مشائخ کا معمولات کا اہتمام

مفتی ناصرمظاہری

کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
رکن
مشائخ کا معمولات کا اہتمامشیخ الحدیث حضرت مولانامحمدزکریامہاجرمدنی کی کتاب ’’آپ بیتی‘‘سے چنداقتباسات


حضرت اقدس مرشدی سیدی حضرت سہارنپوری کے متعلق تذکرۃ الخلیل میںلکھا ہے کہ پابندیٔ اوقات کے دوچار ، دس ،بیس نہیں بلکہ صدہا واقعات ایسے ملیں گے جن میں ہر واقعہ اس کی مستقل شہادت ہے کہ پابندی ٔوقت کا اہتمام آپ کی طبیعت ثانیہ بن گیا تھا اور کوئی صعوبت کیسی ہی دشوارکیوںنہ ہو آپ کی ہمت اور حوصلہ کو داب نہیں سکتی تھی ۔ پھر کیا پوچھنا حاضری ٔمدرسہ اور پابندیٔ اسباق کا جو کہ آپ کا فریضۂ منصب اور سارے کاموں میں اصل تھا کہ اس کی پابندی نے تو تمامی مدرسہ کو وقت کا پابند بنادیا تھا اور بغیر اس کے کہ کوئی نگرانی کرے ہر چھوٹا بڑا اپنے وقت پر مدرسہ میں موجود اور خدمت مفوضہ میں مشغول نظر آتا تھا۔ آپ کا غایت مقصود یہ تھا کہ تمامی نصاب سال بھر کا مدرس کے پاس ایسے ماہواری اوسط سے پورا ہو کہ ختم سال پر نہ کوئی سبق بچے اور نہ آخر سال میں ختم کتاب کی خاطر زیادہ زیادہ سبق ہوکہ پڑھنے والوں کی سمجھ میں بھی نہ آئے،ضروری سے ضروری کام آپ مدرسہ کا وقت ہو جانے پر ملتوی کر دیتے تھے ۔ بارہا ایسا ہوا کہ گھر میں اناج یا آٹا نہیں اور مدرسہ کا وقت آگیا تو آپ مدرسہ میں آ جاتے اور منتظر رہتے کہ کوئی د وست آجائے تو اس سے آٹا منگوا کر گھر میں پہنچا دیاجائے ، ایسا بھی ہو تا کہ کوئی نظر نہ آتا یا آپ مشغولیت میں بھـول جاتے اور جب فارغ ہو کر کھانے کا وقت آتا تب آپ کو خیال ہو تا کہ آٹا تو تھا ہی نہیں روٹی کہاںپکی ہو گی۔ ( تذکرۃالخلیل پاکی)
حضرت حکیم الامت قدس سرہ کا ارشاد ہے کہ میرے اوقات ایسے گھرے ہوئے اور بندھے ہوئے ہیں کہ پا نچ منٹ کا بھی حرج ہو جاتا ہے تو دن بھر کے کاموں کا سلسلہ گڑ بڑ ہو جاتا ہے۔ مغرب کے بعد یا عشاء کے بعد بعض لوگ سہ دری میں کام کر تے ہوئے دیکھ کر جا پہنچتے ہیں اور بیٹھ جاتے ہیںـ فوراً اٹھادیتے ہیںکہ یہ وقت جلسہ کا نہیں ہے ۔ میں نے خود ہی سب باتوں کی رعایت کر کے ہر بات کے لئے وقت مقر ر کردیا ہے تاکہ کسی کو تنگی نہ ہو ۔ چنانچہ ذاکر اور شاغل لوگوں کیلئے یہ کس قدر آسان ہے کہ بعد عصر پرچہ دے کرجو کچھ چاہیں کہہ سن لیں اور اپنی تسلی کر لیں ، ورنہ اور جگہ مدت گزر جاتی ہے لیکن خلوت کاموقع نہیں ملتا ۔ ایک صاحب نے قبل عشاء کچھ گفتگو شروع کی، بر افروختہ ہو کر فر ما یا یہ کیسی بے انصافی کی بات ہے کہ کسی وقت بھی آرام نہ لینے دیں ۔ کوئی وقت تو ایسا دینا چاہئے کہ جس میں د ماغ کو فارغ رکھ سکیں ۔ کیا ہر وقت آپ لوگوں کی خدمت ہی میں رہوں ۔ عقل نہیں انصاف نہیں … رحم نہیں کوئی لوہے کا پیر ڈھونڈ لو ، لیکن وہ بھی سسرا گھس جائے ۔ کسی کو میرا نصف کام بھی کر نا پڑے تو معلوم ہو ۔ (حسن العزیزصفحہ ۳۸۶)
حضرت حکیم الامت نے بالکل صحیح فر ما یا ۔ انضباط اوقات سے جتنا کام عمدہ اور اچھا ہو سکتاہے ، بغیر انضباط کے نہیں ہو تا ، اسی لئے یہ ناکارہ تو اپنے زمانۂ حیات میں اپنے سے بیعت کا تعلق رکھنے والوں کو بھی اور اپنے سے خصوصی تعلق رکھنے والے طلباء کو اس کی ہمیشہ تاکید کر تا تھا اور اس پر عمل بھی کرا تا تھا کہ اپنے نظام الاوقات کا پرچہ لکھ کر مجھے دیں ، بیعت کا تعلق رکھنے والوں کے لئے اب تک بھی یہ ہے کہ یہاں کچھ دنوں رہیں اور اپنانظام الاوقات بناکر مجھے سنائیں اور اس کے بعد اپنے دوسرے د وستوں کے ذریعہ سے ان کی نگرانی بھی کر تا رہتا ہوں کہ یہ مقررہ کام کر رہے ہیں یانہیں ۔ دل اپنے متعلق بھی بہت چاہتا ہے کہ انضباط اوقات رہے مگر کرم فر ماؤں کی کثرت نے مجبور کر دیا ، فلاں صاحب آگئے ہیں، فلاں جگہ سے آ گئے ہیں، ابھی واپس چلے جانا ہے۔ آنے والوں کے تو پندرہ بیس منٹ خر چ ہو تے ہیں ـ ـ،مگر اس تسلسل سے میرے تو سارے ہی اوقات ختم ہو جاتے ہیں ،میں نے اپنے اکابر میں حضرت اقدس گنگوہی کے جہاں تک حالات سنے اور حضرت سہارنپوری اور ہر دو حضرات رائے پوری نو ر اللہ مراقدھم کو اخیر زمانۂ بیماری کو چھوڑ کر اپنے اوقات کا بہت ہی زیادہ پابندپایا۔
 
Top