یاد میں جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں : آغا حشر

admin

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
منتظم اعلی


یاد میں جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں
بھولنے والے کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں میں

ایک دھندلا سا تصور ہے کہ دل بھی تھا یہاں
اب تو سینے میں فقط ایک ٹیس سی پاتا ہوں میں

او وفا نا آشنا کب تک سنوں تیرا گلہ
بے وفا کہتے ہیں تجھ کو اور شرماتا ہوں میں

آرزوں کا شباب اور مرگ حسرت ہاے ہاے
جب بہار آے گلستان میں تو مرجھاتا ہوں میں

حشر میری شعر گوئی ہے فقط فریاد شوق
اپنا غم دل کی زبان میں دل کو سمجھاتا ہوں میں


آغا حشر
 
Top