقت نص نہ ملنے کے وہ چلتے ہوں) کی طرف اپنے آپ کو منسوب کریں“۔
(اشاعۃ السنہ،ج23،ص291)

“جس مسئلہ میں مجھے صحیح حدیث نہیں ملتی اس مسئلہ میں میں اقوال مزہب امام سے کسی قول پر صرف اس حسن ظنی سے کہ اس مسئلہ کی دلیل ان کو پہنچی ہوگی تقلید کرلیتا ہوں ۔ ایسا ہی ہمارے شیخ و شیخ الکل (میاں صاحب) کا مدت العمری عمل رہا“۔
(اشاعۃ السنہ،ج22،ص310)

اگر تعصب کی عینک اتار کر آپ اپنے اکابرین کے طرزعمل کو دیکھ لیں اور سمجھ کر مان لیں تو شاید مسئلہ حل ہوجائے ورنہ ضد کا تو کوئی علاج ہم میں سے کسی کے پاس نہیں مسٹر اصلی ۔

اور اگر آپ تکلیف فرماکر اپنا لیڈنگ مراسلہ دیکھ لیں اس تھریڈ کا تو وہاں آپ نے ابتدائی کلمات میں فرمایا تھا
“مقلدین اور اہل حدیث کےہاں اختلافی مسائل میں سے ایک مسئلہ تقلید بھی ہے۔مقلدین حضرات کہتے ہیں کہ تقلید کی جائے گی بلکہ تقلید واجب ہے جب کہ اہل حدیث کہتے ہیں کہ تقلید نہیں کرنی چاہیے۔“

آپ کے اکابرین کے اقوال آپ کو دکھادئیے ہیں کہ وہ تقلید کیا کرتے تھے مجتہدین کی خصوصاً حنفی مزہب کی ، تو آپ کا یہ کہنا کہ “تقلید نہیں کرنی چاھئیے“ سوال نمبر چار
4
تقلید ایک کی چھوڑی جائے یا سب کی ؟
کے جواب سے آپ کو ان شاء اللہ سمجھ آجانا چاھئے ۔

والسلام
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
sahj نے کہا ہے:
السلام علیکم

وعلیکم السلام

sahj نے کہا ہے:
مسٹر اصلی غیر مقلد صاحب جو کہ یہاں اصلی حنفی کی آئی ڈی سے پہچانے جارہے ہیں، آپ کو شاید یاد نہیں رہا کہ آپ سے کچھ سوالات پوچھے تھے

محترم مسٹر سہج مقلد آپ اس کوشش میں ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس تھریڈ کو مقفل کرواؤں۔ ان شاءاللہ آپ کی یہ کاوش پوری نہیں ہونے دونگا۔ انتظامیہ محترم مسٹر سہج مقلد کے رویے کو درست کرے۔
اور پھر الحمدللہ میں اصلی حنفی ہی ہوں آپ جیسا دو نمبر حنفی نہیں۔اور مجھے آئینہ دکھانے پر بھی مجبور نہ کیاجائے کہ آپ کیسے حنفی ہیں۔ جب پول کھول دیا گیا تو پھر سر چھپانے کی بھی جگہ نہیں ملے گی۔ ان شاءاللہ
آپ کو اپنے سوالات تو یاد آرہے ہیں لیکن میرا ایک سوال جس پر مقلدیت گھٹنے ٹیک چکی ہے۔ اس کا جواب کون دے گا۔؟ یا پھر یہاں پر لکھا جائے کہ اس کا جواب ہمارے پاس نہیں اور حق بھی وہی ہے جو اصلی حنفی صاحب آپ بیان کررہے ہیں۔ پر ہم مقلد ہیں اس لیے چاہے حق ہمارے سامنے سورج کی طرح بھی آجائے ہم تقلیدی اندھیرے کو ہی پسند کریں گے۔ کیونکہ قسمت میں اندھیرا ہی لکھا گیا ہے۔

sahj نے کہا ہے:
sahj نے کہا ہے:
السلام علیکم جناب اصلی حنفی
پہلے ان سوالوں کے جواب دیجئے
1
اصلی حنفی صاحب اگر آپ واقعی اصلی حنفی ہیں تو پھر اپنے آپ کو اصلی حنفی ثابت کردیں۔
2
اگر جھوٹ موٹ اصلی حنفی بن کر آئے ہیں تو پھر اپنا اصلی عقیدہ بھی بتادیں۔
3
منافقوں والا طریقہ چھوڑ دیں اور آپ جو ہیں ، وہی بن کر بات کریں۔
(یعنی غیر مقلد،شیعہ،بریلوی،وغیرہ)
4
تقلید ایک کی چھوڑی جائے یا سب کی ؟
نوٹ:- بلکل سچی سچی جواب دینا ہے جناب پھر ان شاء اللہ آپ کو تقلید آپ کے ہی طریقے سے سمجھانے کی کوشش کروں گا۔
شکریہ

واہ یہ چار سوالات کیے گئے تھے۔ بہت خوب

sahj نے کہا ہے:
اسکے جواب میں آپ نے پہلے تین سوالوں کے جواب اپنے خاص انداز میں بتلادئے ہیں اور ہم سمجھ بھی چکے ہیں بلکہ پہلے سے جانتے تھے ۔

جیسا منہ ویسا تھپڑ کی بات آپ کے کانوں نے سنی ہوگی اس لیے آپ کو جیسا جواب چاہیے تھا ویسا دے دیا گیا۔

sahj نے کہا ہے:
اب اک آخری سوال نمبر چار رہ گیا ہے بے چارہ اسکا جواب بھی عنایت کردیجئے صاف صاف اور آسان آسان الفاظ میں کیونکہ ان شاء اللہ آپ کے جواب نمبر چار کے بعد ہی بات آگے بڑھ سکتی ہے ۔بصورت دیگر السلام علیکم کہوں گا آپ کو صرف۔

آپ بھی میرے سوال کا جواب دیں آسان آسان الفاظ میں اور صاف صاف واضح واضح۔ بصورت دیگر آپ کو بھی السلام علیکم کہا جائے گا۔

sahj نے کہا ہے:
جواب دینے سے پہلے آپ پہلے اس اقتباس کو پڑھ لیجئے تاکہ آپ کو جواب بنانے میں آسانی ہوجائے۔
مولانا محمد حسین بٹالوی لکھتے ہیں:
“ جہاں نص نہ ملے وہاں صحابہ تابعین و ائمہ مجتہدین کی تقلید کرتے ہیں خصوصاً آئمہ مزھب حنفی کی “
(اشاعۃ السنہ۔ج23،ص290)
“خاکسار نے رسالہ نمبر6 جلدنمبر 20 کے صفحہ 201 اپنے بعض اخوان اور احباب اہلحدیث کو یہ مشورہ دیا ہے کہ اگر ان کو اجتہاد مطلق کا دعوٰی نہیں اور جہاں نص قرآنی اور حدیث نہ ملے وہاں تقلید مجتہدین سے انکار نہیں تو وہ مزہب حنفی یا شافعی(جس مزہب کے فقہ و اصول پر بوقت نص نہ ملنے کے وہ چلتے ہوں) کی طرف اپنے آپ کو منسوب کریں“۔
(اشاعۃ السنہ،ج23،ص291)
“جس مسئلہ میں مجھے صحیح حدیث نہیں ملتی اس مسئلہ میں میں اقوال مزہب امام سے کسی قول پر صرف اس حسن ظنی سے کہ اس مسئلہ کی دلیل ان کو پہنچی ہوگی تقلید کرلیتا ہوں ۔ ایسا ہی ہمارے شیخ و شیخ الکل (میاں صاحب) کا مدت العمری عمل رہا“۔
(اشاعۃ السنہ،ج22،ص310)

امتی کے اعمال واقوال پیش کرنے سے پہلے تمہیں یہ سوچنا چاہیے کہ میں اہل حدیث ہوں۔ اور پھرآپ نے یہ عبارت پیش بھی اس لیے کی کیونکہ آپ اس سے متفق ہیں۔ تو چلیں میں آپ سے اس پر سوال کرتا ہوں

1۔ اس عبارت سے یہ بات نکل رہی ہے کہ محمدﷺ مکمل دین ہمیں دے کر نہیں گئے تھے۔؟(نعوذباللہ) کیا آپ اس سے متفق ہیں ؟ کیونکہ اس میں یہ موجود ہے کہ جن مسائل میں نص نہ ملے۔تو کون سے ایسے شرعی مسائل ہیں جو ہم ثواب واعتماد کی غرض سے بجا لاتے ہیں جن پر نص نہیں ہے؟ پلیز ذرا بتانے کی کوشش کریں گے ؟

2۔یہاں لفظ تقلید کا وہی مطلب ہے جو مروجہ تقلید ہے ؟ یا تقلید کا یہاں عرفی معنی لیا جارہا ہے ؟

3۔یہاں پر آئمہ مذہب حنفیہ کی تقلید کی بات کی گئی ہے۔ کسی معین امام کی نہیں۔اور آپ کا مسلک تو بالکل اس کے خلاف ہے ؟ تو یہ کیا کھیل تماشا ہے۔ ذرا واضح کریں گے ؟

sahj نے کہا ہے:
اگر تعصب کی عینک اتار کر آپ اپنے اکابرین کے طرزعمل کو دیکھ لیں اور سمجھ کر مان لیں تو شاید مسئلہ حل ہوجائے ورنہ ضد کا تو کوئی علاج ہم میں سے کسی کے پاس نہیں مسٹر اصلی ۔

محترم ہم جس تقلید کو شرک اور حرام کہتے ہیں وہ تقلید ہے نص کے مقابلے میں۔ کیا آپ جن کی یہ عبارتیں پیش کی ہیں کسی سے ثابت کرسکتے ہیں کہ جو اس بات کا قائل ہو کہ نص کے مقابلے میں بھی آئمہ کی تقلید کی جائے گی ؟

اس بات کو ثابت کریں یا پھر دھوکہ دہی اور مغالطہ بازی کو قبول کریں۔

sahj نے کہا ہے:
اور اگر آپ تکلیف فرماکر اپنا لیڈنگ مراسلہ دیکھ لیں اس تھریڈ کا تو وہاں آپ نے ابتدائی کلمات میں فرمایا تھا
“مقلدین اور اہل حدیث کےہاں اختلافی مسائل میں سے ایک مسئلہ تقلید بھی ہے۔مقلدین حضرات کہتے ہیں کہ تقلید کی جائے گی بلکہ تقلید واجب ہے جب کہ اہل حدیث کہتے ہیں کہ تقلید نہیں کرنی چاہیے۔“

ہم کس تقلید سے روکتے ہیں اور ہمارا کس تقلید پر جھگڑا ہے اس سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ انجان بننے کی کوشش مت کریں۔ اور پیش کردہ اقوال ہر گز اس اختلافی تقلید کی تائید نہیں کرتے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ تائید کرتے ہیں تو آپ پر یہ بات لازم آتی ہے کہ ان سے پھر ثبوت بھی پیش کریں کہ نص کے مقابلے میں بھی تقلید کی جائے گی۔ کیونکہ آپ لوگ نص کی موجودگی میں بھی تقلید کرتے ہیں۔

sahj نے کہا ہے:
سوال نمبر چار
4
تقلید ایک کی چھوڑی جائے یا سب کی ؟
کے جواب سے آپ کو ان شاء اللہ سمجھ آجانا چاھئے ۔
والسلام

تقلید ایک کی چھوڑی جائے یا سب کی ؟ کیا مطلب اس جملے کا ؟ ہاں اگر یوں ہوتا تو کچھ سمجھ میں آتا کہ تقلید ایک کی کی جائے یا سب کی ؟ پر جملے کا یوں ہونا کہ تقلید ایک کی چھوڑی جائے یا سب کی؟ معذرت مجھے سمجھ نہیں آیا

جس تقلید پر اہل حدیث اور مقلدین کا اختلاف ہے اور جس تقلید کو اہل حدیث حرام شرک وغیرہ کہتے ہیں وہ تقلید کسی کی بھی نہ کی جائے۔
امید ہے کہ اس جملے سے بات سمجھ گئے ہونگے۔ اب آپ سے گزارش ہے کہ مجھے میرے ماقبل سوال کا جواب دیا جائے یا پھر اگر جواب نہ ملا تو آپ کو السلام علیکم کہاجائے گا اور کسی اور مقلد کو موقع دیا جائے گا۔ امید ہے کہ آپ عزت بچاتے ہوئے تھریڈ کی طرف رخ نہیں کریں گے۔
 

sahj

وفقہ اللہ
رکن
السلام علیکم
مسٹر اصلی غیر مقلد ودھ آئی ڈی بنام اصلی حنفی صاحب پہلے تو آپ اپنا موقف ایک پیش کریں ، کبھی آپ کہتے ہیں کہ
اصلی حنفی نے کہا ہے:
الحمدللہ میں اصلی حنفی ہی ہوں آپ جیسا دو نمبر حنفی نہیں
پھر آپ کہتے ہیں کہ

اصلی حنفی نے کہا ہے:
امتی کے اعمال واقوال پیش کرنے سے پہلے تمہیں یہ سوچنا چاہیے کہ میں اہل حدیث ہوں
اسی لئے میں نے مصلحتاً آپ کو سخت الفاظ میں مخاطب کیا تھا جس کے جواب میں آپ نے گالیوں کی بارش کی اور اپنے غیر مقلد ہونے کا ثبوت دیا ۔ اور میں ثابت کرچکا کہ آپ غیر مقلد ہیں یعنی اپنے آپ کو “اہل حدیث“ کہنے والے ۔ اب آپ کے ہی الفاظ میں بھی یہ دعوٰی موجود ہے کہ آپ نے اپنے آپ کو اہل حدیث کہا ہے۔ اور اسی مراسلے میں آپ نے شروع کی تیسری سطر میں اپنے آپ کو اصلی حنفی قرار دیا وہ بھی ایک نمبر کا ۔
اب اس تضاد بیانی کے بارے میں آپ ہی بتائیے مسٹر اصلی غیر مقلد صاحب کہ ایسا کیوں ہے ؟


اصلی حنفی نے کہا ہے:
امتی کے اعمال واقوال پیش کرنے سے پہلے تمہیں یہ سوچنا چاہیے کہ میں اہل حدیث ہوں۔ اور پھرآپ نے یہ عبارت پیش بھی اس لیے کی کیونکہ آپ اس سے متفق ہیں۔ تو چلیں میں آپ سے اس پر سوال کرتا ہوں

1۔ اس عبارت سے یہ بات نکل رہی ہے کہ محمدﷺ مکمل دین ہمیں دے کر نہیں گئے تھے۔؟(نعوذباللہ) کیا آپ اس سے متفق ہیں ؟ کیونکہ اس میں یہ موجود ہے کہ جن مسائل میں نص نہ ملے۔تو کون سے ایسے شرعی مسائل ہیں جو ہم ثواب واعتماد کی غرض سے بجا لاتے ہیں جن پر نص نہیں ہے؟ پلیز ذرا بتانے کی کوشش کریں گے ؟

2۔یہاں لفظ تقلید کا وہی مطلب ہے جو مروجہ تقلید ہے ؟ یا تقلید کا یہاں عرفی معنی لیا جارہا ہے ؟

3۔یہاں پر آئمہ مذہب حنفیہ کی تقلید کی بات کی گئی ہے۔ کسی معین امام کی نہیں۔اور آپ کا مسلک تو بالکل اس کے خلاف ہے ؟ تو یہ کیا کھیل تماشا ہے۔ ذرا واضح کریں گے ؟
حضور میں نے آپ کو آئنہ دکھایا تھا کہ دیکھو آپ کے اکابرین میں سے محمد حسین بٹالوی صاحب بھی تقلید کے مرتکب ہوئے، اور آپ ہیں کہ تقلید کو شرک اور حرام قرار دے رہے ہیں؟ اور جناب یہ جو تین سوال آپ نے لکھے ہیں یہ میں آپ سے ہی کرتا ہوں کیوں کہ میں کسی غیر مقلد کی جانب سے کی گئی تقلید سے متفق نہیں کیوں کہ وہ جس تقلید کو کرنے کا اقرار کر رہے ہیں وہ ہے “ نفس پرستی“ اور مقلد اپنے نفس کو مارتا ہے اس کی پرستش نہیں کرتا جبکہ آپ کے اکابرین سمیت آپ کا موچی ،گوالا، ڈرائیور اور دوسرے عام سادہ لوح قسم کے تمام “اہل حدیث“ ہونے کے دعوے دار افراد صڑف اور صرف نفس کی پرستش میں لگے ہوئے ہیں ۔ یعنی اپنی نفسانی تسکین کی خاطر کبھی اہل سنت والجماعت والوں کی تقلید کرلی اور جب مطلب نکل گیا تو انہیں کو گالیاں دینا شروع کردیں ۔ نہیں مسٹر نہیں یہ آپ بتائیں گے کہ کیا آپ بٹالوی صاحب کے اقراری مشرک اور کافر اور حرام فعل کے مرتکب ہونے سے متفق ہو یا انہیں ابھی تک اپنا علامہ سمجھتے ہو؟ اور یہ بھی آپ ہی بتاؤ کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دین بٹالوی سے لیکر آج تک کے غیر مقلدوں تک نہیں پہنچا کہ وہ آئمہ احناف کی “تقلیدیں “کرتے پھرتے ہیں اور پھر بھی آپ کے بڑے علامے ہیں ؟ اور رہی بات معین امام کی تو جناب سے اسی لئے پوچھا تھا کہ بتادیں کہ تقلید ایک کی چھوڑیں یا سب کی ؟ کیونکہ آپ کے فرمان کے مطابق لگتا ہے کہ آپ بغیر معین کئے تقلیدکے قائل ہیں ؟ اور اعتراض صرف معین کرکے تقلید کرنے پر ہے ؟ اور کیا کھیل تماشا لگایا ہوا ہے اکابرین غیر مقلدین نے یہ بھی بتانا آپ ہی کے ذمہ ہے ۔
اصلی حنفی نے کہا ہے:
محترم ہم جس تقلید کو شرک اور حرام کہتے ہیں وہ تقلید ہے نص کے مقابلے میں۔ کیا آپ جن کی یہ عبارتیں پیش کی ہیں کسی سے ثابت کرسکتے ہیں کہ جو اس بات کا قائل ہو کہ نص کے مقابلے میں بھی آئمہ کی تقلید کی جائے گی ؟
نص کے مقابلہ میں نا سہی نص کے نا ہونے پر تو تقلید کی ناں ؟ اور پھر جو تقلید کی جائے نص کے نا ہونے پر تو وہ آپ کے ہاں شرک اور حرام نہیں ہے یہ بتانے کا شکریہ ۔ اور یہ بھی آپ کو ہی ثابت کرنا ہے مسٹر اصلی غیر مقلد کہ آپ کے علامے جو تقلید کرتے تھے وہ حلال اور توحید کے عین مطابق تھی۔ ویسے بائی دی وے آپ فرقہ اہل حدیث یعنی غیر مقلدین کے ہاں تو تمام مقلدین احناف ،شافعی،مالکی، حنبلی مشرک اور کفر کے مرتکب ہیں ۔ تو پھر آپ کے اکابرین انہیں کافروں اور مشرکوں کی “تقلید“ کرتے کیوں پائے جاتے ہیں ؟ کیا فرقہ اہل حدیث میں ایسا کوئی غیر مشرک اور غیر کافر نہیں پیدہ ہوا جس کی غیر مقلدین سادہ لوح عوام یا علامہ حضرات وقت ضرورت نفس کے تقلید کرسکیں ؟


اصلی حنفی نے کہا ہے:
ہم کس تقلید سے روکتے ہیں اور ہمارا کس تقلید پر جھگڑا ہے اس سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ انجان بننے کی کوشش مت کریں۔ اور پیش کردہ اقوال ہر گز اس اختلافی تقلید کی تائید نہیں کرتے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ تائید کرتے ہیں تو آپ پر یہ بات لازم آتی ہے کہ ان سے پھر ثبوت بھی پیش کریں کہ نص کے مقابلے میں بھی تقلید کی جائے گی۔ کیونکہ آپ لوگ نص کی موجودگی میں بھی تقلید کرتے ہیں۔
دیکھئے مسٹر اصلی غیر مقلد ، یہ بات تو صاف طور پر واضح ہوچکی ہے کہ آپ بہت ساروں کی تقلید کرنے کو شرک و کفر و حرام نہیں مانتے بلکہ ایک کی تقلید کرنے کو حرام و شرک قرار دیتے ہو ۔ کیوں ٹھیک ہے کہ نہیں؟ اب یہ آپ کو ہی بتانا ہے کہ آپ کے اکابرین نے جو تقلید کی آئمہ احناف کی تو وہ نص کے مخالف کی تھی یا نص کے مطابق ؟
ہم جو تقلید کرتے ہیں وہ الحمدللہ نص کے عین مطابق ہے

فَاسْأَلُواْ أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ
(النحل سو اگر تمہیں معلوم نہیں تو اہلِ علم سے پوچھ لو
43)

اور آپ جس تقلید کے قائل ہو اس کو “نص کے مطابق“ ثابت کیجئے مسٹر اصلی غیر مقلد۔

اصلی حنفی نے کہا ہے:
جس تقلید پر اہل حدیث اور مقلدین کا اختلاف ہے اور جس تقلید کو اہل حدیث حرام شرک وغیرہ کہتے ہیں وہ تقلید کسی کی بھی نہ کی جائے۔
یہاں پھر وہی سوال پیدہ ہوتا ہے کہ اکابرین فرقہ اہل حدیث نے جو اقرار کیا تقلید کا وہ حرام اور شرک و کفر کیوں نہیں ؟ بھئی سیدھی سی بات ہے قرآن حدیث کو چھوڑ کر امتی کی یا امتیوں کی اندھی تقلید کرنا وہ بھی اقراری اور اعلانیہ ؟ اور پھر تقلید کو گالیا بھی دینا؟ مقلدین کو کافر بھی کہنا ؟ اور جب باری اپنی آئے تو پھر ایسی تقلید اور ویسی تقلید کا راگ سنانا ؟
مسٹر اصلی غیر مقلد اسی لئے آپ سے پوچھا تھا کہ تقلید ایک کی چھوڑی جائے یا سب کی ؟
تقلید ایک کی چھوڑی جائے یا سب کی ؟ کیا مطلب اس جملے کا ؟ ہاں اگر یوں ہوتا تو کچھ سمجھ میں آتا کہ تقلید ایک کی کی جائے یا سب کی ؟ پر جملے کا یوں ہونا کہ تقلید ایک کی چھوڑی جائے یا سب کی؟ معذرت مجھے سمجھ نہیں آیا
مطلب ایک ہی ہے مسٹر اصلی غیر مقلد ، لیکن اب تیر نکل چکا ہے آپ کی کمان سے اب آپ صرف یہ صاف صاف بتادیں کہ آپ جس تقلید کے قائل ہیں وہ کون سی ہے ؟

والسلام
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
واہ بہت خوب چالاکی کھیلی گئی ہے ۔ ناں محترم ناں ۔ سب چالاکیوں کو میں جانتا ہوں اور کیسے ان کا منہ بند کرنا ہوتا ہے یہ بھی مجھے بخوبی معلوم ہے۔ موضوع کو گھر سے بے گھر کرنا تو مقلدین کا وطیرہ ہے۔ اور جب کسی موضوع پر دلیل نہ بن پڑے تو عارضی باتوں کا سہارا لے کر تھریڈ بھی مقفل کردیا جاتا ہے۔ حالانکہ جس تھریڈ کو مقفل کیا گیا ہے اس میں فریق مخالف کا رویہ میرے سے کم نہیں جو کہ میری باتوں کو ایشو بناتے ہوئے تھریڈ مقفل کردیا گیا ہے۔

اس تھریڈ میں بھی یہی کوشش کی جارہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح تھریڈ کو مقفل کرادیا جائے یا پھر موضوع سے ہٹا دیا جائے۔

موضوع سے ہٹ کر اب تک میں جوابات لکھتا آیا لیکن اب پہلے موضوع پر ہی بات ہوگی۔ باقی مسٹر مقلد سہج آپ کی یہ تمام باتیں اور سوالات فی الحال جہاں تک بات پہنچی تھی اس سے متعلقہ ہیں ہی نہیں۔ یہ تو بعد کی باتیں ہیں۔(جن کا جواب ان شاءاللہ منہ توڑ دیا جائے گا۔) اس لیے اب جہاں بات رکی تھی وہاں سے شروع کرتے ہیں ۔

بات ہماری چل رہی تھی کہ تقلید کی لغوی واصطلاحی تعریف کیا ہے۔ دونوں تعریفات پیش کی گئی لیکن اس میں ایک سوال اٹھایا گیا تھا کہ

تقلید پر دلیل ہوتی ہے کہ نہیں ساتھیوں نےکہا کہ دلیل تو ہوتی ہے لیکن دلیل کا مطالبہ نہیں کیا جاتا۔ اس پر کہا گیا کہ تقلید کی جتنی تعریفیں لکھی بیان کی گئی ہیں اس سے تو یہ بات ثابت نہیں ہوتی پھر آپ یہ کیوں کہہ رہے ہیں ؟

اس بات کا جواب ابھی تک ادھر ادھر کی باتوں کےعلاوہ کہیں سے بھی نہیں آیا۔ اور مسٹر سہج مقلد آئے انہوں نے بات کا رخ ہی تبدیل کردیا۔

محترم اب تک تو آپ کی پوسٹ پر لکھتا آیا ہوں ٹائم پاس کےلیے اور اس بات کےلیے کہ کس وقت آپ کو شرم آجائے اور آپ ماقبل پوسٹ سوال کا جواب دےدیں لیکن اب یہ معلوم ہوگیا ہے کہ آپ کو شرم دلانی پڑے گی ویسے آپ کو شرم نہیں آئے گی اس لیے محترم سہج مقلد یہ لیں شرم دلا رہا ہوں

بھائیوں نے کہا کہ دلیل تو ہوتی ہے لیکن دلیل کا مطالبہ نہیں کیا جاتا۔ لیکن یہ بات تعریفات میں ہمیں نہیں ملتی بلکہ تعریفات میں یہ بات ملتی ہے کہ دلیل سرے سے ہوتی ہی نہیں۔

تو محترم آپ سے گزارش ہے کہ آپ پہلے اس بات کو کلیئر کرلیں ان شاءاللہ جب یہ بات کلیئر ہوجائے گی اس کے بات والی جو باتیں ہیں وہ پھر تفصیل سے ڈسکس کریں گے۔۔شاباش محترم سہج مقلد شاباش
 

sahj

وفقہ اللہ
رکن
اصلی حنفی نے کہا ہے:
(جن کا جواب ان شاءاللہ منہ توڑ دیا جائے گا۔)
ماشاء اللہ تو جناب کس چیز کا انتظار فرمارہے ہیں ؟ اپنے منہ کے جڑنے کا ؟ یہ یاد رکھیں جواب یہاں جو آپ دیں گے وہ منہ سے نہیں انگلیوں سے لکھ کر دیں گے ، اسلئے ریکارڈ درست کرلیجئے مسٹر اصلی غیر مقلد ، کہ میں نے تمہیں غیر مقلد ثابت کیا ہے اور تم نے مانا ہے کہ تم فرقہ اہل حدیث سے ہو اور تقلید کرنے کو بھی مانے ہو اور “جس“ کا دم چھلا لگا کر جان چھڑانے کی فکر میں ہو ۔ نہیں مسٹر اصلی غیر مقلد یہ تم پہلے بتاؤ گے کہ “جس تقلید“ کو تم کرتے ہو وہ نص کے مطابق ہوتی ہے ؟ یہ وہی تقلید ہے “جس“ کو کرنے کا اقرار تمہارے بڑے علامے کرچکے اور جسے جھٹلانے کی تم میں جراءت نہیں اور ڈھکوسلہ یہ ہے جناب کا کہ “جس تقلید“ ۔ مسٹر اصلی غیر مقلد جلدی سے بتائیے کہ :جس تقلید“ پر اختلاف بنایا ہوا ہے وہ کون سی ہے اور “جس تقلید “ کو تمہارے علامے اور تم کرتے ہو وہ کون سی ہے ۔ اور بات یہیں سے آگے بڑھے گی ان شاء اللہ ۔ کیونکہ پہلے تم یہ تو ثابت کرو کہ “جس تقلید“ کو تم شرک اور کفر کہتے ہو وہ ہے کون سی ؟

شکریہ
 

اصلی حنفی

وفقہ اللہ
رکن
sahj نے کہا ہے:
ماشاء اللہ تو جناب کس چیز کا انتظار فرمارہے ہیں؟ اپنے منہ کے جڑنے کا ؟

محترم اپنے منہ کے جڑنے کا نہیں آپ کے منہ کے جڑنے کا۔ مطلب منہ جڑنے کایہ کہ جو راستہ پہلے جاری ہے یعنی بات اسی پر تم آجاؤ

sahj نے کہا ہے:
یہ یاد رکھیں جواب یہاں جو آپ دیں گے وہ منہ سے نہیں انگلیوں سے لکھ کر دیں گے،

ہا ہا ہا۔ سچ کہتے ہیں کہ مقلد جاہل عقل سے بالکل عاری ہوتا ہے۔ یہی الفاظ اسی پر دال ہیں۔اور پھر اردو کی بھی اتنی سوج بوج نہیں کہ ان الفاظ ’’ منہ توڑ جواب دینا ‘‘ کا کیامطلب ہوتا ہے۔
اور پھر میرا یہ لکھنا کہ ’’جن کا جواب ان شاءاللہ منہ توڑ دیا جائے گا۔‘‘ سے یہ کہاں ثابت ہورہا ہے جس معنی میں تم لے رہے ہو کہ میں منہ سےہی جواب دونگا۔؟ یارنرسری کلاس سے اردو پڑھنا لکھنا شروع کردو۔ شکریہ۔اس میں ہی کامیابی اورذلالت سے دوری ہے۔

sahj نے کہا ہے:
نہیں مسٹر اصلی غیر مقلد یہ تم پہلے بتاؤ گے کہ “جس تقلید“ کو تم کرتے ہو وہ نص کے مطابق ہوتی ہے؟

دو آدمی مکان کی چھت پر چڑھنے کی کوشش کررہےتھے۔ ایک کہہ رہاتھا کہ پہلے سیڑھی لگاتے ہیں پھر چھت پر چڑھیں گے لیکن دوسرا جو کہ مقلد تھا کہہ رہا تھا کہ نہیں پہلے چھت پر چڑھتے ہیں ۔ پہلے والا اس کو بار بار سمجھا رہا تھا کہ جناب جب تک سیڑھی نہیں لگے گی تب تک ہم کیسے چھت پر چڑھیں گے لیکن مقلد بس ضد کیے جارہا تھا کہ نہیں پہلے چھت پر چڑھتےہیں

یہی حال کچھ سہج مقلد کا بھی ہے۔ میں کہہ رہا ہوں کہ پہلے یہ تو ثابت کرو جو تفصیل سے ماقبل پوسٹ میں بیان کردیا ہے لیکن محترم کہتے ہیں کہ نہیں جس تقلید کوتم کرتے ہو وہ نص کے مطابق ہوتی ہے یا نہیں؟

ارے بابا یہ بعد کی بات ہے پہلے جو بات پوچھی جارہی ہے اس کو تو بتاؤ۔ اس لیے محترم سے گزارش ہے کہ ادھر ادھر کی فضول باتوں سے کلی طور گریز کریں اور بات کا جواب دیں۔ شکریہ

sahj نے کہا ہے:
اور بات یہیں سے آگے بڑھے گی ان شاء اللہ ۔ کیونکہ پہلے تم یہ تو ثابت کرو کہ “جس تقلید“ کو تم شرک اور کفر کہتے ہو وہ ہے کون سی ؟ شکریہ

ارے ابھی تو صرف تقلید کی لغوی اور اصطلاحی تعریفات ہی حل ہورہی ہیں۔ جناب آپ سے گزارش ہے کہ ایک بار تھریڈ کا مطالعہ فرمالیں۔ تاکہ آپ کو بھی معلوم ہوجائے کہ بات کیا ہورہی ہے۔

اس لیے پھر گزارش ہے کہ ماقبل پوسٹ میں جن باتوں کاجواب طلب کرنے کی گزارشات کی گئی ہیں اسی کےمتعلق ہی لکھا جائے۔۔۔
 
سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
Top