مولانا عنایت الٰہی کاتقویٰ

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
مولانا عنایت الٰہی مہتمم مدرسہ ذاتی ضرورت کے لئے مدرسہ کا قلمدان استعمال نہ فرماتے:
حضرت مولانا الحاج عنایت الٰہی صاحب مہتمم مدرسہ، اللہ ان کو بہت ہی بلند درجے عطا فرمائے، مدرسہ کے مہتمم بھی تھے، مفتی بھی تھے، اورعدالتی تمام کاروبار ان کے ہی ذمّہ تھے۔ اوراس معنٰی کر محصل چندہ شہر بھی تھے کہ محصل چندہ شہر جب کسی کے متعلق یہ کہتا کہ فلاںصاحب نے چندہ نہیں دیا، دو مرتبہ جا چکا ہوں تو حضرت مہتمم صاحب اپنے گھر آتے یا جاتے اس کے گھر جاتے اور خوشامد فرماتے کہ تمہارا چندہ نہیں آیا ان کی خوبیوں کا بیان تو اس مختصر تحر یر میں آنہیں سکتا۔ لیکن دفتر کے اندران کے پاس دو قلمدان رہتے تھے۔ ایک ذاتی ایک مدرسہ کا۔ ذاتی قلمدان میں کچھ ذاتی کاغذ رہتے۔ اپنے گھر کوئی ضروری پرچہ بھیجنا ہوتا تو اپنے قلمدان سے لکھتے تھے، مدرسہ کے قلمدان سے کبھی نہیں لکھتے تھے۔ گرمیوں میںسات بجے کے قریب اورسردیوں میں آٹھ بجے کے قریب آتے اورعصر کے بعد واپس تشریف لے جاتے۔ ساری دوپہر کام کرتے اور آتے ہوئے اہل چندہ کے گھر ہوتے ہوئے آتے۔ لیکن حضرت سہارنپوری نور اللہ مرقدہٗ نے ایک مرتبہ دوسرے ملازمین کی ترقی کے ساتھ یہ کہہ کر ان کی ترقی روک دی تھی کہ مدرسہ کے اندردیر سے تشریف لاتے ہیں۔ میں نے ہر چند عرض کیا کہ حضرت چھ گھنٹے سے زیادہ کام کرتے ہیں۔ بار بار سفارش اوراصرار بھی کیا لیکن حضرت فرماتے رہے کہ مدرسہ کے اوقات کی پابندی ملازم کے لئے ضروری ہے۔​
 

محمد ارمغان

وفقہ اللہ
رکن
اپنے گھر کوئی ضروری پرچہ بھیجنا ہوتا تو اپنے قلمدان سے لکھتے تھے، مدرسہ کے قلمدان سے کبھی نہیں لکھتے تھے۔
سبحان اللہ!
مدرسہ کے اوقات کی پابندی ملازم کے لئے ضروری ہے۔
اس آئینۂ قولِ انمول میں ہر کوئی اپنا چہرہ دیکھ سکتا ہے۔
 

أضواء

وفقہ اللہ
رکن
مفتی ناصرمظاہری نے کہا ہے:
اللہ ان کو بہت ہی بلند درجے عطا فرمائے،

اللھم آمین ۔۔۔

اپنے گھر کوئی ضروری پرچہ بھیجنا ہوتا تو اپنے قلمدان سے لکھتے تھے، مدرسہ کے قلمدان سے کبھی نہیں لکھتے تھے۔​


سبحان اللہ ۔۔۔ اللهم اهدنا الصراط المستقيم ...
 
Top