کوئی تو سیکھے

بلال جٹ

وفقہ اللہ
رکن
کوئی تو سیکھے
اداس لوگوں سے پیار کرنا کوئی تو سیکھے
سفید لمحموں میں رنگ بھر نا کوئی تو سیکھے
کوئی تو آئے خزاں میں پتے اگانے والا
گلوں کی خوشبو کو قید کرنا کوئی تو سیکھے
کوئی دکھائے محبتوں کے سراب مجھ کو
میری نگاہوں سے بات کرنا کوئی تو سیکھے
کوئی تو آئے نئی رتوں کا پیام لے کر
اندھیری راتوں میں چاند بننا کوئی تو سیکھے
کوئی پیمبر کوئی امامِ زماں ہی آئے
اسیر ذہنوں میں سوچ بھرنا کوئی تو سیکھے
 
ق

قاسمی

خوش آمدید
مہمان گرامی
واہ بھائی واہ
کیا ! دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے
ہم وفا کرکے بھی تنہا رہ گئے
شائد ان کا آخری ہو یہ ستم
ہر ستم پر ہم دل پکڑ کررہ گئے
 
Top