ارشادات حضرت شیخ الادب علیہ الرحمہ

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
ارشادات حضرت شیخ الادب علیہ الرحمہ
از: محمد نصیرالدین
غیبت سخت گناہ ہے
ایک مرتبہ مجلس لگی ہوئی تھی کچھ لوگ بیٹھے تھے،کسی شخص نیغیبت شروع کی توحضرت شیخ الادب ؒنے فوراًتنبیہ فرمائی اس کے بعدارشادفرمایا بیٹے ! کسی کی غیبت کرناسخت گناہ ہے،حدیث پاک میںآیاہے کہ غیبت زناجیسے برُے فعل سے بھی بدترہے اگرتم سے کسی کی غیبت ہوجائے تواس سے معافی مانگو،یہ ممکن نہ ہوتواس کی جانب سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میںمغفرت طلب کرلیاکرواوراس کی طرف نسبت کرکے یہ دعاپڑھ لیاکرو (اللّٰہم اغفرلناولہم)
خوفِ خدا اورمال وقف میں احتیاط
بندہ ایک مرتبہ دفترمدرسہ قدیم مسجداولیاء میں حاضرہواحضرت سے عرض کیاآج گرمی بہت ہے پنکھاچلادوں؟احضرتؒنے سختی سے منع فرمایا پھر ارشاد فرمایاکہ یہ پنکھامسجدکاہے نمازکے علاوہ استعمال کرنامیرے نزدیک درست نہیںفرمایابڑامشکل وقت آگیاہے خود احتیاط نہیں اورنہ احتیاط کرنے دیتے یہ سب نفسانی خواہشات کی وجہ سے ہورہا ہے پہلے لوگوںکواس کی ہمیشہ فکررہتی تھی کہ کوئی مشتبہ چیزاستعمال نہ کی جائے حضرت عمربن عبدالعزیزؒکوسخت سردی میںغسل کی حاجت ہوگئی آپ کے خادم نے گرم پانی پیش کیاحضرت نے دریافت کیایہ پانی کہاںگرم کیاہے خادم نے کہاعام مطبخ میںحضرت نے فرمایا اس پانی کواٹھالوکیونکہ یہ پانی جہاںگرم ہواہے اس میںتمام مسلما نوںکاحق ہے گرم پانی کوہٹاکرٹھنڈے پانی سے غسل کرنے کاارادہ کیا،اصل چیزخوف خدا ہے اللہ کے کیسے کیسے نیک بندے تھے آج بڑامشکل وقت ہے ۔
مردہ کیلئے سب سے بڑا تحفہ دعا ء مغفرت ہے
ایک شخص حاضرہواعرض کیاحضرت،والدصاحب کاانتقال ہوگیادعا فرمادیں حضرت نے کہاکس چیزکی دعااس نے عرض کیامغفرت کی دعاحضرت نے ارشاد فرمایا تم دعاکرواورگھروالوںسے بھی کرایاکرواس لئے کہ مرنے والا بے چارہ انتظارمیںرہتاہے کہ اولادبہن بھائی ماںباپ یاکسی دوست آشناکی طرف سے دعارحمت ومغفرت کاتحفہ پہنچے اوریہ دعااس کے لئے سب سے زیادہ محبوب ہوتی ہے،مردوںکے لئے زندوںکاخاص ہدیہ ان کے لئے دعا مغفرت ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت میںکسی مردصالح کادرجہ اچانک بلندکردیاجاتاہے تووہ پوچھتاہے کہ اے پروردگارمیرے درجے میںترقی کس وجہ سے اورکہاںسے ہوئی؟جواب ملتاہے کہ تیرے واسطے تیری فلاںاولادکی دعامغفرت کرنے کی وجہ سے
مدینہ کی ہرچیزلائق تعظیم ہے
حضرت ؒحج سے تشریف لائے توبندہ ملاقات کی غر ض سے حاضرخدمت ہوا ،بعدملاقات حضرت نے مدینہ پا ک کی کھجورعنایت فرمائی ،بندہ کھجو ر کھا کر گٹھلی کوہاتھ میںلیکربیٹھاتھاتوحضرت نے ارشادفرمایابیٹے! اس کوگندی جگہ میںنہ ڈالنا،یہ مدینہ کی ہے مدینہ کی ہرچیزلائق تعظیم ہے اکابراس کابہت خیال فرماتے تھے حضرت مولانارشیداحمدگنگوہیؒکے متعلق لکھاہے کہ آپ مدینہ کی کھجورکی گٹھلی کوپیس کرسرمہ کی جگہ استعمال کرتے تھے،مولاناحسین احمدمدنیؒکی خدمت میںایک حاجی صاحب نے مدینہ سے لایاہواایک رومال ہدیہ میں پیش کیا، حضرت مدنیؒنے رومال کوآنکھوںسے لگایااوراس کابوسہ لیا،حضرت مدنی سے حاضرین مجلس میں سے کسی نے کہاحضرت یہ رومال توہندوستان یاکسی دوسرے ملک سے بن کرگیاہوگا، مدینہ کاتھوڑے ہی بناہواہے؟
حضرت نے جواب دیا بھائی کہیںسے بن کرگیاہوکم ازکم اس کومدینہ پاک کی ہواتولگی ہوگی،اس لئے لائق تعظیم اورقابل احترام ہوگیاہمارے بزرگان دین کے دل میںاللہ اوراس کے رسول کی کس قدرعظمت تھی محبوب سے جب محبت ہوتی ہے توفقط محبوب سے نہیںہوتی اس کاگھردربھی محبوب بن جاتاہے ۔
آنکھیںبندکرکے نمازپڑھناکیساہے
ایک صاحب نے عرض کیاحضرت آنکھیںبندکرکے نمازپڑھناکیساہے حضرت نے ارشادفرمایاکہ اگرکسی کوآنکھ بندکرکے نمازمیںخشوع وخضوع حاصل ہوتاہوتوآنکھ بندکرکے نمازپڑھنادرست ہے لیکن آنکھ کھول کر نماز پڑھنا سنت ہے اولیٰ وافضل یہ ہے کہ آنکھ کھول کرنمازپڑھے حضرت مہاجرمکیؒکے ایک خلیفہ تھے انہوںنے ایک مرتبہ بڑے خشوع وخضوع کے ساتھ آنکھ بندکرکے نماز پڑھیں،خواب میںان کی نمازکونہایت حسین وجمیل شکل میںدکھایا گیا مگر اس کی آنکھ نہ تھی ،اندھی تھی حضرت حاجی امداداللہ صاحبؒکی خدمت میںعرض کیااورآنکھ نہ ہونے کاسبب دریافت کیاحضرت نے فرمایاتم نے آنکھ بندکرکے نمازپڑھی ہوگی آنکھیںکھول کرنمازپڑھناسنت ہے۔
اعمال قبول ہونے کی دوشرطیں ہیں
ارشادفرمایا:روح البیان میںبزرگوںکاقول نقل کیاہے کہ اعمال کے قبول ہونے کی دوشرطیںہیںایک تویہ ہے کہ وہ عمل سنت کے مطابق ہواوردوسرے یہ کہ اللہ ہی کے لئے ہویعنی اخلاص ہولہٰذاجوکام سنت کے مطابق نہ ہوگا اور اخلاص نہ ہوگاوہ قبول نہ ہوگا۔
سنّت کے برکات و فوا ئد بہت ہیں
ارشادفرمایا:سنت کے برکات وفوائدبہت ہیںرسو ل اللہ ا نے فرمایااے لوگوںاگرتم دوچیزیںمضبوطی سے پکڑلوگے توہرگزگمراہ نہ ہوگے میںتم میںکتاب اللہ اورسنت رسول اللہ ا چھوڑے جارہاہوں، حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیںکہ رسول اللہ انے ارشاد فرمایاجوشخص سنتوںکومضبوطی کے ساتھ پکڑے رہے گاوہ جنت میںداخل ہوگا۔
کثرت ذکراللہ
ارشادفرمایا:کثرت سے ذکراللہ کاعجب ثمرہ ہے حدیث قدسی میںہے اے بندے تواپنی تندرستی کے زمانے میںمجھے یادرکھ تاکہ تیری بیماری کے زمانہ میںتجھے یادرکھوںتواپنی تونگری کے زمانے میںمجھے یادرکھ تاکہ تیری مفلسی کے زمانہ میںتجھے یادرکھوںجب کوئی تیرایادکرنے والانہیںہوگا تو اپنی دنیا میںمجھے یادرکھ تاکہ قبرمیںتجھے یادرکھوںجویہاں کرے گا وہی وہاںکام آئیگا۔
مجلس ذکرجنت کے باغات ہیں
ارشادفرمایا:دنیامیںسب سے بڑے ذاکرحضورعلیہ السلام تھے کوئی وقت ذکراللہ سے خالی نہ ہوتاتھامختلف اندازسے آپ ہروقت ذکراللہ میںمشغول رہتے تھے اپنے تمام اوقات میںاللہ کویادکرتے تھے،حدیث شریف میں آتاہے کہ ذکراللہ کی مجلس جنت کے باغات میںسے ہے۔
رب العٰلمین کاخط
ارشادفرمایا:کہ قرآن کریم کی تلاوت خوب کیاکرو،قرآن کریم کواللہ کاکلام سمجھ کرپڑھاکرو،امام غزالی کاقول ہے قرآن کریم کے بارے میں
فرماتے ہیں’’یہ مکتوب رب العٰلمین ہے،یعنی محبوب حقیقی کاخط ہے اس کے ساتھ شغف اللہ کے ساتھ مشغولی ہے۔‘‘
قرآن پڑھنے کامعمول بناؤ
ارشادفرمایا:اکابر قرآن کریم کواللہ کاکلام سمجھ کرپڑھاکرتے تھے، قرآن شریف کواپنے معمولی میںیومیہ تھوڑاہی سہی پڑھنے کامعمول بناؤاللہ رب العزت کاارشادہے وَاعْتَصِمُوْبِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًااللہ کی رسی کومضبوطی سے پکڑنے میں قرآن کی تلاوت بھی شامل ہے خوشخبری کے طورپرکہاگیاہے کہ خوش ہوجاؤکہ اس قرآن کاایک سراتواللہ کے ہاتھ میںہے اوردوسرا،سراتمہارے ہاتھ میںہے لہٰذااس کومضبوطی سے پکڑلوتو ہرگزگمراہ نہ ہوں گے۔
 

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
اللہ کے حکم کااحترام کرو
ارشادفرمایا:اللہ کے حکم کااحترام کروآج لوگ کہتے ہیںکہ لوگوںپردینی معاملہ میںسختی کرناٹھیک نہیںہے روک ٹوک کرنے سے نازک دل ٹوٹ جائیگانازک صورت ہے ان پراحکام کابوجھ نہیںڈالناچاہئے بیوی بچے رشتہ دار نافرمانی کررہے ہیں اور ہم آپ روک نے ٹوک نے سے ہچکچا تے ہیں کہ دل ٹوٹ جائے گا ،انسان کاتو آپ خیال کرتے ہیںمگراللہ کے حکم کاخیال نہیں کرتے ، امر الٰہی کیا ہے اس کا احترام نہیں کرتے بلکہ عزیزوں رشتہ داروں چاہنے والوں کے دل کا احترام کرتے ہیں ،ہوناتویہ چاہئے تھا کہ اللہ کے حکم کا احترام ہو، اس کے حکم سے بڑھ کرکو ئی چیز نہیں ہے۔
اللہ ہی نہیں اللہ کے بندوں سے بھی محبت کرو
اوشاد فرمایا :اللہ کی یاد کثرت سے کرو اتنا یاد کرو کہ ان کی یاد کہ بغیر دل نہ لگے۔اللہ والے ہروقت اللہ کی یاد میں غرق رہا کرتے تھے وہ اپنے بچوں کو بھی دیکھتے ہیں اس کو صورت میں رب العالمین کے احسانات وعنایات کو محسوس کرتے ہیں، خداہی کی محبت میں خدا کی دی ہوئی چیزوں اورپیدا کی ہوئی مخلوق سے محبت کرتے ہیں ۔اللہ ہی نہیں بلکہ اللہ کے بندوں سے بھی محبت کرویہی محبت کا دستور اور طریقہ بھی ہے کہ محبوب ہی نہیں بلکہ محبوب کے محبوب کو بھی چاہو۔احترام کرو،عزت کرو،دیکھو مجنون کو لیلیٰ سے محبت تھی تو اس نے لیلیٰ کے کتے کو بھی گود میں اٹھالیا تھا لیلیٰ کے کتے سے بھی محبت کرتا تھا۔
قول وفعل متضاد
ارشاد فرمایا :ہماری حالت یہ ہے کہ اگر کسی سے یہ کہو کہ کیا تم دنیا میں ہمیشہ رہوگے ،تووہ فوراًکہتا ہے کہ صاحب دنیا میں رہنا تھوڑا ہی ہے ایک دن مرنا ضرور ہے مگر حالت یہ ہے کہ سامان ایسے کرتے ہیں اور دنیا میں ایسا لگے ہوئے ہیں کہ گویایہ ہمیشہ یہیں رہیں گے ۔
میرا ایمان خطرے میں ہے
ارشاد فرمایا:ایک مرتبہ کسی مرید نے حضرت تھانویؒ کو خط لکھا کہ حضرت میرا ایمان خطرے میں ہے اس لئے کہ میں اپنے دل میں حضور ا کی محبت سے زیادہ اپنے بچوں کی محبت پاتا ہوں ،جبکہ حضورا کا ارشاد ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن کامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کو اس کے والدین اور اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ،اسلئے مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرا ایمان تو نہیں متأثر ہوگیا ہے؟ حضرت تھانویؒ نے جواب میں لکھا یہ آپ کاوہم ہے حقیقت یہ کہ ہر مسلمان کی طرح آپ کے دل میں بھی حضور ا کی محبت اولاد سے زیادہ ہے اس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر وہی لڑکا جس سے آپ محبت کرتے ہیں (نعوذ باللہ ) حضور اکی شان اقدس میں گستاخی کر بیٹھے تو آپ آگ بگولہ ہوجائیں گے اور جی چاہے گا کہ تلوار سے دوٹکڑے کردوں جن بچوں سے محبت کا دعویٰ ہے اور جن کی محبت حضور اکی محبت سے زیادہ معلوم ہوتی ہے یہ امتحان کے وقت کھل جائے گا ،دیکھئے حضرت تھانویؒ واقعی حکیم الامت مجدد الملت تھے کیسا شافی جواب دیا حضرت مولانا تھانویؒ حیات ہوتے تو میں ان سے ہی بیعت ہوتا اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔
محبت کی تین قسمیں ہیں
ارشاد فرمایا:محبت کی تین قسمیں ہیں محبت طبعی،محبت عقلی ،اور محبت ایمانی ، محبت طبعی جو صرف طبیعت کے چاہنے سے ہوتی ہے اس میں عقل یا ایمان کادخل نہیں ہوتا۔جیسے والدین کی اولاد سے محبت ،اعزا واقارب کی آپسی محبت ، اولاد کی والدین سے محبت بہن بھائی میں محبت یہ محبت طبعی ہے، اور محبت عقلی جوعقل کے تقاضے سے ہو کسی غرض اور فائدے کے حصول کے لئے نہ ہو،عقل اس کے قائم کرنے اور باقی رکھنے کا تقاضا کرتی ہو خواہ وہ فائدہ حاصل ہوچکا ہو، یا ہونے والا ہو، جیسے انسان اپنے مال دولت گھر جائداد سے محبت کرتاہے تیسری قسم،محبت ایمانی ہے،جوایمان کے تقاضے پرہو،جس میںطبیعت اورعقل کادخل نہ ہو،جیسے حضور اسے محبت کرنا یہ ایمانی محبت ہے قرآن وحدیث سے اس کی تائید ہوتی ہے ۔
اطاعت خداوندی اطاعت رسول میں ہے
فرمایا: کوئی شخص اللہ کی اطاعت کرنا چاہتا ہے تو اس کو حضور اکی اتباع کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ اطاعت خداوندی اطاعت رسول پر موقوف ہے ،اسلئے کہ دونوں کی محبت کا تقاضہ دین وشریعت کی پابندی ہے ،باری تعالیٰ ارشادفرماتے ہیں قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ،قل امر کا صیغہ ہے اللہ اپنے نبی علیہ السلام سے فرماتے ہیں کہ اے نبی کہہ دیجئے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو اللہ تم سے خود محبت کرنے لگے گا۔
اصل چیز خدا طلبی ہے
فرمایا: ہرحال میں اللہ سے دل لگائے رکھو اور اسی کو مقصد بنائے رکھو اللہ کی قربت چاہو ، دوزخ سے اسلئے پناہ چاہو کہ وہاں اللہ سے جدائی ہوگی جنت کی آسائش کے لئے جنت کا لالچ نہ کرو جنت مقصود نہ ہو جنت حاصل کرنے کیلئے دعا اس لئے کرو کہ وہاں خدا کا قرب حاصل ہوگا آج اعمال اس لئے کئے جاتے ہیں کہ جنت حاصل ہو اور گناہوں کو جہنم کے ڈر سے چھوڑ تے ہیں ہوناتویہ چاہئے کہ جو بھی اعمال کریں اللہ کی خوشنودی کے لئے ،اصل چیز خداطلبی ہے۔
ایک بزرگ کا عجیب واقعہ
فرمایا: ایک مرتبہ ایک بزرگ بہت جلال میں تھے ایک ہاتھ میں آگ اور دوسرے ہاتھ میں پانی لیکر چلے ،تو لوگوں نے سوال کیا کہ حضرت کہاجارہے ہیں ؟فرمایاآج میں اس آگ سے جنت کو جلادوں گا اور پانی سے جہنم کو بجھادوں گا،لوگوں کو بڑا تعجب ہوا۔حضرت نے فرمایا لو گ آج نماز اس لئے پڑھتے ہیں کہ جنت حاصل کروںاحکام خداوندی پر عمل جنت کیلئے کرتے ہیں اور گناہ سے اجتناب جہنم کے ڈرسے کرتے ہیں اسلئے میںدونوں کو ختم کردوں تاکہ لوگ احکام خداوندی پر عمل اللہ کیلئے کرنے لگیں اور گناہوں سے اجتناب اللہ کے خوف سے کرنے لگیں ۔
اصل بات یہی ہے کہ جو عمل کریں جنت ودوزخ کیلئے نہیں بلکہ اللہ کی خوشنودی کیلئے ،اللہ کو راضی کرنے کیلئے ،جب اللہ راضی ہوگا جنت تو ملنا ہی ہے۔
’’حسنات الابرار سیّآت المقربین‘‘
ارشاد فرمایامولانا پھولپوری ؒ جو حضرت تھانویؒ کے خلیفہ تھے بہت بڑے اللہ والے تھے وہ فرماتے ہیں ۔کہ اللہ والے اپنی ہرعبادت میں حق تعالیٰ کی عظمت اور کبریا ئی کے پیش نظر نقصان اور قصور ہی تصور کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ فرض نماز کے بعد حضور ا استغفار فرمایا کرتے تھے۔
’’بعدنمازاستغفار کی حکمت‘‘
ارشاد فرمایا:فرض نماز کے فوراً بعد استغفار کرنے میں بظاہر اشکال ہوتا ہے کیونکہ استغفار نام ہے کسی معصیت سے مغفرت طلب کرنے کا جبکہ نماز ایک محبوب عبادت ہے ،تو اس اشکال کا یہی حل ہے کہ چونکہ اللہ کی عظمت کے شایان شان نماز کا حق بندوں سے اداہونہیں سکتااس لئے نماز کے بعد بندہ خدا کے بارگاہ میں عرض کرتاہے کہ اے پالنہار آپ کے کبریائی کے مقابلہ میں میری نماز میں جو نقصان اور قصور ہوا ہے اس کی معافی کا طلب گار ہوں۔
ماحول کااثر ضرور ہوتاہے
ارشاد فرمایا آج عجیب حال ہوگیا ہے لوگ اللہ والوں کی صحبت سے بھاگتے ہیں ،ہم لوگ جس ماحول میں رہتے ہیں ،وہ گناہوں کاماحول ہے،عام انسان تو عام انسان خاص بھی متاثر ہوجاتے ہیں،دنیاکی فحاشی ،سنیما گانوں کی آواز یہ سب انسان کو متاثر کرتاہے ۔عادوثمود کی بستی سے جب حضور ا کاگزر ہوا توحضور ا نے منھ چھپالیا،اور صحابہ کرام سے فرمایا جلد ی سے گزرجاؤ ۔ دیکھئے!حضور اکی نگاہ میں ماحول کا اثر کس قدر اہمیت کا حامل ہے ۔جلدی سے گذرنے کا مطلب ہے کہ ماحول کے اثر کا خوف تھا۔اسلئے کہاجاتا ہے کہ برے ماحول سے کٹ کر،ہٹ کراللہ والوں کی صحبت میںبیٹھو،نورانیت پیدا ہوگی اور اچھے اثرات پڑیں گے۔مولانا رومی ؒاہل اللہ کی صحبت کی اہمیت اور ضرورت کی طرف متوجہ فرماتے ہیں ۔کہ جو شخص حق تعالیٰ کی ہم نشینی چاہتا ہو، تو اللہ والوں کی صحبت اختیارکرو۔
یک زمانے صحبتت بااولیاء
ارشاد فرمایا :مولانا رومی فرماتے ہیں تھوڑی دیر اولیاء اللہ کے ساتھ بیٹھنا سوسالہ طاعت بے ریا سے بہتر ہے اگر تم سنگ خارہ یعنی ناقص بھی ہوںگے تو صاحب دل کی صحبت میں پہنچ کر گوہر بن جاؤ گے ۔
ارشاد فرمایا :ایک مرتبہ حضرت مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے اپنے شیخ مولانا تھانوی ؒ سے اس شعر کے متعلق سوال کیا ؟ ؎
یک زمانے صحبتت بااولیاء
بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا
کہ تھوڑی دیر اللہ والوں کی صحبت اختیار کرنا سو سال کی عبادت بے ریایعنی اخلاص والی سے بہتر ہے تو کیا یہ مبالغہ نہیں ہے ،حضرت تھانوی ؒ نے فرمایا،مفتی صاحب یہ مبالغہ نہیں ، بلکہ شاعر نے کم بیان کیا ہے شاعر کو یو ں کہنا چاہیے تھا ؎
یک زمانے صحبتت بااولیاء
بہتر از لکھ سالہ طاعت بے ریا
یعنی اللہ والوں کی صحبت ایک لاکھ سال کی اخلاص والی عبادت سے بہتر ہے ، حضرت تھانویؒ نے کیسی تشریح فرمائی واقعی حضرت تھانوی ؒ اللہ والے تھے ، بڑے پایہ کے عالم تھے ۔
علم کے ساتھ اہل اللہ کی صحبت
ارشاد فرمایا : حضرت گنگوہی ؒ فرماتے ہیں کہ جس کو محض علم حاصل ہو اورعلماء ربانیین کی صحبت حاصل نہ ہو اس کے گمراہی میں پڑنے کااندیشہ ہے ، اسی وجہ سے علماء با کمال نے ہر دو رمیںاولیاء کاملین کی طرف رجوع فرمایا ، حضرت امام غزالیؒ نے لکھا ہے کہ عالم بدو ن اصلا ح وتربیت کے نفس کا کُپّا ہوتا ہے ،حضرت علامہ انور شاہؒ کا قول کہیں پڑھا ہے آپ نے طلبہ کو جمع کرکے وصیت فرمائی کہ دیکھو ! خواہ کتنی با ر ختم بخاری شریف کر لو مگر جب تک اللہ والوں کی جوتیاں نہ سیدھی کروگے ان کی صحبت اختیار نہ کرو گے تو حقیقۃًروحِ علم سے محروم رہوگے ۔
 

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
کتب بینی کے ساتھ قطب بینی !
ارشاد فرمایا : ایک مرتبہ حضرت تھانویؒ نے فرمایا ہمارے پاس دو عالم ہوں ایک صحبت یافتہ ہو اور دوسرا صحبت یافتہ نہ ہو ،پانچ منٹ میں ہم بتادیں گے کہ یہ عالم صحبت یافتہ ہے اوریہ غیر صحبت یافتہ ،غیر صحبت یافتہ مولو ی کی ہر ادا میںآنکھوں کے تیور میں ،کندھوں کے نشیب وفراز میں ،رفتار میں ،گفتار میںکبر نفس کے آثار ہوں گے اور جس نے اللہ والو ں کی صحبت اختیار کی ہے اس کی ہر بات ہر ادا میں عبدیت ،فنائیت اورتواضع کے آثار ہوں گے اورجس نے اللہ والوں کی صحبت اختیارکی ہے اس کی ہربات ہرادا میں عبدیت،فنائیت اورتواضع کے آثارہوںگے حضرت تھانویؒفرماتے ہیںاے علمائے دین میرے علم میں جو برکت آپ کونظرآتی ہے یہ صرف کتب بینی سے نہیںحاصل ہوئی بلکہ قطب بینی سے حاصل ہوئی ہے میںنے کتب بینی کے ساتھ قطب بینی بھی کی ہے حضرت حاجی امداداللہ مہاجرمکیؒمولانایعقوب صاحبؒمولاناگنگوہی ؒکی زیارت کی ہے یہ حضرات اپنے زمانے کہ قطب تھے ۔
تم نے بچوںکودینی تعلیم نہیںدی؟
ارشادفرمایا:آج ماںباپ کے ساتھ کیسابرتاؤکیاجارہاہے ایک صاحب آئے کہنے لگے میرے بچے میری بات نہیںمانتے ،میںنے کہاتم نے بچے کودینی تعلیم نہیںدی ہے،دینی تعلیم دوگے جب ہی تواس کووالدین کے حقوق معلو م ہوںگے، ایک صحابی نے رسول اللہ ا سے عرض کیاسب سے بہترین عمل کونساہے جورب العٰلمین کوسب سے زیادہ پسندہو،آپ ا نے ارشاد فرمایاوقت پرنمازپڑھنا،صحابی نے عرض کیااس کے بعد؟ ارشاد ہوا ماںباپ کے ساتھ اچھاسلوک کرنااچھابرتاؤکرنا،صحابی نے کہااس کے بعد؟ ارشاد ہوا اللہ کے راستہ میںجہادکرنا،رسول اللہ ا نے توبتادیالیکن آج بہت سے لوگوںکومعلو م ہی نہیں،کہامعلوم ہوگااسکول کالج میںنہیںبلکہ دینی مدارس میں،اللہ والوںکی صحبت میں، بچے کوکہابیٹے ماںباپ کی خدمت کرواللہ کے رسول ا نے فرمایامسلمانوںاپنے والدین کے ساتھ نیکی کرو اچھا برتاؤ کرو،تاکہ تمہاری اولادتمہارے ساتھ نیکی سے پیش آئے۔
’’پڑوسی کے حقوق‘‘
ارشادفرمایا:پڑوسی کاحق یہ ہے کہ وہ بیمارہوجائے تواس کی مزاج پرسی کی جائے اگروہ مرجائے تواس کے جنازہ کے ساتھ جائے ،ادہار مانگے توقرض دے ،اگروہ ننگاہوتوکپڑے پہنائے ،اگراس کوکوئی خوشی کاموقع میسرہو تومبارک بادی دے،اگراس پرکوئی مصیبت طاری ہوتواس کوتسلی دو،اوراس کے مکان سے اپنے مکان کواونچانہ کروتاکہ ہواسے محروم نہ رہے اپنے چولہے کے دھویںسے اس کوایذانہ پہنچاؤ،حضورا نے ارشادفرمایا،مجھے اس پروردگارکی قسم جس کے قبضے میںمیری جان ہے،کوئی مسلمان،مسلمان نہیںہے جب تک کہ وہ اپنے ہمسایہ کیلئے وہی بھلائی نہ چاہے جواپنے لئے چاہتا ہے۔
’’کسی کوحقیرنہ سمجھو‘‘
ارشادفرمایا:کسی کوحقیرنہ سمجھو،حدیث شریف میںہے کہ انسان کے لئے یہی شرکافی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کوحقیرسمجھے،یعنی اگرکسی میںیہ بات ہے اوراس کے علاوہ کوئی شرکی بات نہ ہوتب بھی اس میںشرکی کمی نہیں،مسلمان کی ساری چیزیںدوسرے مسلمان پرحرام ہے اس کی جان ،اس کامال ،اس کی آبرو،یعنی اس کی جان کوتکلیف دیناجائزنہ اس کے مال کانقصان کرنااورنہ اس کی آبروکوکوئی صدمہ پہنچانا،مثلاًاس کاعیب کھولنا،اس کی غیبت کرناوغیرہ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکامل مومن وہ ہے جس کی زبان اورہاتھ کی ایذاسے مسلمان محفوظ رہے اورپکامہاجروہ ہے جوان تمام باتوںکوچھوڑدے جن سے اللہ نے منع کیا۔
’’ہرجاندارکوکھلانے پلانے میںثواب ہے‘‘
ارشادفرمایا:جانوروںکے حقوق بھی ہیںحدیث پاک میںہے،ہرحساس جانورجس کوبھوک پیاس کی تکلیف ہوتی ہو،اس کو کھلانے پلانے میںبھی ثواب ہے،کسی جانورکونہ ستاؤ،بلاضرورت نہ مارو۔
’’بدزبانی بُرافعل ہے‘‘
ایک شخص حاضرہوااورعرض کیا،حضرت فلاںصاحب ،فلاںحضرت کے متعلق بدزبانی کی ہے ،حضرت نے ارشادفرمایاـ،بھائی یہ بہت بُرافعل ہے،خواہ کسی کے متعلق ہواوربدزبانی کونقاق کی علامت بتایاہے ،حدیث پاک میںآیاہے کہ چار عادتیںایسی ہیںکہ جن میںجمع ہوجائیںتووہ خالص منافق ہے،اوران چارمیںسے ایک ہوتواس میںنفاق کی خصلت ہے ،اوروہ اسی حال میںرہے جب تک کہ اس عادت کونہ چھوڑدے،اورچارعادتیںیہ ہیںکہ جب اس کوکسی امانت کاامین بنایاجائے تواس میںخیانت کرے،اورجب باتیں کرے توجھوٹ بولے،اورجب معاہدہ کرے تواس کے خلاف کرے، اور جب کسی سے جھگڑے یااختلاف ہوتوبدزبانی کرے،ایک مرتبہ رسول اللہ ا نے اپنے صحابہ سے پوچھا؟تم جانتے ہومفلس کون ہوتاہے ،صحابہ نے عرض کیاہم میںمفلس وہ کہلاتاہے جس کے پاس مال ومتاع نہ ہو،آپ ا نے فرمایامیری امت کامفلس وہ ہے جوقیامت کے دن نمازروزہ زکوٰۃ سب لے کرآئے،لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ کسی کوبرابھلاکہاتھا،کسی کوتہمت لگائی تھی،کسی کامال کھایاتھا،کسی کاخون کیاہوگا،کسی کوماراہوگا،بس اس کی کچھ نیکیاں اس کودے دی جائے اورکچھ دوسرے کودے دی جائے گی، اگران کے حقو ق کے بدلے اداہونے سے قبل اسکی نیکیاںختم ہوجائیںگی توان حقداروںکے گناہ لیکراس پرڈالدئے جائیںگے،اوراسکودوزخ میںپھینک دیاجائے گا، ایک مرتبہ عائشہ صدیقہ ؓنے حضرت صفیہؓ کے متعلق صرف اتناکہہ دیاکہ پستہ قد ہے ، اوریہ بہت بڑاعیب ہے،توآقاا نے فرمایااے عائشہ تم نے اتناگندہ لفظ منھ سے نکالاہے کہ اگراسے سمندرمیںگھول دیاجائے توپورے سمندرکوگندہ کردے (نوٹ یہ حدیثیںبخاری مسلم ومشکوٰۃ میںہے ازمؤلف)۔
نوافل گھرمیںپڑھناافضل ہے
ارشادفرمایا:فرائض کے علاوہ نوافل وغیرہ گھرمیںپڑھناافضل ہے،بھائی گھرمیںنوافل پڑھنے سے فائدے نظرآتے ہیں،آپ جب گھرمیںنوافل پڑھیںگے توگھرکے بچے دیکھیںگے،تووہ بھی آپ کی تقلیدکریںگے جیساکہ عامۃ ًایساہوتاہے کہ گھرکے فردجوعمل کرتے ہیںوہی عمل بچے بھی کرتے ہیں،بڑے جیساکریںگے ویساہی چھوٹے کریںگے،حدیث پاک میںہے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکچھ نمازیںگھرمیںپڑھاکرو، گھرکوقبرستان نہ بناؤ،صحابی ؓنے پوچھایارسول اللہ نوافل گھرمیںپڑھناافضل ہے یامسجدمیں؟آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم دیکھتے ہومیراگھرمسجدسے کتناقریب ہے جس کی وجہ سے مسجدمیںآنے سے کسی قسم کی دقت یارکاوٹ نہیںہوتی، لیکن اس کے باوجودفرائض کے علاوہ مجھے اپنے گھرمیںنمازپڑھنا زیادہ پسندہے (نوٹ یہ حدیث شمائل ترمذی میںہے ازمؤلف)۔
غصہ ایمان کوایسے خراب کردیتاہے جیسے ایلواشہدکو
ارشادفرمایا:بیجاغصہ سے انسان کوپرہیزکرناچاہئے ،حضورعلیہ السلام نے ارشادفرمایابیجاغصہ کرناایمان کوایساخراب کرتاہے جیساکہ ایلواشہدکوخراب کرتاہے،شہدکتنامیٹھاہوتاہے لیکن ایلوے کی آمیزش سے اس کا سارا مٹھاس ختم ہوجاتا ہے ،وہ کڑواہوجاتاہے،اسی طرح ایمان شہدسے زیادہ میٹھاہے جب اس میںغصہ کی آمیزش ہوجاتی ہے تواس میںبھی خرابی پیداہوجاتی ہے،غصہ سے بچنے کاآسان طریقہ یہ ہے کہ جس پر غصہآئے اس کوسامنے سے ہٹادے اگروہ نہ ہٹے توخودہٹ جائے، پھرغورکرے جس قدریہ شخص میراقصوروارہے اس سے زیادہ میںخداکاقصوروارہوںاورجس طرح میںچاہتاہوںکہ اللہ تعالیٰ میراقصورمعاف فرمادے مجھ کوبھی چاہئے اس کومعاف کردوں،اورپانی پیلے، یاوضوکرلے،کھڑاہے توبیٹھ جائے،بیٹھاہے تولیٹ جائے اور’’اعوذ باللّٰہ من الشیطن الرجیم ‘‘پڑھے ۔
شیخ الحدیث کاایک واقعہ
ارشادفرمایا:ایک دفعہ شیخ الحدیث مولانازکریاصاحب نوراللہ مرقدہٗ ایک خادم پرغصہ ہورہے تھے،خادم نے کہامعاف کردو،حضرت شیخ نے کہاکتنی مرتبہ معاف کروںتم باربارغلطیاںکرتے ہوکتنی غلطی بھگتوں،حضرت مولاناالیاسؒ ؒحیات تھے،شیخ کے قریب بیٹھے تھے کان میںحضرت شیخ سے کہامولاناقیامت کے دن جتنابھگت واناہے اتناہی یہاںبھگت لو،جس کوغصہ آئے یہ بات یاد کرلے ،انشاء اللہ معاف کرنے کی توفیق ہوگی اورغصہ جاتارہے گا۔
’’توفیق خداوندی اصل چیزہے‘‘
ارشادفرمایا:اگرلوگوںکے اندرخداطلبی کاجذبہ مخلصانہ ہوتووہ کبھی ناکام نہیںہوسکتاحضرت تھانویؒفرمایاکرتے تھے کہ اس زمین پرکسی اللہ کے عاشق کوناکام ہوتے ہوئے نہیںدیکھا،اللہ ضرورملتاہے صرف طلب صادق ہو،خداسے نیکی کے لئے توفیق کی دعابھی کرنی چاہئے توفیق خداوندی اصل چیزہے جب تک خداکی توفیق شامل نہ ہوکوئی بھی کچھ نہیںکرسکتا۔
’’اعمال کے اثرات‘‘
فرمایا:اللہ تعالیٰ نے جس طرح مادی چیزوںمیںخاصیتیںرکھی ہے اسی طرح اعمال انسانی میںبھی اثرات رکھی ہے اچھے اعمال کااثرخیر ،اور برے اعمال کااثرشرکی شکل میںظاہرہوتاہے،اللہ فرماتے ہیںجومصیبت تم پرواقع ہوتی ہے،تووہ تمہارے اپنے کرتوتوںسے ہے ،اوروہ توبہت سے گناہ معاف ہی کردیتے ہیں۔
سنت رسول ا کی پیروی کرنی چاہئے
ارشادفرمایا:افعال میںسنتیںرسول کی متابعت کرناہی سچی دورویشی اور علامات اہل اللہ سے ہے۔
حضرت ذوالنون مصری ؒفرماتے ہیںمحبت الہٰی کی علامت رسول اللہ ا کی متابعت اخلاق وافعال اوراوامروسنت میںمتابعت کرناہے،اگرکسی کوتم متابعت شریعت میںمِنْ کُلِّ وُجُوہ مطابق پاؤتوسمجھ لوبیشک وہ ولی کامل ہے۔
ایک دیہاتی کونصیحت
حضرت کی وفات سے چاردن قبل بروزاتوارمسجداولیاء دفترقدیم دوپہر میںبندہ حضرت کی خدمت میںحاضرتھا،اسی دوران سہارنپورکے کسی گاؤں کے ایک صاحب حاضرہوئے،عرض کیاحضرت ہم بربادہوگئے،توحضرت نے فرمایا ہم سب ایک دن ختم ہوںگے ،آخرت کی فکرکرو،اس شخص سے سوال کیاکیابربادہوا؟اس شخص نے اپنے گھرکی دوکان کی حالت سنائی پھرتعویذکی درخواست کی حضرت نے فرمایاپہلے شریعت کی پابندی کرودیکھوتم نے داڑھی منڈارکھی ہے،کتنابرافعل ہے،حضورپاک ا کے چہرے سے تم کونفرت ہے ؟ پھربھی تم کامیابی چاہتے ہواورتعویذمانگتے ہوتعویذسے کیاہوگادیکھوداڑھی منڈانا ایساگناہ ہے جوچوبیس گھنٹہ ساتھ ہوتا ہے، نماز میں بھی سفر میں بھی حضر میں بھی ہر وقت یہ گناہ لئے پھر تے ہوکتنی بری بات ہے ،ہمارے یہاں تو یہ ہی ملے گا ،اچھا لگے یا برا،حق بات یہی ہے کہ شریعت کی بات بتادی جائے ۔ہم روک ٹوک نہیںکر یں گے تو کون کریگا ،ہمارے یہاں تو چائے وغیرہ نہیں ملے گی ،بس یہی چائے ہے ،جو میں نے تم کو کہا ،پہلے اتباع شریعت کرو پھر تعویذ لینا تب فائدہ بھی ہوگا ،دعا کروگے تو قبول بھی ہوگا ،داڑھی منڈا کر دعا کے لئے ہاتھ پھیلا ؤ گے تو ذرا غور کروتم کسی باد شاہ کے پاس کچھ مانگنے جاؤ ،اور تم اس بادشاہ کے حکم کے خلاف کوئی عمل کرو تو بتاؤتم کو وہ دنیاوی بادشاہ دیگا ؟یا دھکا مارکر دربار سے نکا ل دیگا،دنیاوی باد شاہ کا یہ عالم ہے تو بتاؤ دو جہاں کے باد شاہ کے پاس اس حالت میں مانگتے ہوکہ اس کے احکام کی خلاف ورزی کررہے ہو، لیکن دو جہاں کے باد شاہ کی کرم فرمائی دیکھو کہ لوگ گناہ پر گناہ کررہے ہیں ، پھر بھی وہ تم کو کھانے کو دے رہا ہے ،آرام کیلئے سب کچھ دے رہا ہے ،اگر ہم اس کے احکام پر عمل کرنے لگیں ،تو بتاؤ بادشاہ خوش ہوکر کتنادیگااحکام پر عمل کرکے تو دیکھو ، اس نصیحت کے بعد اس شخص نے کہا توبہ کرتے ہیں احکام خداوندی پر عمل کریں گے ،تعویذ دیدیں،حضرت ؒ نے کہا یہ سب کرو فائدہ ہوگا (ان شاء اللہ ) اس کے بعد بھی وہ شخص حضرت سے تعویذ کا مطالبہ کرتا رہا ،تو حضرت الاستاذ ؒ بندہ کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا بیٹے نوادوی اسے سمجھا ،میں نے اس شخص سے کہا بھائی ابھی جائیں ایک ہفتہ کے بعد آئیں گے تو حضرت تعویذ دیں گے ، حضرت نے فوراً کہا ارے کیا کہہ رہے ہو!ایک ہفتہ کے بعد ہم سے ملاقات ہوگی تب تو،بندہ نے سوچا کہ حضرت کہیں سفر میں جارہے ہیں لہٰذا میں نے عرض کیا حضرت کہاں کا سفر ہے ؟حضرت نے فرمایا لمبا سفر شروع ہونے والا ہے ،آج حضرت کے انتقال کے بعد طویل سفر کا علم ہوا طویل سفر سے مراد آخرت کا سفر تھا ۔
 

zakwan

وفقہ اللہ
رکن
نہایت ہی پراثرباتیں ہیں۔دراصل مولانااطہرحسین تھے ہی بڑے باکمال بزرگ۔جزاک اللہ خیرا
 
Top