حضرت مولانامحمدزکریامہاجرمدنی کی تعلیم وتربیت(۲)

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
شیخ الحدیث حضرت مولانامحمدزکریامہاجرمدنی کی تعلیم وتربیت کے چند اہم واقعات
خودنوشت سوانح ’’آپ بیتی‘‘سے ماخودچنداقتباسات:پیش کش:ناصرالدین مظاہری
دوسرا واقعہ:
میری عمر آٹھ سال کی تھی، حضرت گنگوہی قدس سرہٗ کے وصال کو تھوڑا ہی زمانہ گزرا تھا۔ حضرت کے وصال کے بعد والد صاحب نے خانقاہ شریف ہی میں بچوں کو تعلیم دینا شروع کردیا تھا اورجس وقت کا یہ واقعہ لکھ رہا ہوں، خوب یاد ہے کہ اَسّی لڑکے تھے۔ ان میں قاعدہ بغدادی پڑھنے والے بھی تھے اور حماسہ، ہدایہ اولین پڑھنے والے بھی۔ اوپرکے اسباق تو والد صاحب اورچچا جان پڑھایا کرتے تھے اور ہر اونچی جماعت والے کے ذمّہ اس سے نیچے والی جماعت کے اسباق ہوتے تھے کہ اپنے پڑھے اوران کو پڑھائے اور والد صاحب کے سامنے ہی یہ اسباق پڑھائے جاتے تھے۔ خانقاہ کی مسجد میں اس وقت تک والد صاحب ہی نماز پڑھاتے تھے۔ نماز ظہر ہوگئی اور میں خانقاہ کی مسجد میں ایک طاق تھا اس پر ہاتھ رکھ کر لٹکنے کی کوشش میں تھا مگراس پر میرا ہاتھ نہیں پہنچتا تھا۔ ان شاگردوں میں ایک شخص مولوی صغیر احمد تھے جو معلوم نہیں اب حیات ہیں یا نہیں، مگر گنگوہ کے رہنے والے اور بعد میں بمبئی کے بڑے واعظوں میں ہوگئے تھے وہ وضو کرکے جلد ی سے آئے اورادھر رکوع شروع ہوگیا۔ انھوں نے تیزی سے آکر محبت کی بنا پر مجھے طاق پر لٹکادیا۔ مجھے غصّہ آگیا کہ میری مساعی ٔجمیلہ میں اس نے ٹانگ کیوں اڑائی۔ جب سب سجدے میں گئے تو میں نے مولوی صغیر کی کمر میں زور سے ڈُک مارا۔ چوٹ تو ان کے کیا لگتی،مگر آواز بہت ہوئی۔ نماز پڑھتے ہی مقدمہ قائم ہوگیا۔ خانقاہ میں گولر کے نیچے سارا مجمع اور حضرت گنگوہی قدس سرہٗ کی سہ دری کے آخری در کے سامنے ابّا جان، اور مطالبہ یہ کہ کس نے مارا تھا اور کس کے مارا تھا۔ مگرڈر کی وجہ سے کوئی بولا نہیں۔ دس بارہ منٹ کے بعد فرمایا کہ اچّھا اب تو سبق کا حرج ہورہا ہے، سبق کے بعد سب کی چھٹی بند، جب تک کہ تحقیق نہ ہوجائے۔ عصر کے بعد دوبارہ میدان حشر قائم ہوا۔ ان کا مطالبہ اور جواب میں سکوت۔ انہوں نے فرمایا کہ ایک کو جانے کی اجازت نہیں چاہے صبح ہوجائے، اورمیں اپنے دل میں یہ دعائیں کررہا تھا کہ جو ہونا ہوگا وہ ہوجائے گا، مولوی صغیر جلدی سے بتلادیں، خواہ مخواہ سب پھنس رہے ہیں۔ بالکل میدان حشر کا منظر تھا جس کی بنا پر پریشان پھر رہے تھے۔ کوئی پندرہ منٹ کے بعدمولوی صغیر نے دبی ہوئی اورمری ہوئی زبان سے کہا کہ ’’میرے مارا تھا‘‘۔ اب تو مقدمہ کا بہت سا حصہ گویا طے ہوچکا۔ اس پر سختی سے مطالبہ ہوا کہ کس نے۔ مگر وہ چپ۔ جب اس نے دیکھا کہ ضَرَبَ یَضرِبُ ہونے کو ہے تو اس نے میری طرف اشارہ کیا کہ ’’ اس نے؟ ‘‘ اس پر والد صاحب نے فرمایا کہ ’’ اس نے؟‘‘ انہوں نے کہا، جی، پھر فرمایا کہ ’’ اس نے؟ ‘‘ تین مرتبہ ایسے ہی فرمایا۔ اس وقت والد صاحب کا دستور عصر کے بعدحضرت گنگوہی کے مزار پر حاضری کا تھا۔ یہ نابکار بھی ساتھ ہوتا اور میری ایک چھوٹی سی چھتری تھی جو ٹوٹ گئی تھی اور اس کی ڈنڈی کو لکڑی بنا لیا تھا۔ جو مزار پر جانے کے وقت میرے ہاتھ میں ہوا کرتی تھی۔ میرے ہی ہاتھ سے چھین کر اتنا مارا کہ وہ چھوٹی سی لکڑی بھی دو جگہ سے ٹوٹ گئی اورصرف ایک لفظ ان کی زبان پر ہر مارپر ہوتا تھا کہ ابھی سے صاحبزادگی کا یہ سور۔ انہیں یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ بمد صاحبزاگی باپ کے شاگرد کو ماردیا۔ سردی کا زمانہ تھا اورمیں روئی کا انگر کھا پہنا کرتا تھا۔ مگر اس وقت نہیں تھا اس لئے کہ صبح اورعشاء کے وقت پہنا کرتا تھا او رعصر کے وقت چونکہ سردی نہیں ہوتی تھی اس وقت صرف ایک ہی کرتہ بدن پر تھا۔ میرے بازو اتنے سوج گئے تھے کہ پندرہ دن تک انگرکھا بالکل نہیں پہن سکا۔ اس وقت تو نہیں مگر ان کا ایک خاص مقولہ جو کئی دفعہ مجھ سے فرمایا یہ تھا کہ ’’ اگر تو پٹتے پٹتے مرگیا توتو شہید ہوگا، مجھے ثواب ہوگا‘‘۔ آپ خو د سوچئے کہ جس کا یہ نظریہ ہو وہ کیا کسر چھوڑے گا۔(جاری)
 

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
حضرت مولانامحمدزکریامہاجرمدنی کی تعلیم وتربیت(۳)

شیخ الحدیث حضرت مولانامحمدزکریامہاجرمدنی کی تعلیم وتربیت کے چند اہم واقعات
خودنوشت سوانح ’’آپ بیتی‘‘سے ماخودچنداقتباسات:پیش کش:ناصرالدین مظاہری
تیسرا واقعہ:
اسی زمانہ کا قصہ ہے کہ اس نابکار کو بزرگی کا جوش ہوا، اورمغرب کے بعد حضرت گنگوہی قدس سرہٗ کے حجرہ کے سامنے لمبی نفلوں کی نیت باندھ لی۔ ابا جان نے آکر ایک زور سے تھپڑ مارا اوریہ فرمایا کہ ’’ سبق یاد نہیں کیا جاتا‘‘ میرے چچا جان رحمۃ اللہ علیہ اس زمانہ میں بڑی لمبی نفلیں پڑھا کرتے تھے، بعد مغرب سے عشاء کی اذان کے قریب فارغ ہوا کرتے تھے۔ لیکن والد صاحب کے یہاں مختصر سے نوافل کے بعد تعلیم کا سلسلہ شروع ہوجاتا۔ اس وقت تو مجھے بہت غصہ آیاکہ خود تو پڑھی نہیں جاتی دوسرے کو بھی پڑھنے نہیں دیتے، مگر جلدی ہی سمجھ میں آگیا کہ بات صحیح تھی۔ وہ نفلیں بھی شیطانی حربہ علم سے روکنے کے واسطے تھا، اس لئے کہ جب نفلیں پڑھنے کادور آیا، اب نفس بہانے ڈھونڈتا ہے۔(جاری)
 

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
حضرت مولانامحمدزکریامہاجرمدنی کی تعلیم وتربیت(۴)

شیخ الحدیث حضرت مولانامحمدزکریامہاجرمدنی کی تعلیم وتربیت کے چند اہم واقعات
خودنوشت سوانح ’’آپ بیتی‘‘سے ماخودچنداقتباسات:پیش کش:ناصرالدین مظاہری
چوتھا واقعہ:
میر عمر دس سال کی تھی۔ میری والدہ گنگوہ سے رام پور جارہی تھیں۔ بہلی میں اور بھی چند مستورات تھیں اورمیں بھی تھا۔ ایک ٹٹو (گھوڑی) جس کے ساتھ اس کا چلانے والا بھی تھا اس پر والد صاحب تشریف فرما تھے۔ والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو گھوڑے کی سواری کی عادت نہ تھی، مگر معمولی سا ٹٹو جس کے ساتھ چلانے والا بھی ہو، اس پر ایک دو دفعہ بیٹھنے کی نوبت آئی۔ راستہ میں ایک جگہ والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے از راہِ شفقت ارشادفرمایا کہ ’’ تو گھوڑی پر بیٹھے گا؟‘‘ میں نے بہت شوق سے کہا ’’ جی، اور شوق میں گاڑی سے کود پڑا اورگھوڑی پر بیٹھ کر اور شوق عزت میں گھوڑی کو بہلی کے سامنے لایا۔ میری والدہ نے اور دوسری مستورات نے جب میں قریب پہنچا، کچھ زبان سے اورکچھ اشارہ سے کہا کہ بری بات ہے۔ ابا تو پاؤں جارہے اورتو گھوڑی پر بیٹھا؟ میں نے ابّا جان سے عرض کیا کہ عورتیںیوں کہہ رہی ہیں۔ انہوں نے بہت غصّہ میں فرمایا کہ’’ اندھی کے تجھے نظر نہیں آتا، عورتیں ہی کہہ رہی ہیں، تیری آنکھیں پھوٹ گئیں‘‘ ما بدولت بیک بینی و دو گوش گھوڑی سے اتر کر گاڑی میں بیٹھ گئے۔ اس بات پرمجھے اللہ کا شکر ہے کوئی گر انی نہیںہوئی اورمیرے ذہن میں تھا کہ تو نے برا کیا۔(جاری)
 

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
حضرت مولانامحمدزکریامہاجرمدنی کی تعلیم وتربیت(۵)

شیخ الحدیث حضرت مولانامحمدزکریامہاجرمدنی کی تعلیم وتربیت کے چند اہم واقعات
خودنوشت سوانح ’’آپ بیتی‘‘سے ماخودچنداقتباسات:پیش کش:ناصرالدین مظاہری (جاری)
پانچواں واقعہ :
میرے والد صاحب نور اللہ مرقدہٗ کو اس کابھی بہت اہتمام تھا کہ میرے پا س پیسہ نہ رہے کسی دوسرے سے پیسہ لینا تو درکنار، کسی کھانے پینے کی چیز کا لینا بھی ناممکن تھا،بلکہ اس کے شبہ پر بھی سخت تحقیقات ہوتی تھیں۔ جیسا کہ اگلے نمبر پر مستقل ایک واقعہ ذکر کروں گا۔ البتہ خود پیسے دینے کا بہت معمول تھا اور ساتھ ہی یہ کہ میرے پاس پیسہ نہ رہے۔ اس لئے جب مجھے کچھ دینے کا ارادہ فرماتے تو پہلے والدہ سے فرمادیتے کہ زکریّا کو اتنا پیسہ یا روپیہ دینا ہے اور والدہ صاحبہ نور اللہ مرقدہا، اللہ تعالیٰ ان کو بہت ہی اونچے درجے عطافرمائے، مجھ سے محبت بے انتہا تھی۔ اسی وقت سے مجھے قرض دینے کے فضائل اورثواب اتنے لا تعدّ ولاتحصیٰ سناتیں اورآخرت میں کارآمدہونے کی ترغیبیں اور دنیا میں جو خرچ ہو اس کی لغویت خوب بتلاتیں اور اس کے بعد پھر فرماتیں کہ تیرے پاس کچھ پیسے ہوں تو دیدے تجھے ثواب ہوگا۔کچھ تو واقعی والدہ کی محبت اورکچھ ثواب کی اہمیت تو اس وقت کہاں ہوتی البتہ مَنْ نُوْقِشَ فِی الحسابِ فَقَدْ عُذِّبَ کا نقشہ بغیر حدیث پڑھے ہی سامنے تھا۔ اس لئے کہ ان پیسوں کا حساب دینا بھی تو کارے دارد تھا اوراسی کا یہ اثر ہوا کہ اب تک پیسہ جیب میں رکھنے کی عادت نہیں۔ اللہ نے دوست واحباب ایسے مہیا کر رکھے ہیں کہ وہ ہروقت میری فرمائشیں پوری کرتے رہتے ہیں، اور دو چار دن میں ایک بل مجھے دے دیتے ہیں۔ اوریہ وہی دستِ غیب کا نسخہ ہے جو کسی تبلیغی اجتماع میں صوفی عبد الرب صاحب کو بتلایا تھا۔
 

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
حضرت مولانامحمدزکریامہاجرمدنی کی تعلیم وتربیت(۶)

شیخ الحدیث حضرت مولانامحمدزکریامہاجرمدنی کی تعلیم وتربیت کے چند اہم واقعات
خودنوشت سوانح ’’آپ بیتی‘‘سے ماخودچنداقتباسات:پیش کش:ناصرالدین مظاہری
چھٹا واقعہ:
اس سے پہلے نمبر میں لکھا تھا کہ شبہ پر تحقیقات ہوتی تھیں۔ ایک واقعہ مثال کے طور پر لکھ رہا ہوں۔مدرسہ قدیم (دفتر مدرسہ مظاہر علوم) کی چھت پر والد صاحب کا قیام، اورپیشاب کی جگہ اسی چھت پر اس کے بالمقابل تھی۔ والد صاحب پیشاب کے لئے تشریف لے گئے۔راستہ میں ایک جگہ سے کباب کی خوشبو آئی جو مولانا ظفر احمد صاحب پاکستانی شیخ الاسلام پاکستان نے کسی طالب علم سے بعد مغرب یہ کہہ کر کہ کباب لاکر یہاں رکھ دینا، میں نفلوں کے بعد لے لوں گا نماز کی نیت باندھ لی۔والد صاحب کے بعد میں پیشاب کو گیا۔ والد صاحب کو یہ شبہ ہوا کہ وہ کباب اس نے منگائے تھے اورپیشاب کے بہانے سے یہ کھاکر آیا ہے۔ مجھے قریب بلاکر یوں کہا کہ ’’ منہ کھول‘‘اس میں کبابوں کی خوشبو بالکل بھی نہیں تھی۔ پھر مجھ سے مطالبہ فرمایا کہ وہ کباب کس کے ہیں۔ میں نے لاعلمی ظاہر کی، اول تو سختی سے تحقیق فرمایا، پھر جاکر ان کو دیکھا تو وہ وہیں رکھے تھے۔ چونکہ مولانا ظفر احمد اس زمانہ میں شریک دستر خوان تھے۔ جب سب حضرات کھانے کے واسطے بیٹھے تو مولانا ظفر احمد صاحب نے کسی طالب علم سے فرمایا کہ وہاں کباب رکھے ہیں وہ اٹھالاؤ۔ تب والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو اطمینان ہوا۔(جاری)
 

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
شیخ الحدیث حضرت مولانامحمدزکریامہاجرمدنی کی تعلیم وتربیت کے چند اہم واقعات
خودنوشت سوانح ’’آپ بیتی‘‘سے ماخودچنداقتباسات:پیش کش:ناصرالدین مظاہری
ساتواں واقعہ:
پیسوں کے سلسلہ میں ایک عجیب واقعہ سناؤں۔ ان کی تعلیم کا طرز تو عجیب ونرالا تھا۔ ا ن کے یہاں اہم کتاب کے شروع پر یاختم پر مٹھائی کے نام سے کچھ پیسے ملنے کا بھی دستور تھاجو میرے ساتھ مخصوص نہیں تھا بلکہ مخصوص شاگردوں میں سب ہی کے ساتھ تھا۔ لیکن میرے ساتھ یہ خصوصیت تھی کہ ان پیسوں کی مٹھأئی کھانا سخت معیوب تھا بلکہ نہایت سنگین جرم تھا کہ یہ ان کے یہاں چٹورپن تھا بلکہ ان پیسوں کا مصرف کوئی ضرورت کی چیز کتاب وغیرہ یا والدہ کے توسط سے کوئی مقوی دماغ چیز تھی۔ جب میرا فقہ شروع ہوا اور ان کے یہاں تعلیم میں بھی جدّت تھی۔ جس کا اثر چچا جان کی تعلیم میں بھی تھا کہ ان کے یہاں درس نظامی کی پابندی نہیں تھی بلکہ ہر شخص کی حیثیت کے موافق کتاب تجویز ہوتی تھی۔ الفیہ ابن مالک کا سبق روزانہ حفظ سنا کرتے تھے۔ ان کے یہاں ہدایۃ النحو اورکافیہ ساتھ ہوا کرتا تھا۔ کافیہ کی ترتیب پر جتنا سبق شام کو کافیہ کا مناسب ہوتا اس کے بعد صبح کو ہدایۃ النحو ہوتی تاکہ وہ کافیہ کے لئے مطالعہ کا کا م دے۔ اسی طرح قدوری اورکنز ساتھ ہوتی کنز کی ترتیب پر۔ جب میرا فقہ شروع ہوا یعنی قدوری اور کنز کی بسم اللہ ہوئی تو مجھے بیس روپے انعام ملے تھے اوردینے کے بعد فرمایا کہ ’’ ان کا کیا کرے گا‘‘۔ میں چونکہ بھڑیئے کی آنکھ سے سبق پڑھے ہوئے تھا۔ میں نے کہاکہ میرا یوں جی چاہتا ہے کہ اپنے چاروں بزرگ حضر ت سہارنپوری، حضرت دیوبندی، حضرت رائے پوری اورحضرت تھانوی کی خدمات میں پانچ پانچ روپے کی مٹھائی پیش کروں۔یہ میری تجویز کسی اخلاص پر تو مبنی تھی نہیں، مَنْ حُوْسِبَ عُذِّبَ، کے ڈر سے تھی۔بڑی شاباشی ملی اورمیر ی فہم ودانش پرمبارکباد۔پھر فرمایا کہ کیا مٹھائی دے گا، اس کے بعد لکھنے والے نے کہا کہ یہ قصہ الخ علی میاں سوانح میں حاشیہ صفحہ ۷۹ پر لکھ چکے ہیں۔ اس لئے اسی جگہ پر ختم کردیا۔ البتہ ابتدائی حصہ تعلیم کی ترتیب اورمیری تجویز کی وجہ اس میں نہیں ہے۔(جاری)
 

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
شیخ الحدیث حضرت مولانامحمدزکریامہاجرمدنی کی تعلیم وتربیت کے چند اہم واقعات
خودنوشت سوانح ’’آپ بیتی‘‘سے ماخودچنداقتباسات:پیش کش:ناصرالدین مظاہری
آٹھواں واقعہ:
کاندھلہ کی عید کاواقعہ بھی علی میاں نے صفحہ ۷۴ پر لکھا تو ہے مگر بہت مختصر۔ رمضان ۲۸ھ ؁ میں جب کہ میری عمر تیرہ سال کی تھی اور سہارنپور آنے کے بعد پہلی عید تھی۔ کاندھلہ اس سے پہلے شاید تین چار سال کی عمر میں ایک عید کی تھی۔ اس کی چہل پہل عید گاہ میں بچّوں کے ساتھ جانا اورعید گاہ کے مناظر خوب یاد تھے۔ ۱۵؍ رمضان کے آس پاس والد صاحب نے از راہ شفقت و مراحم خسروانہ فرمایا کہ تیرا کاندھلہ عید کرنے کو جی چاہے؟ میں نے بڑے زور میں کہا کہ ’’ جی‘‘۔ فرمایا کہ اچھی بات ہے ۲۹؍ کو بھیج دوں گا۔ خوب یاد ہے کہ یہ پندہ دن خوشی کے اندر ہر دن روز عید تھا او رہر رات شب قدر۔ کبھی خوشی میں اچھل بھی پڑتا تھا اورایک ایک دن بڑی مشکل سے گذارتا تھا اورجب ۲۹ ؍ کی رات آئی تو پھر کیا پوچھنا۔ سوچتا تھا کہ اب کسی کے ساتھ جانا طے ہوگا۔ ۲۹؍ کی صبح کو میں تو ہر آن ع ’’چوں گوش روزہ دار بر اللہ اکبر است‘‘اس آواز کامنتظر تھا، کہ یہ فرمائیں کہ فلاں کے ساتھ چلا جا‘‘۔انہوں نے دس گیارہ بجے کے قریب نہایت رعب دار منہ بنا کر فرمایا کہ بس کیا کرے گا جاکر‘‘۔ آواز سے تو ہم رو ہی نہیں سکتے تھے۔ آنسوؤں پرقابو ہی نہیں تھا بے اختیار نکل پڑے اورحجرے میں جاکر پھر جو ہچکیوں کے ساتھ رونا شروع کیا، اللہ بہت ہی معاف فرمائے جو منہ میں آیا سب کچھ کہہ دیا۔ بھلا اس جھوٹے وعدہ کی کیا ضرورت تھی،بزرگ ہوکر بھی مکّاری کرتے ہیں، میں نے کو ن سی درخواست یا منّت کی تھی، اپنے آپ خود ہی تو وعدہ کیا۔ اور وہ دن اوردوسرا دن عید کا میرے لئے محرّم تھا اور وہ میری لال آنکھوں اورآنسوؤں کو خوب دیکھ رہے تھے مگر ایک لفظ نہیں کہہ کردیا۔ عید سے دوسرے دن یوں فرمایا کہ ’’ میرا جی تو چاہے تھا تیرے بھیجنے کو اورمیرا ارادہ بھی تھا مگر جتنی خوشی تونے جانے کی کی، وہ مجھے اچھی نہیں لگی‘‘۔ اس وقت تو بھلا آپ جانیں کہ کیا سمجھ میں آتی۔ مگر اب واقعی سمجھ میں آگئی کہ لِکَیْلَا تَأسَوْا عَلیٰ مَا فَاتَکُمْ وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَا اٰتَاکُمْ کی داغ بیل پڑ گئی۔(جاری)
 

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
شیخ الحدیث حضرت مولانامحمدزکریامہاجرمدنی کی تعلیم وتربیت کے چند اہم واقعات
خودنوشت سوانح ’’آپ بیتی‘‘سے ماخودچنداقتباسات:پیش کش:ناصرالدین مظاہری
نواں واقعہ:
مجھے کبھی بچپن میں اچھا کپڑا پہننا یاد نہیں۔ اپنے ہوش سے پہلے والدہ نے پہنائے ہوں تو یاد نہیں۔ اس زمانہ میں ہر جمعہ کو سر منڈانا بھی ضروری تھا کہ بال بھی زینت ہیں۔ کاندھلہ میرا وطن ہے لیکن عمر بھر میں کبھی بھی تین مرتبہ کے علاوہ ایک دو شب سے زیادہ قیام یاد نہیں۔ پہلی دفعہ ان تین میں سے والد صاحب کی حیات میں ہے جس کا قصہ لکھ رہا ہوں اور دو دفعہ ان کے وصال کے بعد۔ ان میں سے پہلی مرتبہ ۳۶ھ؁ میں جب کہ چچا جان نو ر اللہ مرقدہٗ سہارنپور سے دہلی منتقل ہوئے۔ روانگی سے قبل بیماری یہیں شروع ہوگئی تھی۔ کاندھلہ دو چار روز بمد علاج ٹھہرنے کا ارداہ تھا مگر مرض نے اتنا طو ل پکڑا کہ ہر روز ان کی حیات کا ایک آخری دن تھا۔اس کی سرگذشت بھی بڑی عجیب ہے اوربڑے عجیب واقعات اس میں پیش آئے جو بڑی لمبی داستانیں ہیں۔ اس بیماری میں چچا جان نور اللہ مرقدہٗ سے جنّات کی بیعت بھی ہوئی۔ یہ قیام سب سے زیادہ طویل ہوا۔ تیسری مرتبہ ۴۲ ھ؁میں جب کہ میری حقیقی پھوپھی مرحومہ سخت علالت کے بعد انتقال فرما گئیں۔ ان کے انتقال کا بھی بڑا ہی عجیب واقعہ ہے۔ بہت سخت بیمار تھیں، اشارہ سے نماز پڑھتی تھیں۔ اسہال کبدی کئی دن سے تھے۔ کہ بوقت صبح صادق یوم دو شنبہ ۲۴؍ شعبان ۴۲ھ ؁ کو انہوں نے ایک دم مجھے آوازدی۔ میں جاگ ہی رہا تھا اورفرمایا کہ مجھے جلدی بٹھا، تو پیچھے سہارا لگادے۔ مجھے خیال ہوا کہ اذان کا وقت ہوگیا، مبادا اس میں دیر ہوجائے۔ میں نے ایک دوسرے عزیز کو اشارہ کیا۔ وہ جلدی سے بیٹھ گئے۔ انہوں نے جلدی میں فرمایا کہ تو بیٹھ، حضور تشریف لے آئے اورہاتھ سے کوٹھے کے دروازہ کی طرف اشارہ کیا کہ حضور تشریف لے آئے۔ اوریہ کہتے ہی گردن پیچھے کو گرگئی رحمہا اللہ رحمۃو اسعۃ۔(ختم شد)
 

محمد ارمغان

وفقہ اللہ
رکن
ماشآء اللہ۔ مکرمی مفتی صاحب نے بہت مفید سلسلہ شروع فرمایا ہے تربیتی واقعات پڑھنے سے لوگوں میں ترغیب پیدا ہوتی ہے ۔ ان واقعات کا جو اصل مقصد ہے اللہ ہمیں وہ نصیب فرمائے۔
 
Top