حضرت مولاناظریف احمدپورقاضوی

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
حضرت مولاناظریف احمدپورقاضوی
حضرت مولانا ظریف احمدصاحب پورقاضویؒ مظاہرعلوم کے اہم کباراساتذہ میںسے تھے ،آپ نے یہاںکے نامور علماء سے علم حاصل کیاہے آپ کے اساتذہ کی فہرست میں خاص طورپر حضرت مولاناخلیل احمدمحدث سہارنپوریؒ صاحب بذل المجہو د،شیخ الا سلام حضرت مولانا عبداللطیف پورقاضوی ؒقابل ذکرہیں۔
۱۳۳۶ھ میں مظاہرعلوم سے فارغ ہوئے اور کتب خانہ مظاہرعلوم کی خدمت میں مصروف ہوئے ، ایک سال کتب خانہ میںخدمت کرنے کے بعد۱۳۴۳ھ میں آپ کونائب ناظم کاعہدہ سپرد کیا گیا، ۱۳۵۰ھ میں مدرس متعین ہوئے اور اہم متداول کتب کا درس آخر حیات تک دیتے رہے ۔
آپ اسم بامسمیٰ ظریف تھے،تقریراوردرس میں بھی ظرافت ومزاح کارنگ نظرآتاتھا۔
آپ ؒنہایت ذہین وفطین ،مضبوط طبیعت کے مالک ،صاحب ِعلم وفضل ،متقی وپرہیز گار ،دعوت وتبلیغ سے خصوصی مناسبت اور محبت رکھتے تھے ،مختلف مساجدمیں نماز کے بعد دینی کتابوں کے پڑھانے کا بھی مشغلہ تھا۔
آپ نے درس وتدریس ،ذکرودعوت میں عمر صرف کی ،آپ مختلف مدارس اور جامعات میں بھی تشریف لیجاتے تھے،آپ جب وعظ فرماتے تو نہایت ہی اچھاوعظ فرماتے جس کوسن کر عوام وخواص بہت تعجب کرتے تھے،آپ کاوعظ نادر حکایات ،عجیب وغریب قصص وواقعات اور لطائف ونکات پر مشتمل ہوتا، آپ کی طبیعت میں لطف گوئی اوربذلہ سنجی کا عنصرغالب تھا ،مزاح اور مذاق اپنے وعظ وارشادمیں بھی ایسے انداز میں فرماتے کہ سامعین ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوجاتے اور اپنی ہنسی نہ روک پاتے ،رات میںوعظ کے وقت سونے والوں کوبھی تنبیہفرماتے تھے، جب کوئی امرمنکر دیکھتے تو غصہ سے چہرہ تمتما اٹھتااورکھلم کھلانکیرشروع کردیتے ، کسی کی وجاہت اظہار حق میں مانع نہیں ہوتی تھی۔ ۴؍شوال ۱۴۰۲ھ کو انتقال ہوا۔
چھوٹے بچوں سے بہت شفقت فرماتے تھے،بچوں کو دینے کے لئے اپنے تھیلے میں بھنے ہوئے چنے رکھتے تھے،بچے بھی ان سے بہت مانوس تھے اور’’چیز‘‘کے لالچ میں ان کے پیچھے پیچھے بھاگتے رہتے تھے۔
مولانامرحوم کی ایک اورخوبی جو ہم خوردوں کیلئے نہایت ہی قابل تقلیدہے اوروہ ہے کاغذکاحددرجہ احترام،اس سلسلہ میں کوئی امتیازنہیں تھا کہ کاغذکس زبان میں لکھاہواہے،ان کے پیش نظرکاغذات پرلکھے ہوئے حروف اورخودنفس کاغذلائق احترام تھا،حتیٰ کہ موصوف چاٹ اورکلفی میں استعمال شدہ کاغذکوبھی اٹھاکرایسی جگہ رکھتے تھے جہاں بے ادبی اوربے حرمتی کاامکان نہ ہو۔
حضرت مولاناقاری سیدصدیق احمدباندویؒ بھی مولاناکے خصوصی شاگردوں میں سے ہیں مولاناباندویؒ بھی کاغذات کا بہت احترام فرماتے تھے۔
میرے استاذقاری علی حیدرصاحب سیوانی استاذمدرسہ امدادالعلوم زیدپوربارہ بنکی نے مجھ سے بتایاکہ حضرت باندویؒ نے ایک بار طلبہ کوکاغذات کے احترام کی تاکیدکرتے ہوئے یہاں تک فرمایاکہ تم لوگ کاغذات کااحترام بطورخاص کرواوراگرکل قیامت کے دن بخشش نہ ہوتومیرادامن پکڑنا۔
احادیث میں مساجدکومعطرکرنے کاحکم ہے اسی لئے مولاناموصوف مساجدمیں ہرجمعہ کوبخورروشن فرماتے تھے۔
حضرت مولانااطہرحسینؒ نے آپؒسے سلم العلوم ،ہدیہ سعیدیہ ، اصول الشاشی ،کافیہ وغیرہ کتب پڑھی ہیں۔
حضرت مولاناعلامہ عشیق احمدصاحب ؒ استاذ مظاہر علوم وقف سہارنپورآپ کے ہونہار فرزند سعید تھے، ٹھوس استعداد، پختہ صلاحیت،علوم معقولہ ومنقولہ بالخصوص ہیئت ،اقلیدس،ریاضی،حساب ،تفسیر ، فلکیات اور سائنس میںمکمل درک حاصل تھا ،۱۳۷۳ھ میں مظاہرعلوم سے فارغ ہوئے ،حضرت مولانا اطہر حسین ؒ آپ کے دورۂ حدیث شریف کے رفیق تھے ، عربی تحریربڑی خوبصورت تھی،تختۂ سیاہ پرخوش خط لکھنے میں وہ اپناثانی نہیں رکھتے تھے۔
انہو ں نے کئی سال تک دورہ ٔ حدیث شریف کی معروف کتاب ابن ماجہ کا درس دیا ، شعبان ۱۴۱۶ھ میں انتقال فرمایااورقبرستان حاجی شاہ کمال میں تدفین عمل میں آئی۔
آپ نے پوری زندگی کرایہ کے مکان میں گزاردی،تجردکی زندگی بسرکی،اصولوں کے بہت پابندتھے۔
ایک باراپنے بعض ساتھیوں کے ہمراہ مولاناکے گھرجاناہوا،ایک ساتھی نے دروازہ پرکھڑے ہوکر بآوازبلنداپنانام لیکر داخلہ کی اجازت مانگی ،اجازت مل گئی لیکن اس کے پیچھے پیچھے جب ہم لوگ بھی بغیراجازت پہنچ گئے تو سختی کے ساتھ ڈانت کرواپس کردیااورکہاجاؤ،دروازہ کی اوٹ سے اپنام نام لیکراندرآنے کی اجازت لو،چنانچہ ایساہی کیاپھر اجازت ملی ۔
انہوںنے دروازہ کی پیشانی پرجلی حروف میں بھی لکھوارکھاتھاکہ ’’کھٹ کھٹ مت کر،نام بتا،کام بتا‘‘ ظاہرہے یہ سب مولاناکی تربیت کا مخصوص اندازتھا۔
اپنے والدماجدکی طرح مولاناعشیقؒ بھی بعض مسائل میں منفردرائے رکھنے کے علاوہ حق گوئی اور بیباکی میں اپنی مثال آپ تھے۔
 
Top