اخلاص کی برکت اور جمنا کا راستہ دینا اور اس کے نظائر

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
اخلاص کی برکت اور جمنا کا راستہ دینا اور اس کے نظائر​
:

قصبہ پانی پت کاضلع کرنال ہے۔جمنا چلتی تھی معلوم نہیں اب بھی ایسا ہے یا نہیں۔ جمنا کا ہر جگہ دستور یہ ہے کہ خشکی کے زمانے میں لوگ جوتے ہاتھ میںلے کر پار ہوجاتے ہیں، جہاں پانی زیادہ ہو وہاں کشتیاں کھڑی رہتی ہیں۔ ملاّح دو چار پیسے لے کر ادھر سے ادھر پہونچادیتے ہیں، لیکن جب جمنا طغیانی پر ہو تو پھر عبور ناممکن ہوتا ہے۔ ایک شخص پانی پت کارہنے والا جس پر خون کا مقدمہ کرنال میں تھا، اورجمنا میں طغیانی اور نہایت زور۔ وہ ایک ایک ملاّح کی خوشامد درآمد کرتا، مگر ہر شخص کا ایک جواب کہ اس میں تیرے ساتھ اپنے آپ کو ڈبوئیں گے، وہ بے چارہ غریب پریشان روتا پھر رہا تھا ایک شخص نے اس کی بدحالی دیکھ کر کہا کہ اگر میرا نام نہ لے تو ترکیب میں بتلاؤں۔ جمنا کے قریب فلاں جگہ اک جھونپڑ ی پڑی ہوئی ہے اس میں ایک صاحب مجذوب قسم کے پڑے رہتے ہیں۔ ان کے جاکر سرہوجا، خوشامد، منت،سماجت (خوشامد پرایک قصّہ کیمیا کا یا د آگیا۔ وہ باب ہشتم میں یاد رہا تو انشاء اللہ لکھواؤں گا) جو کچھ تجھ سے ہوسکے، کسر نہ چھوڑنا اوروہ جتنا بھی برا بھلا کہیں، حتی کہ اگر تجھے ماریں بھی تو منہ نہ موڑنا۔ چنانچہ یہ شخص ان کے پاس گیا اور ان سے خوشامد درامد کی اورانہوں نے اپنی عادت کے موافق خوب ملامت کی کہ میں کوئی خدا ہوں، میں کیا کرسکتا ہوں، مگر جب یہ روتا ہی رہا( اوررونا تو بڑے کام کی چیز ہے اللہ تعالیٰ مجھے بھی نصیب فرماوے ) تو ان بزرگ نے کہا کہ جمنا سے کہہ دے کہ اس شخص نے جس نے نہ عمربھر کچھ کھایا، نہ بیوی کے پاس گیا، اس نے بھیجا ہے کہ مجھے راستہ دیدے۔ چنانچہ یہ گیا اور جمنا نے راستہ دے دیا۔ اس کا تو کام ہوگیا۔ اس میں کوئی استبعاد نہیں۔ پہلے انبیاء کے معجزات اس امت کی کرامات ہیں، اورپانی پرچلنے کے قصے تو صحابہ کرامؓکی بھی تواریخ میں منقول ہیں۔ اورکرامات صحابہ ؓ تو مستقل ایک رسالہ حضرت تھانویؒ کے حکم سے لکھا گیا تھا، جس میں علا ء بن حضرمی صحابیؓ کی ماتحتی میں ایک جہاد میں جو کسریٰ سے ہوا تھا، سمندر میں گھوڑے ڈال دینا اورسمندر کو پار کردینا جس میں زینیں بھی نہ بھیگیں، نقل کیا گیا ہے۔ عامل کسریٰ یہ دیکھ کر ایک کشتی میں بیٹھ کر یہ کہہ کر بھاگ گیا کہ ان سے ہم نہیںلڑسکتے۔ اس واقعے کو ابن عبد البر اور تاج الدین سبکی نے بھی مختصراً ذکر کیا ہے۔
اس جھونپڑی میں ان بزرگ کے بیوی بچے بھی تھے۔ دین داروں کی بیویاں ڈیڑھ خصم ہوتی ہیں۔ یہ بیچارے اس فکر میں رہتے ہیں کہیں زیادتی نہ ہوجائے وہ اس سے غلط فائدہ اٹھاکرسر پر چڑھ جاتی ہیں۔ ان بزرگ کی بیوی نے رونا شروع کیا، تو نے عمر بھر کبھی کچھ کھایا نہیں، بغیرکھائے ہاتھی بن رہا ہے، اس کو تو توجانے تیرا خدا، مگر تونے جو یہ کہا کہ میں بیوی کے پاس کبھی نہیں گیا، یہ ستّہ کی دھاڑ میں کہاں سے لائی؟ انہوں نے ہر چند سمجھایا کہ یہ میری ہی اولاد ہے میں نے ان کے اولاد ہونے سے انکار نہیں کیا۔مگر اس نے اتنا رونا چلانا شروع کیا، کہ تونے میرا منہ کالا کردیا۔ وہ ساری دنیا میں جاکر کیا کہے گا کہ پیر صاحب توبیوی کے پاس گئے نہیں یہ اولاد کہاں سے آگئی۔ ہر چند پیر صاحب نے سمجھانا چاہا مگراس کی عقل میں نہیں آیا اورجتنا جتنا وہ کہتے، وہ روتی۔ جب بہت دیر ہوگئی تو ان پیر صاحب نے یوں کہا کہ میں نے ساری عمر خوب کھایا، اللہ کا شکر ہے۔ اورتیرے سے صحبت بھی ہمیشہ خوب کی، تجھے بھی معلوم ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ میں نے بچپن میں ایک مولانا سے وعظ میں ایک بات سنی تھی، وہ یہ کہ جو کام اللہ کے واسطے کیا جاوے وہ دنیا نہیں دین بن جاتا ہے اورعبادت بن جاتا ہے اورثواب بن جاتا ہے۔ اس وقت سے میں نے جب بھی کوئی چیز کھائی یا تو اس نیت سے کھائی کہ اس سے اللہ کی عبادت پرقوت حاصل ہو یا اس نیت سے کھائی کہ لانے والے اور کھلانے والے کا دل خوش ہو۔ اسی طرح سے میں شادی کے بعد سے تیرے پاس خوب گیا، لیکن یہ قصّہ پہلے سے سنا ہوا تھا، اسلئے جب بھی میں تیرے پاس گیا، تیرا حق ادا کرنے کی نیت میں نے پہلے سے کرلی کہ اللہ نے بیوی کا حق رکھا ہے۔ میں نے تو یہ قصّہ اپنے والد صاحب سے بار بار ایسے ہی سنا، مگر مولانا الحاج ابوالحسن علی میاں صاحب دام مجدہم نے حضرت الحاج شاہ محمد یعقوب صاحب مجددی، نقشبندی بھوپالی کے جو ملفوظات جمع کئے ہیں، اس کے صفحہ ۳۵۶ پریہ قصہ دوسری نوع سے نقل کیا ہے۔ جو حسب ذیل ہے۔
حضرت شاہ صاحب نو ر اللہ مرقدہٗ نے فرمایا کہ ایک بزرگ دریا کے کنارے پر تھے۔ دوسرے بزرگ دوسرے کنارے پر۔ ایک بزرگ نے جومتاہل (بیوی وبچوں والا) اورصاحبِ اولاد تھے، اپنی بیوی سے کہا کہ کھانے کا ایک خوان لگا کر دریا کے دوسرے کنارے جو دوسرے بزرگ رہتے ہیں، ان کے پاس لے جاؤ اور ان کو کھانا کھلا کر آؤ۔ بیوی نے کہا کہ دریا گہرا ہے، میں اس کو کس طرح پار کرکے دوسرے کنارے جاؤں گی۔ فرمایا کہ جب دریا میں قدم رکھنا تو میرا نام لے کہنا کہ اگر میرے اور میرے شوہر کے درمیان وہ تعلق ہوا ہوجو زن وشوہر میں ہوا کرتا ہے تو مجھے ڈبودے، ورنہ میں پار ہوجاؤں۔ اس نے یہی کہا۔ یہ کہنا تھا کہ دریا پا یاب ہوگیااور گھٹنوں گھٹنوں پانی میں وہ دریا کے پار ہوگئیں، انہوں نے کھانے کا خوان ان دوسرے بزرگ کو پیش کیا۔ انہوں نے اس کو اکیلے تناول فرمالیا۔ (یعنی ختم کردیا) جب واپس ہونے کا وقت ہوا تو ان کو فکر ہوئی کہ آنے کا وظیفہ تو مجھے معلوم ہوگیا اب جاتے وقت کیا کہوں؟ ان بزرگ نے ان کی پریشانی دیکھی، تو ان سے دریافت کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں دریا سے کس طرح پار ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ پہلی مرتبہ دریا کو کس طرح پار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میرے شوہر نے مجھے یہ ہدایت کی تھی کہ میں اس طرح کہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ اب جائے تو میرا نام لے کر کہنا کہ اس نے ایک لقمہ بھی کھایا ہو تو میں ڈوب جاؤں ورنہ پارہوجاؤں۔ چنانچہ وہ پار ہوگئیں۔ اب انھوں نے اپنے شوہر سے پوچھا کہ آپ نے صاحبِ اولاد ہوکر خلافِ واقعہ بات کیوں کہی، اوران بزرگ نے آنکھوں کے سامنے پورا کھانا تناول کرنے کے باوجود ایک لقمہ بھی کھانے سے انکار کیوں کیا۔ تو ان بزرگ نے جواب دیا کہ میں نے جو کچھ کیا،ا مرِ الٰہی سے کیا، اپنے نفس کی خواہش سے نہیں کیا۔اور انہوں نے جو کچھ کیا وہ امرِ الٰہی سے کیا، نفس کا اس میں کچھ حصہ نہ تھا۔ اور دنیا جو کچھ کرتی ہے اور جس کا رواج ہے وہ نفس کے تقاضے کو پورا کرنا ہے امر الٰہی پیش نظر نہیں ہوتا۔ اس لئے دنیا جس کو ازدواجی تعلق اور شکم پروری اور ناؤ نوش سمجھتی ہے، ہم دونوں میں سے کوئی اس کا مرتکب نہیں ہوا۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ واقعہ وہ پہلا ہو۔ اس قسم کے واقعات متعدد ہوسکتے ہیں۔ صحابۂ کرامؓ کے اس قسم کے واقعات پانی پر چلنا، دریا میں گھوڑوں کا اتار دینا مشہور ہیں۔ یہاں تک پہنچا تھا کہ عصر کے بعد کی مجلس میں شاہ علم اللہ صاحب رائے بریلی نوراللہ مرقدہٗ کے حالات سنائے جارہے تھے۔ اس میں ایک قصّہ کا ن میں پڑا تھا۔ اس میں لکھا ہے کہ شاہ علم اللہ صاحب نے حضرت بایزید بسطامیؒ کا تذکرہ فرمایا کہ ایک مرتبہ کہیں تشریف لے جارہے تھے۔ راستہ میں ایک نہر حائل تھی۔اس کے قریب پہنچتے ہی اچانک اس میںصاف راستہ بن گیا۔ حضرت خواجہ صاحب نے یہ دیکھ کر فرمایا ’’ھذا مکر اللّٰہ، ھذا مکر اللّٰہ‘‘۔ اس کے بعد انہوں نے اللہ سے دعاء کی کہ یہ نہر اسی حالت میں ہوجائے، بندہ لوٹ جائے گا یا کوئی دوسرا راستہ اختیار کرلے گا۔ لیکن تیری اس آزمائش سے ڈر معلوم ہوتا ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہوا کہ جب سلطان العارفین کو کرامات سے اس درجہ خوف اور گریزتھا اور خدا کی شانِ بے نیازی سے وہ اس قدر ترساں ولرزاں رہتے تھے تو دوسرے کس شمار میں ہیں۔ طالبِ حق کو چاہئے کہ اللہ جل جلالہٗ کے سامنے حضور درحضور کے سوا کسی اور چیز کا طلب گار نہ ہو۔ کل مَا شَغلکَ عن اللّٰہِ فہُو صَنَمُکَ۔ جو چیزتمہیں اللہ سے مشغول کردے وہی تمہار ا بت ہے۔​
(آپ بیتی سے ماخوذ)​
 

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
یہ بیچارے اس فکر میں رہتے ہیں کہیں زیادتی نہ ہوجائے وہ اس سے غلط فائدہ اٹھاکرسر پر چڑھ جاتی ہیں۔ :->~~ :->~~
 

أضواء

وفقہ اللہ
رکن
مفتی ناصرمظاہری نے کہا ہے:
اخلاص کی برکت اور جمنا کا راستہ دینا اور اس کے نظائر​
:

طالبِ حق کو چاہئے کہ اللہ جل جلالہٗ کے سامنے حضور درحضور کے سوا کسی اور چیز کا طلب گار نہ ہو۔ کل مَا شَغلکَ عن اللّٰہِ فہُو صَنَمُکَ۔ جو چیزتمہیں اللہ سے مشغول کردے وہی تمہار ا بت ہے۔​
(آپ بیتی سے ماخوذ)​


جزاك الله كل خير۔۔۔۔
 
Top