حضرت مولانامفتی محمودحسن گنگوہی

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
فقیہُ الاُمَّۃ
حضرت مولانامفتی محمودحسن گنگوہیؒ
ناصرالدین مظاہری
فقیہ الامت حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی ؒایک عظیم عالم اورفقہ وفتاویٰ کے جیدالاستعداد ماہر ترین فردفرید تھے، آپ نے قرآن کریم کی تعلیم اپنے وطن گنگوہ میں والد ماجداور مولانا حافظ فخرالدین سے حاصل کرکے ۱۳۴۱ھ میں مظاہر علوم میں داخل ہوئے ۔
حضرت مولا نامحمد زکریا قدوسیؒ ،حضرت مولانا عبدالرحمن اورنگ آباد یؒ ،حضرت مولانا ظہور الحق دیوبندیؒ،حضرت مولانا محمداسعداللہ رام پوریؒ ،حضرت مولانا مفتی ضیاء احمد گنگوہیؒ،حضرت مولانا عبدالشکور کامل پوریؒ اور حضرت مولانا عبدالمجید مہیسروی ؒسے شرف تلمذ حاصل کیا ، تلخیص المفتاححضرت مولانا مفتی سعیداحمداجراڑویؒ صاحبِ معلم الحجاج سے پڑھی اور فتوی نویسی میں آپ سے خوب استفادہ کیا……آپ نے حدیث شریف حضرت مولانا منظور احمد خاںسہارنپوریؒ ، حضرت مولانا عبدالرحمن کامل پوریؒ وغیرہ سے پڑھی۔
۱۳۵۲ھ میں فراغت حاصل کرکے ۱۳۵۲ھ میں معین مفتی مظاہر علوم متعین کئے گئے،پھر نائب مفتی کے عہدے پر ۱۳۷۰ھ میں تقرر ہوا،آپ نے مختلف کتب کادرس بھی دیاجیسے جلالین ، کنزالدقائق اورہدایہ وغیرہ پھرجامع العلوم کانپورتشریف لے گئے اور وہاںتدریس وافتاء ،وعظ وتلقین میں مشغول رہے ۔پھردارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے وہاں آپ کو حدیث کی تعلیم اورافتاء کی ذمہ داریاں سپرد کی گئیں………آپ جیدالاستعداد ،نہایت ذہین وفطین ،عقلی اور نقلی علوم میں ماہروحاذق، بیدارمغز،فقہی ابواب اور مسائل اور فقہی جزئیات ودلائل اور قرآن وسنت کے دقیق وعمیق علمی مباحث سے پورے طور پرواقف کثیرالمطالعہ تھے،اعمال کی پابندی کرنے والے رنج وملال سے متاثرنہ ہونے والے،ہنس مکھ،ہشاش بشاش اور محفل کو زعفران زار رکھنے والے تھے،آپ بہترین خطیب اور بیباک مناظربھی تھے،مناظروں اوراجتماعات میںفرق باطلہ کے ردوابطال میں آپ کی بہت نمایاں خدمات اور قربانیاں ہیں۔آپ کو شعری ذوق بھی خوب تھا اور آپ کو عربی ،فارسی ہندی ، وغیرہ زبانوںکے ہزاروںاشعارحفظ یاد تھے ،اس کے علاوہ آپ کوتعویذات اورجھاڑ پھونک میںبھی مہارتِ کاملہ حاصل تھی۔
مظاہرعلوم سہارنپورکی طرف سے ۱۳۹۸ھ میں’’جامعۃ مظاہرعلوم۔نبذۃ من تاریخہا،وضوء علی منہاجہا،ولمعۃ من خدماتہا‘‘کے نام سے ایک تعارفی کتابچہ شائع ہواجس میں چندممتازفضلاء مظاہرکی خدمات پراجمالی روشنی ڈالی گئی تھی،حضرت مفتی محمودحسن گنگوہیؒ کا وقیع تعارف درج ذیل بلندوبالاالفاظ میں کیاگیاہے۔
’’وھوعالم کامل الاحاطۃ بجمیع ابواب الفقہ والاصول،حافظ جزئیاتہاودلائلہامن القرآن والسنۃ، ملم بالفسلفۃ والحکمۃ والہیئۃ والریاضیات،دائم المطالعۃ فی المسائل ودراستہاوالدقۃ والفحص فیہامن الامور التی تہدء الیہااعصابہ وتغذی روحہ،لایشعرابدابالملل والکلل خطیب،مناظر،لہ اعمال مجیدۃ فی دحض الفرق الباطلۃفی المجامع‘‘
افریقہ کے ایک سفرکے دوران ۱۴۱۷ھ میں وہیں انتقال ہوا اور تدفین بھی افریقہ ہی میں ہوئی۔
 
Last edited by a moderator:
Top