آج صبح (۴؍دسمبر ۲۰۱۲ء بروز منگل) ہمارے ایک نہایت محترم جن کو سب ’’بھیا‘‘ کہتے تھے انتقال کر گئے۔ بہت غم میں ہوں، آپ سب سےاُن کے لیے بلندیٔ درجات اور مغفرت و بخشش اور ایصالِ ثواب کے لیے دُعاؤں کی درخواست ہے۔
انا للہ وان الیہ راجعون
اللہ کاارشادہے-
ان اللہ مع الصابرین
کسی نے لکہاتہاکہ
‘‘زندگی کیا ہے؟ عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے؟ انہی اجزاء کا پریشاں ہونا
موت کیا ہے اس کا جواب تو ہمیں اس شعر میں مل گیا لیکن یہاں شاعر موصوف نے صرف طبعی موت کی وجہ بیان فرمائی ہے اصل میں موت کیا ہے یہ شاید کوئی بھی ٹھیک طرح سے نہ بیان کر پائے ہاں ایک شخص ہی یہ بات بہتر طور پر بتا سکتا ہے اور وہ ایک مردہ لیکن وہ کیا ہے کہ مردے بولا نہیں کرتے سو جواب کی پیاس اب بھی باقی ہے۔
موت موت ہے کبھی زندگی کی محافظ تو کبھی زندگی ختم کر دینے والی۔ اس بات کا انحصار کہ موت زندگی کا خاتمہ ہے یا زندگی کی حفاظت اسی پر ہے کہ آپ کی موجودہ حالت کیا ہے؟ اگر آپ زندہ اور صحیح سلامت ہیں تو موت آپکی زندگی کی محافظ ہے۔ وہ اس وقت تک آپکی زندگی کے گرد ایک حصار قائم رکھے گی جب تک آپکی مقرر کردہ عمر اختتام کو نہیں پہنچ جاتی۔ جب مقررہ مدت مکمل ہو گئی موت وہ حصار ختم کر دیتی ہے اور آپ کو مجبوراً اپنے آپ کو اس کے حوالے کرنا ہی پڑتا ہے۔
موت ایک پرچھائی ہے جو آپکے پیچھے ہے۔ ایک صاحب گھبرائے ہوئے، چہرے پر خوف طاری بڑی تیزی میں بھاگ رہے تھے۔ ایک شخص ملا پوچھا بھائی کیوں بھاگتے ہو کون ہے تماہرے پیچھے۔ جواب ملا کہ میں موت سے بھاگتا ہوں۔ وہ شخص بولا کہ میاں آگے بھاگتے ہو موت بھی آگے ہی ہے۔ اس شخص کے منہ سے ہائے نکلا کہ میں جاؤں تو کہاں جاؤں ہر جانب موت منہ کھولے کھڑی ہے۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ موت انسان کی طرف نہیں انسان موت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جہاں اور جس طرح موت آنی ہے انسان خود چل کر وہاں جاتا ہے۔ پھر چاہے وہ بیماری کی جانب بڑھے یا کسی حادثے کا شکار ہو موت تک یا دوسرے الفاظ میں جائے حادثہ تک تو وہ خود چل کر گیا نہ؟ کسی نے مجبور نہیں کیا کسی نے زور نہیں دیا انسان خود جاتا ہے۔ موت ایک عامل ہے اور انسان ایک معمول جب موت بلاتی ہے تو انسان ایک معمول کی طرح اس کی طرف بڑھتا ہے۔آیا طبعی موت ہو یا پھر خود کشی انسان خود اس کا ارتکاب کرتا ہے۔ کوئی موت نا گہانی نہیں ہوتی۔ ہر موت کا وقت طے ہے اور وقت پر آتی ہے یہ الگ بات ہے چونکہ انسان کو وقت کی خبر نہیں ہوتی اس لئے اس کو ناگہانی کا ٹیگ لگا دیا جاتا ہے۔
موت کے بارے میں ہر مذہب کی اپنی تعلیمات ہیں۔ کہیں پنر جیون کا کھیل ہے تو کہیں روح کی منتقلی کی داستان لیکن بہر حال موت موت ہے۔ کوئی سات زندگیاں جیتا ہے تو کوئی صرف ایک موت سات کی سات زندگیوں نے جھیلی۔ کیونکہ موت موت ہے۔
بعض اموات انسان کو گمنامی کی اتاہ گہرائیوں میں لے جاتی ہیں تو بعض اموات انسان کو تا قیامت ایک زندہ جاوید کردار کی حیثیت عطاء کر جاتی ہیں۔ بعض اموات بہت بھیانک اتنی کے انسان کا اندر ایک بار مکمل طور پر ہل جائے اور بعض اموات ایسی دلکش اور دلنشین کے زندگی کی لطافتوں میں کھوئے اشخاص بھی ایسی موت کی تمنا کریں۔ایسی اموات جن کو عطاء ہوئیں وہ زیادہ تر تو شہداء کہلائے۔ راہِ حق میں موت کو گلے لگا کر امر ہونے والے شہداء بعض وہ تھے جنہوں نے انسانیت میں علم و عرفان کے ایسے صور پھونکے جو ان کو ہمیشہ کے لئے امر کر گئے۔اس سب کا دارومدار تو اعمال پر ہوا۔ باطن پر ہوا۔ ظاہر کیسا بھی ہو اصل انسان وہی ہے جو باطن میں ہے۔ باطن بن جائے تو ظاہر خود سنور جاتا ہے۔موت سے ڈرنا ان کا کام ہے جن کو موت کے آنے کا یقین نہیں۔ زندہ اور جاوید ہیں وہ لوگ جو ہنس کر موت کو گلے لگاتے ہیں۔ بس موت ایسی نہ ہو کہ ہم بے خبر رہیں اور ہماری تیاری مکمل نہ ہو۔ کیونکہ ایسی حالت میں خالق کے حضور حاضر ہونے میں بہت شرم آتی ہے جو اس کے معیار کے مطابق نہ ہو۔اللہ تعالیٰ ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔ آمین۔“
صبرکریں اللہ آپ سب کو یہ غم جھیلنے کا حوصلہ دے ۔ آمین