دوحکایتیں

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
دل سے جوبات نکلتی اثرکرتی ہے
ایک بزرگ درویش تھے یعنی عالم پورے نہ تھے گو بے علم بھی نہ تھے ،وعظ میں سیدھی سیدھی بات فرمارہے تھے اور لوگ تڑپ رہے تھے اس مجلس میں ایک علامہ بھی حاضر تھے ان کے دل میں خیال گذراکہ یہ عجیب بات ہے ہم اتنے بڑے عالم لیکن ہمارے وعظ میں اثر نہیں اور یہ کم علم مضامین بھی عالی اوردقیق نہیں لیکن ان کے وعظ میں لوگوں کی یہ حالت ہے ان بزرگ کو ان کا خیال مکشوف ہوگیا ،فرمایا کہ ہمیں ایک حکایت یاد آئی یہ گویا ان کا جواب دیا ۔
مجاہدہ کاثمرہ اورعجیب حال
حکایت یہ بیان کی کہ ایک گلاس میں تیل پانی اوربتی تھی ایسی صورت میں تیل اوپر رہتا ہے اورپانی نیچے کیونکہ پانی وزنی زیادہ ہوتا ہے ،پانی نے تیل سے شکایت کی اورپوچھا کہ یہ کیا بات ہے میں نیچے رہتا ہوں اورتو اوپر؟حالانکہ میں پانی ہوں اورپانی کی یہ صفت ہے کہ وہ صاف وشفاف خود طاہر ومطہرروشن ،خوب صورت، خوب سیرت ہے غرض ساری صفتیںموجود ہیں اورتو (یعنی تیل )خودبھی میلا اورجس پر گرے اسے بھی میلا کردے کوئی چیز تجھ سے دھوئی نہیں جاسکتی ،چاہیے یہ تھا کہ تو نیچے ہوتا اورمیں اوپرمگر معاملہ برعکس ہے کہ میں نیچے ہوں اور تو اوپر۔تیل نے جواب دیا کہ ہا ں یہ سب کچھ ہے لیکن تم نے کوئی مجاہدہ نہیںکیا ،ہمیشہ ناز ونعم ہی میں رہے ،بچپن سے اب تک ،بچپن میں فرشتے آسمان سے اتارکربڑے اکرام سے تم کو لاتے ہیں پھر جس نے دیکھا عزت کے ساتھ برتنوںمیں لیا ،بڑی رغبت سے نوش کیا ، غرض ہمیشہ عزت ہی عزت اورنا ز ہی دیکھا ،تمہاری دھوپ سے حفاظت کی جاتی ہے ،میل کچیل اورغبارسے حفاظت کی جاتی ہے گو اپنے مطلب کو سہی اورہم نے جب ہماری ابتدائی ہوتی ہے ہمیشہ مصیبتیںہی مصیبتیںجھیلی ہیں ، سب سے اول مصیبت کا یہ سامنا ہوا کہ سیکڑوںمن مٹی ہمارے اوپر ڈالی گئی ، سینہ پر پتھر رکھاگیا،پھر جگر شق ہوا ،یہ دوسری مصیبت پڑی ، تیسری مصیبت یہ پڑی کہ زمین کو توڑکرباہر نکلے ،چوتھی یہ کہ جب باہرنکلے تو آفتاب کی تمازت نے جگر بھون دیا ،پانچویں مصیبت یہ جھیلنی پڑی کہ جب بڑے ہوگئے تو درانتی سے کاٹا گیا ،چھٹی مصیبت یہ کہ زیروزبرکیا گیا اور بیلوںکے کھروںمیں روندا گیا ، اخیرمیںساتویںمصیبت غضب کی تھی کہ کولہو میںمیں ڈال کرجو کچلا ہے تو جگر پاش پاش کردیا ،اس طرح ہماری ہستی یہ ہوئی ، عمر بھر مجاہدوںہی میں گذری سو مجاہدہ کا ثمرہ یہ اونچا رہنا ہے اورناز ونعم کا ثمرہ یہ نیچا رہنا ہے ،مولانا سمجھ گئے کہ یہ میرے خطور کا جواب ہے کہ آپ کے تو ہمیشہ ہاتھ چومے گئے جب ملے اول سلام کیا گیا کیونکہ مولاناکو کبھی توفیق ہی نہیں ہوتی کہ پہلے سلام کریں اورہم بیچارے خستہ حال شکستہ بال خصوصاًاس زمانہ میں درویشوں کو کوئی پوچھتا بھی نہ تھا وہ تواب یہ وقت ہوا ہے کہ درویشوںکی قدر ہوئی ہے ورنہ جب تک اسلامی اثر غالب تھا علم ہی کا اثرعام تھا ،درویشوںکے خاص خاص لوگ معتقدہوتے تھے ورنہ عام اثر علماء ہی کاتھا جیسے اب عام اثردرویشوںکا ہے خصوص خلاف شرع فقیروںکا اور بھنگڑوںکا کیونکہ جو شرع کے خلاف نہ ہو تو وہ ملاہیں ، وہابی ہیں اورجو جتنا شریعت کے خلاف ہے بس قطب الاقطاب ہیںغوث ہیں۔ (حسن العزیز )
 
Top