ضرت مولانامحمدزکریامہاجرمدنی کی تعلیم وتربیت(۱)

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
شیخ الحدیث حضرت مولانامحمدزکریامہاجرمدنی کی تعلیم وتربیت کے چند اہم واقعات
خودنوشت سوانح ’’آپ بیتی‘‘سے ماخودچنداقتباسات:پیش کش:ناصرالدین مظاہری
پہلا واقعہ :
میری عمر تین چار سال کی تھی۔ اچھی طرح سے چلنا بھی بے تکلف نہیں سیکھا تھا ۔ سارا منظر خوب یاد ہے اور ایسی باتیں اور اوقع فی الذہن ہوا کرتی ہیں۔ میری والدہ نور اللہ مرقدہا کو مجھ سے عشق تھا۔ ماؤں کو محبت ہوا ہی کرتی ہے مگر جتنی محبت ان کو تھی، اللہ ان کو بہت درجے عطا فرمائے، میں نے ماؤں میں بہت کم دیکھی۔ اس وقت انہوں نے میرے لئے ایک خوبصورت تکیہ چھوٹا سا سیا تھا، ایک بالشت، میری موجودہ بالشت سے چوڑا اورڈیڑھ بالشت لمبا۔ اس کی ہیئت بھی کبھی نہیں بھولوں گا۔ اس کے اوپر گوٹہ ٹھپہ، گوکھرو، کرن بنت وغیرہ سب ہی کچھ جڑا ہوا تھا۔ نیچے لال قند کا غلاف اوراس پر سفید جالی کا جھالہ بہت ہی خوشنما ، وہ مجھے تو اتنا محبوب تھا کہ بجائے سر کے وہ میرے سینے کے اوپر رہا کرتا تھا۔ کبھی اس کو پیار کرتا، کبھی سینے سے چمٹایا کرتا۔ والد صاحب نے آواز دے کر فرمایا کہ زکریا مجھے تکیہ دیدے، مجھ میں پدری محبت نے جوش مارا، اوراپنے نزدیک انتہائی ایثار اورگویا دل پیش کردینے کی نیت سے میں نے کہا کہ ’’ میں اپنا تکیہ لے آؤں‘‘ فرمایا کہ ورے آ۔ میں انتہائی ذوق وشوق میں کہ ابا جان اس نیاز مندی اور سعادت مندی پر بہت خوش ہوں گے، دوڑا ہوا گیا۔ انہوں نے بائیں ہاتھ سے میرے دونوں ہاتھ پکڑ کر اور داہنے ہاتھ سے منہ پر ایسا زورسے تھپڑ رسید کیا کہ آج تک تو اس کی لذت بھولا نہیں اورمرتے وقت تک امید نہیں کہ بھولوں گا اوریوں فرمایا کہ ’’ ابھی سے باپ کے مال پر یوں کہتا ہے کہ اپنا لاؤں، کچھ کما کر ہی کہنا کہ اپنا لاؤں‘‘ اللہ ہی کا فضل وکرم ہے اورمحض اس کا ہی لطف واحسان ہے کہ اس کے بعد سے جب بھی یہ واقعہ یاد آجاتا ہے تو دل میں یہ مضمون پختہ ہوتا چلا جاتا ہے کہ اپنا اس دنیا میں کوئی مال نہیں اوراللہ کا شکر ہے کہ دن بدن یہ مضمون پختہ ہی ہوتا جارہا ہے ۔(جاری)
 

محمد ارمغان

وفقہ اللہ
رکن
ماشآء اللہ۔
اپنا اس دنیا میں کوئی مال نہیں۔
کاش! یہ حقیقت ہمارے دِلوں میں آ جائے جو تمام جھگڑوں کی جڑ ہے۔ اللہ کریم یہ حقیقت ہماری آنکھوں کے سامنے لادے اور دِل میں اُتار دے۔
 
Top