اجتماع سے نقصان زیادہ اور کام کم ہوتا ہے

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
حضرت جی ثالث مولانا انعام الحسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی گفتگو​

ایک مرتبہ کسی علاقہ کے ذمہ دار احباب اجتماع کی تاریخ لینے آئے ۔اس جماعت نے بہت بے تکلفی کے ساتھ کھلے ماحول میں حضرت مولانا سے گفتگو کی ۔اور دلچسپ سوالات کئے ۔حضرت مولانا بھی بڑی بشاشت اور خوش دلی کے ساتھ ان کے جوابات دیتے رہے ۔یہاں سوالات وجوابات نقل کئے جاتے ہیں ۔
جماعت: ہم اپنے علاقہ میں اجتماع کر نا چاہتے ہیں اس کی تاریخ لینے آئے ہیں ۔
حضرت جی: بھائی اجتماع کے بغیر جماعتیں نکالو۔
جماعت: اجی جماعتیں تو نکالیں گے ۔اجتماع تو صرف کام کرنے کا بہانہ ہے ۔
حضرت جی: بہانہ کی کیا ضرورت ہے ، بہانہ بازی کی وہاں ضرورت پڑتی ہے ، جہاں حقیقت نہ ہو ۔ محنت کو اجتماع کے نام سے کر نے کے بجائے خدا کے نام سے کرو۔
جماعت :ہم جماعتیں بنا کر اجتماع سے نکلیں گے ۔
حضرت جی: خوب نکلو اللہ پاک مبارک فر مائے ۔ پس ہم یوں کہتے ہیں کہ اجتماع کے نام سے کیوں کرو، خدا کے نام سے کرو ۔ دوزخ ، حشر ، نشر وغیرہ کو سامنے رکھ کر محنت کرنا ہے ۔ یہ ہے کندھے کی لاٹھی۔
جماعت: ہم نے ہر علاقہ والوں سے نکلنے والوں سے گفتگو کی ہے ۔
حضرت جی: بجائے اجتماع میں سے نکا لنے کے سال بھر تک نکا لنے کا رخ ڈالو ، اجتماع میں نام وشور زیادہ ہوتا ہے ، مغز تھوڑا ہو تا ہے ۔اور شریعت کا دستور ہے کہ نام ونمود نہ ہو اور مغز زیادہ ہو اس کے اندر صلاحیت اور کام دونوں زیادہ ہوں گے ۔ اب تم جماعت نکالنے کی اس طرح محنت کرو جماعت ہمیشہ نکالتے رہو ۔ یہ خیال غلط ہے کہ اجتماع تک نکالیں گے ۔ بلکہ یہ طئے کرو کہ موت تک جماعتیں نکالیں گے ۔ چنانچہ گجرات والوں نے طے کیا ہے کہ چھ ہزار نفر نکالیں گے ۔اور ہر ماہ دو جماعت بیرون کیلئے نکالیں گے۔
جماعت: تاریخ اجتماع طے کر دیجئے ۔اس بعد سے کریں گے ۔
حضرت جی:یہی تو کمزوری ہے کہ اجتماع کے بعد سے کریں گے بلکہ یہ طے کرو کہ ابھی سے کریں گے ۔ یہ صحیح ہے کہ جو بھی اجتماع کی تاریخ لینے آتا ہے وہ اس غرض سے آتا ہے کہ اجتماع کے ذریعہ کام میں قوت ہو گی ۔ حالانکہ تجربہ یہ ہے کہ اجتماع سے نقصان زیادہ اور کام کم ہوتا ہے ۔اجتماع میں اب خطرات زیادہ بڑھ گئے ہیں ۔اس لئے کام کو جماعت کے ذریعہ بڑھایا جائے ۔اور ہمارے یہاں کے آدمیوں پر نظر نہ کرو ۔اس لئے کہ دس آدمی جو کام کرتے ہیں وہ سب یہاں کے ایک آدمی پر پڑجاتے ہیں ۔اس لئے اپنے مقام کے علماء اور پرانوں سے کام لو ۔
اس گفتگو کے بعد آنے والے حضرات مطمئن ہو کر وعدہ کر کے گئے کہ بغیر اجتماع کے جماعت نکالیں گے ۔
 

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
اللہ والوں کی باتیں ہی کیا خوب ہوا کرتی ہیں، حضرت نے کیسے انداز میں اصلاح فرمائی، دل جھوم اٹھا۔

جزاک اللہ احسن الجزا
 
Top