حضرت مولاناعلامہ سیدصدیق احمدکشمیری

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
حضرت مولاناعلامہ سیدصدیق احمدکشمیری

امام المعقولات والمنقولات حضرت العلامہ مولاناسیدصدیقِ احمد کشمیریؒ بن جناب حکیم اللہ کشمیری ۱۵؍سال کی عمرمیںمظاہرعلوم سہارنپور میں تحصیل علم کیلئے تشریف لائے، ۱۳۳۰ھ میںمظاہرعلوم میں داخلہ لے کراس وقت کے جبال العلم اساتذہ سے مختلف علوم وفنون کی تحصیل کے بعددارالعلوم دیوبند گئے وہاں مختلف اساتذہ وشیوخ سے اکتساب فیض کیا، امام المعقولات حضرت مولانا علامہ نبیہ حسن ؒسے خاص طورپر دوبارہ شرح جامی پڑھی ،اسی دوران علامہ انورشاہ کشمیری ؒسے خصوصی عقیدت ومحبت کے باعث آپ سے شاگردی کا شرف بھی حاصل کیا،دارالعلوم دیوبند میں مختصر عرصہ قیام کے بعد دوبارہ ۱۳۴۴ھ میں مظاہر علوم سہارنپور میں حاضر ہوکر فراغت حاصل کی اور امتیازی نمبرات سے کامیاب ہوکر تعلیم وتعلم اور درس وتدریس کے لئے فرخ آباد پھر دارالعلوم شاہ بہلول سہارنپورمیں خدمت تدریس انجام دیا بالآخر۱۳۳۹ھ میں آپ کی بے قرار طبیعت کو قرار آگیااوراس عندلیب خوش نواکواپنے محبوب آشیانے مظاہرعلوم میں چہکنے کی توفیق میسرآئی۔
یہاں نحو،منطق ،معانی،فقہ اوراصول فقہ وغیرہ کے استاذ مقررہوئے ،نحو اور منطق میں آپ کوملکہ تامہ اورقدرت راسخہ حاصل تھی ،شرح جامی کا دررس بہت مقبول اورمعروف تھا ،تاحیات بڑی کامیابی کے ساتھ اس فنی کتاب کا درس دیتے رہے دور دراز سے طلبہ جوق درجوق صرف شرح جامی پڑھنے کے لئے آتے،تقسیم ہند سے پہلے تک پشاورتک کے طلبہ حضرت موصوف کے درس میں شریک ہوتے تھے۔
آپ متدین ،صالح،تکلف سے نفوراورتضع سے دور،کریم الطبع ،متواضع ،سادگی وانکساری کا پیکر دلنواز، نیک طینت ، خوش اخلاق ،عابد وزاہد ،اورادو اذکار کے پابندتھے ،خلوت میں رونے اور فقراء ومساکین پر خوب خرچ کرتے تھے۔
مظاہر علوم کی خدمت انتہائی اخلاص وللہیت سے کی ،سادگی ،حق گوئی اور صاف گوئی میں کما ل حاصل تھا، سردی ،گرمی ،برسات اوردیگر اعذار وموانع کے باوجود آپ درس کااہتمام فرماتے تھے،شرح جامی کے علاوہ بھی دیگر علوم وفنون کے ماہر تھے البتہ شہرت اور دوامی مقبولیت نحو اورمنطق وغیرہ میں پائی۔
وفات سے ایک دن پہلے حضرت مہتمم صاحب علیہ الرحمہ کے پاس درخواست بھیجی کہ اس سال شرح جامی نہیں پڑھاسکوں گا،اس لئے شرح جامی کا سبق مولانا محمد یامین صاحب مدرس مظاہر علوم کے سپرد کردیا جائے۔ علامہ محمد یامین ؒصاحب حضرت کے تلمیذرشید،خاص تربیت منظورِنظرتھے اورخصوصیت سے علم صرف ونحو میں ’’التلمیذ نسخۃ استاذہٗ‘ کا مصداق تھے،چنانچہ دوسرے ہی دن صبح کو یہ سبق حضرت مولانا علامہ محمد یامین ؒصاحب ؒ کے سپرد کیا گیا اور شام کو عصر کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۹۸۹ئ۔کو حضرت علامہ سید صدیق احمد کشمیر یؒ دار فانی سے کوچ فرماگئے۔
آپ کے رفیق درس حضرت مولانا محمد اسعد اللہ صاحب ؒ نے نماز جنازہ پڑھائی اورگورستان حاجی شاہ کمال الدینؒ میں تدفین عمل میں آئی،نماز جنازہ میں طلبہ اورعلماء کرام کی کثیر تعداد نے شرکت کی ،شہر سہارنپور اوراس کے مضافات کے علاوہ دارالعلوم دیوبند سے حضرت مولانا فخرالحسن صاحبؒ ،حضرت مولانا مفتی محمود حسن صاحب ؒ، حضرت مولانا شریف الحسن صاحبؒ اور حضرت مولانا نصیر احمدخاںصاحب مدظلہ وغیرہ حضرات نے شرکت کی، جامعہ اسلامیہ ریڑھی ،سہارنپور کے مہتمم مولانا حشمت علی اور مظفر نگر ،میرٹھ ، وغیرہ سے بہت سے حضرات نے جنازہ میں شرکت کی۔
پوری عمر درس وتدریس کے ذریعہ دین وعلم کی خدمت انجام دی،آپ نے’’فرائد نجیبہ‘‘کے نام سے علامہ شامی ؒکی کتاب ’’فوائد عجیبہ ‘‘کااردو ترجمہ اور مناسب تفصیل ووضاحت لکھی جومنظرعام آچکی ہے۔
حضرت مولانااطہرحسین ؒنے آپ سے ملاحسن ،شرح عقائد نسفی،حاشیہ خیالی ،کنزالدقائق ،میبذی ، ہدایۃ الحکمت ، امورعامہ ، ملا جلال ،حاشیہ میر زاہدوغیرہ کتب کے علاوہ بہت سی چیزوںمیں فیض حاصل کیا ۔
شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی ؒآپ کے ہم سبق ساتھی تھے۔
آپ کے باکمال شاگردوں کی فہرست حداحصاء سے باہرہے لیکن بعض شاگردان باصفا جنہوں نے اپنی خدمات اورقربانیوںکے لازوال نقوش چھوڑے ان میں سرفہرست عارف باللہ حضرت العلامۃ مولانا سیدصدیق احمدباندویؒ، فقیہ الاسلام حضرت مولانامفتی مظفرحسینؒ اجراڑوی،ادیب باکمال حضرت مولانامحمد اللہ،ؒشیخ الادب حضرت مولانا اطہرحسین اجراڑویؒ اورامام النحوحضرت علامہ مولانامحمدیامین سہارنپوری ؒجیسے اعیان علم وفضل شامل ہیں جنہوں نے اپنے استاذباکمال کے نام اورکام کو دیرتک اور دورتک پہنچانے میں کلیدی کردار ادافرمایاہے۔
آخرالذکرحضرت مولانامحمدیامینؒ بن جناب محمدصدیق انصاری سہارنپوریؒاپنے عہدکے ممتازعلماء اور نحووصرف کے فاضل ترین اساتذہ میںسے تھے۔انہوں نے اپنی پوری زندگی مظاہرعلوم کی تدریسی اور انتظامی ذمہ داریوں کو نبھانے اور سنبھالنے میں صرف فرمائی،آپ فقیہ الاسلام حضرت مولانامفتی مظفرحسینؒ کے نہایت معتمدومعتبرافرادمیں سے تھے جن کی ذات پر حضرت فقیہ الاسلامؒ کومکمل اعتمادتھا۔
مختلف امراض واسقام کوجھیلنے کے بعد۱۵؍ربیع الثانی ۱۴۱۵ھ مطابق۱۹۹۴ھ میں انتقال فرمایا، حضرت مولانامفتی مظفرحسینؒنے نماز جنازہ پڑھائی اورقبرستان حاجی شاہ کمال میں تدفین عمل میں آئی۔
 
Top