حضرت مولانامحمدظفرنیرانوی

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
حضرت مولانامحمدظفرنیرانوی

گمنامی،عزلت اورزاویۂ خمول میں رہناعلماء مظاہرعلوم کی سب سے بڑی پہچان ہے،سستی شہرت، ناموری تعلّی اورریاونمودسے یہاں کے فضلاء اور علماء ہمیشہ دوربھاگے ہیں،ان کی اسی خوبی نے اپنے معاصرین میں امتیازبخشاہواہے۔
حضرت مولاناظفراحمدنیرانویؒبھی انھیں برگزیدہ نفوس اور پاکبازہستیوں میں سے ہیں ،جنہیں گمنامی کی زندگی پسندتھی،انہوں نے اپنی پوری زندگی مظاہرعلوم میں تعلیم اورتدریس میں صرف فرمادی لیکن حیرت کی بات ہے کہ ان کی شخصیت کو صرف وہی حضرات جانتے ہیں جنہوں نے آپ کے سامنے زانوئے ادب طے کیاہو یاان سے کسی نہ کسی شکل میں قربت اوراستفادہ کی توفیق میسرآئی ہو۔
جولوگ اس مزاج اور مذاق کے ہوں گے کہ ان کی شہرت نہ ہواوران کو کوئی نہ جانے یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ اپنے بعدوالوں کیلئے ایسے رہنماخطوط اورنقوش بھی نہیں چھوڑتے جو ان کی سوانح نگاری میں معاون ثابت ہوسکیں۔
حضرت مولانا محمد ظفر نیرانوی ؒ بن منشی محمد عمرؒ،نیرانہ ضلع مظفر نگر میں ۱۳۵۰ھ میں پیدا ہوئے،۱۲؍سال کی عمر میں مظاہرعلوم سہارنپور میںداخلہ لے کر حضرت حافظ منظور احمد صاحب ؒاستاذمدرسہ کے پاس جامع مسجد میں حفظ کلام اللہ اورابتدائی دینیات کی تعلیم مکمل کرکے ۱۳۶۲ھ میں مالا بدمنہ ،گلستان سعدی ، رقعات عالمگیری، اخلاق محسنی،انشاء بہارعجم ،احسن القواعد مفتاح القواعد اوراملا ء وحساب پڑھ کر ۱۳۶۳ھ میں انوار سہیلی،بوستاں ، انشاء خلیفہ،احسن القواعد باب دوم اوراملاء وحساب کی تعلیم حاصل کی پھر ۱۳۶۴ھ میں کافیہ مختصر القدوری ،مفید الطالبین ، نفحۃ الیمن ،تہذیب ،شرح تہذیب اور بحث اسم پڑھنے کے بعد ۱۳۶۶ھ میں قطبی تصدیقات ، کنز الدائق ،اصول الشاشی، میر قطبی اور تلخیص المفتاح پڑھیں، پھر۱۳۶۷ھ میں مختصرالمعانی ،سلم العلوم ،شرح وقایہ ،نورالانوار،ہدایہ، رشیدیہ اورمقدمہ جزری کی تعلیم کے حصول کے بعد دارالعلوم دیو بند چلے گئے جہاں۱۷؍شوال ۱۳۶۸ھ کوحضرت مولانا منظور حسن احمد خاں صاحب کے پاس امتحان برائے داخلہ تجویز ہوا ،ہدایہ اولین، جلالین اورمشکوۃ وغیرہ کاامتحان دیکر دورۂ حدیث میںداخلہ لیا۔
مظاہرعلوم سہارنپورمیں آپ ؒ نے بخاری شریف جلداول اور ابوداؤدشریف شیخ الحدیث حضرت مولانا محمدزکریا مہاجرمدنی ؒسے، بخاری شریف جلد ثانی شیخ الاسلام حضرت مولاناسید عبداللطیف پورقاضویؒ سے ، ترمذی شریف حضرت مولانا مفتی اعظم مولانا مفتی سعید احمداجراڑویؒ سے، مسلم شریف حضرت مولانا منظور ا حمد خاںؒ صاحب سہارنپوری سے اورطحاوی شریف ونسائی شریف مناظر الاسلام حضرت مولانا محمد اسعداللہ صاحب رام پوریؒ ؒسے پڑھنے کاشرف حاصل کیا ۔
آپ کے دورہ ٔحدیث شریف کے خصوصی رفقاء میں فقیہ الاسلام حضرت مولانامفتی مظفرحسین صاحب ، حضرت مولاناحافظ فضل الرحمن صاحب کلیانوی ،حضرت مولاناحافظ حسین احمد صاحب،حضرت مولانا محمدہاشم صاحب گورکھپوری، حضرت مولانا ولی محمد بارہ بنکویؒاورحضرت مولانا عبد الغنی حید رآبادی خصوصیت سے لائق ذکر ہیں۔
فراغت کے بعد۱۸؍شوال ۱۳۷۰ھ کومدرس فارسی کے عہدے پرمظاہرعلوم میںتقررہوگیا اور تاحیات فارسی ہی کے استاذرہے حالانکہ آپ ذی استعداد اوردرس نظامی کی تقریباً ہرکتاب پڑھانے کی لیاقت رکھتے تھے ،فارسی کتابیںمسلسل آپ کے زیر درس رہنے کے باعث حمدباری ،آمدنامہ، تیسیرالمبتدی، پندنامہ، مفتاح القواعد، حکایات لطیف ،فارسی کی پہلی ، گلستاں ،بوستاں،احسن القواعد، انشاء ملک،مالا بدمنہ ، اخلاقی محسنی ،انشاء بہارعجم، انشاء خلیفہ،انوارسہیلی ،سکندرنامہ رقعات امان اللہ حسینی ،کیمائے سعادت ،مثنوی مولانا روم اور دیگرفارسی کتابوں کا درس آپ کے لئے نہایت ہی آسان اور سہل ہوگیا تھا، اس کا احساس بھی آپ کواخیر تک رہا کہ آپ تاحیات فارسی ہی کے استاذ رہے ، فروری ۱۹۹۸ء میں حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے آپ کے شاگردان رشید کی ایک کثیر تعداد دین کی خدمت میں مصروف ہے۔
۱۹۷۱ء میں آپ کومدرسہ کا خزانچی بنائے جانے کی پیش کش کی گئی، لیکن آپ نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا ،فارسی زبان میں تاریخ نگاری کا بھی شوق تھا،تاریخی نام اور مختلف حضرات کے قطعات تاریخ وغیرہ آپ کی فکر رسا طبیعت کی غمازہیں۔
۸؍شوال ۱۴۲۱ھ مطابق ۴؍جنوری ۲۰۰۱ء جمعرات کی صبح ۶بجے انتقال ہوگیا ،حضرت فقیہ الاسلام مفتی مظفرحسین ؒنے نماز جنازہ پڑھائی اور حاجی شاہ کمال میں تدفین عمل میں آئی ۔
مولانانعیم احمدصاحب استاذمظاہرعلوم نے آپ ؒکے افادات کو کتابی شکل میں لانے کی سعی میمون کی ہے ،چنانچہ پند نامہ کی شرح ’’ظفر نامہ‘‘ اور کریما کی شرح’’ کیمیا‘‘نہا یت ہی آب وتاب کے ساتھ منظر عام پرآچکی ہیں اور ’’حکایات لطیف‘‘ اور’’گلستاں ‘‘کی شروحات زیرطبع ہیں۔
شیخ الادب حضرت مولانا اطہر حسین صاحب ؒنے آپ سے فارسی کی بعض کتابیںپڑھی تھی اور حضرت مولانا ظفر احمدصاحب ؒکا احترام فرماتے تھے۔
تفصیل کے لئے راقم الحروف کامضمون( آئینہ مظاہرعلوم ستمبر ۲۰۰۳ء )ملاحظہ فرمائیں۔
 
Last edited by a moderator:
Top