فاتح بیت المقدس والئ شام

اعجازالحسینی

وفقہ اللہ
رکن
50246409.gif
 

بے باک

وفقہ اللہ
رکن
حمص میں حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سپہ سالارتھے، مسلمانوں کی صورتحال کچھ ایسی ہوگئی کہ اُنہیں وہاں سے اپنی فوج دوسرے مقام پر لے جانے کی ضرورت پیش آئی ،اس وجہ سے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے حمص کے عیسائی اور یہودی باشندوں سے فرمایاکہ آپ لوگوں سے جزیہ کی رقم اس کام کے عوض لی گئی تھی کہ اسلامی فوج آپ کے جان ومال کی حفاظت کرے گی ،اب چونکہ ضروری اسباب کی بنا فوج یہاں سے کوچ کررہی ہے لہذاآپ کو جزیہ کی رقوم واپس کی جاتی ہیں چنانچہ اس زمانہ کے اعتبار سے لاکھوں کی رقومات عیسائیوں اور یہودیوں کو واپس کردی گئیں ،وہ لوگ مسلمانوں کو واپس جاتادیکھ کر بے اختیار روتے ہوئے کہنے لگے ! اللہ تمہیں واپس لائے ،اگر رومی ہوتے تو ہمیں پھوٹی کوڑی بھی واپس نہ کرتے اور یہودی خود قلعہ بند کرکے پہرہ ڈال کر بیٹھ گئے کہ قیصر کی فوج آئے گی تو ہم خود اس کا مقابلہ کریں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جزاک اللہ جناب ، بہت اچھی شئیرنگ پیش کرنے پر آپ کا شکریہ
 
Top