دھوپ میں

سارہ خان

وفقہ اللہ
رکن
زندگی ہو گئی میری یو نہی بسر دھوپ میں
نہ آنا میرے پاس کبھی میرا ہے گھر دھوپ میں
ہمارے ذہن میں پھر جیت کا گماں کیوں ہو
وہ اد ھر تھےاور ہم تھے ادھر دھو پ میں
وہ آے جلدی سے اک سائے کی طرح گزر گے
میں دوڑا پیچھے جاتی تھی جہاں تک نظر دھوپ میں
ہماری قسمت میں دکھ والم لکھے ہوئے ہیں حسن
کہاں آگئے ہو اے دوست تم ادھر دھوپ میں
حسن خان کی ڈائری کا ایک ورق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 2010
 
Top