اکابرمظاہرعلوم کاتقویٰ

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
مہتمم اور مدرسین مظاہر علوم جلسہ کے موقع پر بھی اپنے گھر کا کھانا کھاتے تھے:

مظاہر علوم کا جب سالانہ جلسہ ہوتا تھا۔ میںنے اکابر مدرسین وملازمین میں سے کبھی کسی کو جلسہ کے کھانے یا چائے یا پان کو کھاتے نہیں دیکھا۔ جملہ مدرسین حضرات اپنا اپنا کھانا کھاتے تھے، جب بھی وقت ملے۔ البتہ حضرت قدس سرہٗ مدرسہ کے خصوصی مہمانوں کے ساتھ کھاتے تھے۔ لیکن حضرت کے مکان سے دس بارہ آدمیوں کا کھا نا آتا تھا جو متفرق مہمانوں کے سامنے رکھ دیا جاتا تھا۔ اسی میںسے حضرت نوش فرماتے تھے،مدرسہ کی کوئی چیز کھاتے نہیں دیکھا۔ مولانا عنایت الٰہی صاحب مہتم مدرسہ دو شب وروز مدرسہ کے اندررہتے اور ظہر کے وقت یا رات کے بارہ بجے اپنے دفتر کے کونے میں بیٹھ کر ٹھنڈا اورمعمولی کھانا تنہا کھالیتے تھے۔ مولانا ظہور الحق صاحب مدرس مدرسہ اس زمانہ میں مطبخ طعام کے منتظم ہوتے تھے اور چوبیس گھنٹے مطبخ کے اندر رہتے تھے، لیکن سالن چاول وغیرہ کا نمک کسی طالب علم سے چکھواتے تھے خود نہیں چکھتے تھے۔ جب وقت ملتا اپنے گھر جاکر کھانا کھا آتے۔ اسی طرح سے دیگر اکابر مدرسین کو میں نے کوئی شے مدرسہ کی چکھتے نہیںدیکھا۔ ان سب احتیاط کے باوجود حضرت سہارنپوری قدس سرہٗ جب ۴۴ھ؁ میں مستقل قیام کے اردہ سے حجاز تشریف لے گئے تو اپنا ذاتی کتب خانہ یہ فرماکر مدرسہ کے اندر وقف کرگئے تھے، کہ نہ معلوم مدرسہ کے کتنے حقوق ذمّہ رہ گئے ہوں گے۔​
 
Top