لکھتا ہوں کوئی شعر میں جب خون جگر سے : سردار شیزاد نواز

راجہ صاحب

وفقہ اللہ
رکن



لکھتا ہوں کوئی شعر میں جب خون جگر سے
پتھر بھی پگھلتے ہوئے پاتا ہوں اثر سے

شاید کبھی اپنایا تھا میں نے بھی کسی کو
جاتا نہیں ایک عکس سا کیوں قلب نظر سے

بس اتنی خبر ہے کہ ہمیں کر گیا برباد
آیا تھا کوئی شخص خدا جانے کدھر سے

دو چار برس میرے بھی گزرے ہیں وہاں پر
وابستہ ہیں یادیں میری ظالم کے نگر سے

یہ حکم ہے اس بادشاہ حسن کا یاروں
دیوانوں سے کہ دو کہ وہ گزرن نہ ادھر سے

ہر رنگ میں ہر حل میں کیوں دیکھیں ترا روپ
چھپ جائے یہ گستاخ ، میں کہتا ہوں قمر سے

شہزاد بڑی در کے بعد آنکہ کھلی ہے
اجڑا ہوا نکلا ہوں محبت کے شہر سے


سردار شیزاد نواز​
 
Top