حضرت مولاناامیراحمدکاندھلویؒ

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
حضرت مولاناامیراحمدکاندھلویؒ
ناصرالدین مظاہری
عالم کبیر حضرت مولانا امیراحمد بن جناب عبدالغنی صاحب کاندہلویؒ۵؍صفرالمظفر۱۳۲۷ھ دوشنبہ کے دن کاندھلہ میں پیداہوئے۔
ابتدائی دینی تعلیم کے بعد۱۶سال کی عمرمیںمظاہرعلوم سہارنپورتشریف لاکر۱۳۴۲ھ میں داخلہ لیا اور کافیہ،مختصرالقدوری، مفیدالطالبین،نورالایضاح،ہدایۃ النحو،قال اقول اورایساغوجی سے اپنی تعلیم کی شروعات کی۔
۱۳۴۳ھ میں اصول الشاشی،کافیہ،شرح تہذیب،بحث فعل ،کنزالدقائق اورالمختصرالقدوری۔
۱۳۴۴ھ میں شرح وقایہ،شرح جامی،تلخیص المفتاح،قطبی اورمیرقطبی۔
۱۳۴۵ھ میں ہدایہ اولین،مختصرالمعانی،نورالانواروغیرہ۔
۱۳۴۶ھ میں جلالین،مشکوٰۃ المصابیح،مقامات حریری،سبعہ معلقہ اورترجمہ قرآن کریم پڑھا۔
۱۳۴۷ھ میں دورۂ حدیث شریف پڑھکرامتحان سالانہ میں امتیازی نمبرات حاصل کئے۔
آپ کے دورۂ حدیث کے اساتذہ میں شیخ الاسلام حضرت مولاناسیدعبداللطیف پورقاضویؒ،استاذالکل حضرت مولاناعبدالرحمن کامل پوریؒ،حضرت مولانامنظوراحمدخان سہارنپوریؒ اور شیخ الحدیث حضرت مولانامحمد زکریامہاجرمدنیؒ خصوصیت سے قابل ذکرہیں۔
مظاہرعلوم سے فراغت کے بعدایک سال فنون پڑھااور۱۳۴۹ھ میںمدرس شاخ مقررہوئے،یہاں تدریس کے دوران صرف سات ماہ میں قرآن کریم بھی حفظ کرلیااورپہلی بار محلہ خانعالم پورہ کی مسجدمیں محراب بھی سنائی۔
مختصرمدت میں حفظ قرآن کی وجہ بھی کبھی کبھی خودہی بیان فرماتے تھے کہ چہل حدیث کے اخیرمیں حفظ قرآن کی جودعاتحریرہے میں نے تجربۃً بعدنمازفجر قرآن کریم کے حفظ کرنے کا سلسلہ شروع کیااور مختصرمدت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے حافظ قرآن بنادیا
شوال۱۳۵۵ھ میں شاخ سے مظاہرعلوم منتقل ہوئے،آپ نے ۳۴سال تک مختلف علوم وفنون کی خدمت انجام دی ،اس دوران آپ نے ۳بارطحاوی شریف،۸بارترمذی شریف اور۱۴بارمشکوٰۃ شریف کادرس دیا۔آپ نے ۱۳۸۱ھ میں پہلی بارطحاوی شریف پڑھائی تھی۔
آپ کے استاذحضرت مولانامفتی سعیداحمداجراڑویؒکے انتقال کی وجہ سے مظاہرعلوم کاعہدۂ صدارت خالی ہوگیاتھا،اس لئے ارباب حل وعقدنے ۶؍شوال ۱۳۷۸ھ میں آپ کو صدرالمدرسین بنادیا۔
آپ کی تصنیفات اور تالیفات میں حاشیہ ابن ماجہ شریف،حاشیہ طحاوی شریف،مشکوٰۃ المصابیح،حاشیہ ترمذی شریف اور’’ درس نظامی کے مصنفین‘‘کے علاوہ اور بہت سی کتابوں پرتعلیقات اورحواشی خصوصیت کے ساتھ قابل ذکرہیں۔
مولاناکو دعوت وتبلیغ سے خاص طورپر عشق تھا اور یہی وجہ ہے کہ مظاہرعلوم میں قیام کے دوران طلبہ کی تبلیغی جماعتوں کے آپ ہی ذمہ دارتھے۔
حضرت مولانامحمدالیاس کاندھلویؒ نے سب سے پہلے جب کانپورکاتبلیغی سفرفرمایا توآپ کے ہمراہ حضرت مولاناامیراحمدکاندھلویؒ بھی تھے۔
حضرت مولانااطہرحسینؒ نے نفح المشموم فی مدح مظاہرعلوم میں حضرت مولاناامیراحمدؒکے اوصاف ومحاسن کوبایں الفاظ بیان فرمایاہے۔
وکان رحمہ اللّٰہ بارعاًفی العلم کثیرالمطالعۃ واسع الاطلاع ،قوی الذاکرۃ،حادالذہن،ورعاً تقیاً،صافی القلب،کریم الاخلاق،وکان خطیباً مصقعاًحلوالکلام یعظ ویذکروفی وعظہ تاثیرعجیب ینجذب القلوب الیہ‘‘
آپ ؒنے حضرت مفتی سعید احمد اجراڑوی ؒسے ہدایۃالنحو پڑھی تھی۔
حضرت مولانااطہرحسینؒ نے آپؒ سے مشکوٰۃ ،مقدمہ مشکوٰۃ ،دیوان متنبی کا معتدبہ حصہ ، حماسہ ،عروض المفتاح اور ہدایہ آخرین پڑھنے کا شرف حاصل فرمایا۔
عارف باللہ حضرت مولاناقاری سیدصدیق احمد باندویؒ بھی آپ کے شاگردوں میں سے تھے جیساکہ خودقاری صاحبؒ نے اپنی کتاب ’’آداب المتعلمین‘‘میں ذکرفرمایاہے۔
علم وفضل کا یہ ماہتاب مختصرعلالت کے بعد۱۱؍ذی الحجہ ۱۴۸۴ھ کوغروب ہوگیا،تدفین کاندھلہ میں ہوئی۔
فقیہ الاسلام حضرت مولانامفتی مظفرحسینؒ ناظم مظاہرعلوم وقف سہارنپور، شیخ الادب حضرت مولانا اطہرحسینؒاستاذمظاہرعلوم وقف اورحضرت مولاناانعام الرحمن تھانوی مدظلہ اپنی زبان فیض ترجمان سے حضرت مولاناامیراحمدکاندھلویؒ کابکثرت تذکرہ فرماتے تھے ۔
 
Last edited by a moderator:
Top