کیا حضورصلی اللہ علیہ وسلم شعر بھی پڑھتے تھے؟

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے کسی نے پوچھا کیا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کبھی شعر بھی پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں ۔ مثال کے طور پر کبھی عبد اللہ بن رواحہ کا کوئی شعر بھی پڑھ لیتے تھے ( اور کبھی کبھی کسی اور کا بھی) چنانچہ کبھی طرفہ کا یہ مصرعہ بھی پڑھ لیا کرتے تھے ومایائتیک بالاخبار من لم تزود یعنی تیرے پاس خبریں کبھی وہ شخص بھی لے آتا ہے جس کو تو نے کسی قسم کا معاوضہ نہیں دیا، یعنی واقعات کی تحقیق کے لئے کسی جگہ کے حالات معلوم کرنے کے لئے تنخواہ دینا پڑتی ہے ، سفر کا خرچ دے کر آدمی کو حالات معلوم کرنے کے لئے بھیجنا پڑتا ہے، مگر کبھی گھر بیٹھے بٹھائے کوئی آ کر خود ہی سارے حالات سنا جاتا ہے ، کسی قسم کا خرچ بھی اس کے لئے نہیں کرنا پڑتا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مثال ارشاد فرمائی کہ بلا کسی اجرت اور معاوضہ کے گھر بیٹھے جنت دوزخ آخرت قیامت پچھلے انبیاء کے حالات اور آئندہ آنے والے واقعات سناتا ہوں پھر بھی یہ کفار قدر نہیں کرتے ۔ اس حدیث میں دو شاعروں کا ذکر ہے ، حضرت عبد اللہ بن رواحہ تو مشہور صحابی ہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے یہ مسلمان ہو گئے تھے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہی غزوہ موتہ میں شہید ہو گئے تھے۔ طرفہ عرب کا مشہور شاعر ہے ادب کی مشہور کتاب سبعہ معلقہ میں دوسرا معلقہ اسی کا ہے ۔ اس نے اسلام کا زمانہ نہیں پایا۔
 
Top