جذب اورسلوک

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
جذب اورسلوک
فرمایا :کہ الصوفی لا مذھب لہ کے معنی یہ ہیں کہ چاروں مذہبوںمیں سے جس مذہب میں احتیاط دیکھتے ہیں اسی پر عمل کرتے ہیں بخلاف ان کے جو کہ تارک تقلیدہیں وہ تو اس کو کرتے ہیں جس میں رخصت دیکھتے ہیں رعایت خلافیات کی اچھی ہے بشرطیکہ اپنے مذہب کا مکروہ لازم نہ آوے مثلاً حنفی وضو میںفصد کے ذریعہ سے خون بھی نہ نکلوادے کیونکہ وہ حنفیہ کے نزدیک ناقض وضو ہے اور مس مرأۃ سے بھی احتیاط رکھے اسی طرح سے مس ذکر سے ،کیونکہ افضل یہی ہے کہ اختلاف سے بھی احتیاط رکھے اور پیچھے مختلف مذاہب کے اشخاص نماز پڑھتے ہوں اس کو تو اس کی رعایت ضرورچاہیے ۔
پھر ان صاحب کے استفسارپر فرمایا کہ مقامات صفات حمیدہ راسخہ پرکہتے ہیں ان کے واسطے سے جو نسبت حاصل ہوتی ہے وہ مفصل ہوتی ہے اورجو نسبت ابتداء کشش سے بلا واسطہ اعمال کے حاصل ہوتی ہے اس میں اجمال ہوتا ہے مقامات کے واسطہ سے نسبت حاصل ہونے کوسلوک کہتے ہیں اوربلاواسطہ مقامات کے حاصل ہونے کو جذب کہتے ہیں ۔
پہلی صورت میں اول اعمال کے ذریعہ سے صفات حمیدہ میں رسوخ پیدا ہوتا ہے اس کے بعد کشش ہوتی ہے اس سے نسبت حاصل ہوتی ہے ۔
دوسری صورت میںاعمال پہلے نہیں ہوتے بلکہ پہلے کشش ہوگی پھر اعمال کی توفیق ہوگی ،کشش بھی دونوں صورتوںمیں ہوتی ہے جس کو جذب کہتے ہیں اوراعمال یعنی سلوک بھی دونوں صورتوں میں ہوتا ہے لیکن ایک میں سلوک مقدم اورجذب مؤخراوردوسرے میںجذب مقدم اورسلوک مؤخر۔اہل نسبت جامع ہوتے ہیں دونوں کے مگر اول کو سالک مجذوب اوردوسرے کو مجذوب سالک کہتے ہیں ،کسی خاص صورت کوافضل نہیں کہہ سکتے ،استعدادیںمختلف ہوتی ہیں ،صرف تقدیم وتاخیرکافرق ہے ،باقی جامع ہوتے ہیں دونوںکے ،جیسے بعضوں کی عادت ہوتی ہے کہ پہلے کھانا کھاتے ہیں پھر پانی پیتے ہیں اورمیری یہ عادت ہے کہ پہلے پانی پی لیتا ہوں پھر کھانا کھاتا ہوں،پیٹ میںجاکردونوں حالتوں میں دونوں چیزیںجمع ہوجاتی ہیں باقی کسی خاص ایک صورت کو افضل نہیں کہہ سکتے ۔
انہیں صاحب نے عرض کیا کہ مجھے اللہ میاں سے ڈر نہیں معلوم ہوتا ، فرمایا کہ عقلاً توڈرہی ہے لیکن بات یہ ہے کہ احوال باطنیہ بعض دفعہ طبعیہ بن جاتے ہیں مثلاً کسرپرکیفیت رجا اورامیدکی غالب ہوتی ہے اس پر ذوق وشوق غالب رہتا ہے اورخوف بھی ہوتاتو ہے لیکن محسوس نہیں ہوتا کبھی عبدیت کا غلبہ ہوتا ہے تو خوف محسوس ہونے لگتا ہے ،کبھی خوف وخشیت کے آثارمحبت کے غلبہ سے مغلوب ہوجاتے ہیں یہ کوئی فکر کی بات نہیں۔
پھرحضرت نے ایک تیلن کا واقعہ بروایت قاضی منعم صاحب بیان فرمایا کہ جو نہ کبھی نماز پڑھتی تھی نہ روزہ رکھتی تھی لیکن نزع کے وقت باوجود بالکل ان پڑھ ہونے کے یوں کہہ رہی تھی ھذان رجلان یقولان ادخلی الجنۃ اس کے گھروالے ایک صاحب کو جو پٹواری تھے اورعربی داں بھی تھے بلاکر لے گئے کہ نہ معلوم وہ کیا ہذیان بک رہی ہے ،وہ صاحب پہنچے تو انہیںحیرت ہوئی کہ وہ یہ کہہ رہی ہے ھذان رجلان یقولان ادخلی الجنۃ یہی کہتے کہتے اس کی جان نکل گئی ،انہوں نے پوچھا کہ یہ کیا عمل کرتی تھی ، عورتوںنے کہا کہ اجی نہ نماز پڑھتی تھی نہ روزہ رکھتی تھی اور نہ کوئی عمل کرتی تھی بلکہ بہت ہی لڑاکا تھی ،معمولی معمولی باتوںپر لڑاکرتی تھی ،خصو ص جب اذان ہوتی تو کسی کو نہ بولنے دیتی نہ چرخہ کاتنے دیتی ،نہ کچھ کام کرنے دیتی اوراگر اذان ہوتے میںکوئی کچھ بول اٹھی یا کچھ کام کرنے لگی تو آفت مچادیتی تھی ،خوب لڑتی تھی ،انہوں نے اس کی برائی بیان کی لیکن اسی میں وہ عمل بھی معلوم ہوگیا جس کی برکت سے اس کا خاتمہ ایسا اچھا ہوا اور وہ عمل محض خدا تعالیٰ کے نام کی تعظیم تھی ۔جس کی وجہ سے وہ بخش دی گئی ،حالانکہ نہ نمازنہ روزہ پھر فرمایا یقین تو ہے کہ بہت کم ہی مسلمان ایسے ہوں گے جن کو عذاب ہوگا ورنہ قریب قریب سب ہی بلا عذاب بخش دئے جائیں گے کوئی بہت ہی مارد ومتمرد ہوگا اسی کو تھوڑا بہت عذاب دیا جائیگا کیا ٹھکانہ ہے حق تعالیٰ کی رحمت کا ۔ (حسن العزیز )​
 
Top