حضرت مفتی مظفرحسین کاکمال حیا

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
حضرت مفتی مظفرحسین کاکمال حیا
ایک بارحضرت کی گردن کی ہڈی بڑھ گئی تو طبیب نے اس کے علاج کے لئے پٹہ کی شکل کی ایک چیز باندھنے کاحکم دیا تاکہ گردن سیدھی رہے چنانچہ حضرت کے پاس ایک اعرابی شخص بیٹھا ہواتھا جب حضرت اس کو باندھنے لگے تو اس نے حضرت سے لیکر باندھنا شروع کردیا اورلاعلمی کی بناء پراتنا ٹائٹ کردیا کہ حضرت کا گلاگھٹ گیا جس سے بے حد اذیت ہورہی تھی باوجود شدید تکلیف کے حضرت نے اس سے یا خودیا کسی سے ڈھیلاکرنے کو نہیں فرمایاتاکہ اس کو شرمندگی نہ ہواورخود آپ کو بھی اس کے ظاہر کرنے پر حیاء آرہی تھی چنانچہ جب تک وہ شخص بیٹھا رہا آپ اس تکلیف کو بوجہ حیاء برداشت فرماتے رہے جب وہ چلاگیا تو حضرت مولانا رئیس الدین استاذجامعہ تشریف لائے حضرت نے ان سے فرمایاکہ اس کو ڈھیلاکردو،گلاگھٹ رہا ہے اورفرمایا کہ اگر اس کو اس کے سامنے کرتا تو وہ شرمندہ ہوتا ۔
ایک مرتبہ حضرت چلتے وقت لنگ کررہے تھے ایک شخص نے وجہ معلوم کی تو فرمایاکہ ایک اعرابی نے پیردباناشروع کیا اوراتنی زورسے رگڑادیاکہ کھال چھل گئی مگر حضرت نے اظہاراذیت نہ کیا تاکہ اس کو احساس نہ ہو یہ حضرت کی کمال حیاء ہے جس کی نظیرنہیں ملتی ۔
 
Top