پیرومرشدسے بھی پردہ ضروری ہے

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
پیرومرشدسے بھی پردہ ضروری ہے
حضرت مولاناشاہ فضل رحمن صاحب گنج مرادآبادی کی زیارت کیلئے کانپورسے کچھ عورتوںکا جانے کاقصد ہوا،ان اطراف میں پیروںسے عورتیںپردہ بہت کم کرتی ہیں،ان عورتوںمیں یہ تذکرہ ہوا کہ ان سے پردہ کی کیا ضرورت ہے کیونکہ اول تو وہ بزرگ پھر وہ بوجہ زیادہ عمر ہونے کے بالکل مردہ ہیں مجھ سے بھی پوچھا ،تھی تو حیاکے خلاف بات لیکن اس وقت کہنا ضروری تھا میں نے کہا کہ میں ایک بات خود اپنی دیکھی ہوئی بیان کئے دیتا ہوں اس سے تم خود فیصلہ کرلو کہ آیا ان سے پردہ کرناضروری ہے یا نہیں ، ایک بار صبح صادق کے وقت جاڑے کی موسم میںمولانا نے اٹھ کر خادم سے کہا کہ ارے مجھے کچھ شبہ ہوگیا ہے میں کیا کروں،خادم نے عرض کیا کہ پانی تیار ہے اگر دل چاہے غسل کرلیجئے ، مولانا نے فرمایاکہ اچھا پانی رکھو،چنانچہ مولانا نے جاڑو ںکی موسم میں کھلے ہوئے غسل خانہ میں سخت سردی کے وقت میرے سامنے غسل کیا ،اب تمہیں سمجھ لو کہ شبہ تو وہیں ہوتا ہے جہاں کچھ حقیقت بھی ہوتی ہے ، سو سے زیادہ عمر ہے لیکن اب تک اس کی نوبت آتی ہے یہ سن کر عورتوں کی رائے بدل گئی ۔
پھر فرمایا کہ لوگ عورتوںکو بزرگوںسے تو بچاتے ہی نہیں ،حالانکہ بزرگوںمیں زیادہ قوت ہوتی ہے کیونکہ وہ سب باتوںسے رکے رہتے ہیں، فاسق فاجرمیںکچھ نہیں رہتا کیونکہ کچھ فسق وفجورمیں نکل جاتا ہے کچھ آنکھوں کی راہ سے نکل جاتا ہے ،کچھ خیالات کی راہ سے نکل جاتا ہے اور جومتقی ہوتے ہیں ان کا سب ذخیرہ کوٹھری ہی میں رہتا ہے، سب راہیں نکلنے کی بند رہتی ہیں اسلئے بزرگوںسے ضروربچنا چاہیے ،اب یہ ہوتاہے کہ میری لڑکی کی پیٹھ پر ہاتھ پھیر دیجئے ،میری بیوی کے سرپرہاتھ رکھ دیجئے ، واہیات حرکت ہے ،اس معاملہ میں بہت ہی احتیاط کرنی چاہیے، بزرگوںکو بھی تو فتنوںسے بچانا چاہیے بلکہ اور وں سے زیادہ ،وہ بھی تو بے چار ے آخربشر ہیں ،دوسرے ادراک بزرگوںکا بہت صحیح ہوتا ہے ،آوازسے یہ استدلال کرسکتے ہیں ،چال ڈھال سے یہ استدلال کرسکتے ہیں۔ان کے استدلالات غضب کے ہیں،بخاری کے حاشیہ میں تصریحاًلکھا ہے کہ ان شھوۃ المتقی اشدکیونکہ تقویٰ کاخاصہ ہے کہ ادراک صحیح ہوجاتاہے ۔
ابن القیم نے اس قول کی وجہ لکھی ہے کہ ان حضرات میں نورذکرکاپھیلا ہوارہتا ہے اورنور کا اول خاصہ نشاط ہے اور اس امرکا نشاط پردارومدار ہے جب نشاط ہوگا تب ہی میلان ہوگاچونکہ بزرگوںمیں نورذکرکا پھیلا ہوا رہتا ہے اس واسطے ہروقت نشاط میںرہتے ہیںاس لئے میلان بھی ان میں زیادہ ہوتا ہے ،عوام میں تو مشہور ہے کہ مولویوں کوبہت مستی ہوتی ہے اس کا بھی وہی مطلب ہے گو الفاظ غیر مہذب ہیں وہ مہذب لفظ ہے کیونکہ عربی ہے ان شھوۃ المتقی اشد پھر عربی کے مہذب ہونے کے سلسلہ میں بطور ظرافت فرمایا کہ وہ ایسی مہذب زبان ہے کہ بعضے تو اس کو مفسد صلوٰۃ بھی نہیں سمجھتے ، پھر ایک حکایت بیان کی کہ ایک قاری صاحب ساڈھورہ کے رہنے والے مجھ سے بیان کر تے تھے کہ میں منیۃ المصلی پڑھنے کے زمانہ میں جماعت میں شریک تھا ،امام کو قعدہ میں دیر ہوگئی تو قاری صاحب کیا کہتے ہیں قُمْ یعنی کھڑے ہوجاؤ، امام صاحب اٹھ کھڑے ہوئے ،قاری صاحب بڑے خوش ہوئے کہ عربی پڑھنے سے یہ فائدہ ہوا کہ بات بھی کہہ دی اورنماز بھی فاسد نہیں ہوئی ، سلام کے بعد ان امام صاحب نے کہا کہ یہ کون تھا قُمْکہنے والا ، آپ نے بڑے فخر کیساتھ کہا کہ میں تھاسمجھے کہ بڑی تعریف ہوگی ،امام صاحب نے ڈانٹاکہ بولنے سے نمازفاسد نہیں ہوگی تو آپ کیا کہتے ہیں کہ میں بولا کہاں ، میں نے تو عربی میں کہا تو عربی میں بولنا توبولنا ہی نہیں اسی طرح عربی کی گالیاںبھی کچھ زیادہ بری نہیں معلوم ہوتی ہیں ، فحش لفظ بھی عربی میں برے نہیںمعلوم ہوتے ،لیکن قرآن مجید ایسے لفظوںسے بھی پاک ہے ، صرف فرج کا لفظ آیا سو اول تو وہ صریح نہیں ،اس کے معنی ہیںشگاف کے ، پس اچھاترجمہ اس کا چاک گریباںہے جو کنایہ ہے عفت سے پس احصنت فرجھا کا مناسب ترجمہ ہے اپنے دامن کو پاک رکھا ہے اچھی تفسیر اس کی یہی ہے۔
 

محمد ارمغان

وفقہ اللہ
رکن
حضرت عارف باللہ دامت برکاتہم العالیہ نے ارشاد فرمایا کہ:۔
جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے دین پر نہیں چلتا اُس کو اصلی (پیر) نہ سمجھو، پیر کی تعریف یہ ہے کہ وہ پیروی کرتا ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلتا ہو اور جو بے پردہ عورتوں سے بے محابا ملتا ہو وہ ہرگز پیر نہیں، بدمعاش ہے۔رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و سلم نے جب صحابیات سے، نامحرم عورتوں سے پردہ کیا ہے تو کیا وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام پردہ نہ کریں، یہ غلام ہی نہیں ہے نالائق غلام ہے، نافرمان غلام ہے۔ جو لڑکیوں سے، عورتوں سے پردہ نہ کرے، وہ پِیر نہیں پَیر ہے۔
 
Top