بولتے ہیں یوں کہ شاید خود کو سُننا چاہتے ہیں : عزم بہزاد

راجہ صاحب

وفقہ اللہ
رکن


بولتے ہیں یوں کہ شاید خود کو سُننا چاہتے ہیں
اپنے سر ہم اپنی ہی باتوں پہ دُھننا چاہتے ہیں

پہلے اپنی خواہشوں کو ہم نے ہر جانب بکھیرا
اب انھیں حسرت زدہ پلکوں سے چُننا چاہتے ہیں

اپنی چُپ کا اک سبب یہ ہے کہ فرہنگ_بیاں میں
لفظ وہ ناپید ہیں ، جو لوگ سُننا چاہتے ہیں


عزم بہزاد​
 
Top