کشمکش

  • موضوع کا آغاز کرنے والا قاسمی
  • تاریخ آغاز
ق

قاسمی

خوش آمدید
مہمان گرامی
میں تجھے بھول گئی، یہ بھی نہیں ہے، لیکن
میں تجھے یاد بھی ہر وقت نہیں کر سکتی
زندگی کتنی ہمہ گیر ہے ، کتنی پر سوز
صرف اشکوں ہی سے دامن تو نہیں بھر سکتی

کیسے فطرت کے تقاضوں سے کنارہ کرلوں
کس طرح تلخئ زہر اب گوارہ کر لوں
زندگی کتنی ہمہ گیر ہے، کتنی پر سوز

میں محبت کے تقاضوں کو سمجھتی ہوں مگر
میںحقیقت کے اشارے بھی تو پہچانتی ہوں
میں تری یاد میں خود اپنے سے غافل ہو جاؤں
ماسوا اپنے کسی اور کو بھی جا نتی ہوں

زندگی صرف ترانہ ہی ترانہ تو نہیں
کچھ حقیقت بھی ہے یہ محض فسانہ تو نہیں
میں حقیقت کے اشارے بھی تو پہچانتی ہوں

شعر ونغمہ میں گزرتی ہو ئی رنگیں راتیں
کون ہو گا جسے نغمات کا احساس نہیں
تلخئ غم سہی تو اک ٹھوس حقیقت ہے مگر
کون ہےجس کو حقیقت کا ذرا پاس نہیں

یہ دھڑکتے ہو ئے دل یہ کھنکتے ہو ئے ساز
یہ مہکتے ہو ئے نغمات، یہ بجتی آواز
کون ہو گا جسے نغمات کا احساس نہی

زندگی کتنی ہمہ گیر ہے ، کتنی پر سوز
اور اس شور میں نغموں کی حقیقت کتنی
میں تجھے یا دکئے جاؤں یہ ممکن ہے مگر
اس ہمہ گیر میں اک یاد کی فرصت کتنی

کتنے دل چسپ ہیں ، الفت کے ترانے لیکن
کتنے رنگین ہیں یہ سادہ سے فسانے لیکن
اس ہمہ گیری میں ان سب کی حقیقت کتنی؟
 

سیما

وفقہ اللہ
رکن
میں تجھے بھول گئی، یہ بھی نہیں ہے، لیکن
میں تجھے یاد بھی ہر وقت نہیں کر سکتی
زندگی کتنی ہمہ گیر ہے ، کتنی پر سوز
صرف اشکوں ہی سے دامن تو نہیں بھر سکتی

واہ واہ کیا بات ہے
 
ق

قاسمی

خوش آمدید
مہمان گرامی
سیما واقعی آپ قابل تعریف ہیں ۔ابھی پوسٹ کر کے سکون کا سانس بھی نہ لے پایا کہ
تبصرہ بھی پوسٹ کر دیا۔ کہیں آپ نے اپناتعارف کرنے میں کچھ زیادہ ہی تواضع سے کام
تو نہیں لیا۔
 

اعجازالحسینی

وفقہ اللہ
رکن
شعر ونغمہ میں گزرتی ہو ئی رنگیں راتیں
کون ہو گا جسے نغمات کا احساس نہیں
تلخئ غم سہی تو اک ٹھوس حقیقت ہے مگر
کون ہےجس کو حقیقت کا ذرا پاس نہیں

بہت خوب جناب
 
Top