جنات کا دوست

محمد ارمغان

وفقہ اللہ
رکن
بزرگوں نے فرمایا کہ عملیات میں لگنا اپنے کو برباد کرنے کے مترادف ہے، اور یہ بھی فرمایا کہ نسبت خراب ہو جاتی ہے، اس میں مشغولیت باطن کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ ہاں! بوقتِ ضرورت کی اجازت ہے، مگر اسی کو مقصود بنا لینابھی خطرے کی بات ہے۔
آج عوام الناس کا حال تو معلوم ہے کہ کدھر کو رُخ کیے جا رہی ہے۔ چاہیے تو یہ کہ ان چیزوں کی بجائے راہِ شریعت پر لایا جائے اور اتباعِ سنت کو بیان کیا جائے اور گناہوں سے بچنے کو بتایا جائے۔
لوگ وظیفوں کو کرنا آسان سمجھتے ہیں اور گناہوں سے بچنے،شریعت پر عمل کرنے اور اتباعِ سنت کو نفس پر بھاری سمجھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے عقائد میں خرابی بھی آتی جا رہی ہے اوریہ سمجھ بیٹھی ہے کہ بس یہی کافی ہے اسی سے ہمارےسب بگڑے کام سنور جائیں گے، گناہوں کو چھوڑنے کی کیا ضرورت ہے؟ نعوذ باللہ، یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔
ایسی چیزوں کی نشر و اشاعت کرنے والے علماء و مشائخ کو مقتداء ہونے کی حیثیت سے ہوا نہیں دینی چاہیے، کیونکہ جس چیز کو ہم دواء اور علاج سمجھ رہے ہیں وہی بیماری بنتی جا رہی ہے۔ عام مشاہدہ کی بات ہے اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔
ماہنامہ عبقری میں کیا ہے اور کیا فائدہ ہو رہا ہے؟ کیا کہہ سکتے ہیں، مگر نقصان زیادہ ہو رہا ہے۔ ایسی چیزوں سے احتیاط ہی ضروری ہے، ورنہ آخر انجام جو ہو گا وہ صاف ظاہر ہے۔
اصلاحِ نفس کی طرف توجہ کم اور ان وظائف و عملیات میں کمال حاصل کرنا، ان میں مشغولیت، کشف و کرامات کے حصول میں لگ جانا اور ایسی پُر اسرار کہانیوں جو بے معنی اور لایعنی ہیں کی طرف توجہ کرنا، اپنی قیمتی زندگی کو ضائع کرنا ہے۔
کیا ایک مؤمن کے پاس اتنا وقت ہوتا ہے کہ لایعنی کی طرف توجہ کرے؟
 

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
علامہ لاہوتی نام توایساہی ہے جیسے ملاابن العرب مکی۔ملاابن الحرب جھکی۔باقی مجھے علامہ صاحب کے بارے میں کچھ معلومات نہیں ہیں۔مجھے میری بات کوتقویت اسی سے ملتی ہے کہ علامہ پراسراربھی بڑاپراسرارنام ہے اب پچاس سال بعدکون بتائے گاکہ علامہ لاہوتی ہی پراسرارتھے۔شیخ الشیوخ حضرت اقدس مولاناارمغان صاحب ہی کی بات صحیح ہے قرآن وسنت سے ہٹ کرہمارے لئے کوئی چیزقابل عمل اورقابل توجہ نہیں ہے۔
 

اسداللہ شاہ

وفقہ اللہ
رکن
ذیشان نصر نے کہا ہے:
میں نے یہ کھانی پڑھی . بعض مقامات قابل گرفت محسوس ہوے. جیسا کہ حدیٹ شریف کا مفہوم ہے. کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کا گوبر ہڈیاں وغیرہ کو قضاۓ حاجت کے لۓ استعمال کرنے سے منع کیا ھے کیونکہ یہ جنات کی غذا ہیں. جبکہ یہاں جنات کی غذا انسانوں والی بتائ گئ ہے. اھل علم متوجہ ھوں
السلام علیکم
ذیشان بھائی تحریر غور سے پڑھیں یہ کسی علامہ لاہوتی کی بات نہیں ہے۔
ابو معاویہ نے بیان کیا ہے کہ میں نے اعمش کو یہ کہتے سُنا ہے کہ ہماری ایک لڑکی سے ایک جن نے شادی کی ہم نے اس سے معلوم کیا کہ تمہیں کیا کھانا پسند ہے اس نے کہا کہ چاول ہم اس کے سامنے چاول بنا کر لائےپس ہم کو لقمے اُٹھتے نظر آرہے تھے اور کوئی نظر نہیں آرہا تھا ہم نے معلوم کیا کہ کیا تم میں اہل بدعت بھی ہیں اس نے کہا کہ ہاں ہم نے پوچھا کہ شیعہ کو کیسے سمجھتے ہو اس نے کہا کہ سب سے بُرے سمجھتے ہیں۔ علامہ حزمی نے فرمایا کہ اس قصہ کی سند جید ہے حضرت اعمش سے یہی قصہ دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
کتاب کا نام: جنات کے حالات و احکام
اردو ترجمہ
اٰکام المرجان فی غرآئب الاخبار والجان
مصنف: علامہ قاضی بدرالدین شیلی حنفی محدث المتوفی 769ہجری
ترجمہ
حضرت مولانا مفتی محمد صاحب میرٹھی مدظلہم فاضل دارالعلوم دیوبند
مدرس و مفتی مدرسہ تعلیم القرآن ہرھ، ضلع میرٹھ، انڈیا
صفحہ نمبر 102، 103
ناشر: ادارہ اسلامیات لاہور
اہل علم اس پر بھی توجہ دیں۔
 

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
اسداللہ شاہ نے کہا ہے:
ذیشان نصر نے کہا ہے:
میں نے یہ کھانی پڑھی . بعض مقامات قابل گرفت محسوس ہوے. جیسا کہ حدیٹ شریف کا مفہوم ہے. کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کا گوبر ہڈیاں وغیرہ کو قضاۓ حاجت کے لۓ استعمال کرنے سے منع کیا ھے کیونکہ یہ جنات کی غذا ہیں. جبکہ یہاں جنات کی غذا انسانوں والی بتائ گئ ہے. اھل علم متوجہ ھوں
السلام علیکم
ذیشان بھائی تحریر غور سے پڑھیں یہ کسی علامہ لاہوتی کی بات نہیں ہے۔
ابو معاویہ نے بیان کیا ہے کہ میں نے اعمش کو یہ کہتے سُنا ہے کہ ہماری ایک لڑکی سے ایک جن نے شادی کی ہم نے اس سے معلوم کیا کہ تمہیں کیا کھانا پسند ہے اس نے کہا کہ چاول ہم اس کے سامنے چاول بنا کر لائےپس ہم کو لقمے اُٹھتے نظر آرہے تھے اور کوئی نظر نہیں آرہا تھا ہم نے معلوم کیا کہ کیا تم میں اہل بدعت بھی ہیں اس نے کہا کہ ہاں ہم نے پوچھا کہ شیعہ کو کیسے سمجھتے ہو اس نے کہا کہ سب سے بُرے سمجھتے ہیں۔ علامہ حزمی نے فرمایا کہ اس قصہ کی سند جید ہے حضرت اعمش سے یہی قصہ دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
کتاب کا نام: جنات کے حالات و احکام
اردو ترجمہ
اٰکام المرجان فی غرآئب الاخبار والجان
مصنف: علامہ قاضی بدرالدین شیلی حنفی محدث المتوفی 769ہجری
ترجمہ
حضرت مولانا مفتی محمد صاحب میرٹھی مدظلہم فاضل دارالعلوم دیوبند
مدرس و مفتی مدرسہ تعلیم القرآن ہرھ، ضلع میرٹھ، انڈیا
صفحہ نمبر 102، 103
ناشر: ادارہ اسلامیات لاہور
اہل علم اس پر بھی توجہ دیں۔
یہ قصہ تاریخ جنات وشیاطین میں بھی غالبا نظر سے گزرا ہے اور جو کہانیاں عوام وخواص کی لسان زد ہیں اسی وجہ سے کچھ مستبعد نہیں کہ مخصوص غذ ا کے علاوہ انسانی غذا سے متمتع ہوتے ہوں۔اور بحث اس نقطہ کی تھی نہیں ۔شاہ صاحب ازراہ کرم علامہ لاہوتی صاحب کی مکمل کتاب شیئر کر دیتے تو کچھ بات ہوتی ۔شکریہ
 
Top