You are using an out of date browser. It may not display this or other websites correctly.
You should upgrade or use an
alternative browser.
بولتے ہیں یوں کہ شاید خود کو سُننا چاہتے ہیں : عزم بہزاد
بولتے ہیں یوں کہ شاید خود کو سُننا چاہتے ہیں
اپنے سر ہم اپنی ہی باتوں پہ دُھننا چاہتے ہیں
پہلے اپنی خواہشوں کو ہم نے ہر جانب بکھیرا
اب انھیں حسرت زدہ پلکوں سے چُننا چاہتے ہیں
اپنی چُپ کا اک سبب یہ ہے کہ فرہنگ_بیاں میں
لفظ وہ ناپید ہیں ، جو لوگ سُننا چاہتے ہیں
عزم بہزاد