نفع کا دارومداربیعت پرنہیں

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
نفع کا دارومداربیعت پرنہیں
فرمایا کہ اب آپ شبہات پیش کیجئے ۔انہوں نے عرض کیا کہ جب بیعت ضروری نہیںتو پھر مشائخ کیوں بیعت لیا کرتے ہیں فرمایا کہ میں نے کب کہا ہے کہ بیعت مضر ہے ،میں تو یہ کہتا ہوں کہ بیعت کے بعدجو نفع ہوتا ہے وہی بلا بیعت کے بھی حاصل ہوسکتا ہے اگر کام کرتا رہے ،نفع کا دار ومداربیعت پر نہیں ، انہوں نے عرض کیا کہ جب بیعت بدعت ہے تو اس کو قطعاً ترک کردنیاچاہیے ، فرمایا کہ بیعت بدعت نہیں ،بیعت کوضروری سمجھنا بدعت ہے ،میں نے یہ نہیں کہا کہ بیعت بدعت ہے ،میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ بیعت کو ضروری سمجھنا بدعت ہے انہوں نے عرض کیا کہ ہم لوگ توبیعت کو ابھی تک ضروری ہی سمجھتے رہے ہیں ، فرمایا تو کیا علماء عوام کی رعایت سے احکام بدل ڈالیں۔انہوں نے غالباً پھر اس کے بدعت ہونے کی بابت کچھ پوچھا ،حضرت نے استفسارفرمایا کہ بدعت کس کو کہتے ہیں انہوں نے عرض کیا کہ اسی کو جو حضورنے فرمایا یعنی غیر ضروری کو ضروری سمجھنا فرمایا اورغیرضروری ہونا ثابت کردیا گیا ہے حجت سے اوربیعت کو ضروری سمجھنا آپ خود تسلیم کرچکے ہیںجب سارے ہجے صحیح ہیں پھر رواں کیسے غلط ہے انہوں نے عرض کیا کہ بیعت کا مسنون ہونا بھی تو ثابت ہے فرمایا کہ مسنون کی کتنی قسمیں ہیں ،کتنے درجے ہیں ؟انہوں نے عرض کیاکہ مؤکداورغیر مؤکد، فرمایا کہ مؤکدکو سنت کہتے ہیں اورغیر مؤکدکو مستحب ،بس تو سنت ایک درجہ میں ضرور ہے لیکن مستحب تو ضروری نہیں بیعت جو مسنون ہے یہ بتلائیے کہ سنت کی کونسی قسم ہے مؤکدیا غیر مؤکد انہوں نے عرض کیا کہ غیر مؤکد، فرمایا تو آپ نے خود تسلیم کرلیا اس کا غیر ضروری ہونا،آپ نے بیعت کے ضروری ہونے کی دلیل وہ بیان کی جس سے غیر ضروری ہونا ثابت ہوتا ہے یہ دلیل تو آپ نے بیان کی ،اب آپ اورشبہات پیش کیجئے تاکہ بالکل صاف ہوجائے یا یوں کہئے کہ کوئی شبہ نہیں رہا ، انہوں نے عرض کیا کہ سب شبہات رفع ہوگئے فرمایا الحمد للہ (حسن العزیز)
 

محمد ارمغان

وفقہ اللہ
رکن
،میں تو یہ کہتا ہوں کہ بیعت کے بعدجو نفع ہوتا ہے وہی بلا بیعت کے بھی حاصل ہوسکتا ہے اگر کام کرتا رہے ،نفع کا دار ومداربیعت پر نہیں۔
فرمایا کہ بیعت بدعت نہیں ،بیعت کوضروری سمجھنا بدعت ہے۔
سبحان اللہ۔ ایسے مضامین کی آج بہت ضرورت بڑھ گئی ہے کیونکہ کچھ ایسا طبقہ بڑھتا جا رہاہے جو ضروری کو غیر ضروری اور غیر ضروری کو ضروری سمجھ بیٹھا ہے۔
 
Top