کسی بھی معاملہ میں غلوکرنے والوں کے لئے لمحہ فکریہ

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
حضرت مولاناحکیم محمداخترصاحب مدظلہ ارشادفرماتے ہیں کہ
ہمارے زمانے میں دو قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ تو خیر کی طرف بلانے میں اتنا غلو کرتے ہیں کہ انبیاءکرام کی سنت کوچھوڑ دیتے ہیں اور دعوت کے کام میں لگ کر بسا اوقات والدین اور بیوی بچوں کے ان حقوق سے لاپرواہی اختیار کرتے نظر آتے ہیں جو واجبات کے درجہ میں ہیں۔
دوسرے لوگ وہ ہیں جو برائی کی روک ٹوک کے معاملے میں گونگے شیطان بنے رہتے ہیں۔ اس مقام پر حضرت تھانوی رحمة اﷲ علیہ کا قول ہی اس حالت کی واضح عکاسی کرتا ہے کہ ”افسوس! دوسروں کو تو ہم اپنے مذہب میں کیا لاتے اپنے بھائیوں کو اپنے مذہب میں نہیں رکھ سکتے خدانخواستہ اگر یہی نوبت رہی تو آج نومسلموں پر مشق ہے۔ اگر مخالفین کا حوصلہ بڑھ گیا تو کل وہ پرانے مسلمانوں کو بھی اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کریں گے۔“
الغرض یہ دونوں حدیں انتہائی غلط ہیں اور دین کو کمزور کرنے کا ذریعہ ہیں۔
 

أضواء

وفقہ اللہ
رکن
مفتی ناصرمظاہری نے کہا ہے:

الغرض یہ دونوں حدیں انتہائی غلط ہیں اور دین کو کمزور کرنے کا ذریعہ ہیں۔


اللهم إهدنا جميعاً صراطك المستقيم الذي هو طريق رسولك محمَّد صلى الله عليه وسلم 

اللہ تعالیٰ ہمیں دین پر چلنے کی نیک توفیق عطاء کرے آمین ۔۔۔
 

محمد نبیل خان

وفقہ اللہ
رکن
ماشآء اللہ۔
اہل اللہ کی باتیں آب زر سے لکھنے کے لائق ہیں ۔ ۔ ۔ اتنی قیمتی ارشادات ہیں کہ جن کی قیمت دنیا کی منڈی میں ہے ہی نہیں ۔۔ ۔ اللہ کریم سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے آمین
 
Top