حضرت مولانا محمد یحییٰ صاحب کا تقویٰ

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
حضرت مولانا محمد یحییٰ صاحب کا تقویٰ​
میرے والد صاحب قدس سرہٗ کے زمانے میں مدرسہ کا مطبخ جاری نہیں ہوا تھا۔ نہ مدرسہ کے قریب کسی طباخ کی دکان تھی۔ گھر والوں کے نہ ہونے کے زمانے میں جامع مسجد کے قریب ایک طباخ کی دکان تھی جس کا نام اسماعیل تھا۔ اس کے یہاں سے کھانا آیا کرتا تھا۔سردی کے زمانے میں وہاں سے آتے آتے خصوصاً شام کو ٹھنڈا ہوجاتا تھا، تو سالن کے برتن کو مدرسہ کے حمام کے سامنے اندرنہیں بلکہ باہر رکھوادیتے تھے۔اس کی تپش سے وہ تھوڑی دیر میں گرم ہوجاتا تھا، تو یہ فرما کر دو تین روپے ہر ماہ چندہ کے اندرداخل فرمایا کرتے تھے کہ مدرسہ کی آگ سے انتفاع ہوا ہے۔ تنخواہ تو میرے والد صاحب نور اللہ مرقدہٗ نے اپنے سات سالہ قیام مدرسہ میں کبھی لی ہی نہیں۔(آپ بیتی حضرت شیخ)
 
Last edited by a moderator:

محمد نبیل خان

وفقہ اللہ
رکن
ماشآءاللہ
میں نے ایک واقعہ پڑھا تھا اچھی طرح تو یاد نہیں ہے مگر جو یاد ہے وہ لکھتا ہوں ۔
دارالعلوم دیوبند میں ایک صاحب تھے جو نوکری سے ریٹائر منٹ کے بعد دارالعلوم کے طلباء کی خدمت میں مصروف رہتے اور طلباء کے لئے روٹیاں اور سالن اکھٹا کر کے لاتے ۔ ایک دن وہ صاحب روٹیاں اور سالن لے کر مدرسہ میں داخل ہوئے طلباء نے دیکھا کہ روٹیوں کا تھال سر پر رکھا ہے اور سالن کا ڈول ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے ۔( طالب علم تو آخر طالب علم ہی ہوتے ہیں ) ایک طالب نے کہا کہ اللہ میاں کا ٹگا یعنی بیل آگیا ہے ۔ اب کیا تھا موصوف کا یہی نام پورے مدسہ میں مشہور ہو گیا ۔ تمام طلباء موصوف کو اللہ میاں کا بیل ہی کہہ کر آپس میں بات کرتے ۔ ۔ ایک دن موصوف کو پتہ چل گیا کہ طلباء مجھے اللہ میاں کا بیل کہتے ہیں بہت خفا ہوئے اور کہنے لگے کہ آج کے بعد میں کوئی کام نہیں کروں گا اور روٹی سالن لانا چھوڑ دیا ۔ چند دنوں کے بعد دیکھا کہ وہی صاحب صبح صبح روٹیا ں سر پر اٹھائے سالن کا ڈول ہاتھ میں پکڑے ہوئے مدرسہ میں داخل ہوئے کسی نے پوچھا محترم آپ نے تو قسم اُٹھائی تھی کہ آج کے بعد طلباء کی کوئی خدمت نہیں کروں گا مگر آج یہ انقلاب کیسا ؟
ان صاحب نے جو جواب دیا وہ آب زر سے لکھنے کے لائق ہے ۔ کہنے لگے میاں کیا بتاؤ ارادہ تو یہی تھا مگر آج رات جو منظر دیکھا اس نے سب ارادے توڑ دئے ۔ پوچھا کیا ہوا ؟
کہنے لگے میں رات کو سویا ہوا تھا کہ خواب میں دیکھتا ہوں کہ قیامت قائم ہو گئی ہے ۔ سب لوگ قبروں سے نکل کر میدان حشر میں جمع ہو رہے ہیں اور کچھ لوگ پل صراط پر سے گزر رہے ہیں جن میں دارالعلوم کے طالب علم بھی ہنستے ہنستے گزر رہے ہیں ۔ میں حیران و ششدر کھڑا ہوں کہ کیا کروں کیسے گزروں ۔
اچانک ایک طالب علم کی نظر پڑی تو اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا یار اللہ میاں کا بیل تو پیچھے رہ گیا ہے ۔۔۔ دو طالب علم آ گے بڑھے ایک نے مجھے دائیں دوسرے نے بائیں کندھے سے پکڑا اور پل صراط سے پار کروادیا ۔ ۔۔ پھر رو کر کہنے لگے بھائی مجھے کچھ بھی کہہ لو چاہے “ بیل “ کہو یا کچھ اور میں تو یہاں ہی رہوں گا اور اسی طرح ان طالب علموں کی خدمت کروں گا
 

سیفی خان

وفقہ اللہ
رکن
محمد نبیل خان نے کہا ہے:
ماشآءاللہ
میں نے ایک واقعہ پڑھا تھا اچھی طرح تو یاد نہیں ہے مگر جو یاد ہے وہ لکھتا ہوں ۔
دارالعلوم دیوبند میں ایک صاحب تھے جو نوکری سے ریٹائر منٹ کے بعد دارالعلوم کے طلباء کی خدمت میں مصروف رہتے اور طلباء کے لئے روٹیاں اور سالن اکھٹا کر کے لاتے ۔ ایک دن وہ صاحب روٹیاں اور سالن لے کر مدرسہ میں داخل ہوئے طلباء نے دیکھا کہ روٹیوں کا تھال سر پر رکھا ہے اور سالن کا ڈول ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے ۔( طالب علم تو آخر طالب علم ہی ہوتے ہیں ) ایک طالب نے کہا کہ اللہ میاں کا ٹگا یعنی بیل آگیا ہے ۔ اب کیا تھا موصوف کا یہی نام پورے مدسہ میں مشہور ہو گیا ۔ تمام طلباء موصوف کو اللہ میاں کا بیل ہی کہہ کر آپس میں بات کرتے ۔ ۔ ایک دن موصوف کو پتہ چل گیا کہ طلباء مجھے اللہ میاں کا بیل کہتے ہیں بہت خفا ہوئے اور کہنے لگے کہ آج کے بعد میں کوئی کام نہیں کروں گا اور روٹی سالن لانا چھوڑ دیا ۔ چند دنوں کے بعد دیکھا کہ وہی صاحب صبح صبح روٹیا ں سر پر اٹھائے سالن کا ڈول ہاتھ میں پکڑے ہوئے مدرسہ میں داخل ہوئے کسی نے پوچھا محترم آپ نے تو قسم اُٹھائی تھی کہ آج کے بعد طلباء کی کوئی خدمت نہیں کروں گا مگر آج یہ انقلاب کیسا ؟
ان صاحب نے جو جواب دیا وہ آب زر سے لکھنے کے لائق ہے ۔ کہنے لگے میاں کیا بتاؤ ارادہ تو یہی تھا مگر آج رات جو منظر دیکھا اس نے سب ارادے توڑ دئے ۔ پوچھا کیا ہوا ؟
کہنے لگے میں رات کو سویا ہوا تھا کہ خواب میں دیکھتا ہوں کہ قیامت قائم ہو گئی ہے ۔ سب لوگ قبروں سے نکل کر میدان حشر میں جمع ہو رہے ہیں اور کچھ لوگ پل صراط پر سے گزر رہے ہیں جن میں دارالعلوم کے طالب علم بھی ہنستے ہنستے گزر رہے ہیں ۔ میں حیران و ششدر کھڑا ہوں کہ کیا کروں کیسے گزروں ۔
اچانک ایک طالب علم کی نظر پڑی تو اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا یار اللہ میاں کا بیل تو پیچھے رہ گیا ہے ۔۔۔ دو طالب علم آ گے بڑھے ایک نے مجھے دائیں دوسرے نے بائیں کندھے سے پکڑا اور پل صراط سے پار کروادیا ۔ ۔۔ پھر رو کر کہنے لگے بھائی مجھے کچھ بھی کہہ لو چاہے “ بیل “ کہو یا کچھ اور میں تو یہاں ہی رہوں گا اور اسی طرح ان طالب علموں کی خدمت کروں گا

بے شک دین والوں کی خدمت کرنا بڑی بات ہے ۔ ۔ ۔
 
Top