ساقی ہو پہلو میں کیا کرنے ہیں میخانے بہت

مزمل شیخ بسمل

وفقہ اللہ
رکن
الغزالی فورم کی نذر میری اس فورم پر پہلی غزل۔

غزل
(مزمل شیخ بسملؔ)

ساقی ہو پہلو میں کیا کرنے ہیں میخانے بہت
ہجر میں کس کام کے بے وصل پیمانے بہت

زلف میں دل کو مرے آتے ہیں الجھانے بہت
انکی زلفیں الجھیں تو سلجھانے کو شانے بہت

دیکھی آدم نے شبی بے دیکھے پہچانے بہت
ورنہ گندم سے الگ جنت میں تھے کھانے بہت

خم لگا کے منہ سے پی جاتے تھے مستانے بہت
ہم نے توڑے ہیں تری محفل میں پیمانے بہت

وہ پروئے گوہرِ اشکِ ندامت آنکھ نے
تار تو تسبیح کا چھوٹا ہے پر دانے بہت

اب نشیمن ہم نے بنوایا ہے دیکھو چاند پر
چار تنکوں پر تو آئی برق لہرانے بہت

وہ نظر آئے کہیں جو خواب میں دیکھا کہیں
ماہ رو اس شوق سے دیکھے زلیخا نے بہت

صبح تک شب کی سیاہی ختم ہوجاتی ہے سب
جب بھی لکھنے کے لئےبچتے ہیں افسانے بہت

شمع عریانی میں محفل پر نہ ہو جائے عیاں
رقص یوں کرتے ہیں ساری رات پروانے بہت

تربیت ملتی ہے اب نسلِ ہما کو زاغ کی
نام پر اسلام کے ہیں کفر کے گانے بہت

اے چمن کے باغباں اب عدل کی حد ہوگئی
زاغ کی ہیں چونچ میں انگور کے دانے بہت

جب دھواں گٹھتا ہے آہوں کا مرے سینے میں تب
آتی ہیں غم کی گھٹائیں اشک برسانے بہت

مرتا ہے بسملؔ ہر اک بہتر ہے اب کلمہ پڑہو
میں نے اتنی بات کہ دی تھی برا مانے بہت
 

مولانانورالحسن انور

رکن مجلس العلماء
رکن مجلس العلماء
جب دھواں گٹھتا ہے آہوں کا مرے سینے میں تب
آتی ہیں غم کی گھٹائیں اشک برسانے بہت
بہت خوب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

سیفی خان

وفقہ اللہ
رکن
ساقی ہو پہلو میں کیا کرنے ہیں میخانے بہت
ہجر میں کس کام کے بے وصل پیمانے بہت

زلف میں دل کو مرے آتے ہیں الجھانے بہت
انکی زلفیں الجھیں تو سلجھانے کو شانے بہت
۔ ۔۔
بہت خوب جناب ۔ ۔ اگر یہ آپ کی اپنی شاعری ہے تو اچھی ہے
 

ذیشان نصر

وفقہ اللہ
رکن
بہت خوب مزمل بھائی!
اس غزل کی بحر بھی اگر مناسب سمجھیں تو لکھ دیں مجھ جیسے شاعری سیکھنے والوں کو فائدہ پہنچ جائے گا۔۔۔!
 

مزمل شیخ بسمل

وفقہ اللہ
رکن
سب حضرات کا بہت شکریہ۔
سیفی صاحب میری ہی غزل ہے۔ :)

ذیشان بھائی یہ بحر رمل مثمن محذوف ہے۔ ارکان:
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
 

ذیشان نصر

وفقہ اللہ
رکن
بہت شکریہ بسمل بھائی ۔۔۔!
مجھے اس شعر کا قافیہ کھٹک رہا ہے ۔۔۔۔!
وہ نظر آئے کہیں جو خواب میں دیکھا کہیں
ماہ رو اس شوق سے دیکھے زلیخا نے بہت

آپ کیا کہتے ہیں ۔۔۔۔؟
 

talibilm

وفقہ اللہ
رکن
غزل
××××
کیسے کیسے حادثے سہتے رہے
ہم یوں ہی جیتےرہے ہنستے رہے
اُسکے آجانے کی امیدیں لیئے
راستہ مُڑ مُڑ کےہم تکتے رہے
وقت تو گزرتا رہے مگر کچھ ا سطرح
ہم چراغوں کی طرح جلتے رہے
کتنے چہرے تھے ہمارے آس پاس
تم ہی تم مگر دل میں بستے رہے
 

مزمل شیخ بسمل

وفقہ اللہ
رکن
ذیشان نصر نے کہا ہے:
بہت شکریہ بسمل بھائی ۔۔۔!
مجھے اس شعر کا قافیہ کھٹک رہا ہے ۔۔۔۔!
وہ نظر آئے کہیں جو خواب میں دیکھا کہیں
ماہ رو اس شوق سے دیکھے زلیخا نے بہت

آپ کیا کہتے ہیں ۔۔۔۔؟

ذیشان بھائی قافیہ درست ہے۔ بس اسے دو لخت کر دیا گیا ہے۔
غالب کو دیکھیں:
نکتہ چیں ہے، غمِ دل اُس کو سُنائے نہ بنے
کیا بنے بات، جہاں بات بنائے نہ بنے
میں بُلاتا تو ہوں اُس کو، مگر اے جذبۂ دل
اُس پہ بن جائے کُچھ ایسی کہ بِن آئے نہ بنے

پہلے سنائے اور بنائے قافیہ کرکے پھر بن آئے کو قافیہ دو لخت کردیا۔
اسی طرح حکیم مومن:
ایک دن جی زیادہ گھبرایا
جانِ بے تاب کو نہ صبر آیا۔

یہاں بھی قافیہ کو دو لخت کردیا گیا ہے۔
اسے اصطلاح میں ”معمول ترکیبی“ کہتے ہیں۔
 
Top