عندلیب شادمانی

  • موضوع کا آغاز کرنے والا قاسمی
  • تاریخ آغاز
ق

قاسمی

خوش آمدید
مہمان گرامی
[align=center]عندلیب شادمانی​

دیر لگی آنے میںتم کو، شکر ہے پھر بھی آئے تو
آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا ویسے ہم گھبرائے تو

شفق، دھنک، مہتاب، گھٹائیں ،تارے، نغمے، بجلی پھول
اُس دامن میںکیا کیا کچھ ہے وہ دامن ہاتھ آئے تو

چاہت کے بدلے میں ہم تو ،بیچ دیں اپنی مرضی تک
کوئی ملے تو دل کا گاہک ،کوئی ہمیں اپنائے تو

کیوں یہ مہر انگیز تبسم ،مدِّ نظر جب کچھ بھی نہیں
ہائے کوئی انجان اگر اس دھوکے میں آجائے تو

سنی سنائی بات نہیں یہ اپنے اوپر بیتی ہے
پھول نکلتے ہیں شعلوں سے، چاہت آگ لگائے تو

جھوٹ ہے سب، تاریخ ہمیشہ اپنے کو دھراتی ہے
اچھا! میراخوابِ جوانی تھوڑا سا دوہرائے تو

نادانی اور مجبوری میں یارو کچھ تو فرق کرو
اک بے بس انسان کر کیا ٹوٹ کے دل آجائے تو
[/align]
 
Top