مرتکب کبیرہ کہ پیچھے نماز

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
مرتکب کبیرہ کہ پیچھے نماز​
ایک جگہ کا امام مرتکب کبائرہے اوربارباراس سے توبہ کرائی جاتی ہے مگر پھر مرتکب ہوجاتا ہے اس کے پیچھے نماز ہوسکتی ہے؟ اوراس کو امام بنانا چاہیے یا نہیں یہ اس کی صرف ریاکاری ہے دباؤسے ظاہراً توبہ کرلیتا ہے کہ نکال نہ دیا جاؤں فرمایا خیر توکیسے کہا جاسکتا ہے کہ توبہ ریا کی ہے کسی کے دل کا حال کیا معلوم یہ بتاؤکہ اس کے مقتدی کیسے ہیں آیاخواص اورمتقی ہیں یا وہ بھی اس کے ہم جنس ایسے ہی بے احتیاط ہیں عرض کیاکہ مقتدی دونو ں قسم کے ہیں فرمایا تواس صورت میں عوام کی نماز توہوجائے گی اورمحتاط لوگوں کی نماز مکروہ ہوگی اوراگر اس کے عزل پر قدرت ہو تو معزول کرنا واجب ہے اوراگرقدر ت نہ ہو تو مجبوری ہے ۔
 

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
اپنی حالت
اب خود میں ہی اپنی حالت بیان کرتا ہوں کہ اس کی کوشش کرتا ہوں کہ غصہ کے وقت کسی سے گفتگو نہ کرو ں ، ایک حد تک بحمداللہ اس میں کامیابی ہوبھی گئی ہے مگر پوری طرح پر نہیں ہوئی ، جب کوئی واقعہ اس قسم کا پیش آتا ہے اس عزم کو بھول جاتا ہوں حالانکہ یاد رکھنے کا بھی علاج ہے جو دوسروں کو بتلایا بھی ہے اوربہت لوگوں نے بیان کیا کہ بڑا نفع ہوا وہ یہ ہے کہ اس کی یادداشت مثل تعویذکے لکھ کر اپنے گٹے پر باندھ لے اس صورت سے یاد آنا آسان ہے یہ ہے آسان طریقہ یاد کا مگرخود کبھی اس پر عمل نہیں کیا ۔
 
Top