صبا نے کس کی آمد کی سنائی

تانیہ

وفقہ اللہ
رکن

milad.gif


صبا نے کس کی آمد کی سنائی ،۔،۔،۔، مراد بلبل بے تاب لائی

مچی ہیں شادیاں کیس گلوں میں ،۔،۔،۔، مبارکبادیاں ہیں بلبلوں میں

یہ نرگس کس کا رستہ دیکھتی ہے ،۔،۔،۔، یہ سوسن کس کی مدحت کر رہی ہے

کھلے پڑتے ہیں سب غنچے یہ کیا ہے ،۔،۔،۔، انہیں کس پھول کا شوق لقا ہے

نئی پوشاک بدلی گلوں نے ،۔،۔،۔، مچایا شور ہے کیوں بلبلوں نے

نئی معلوم ہے یہ ماجرا کیا ،۔،۔،۔، یہ کیسا حکم ہے رضواں کو آیا

بنا دے تو چمن ہر ایک بن کو ،۔،۔،۔، نہ ہو جنت سے کچھ نسبت دلہن کو

ہوا مالک کو یہ حکم خداوندی ،۔،۔،۔، کہ دروازے جہنم کہ ہوں سب بند

قریشی جانور کیوں بولتے ہیں ،۔،۔،۔، یہ کس کے وصف میں لب کھولتے ہیں

زمین کی سمت کیوں مائل ہیں تارے ،۔،۔،۔، یہ کس کی دید کے سائل ہیں تارے

یہ بت کس واسطے اوندھے پڑے ہیں ،۔،۔،۔، زمین پہ کیوں خجالت سے گرے ہیں

زمیں پر کیوں ملائک آرہے ہیں ،۔،۔،۔، یہ کیوں تحفے پہ تحفے لا رہے ہیں

یہ آمد کون سے ذیشان کی ہے ،۔،۔،۔، یہ آمد کون سے سلطان کی ہے


اسی حیرت میں تھے اہل تماشہ
کہ ناگہ ہاتف غیبی یہ بولا


وہ اٹھی دیکھ لو گرد سواری ،۔،۔،۔، عیاں ہونے لگے انوار باری

نقیبوں کی صدائیں آ رہی ہیں ،۔،۔،۔، کسی کی جان کو تڑپا رہی ہیں

مؤدب ہاتھ باندھے آگے آگے ،۔،۔،۔، چلے آتے ہیں کہتے آگے آگے

فدا جن کے شرف پر سب نبی ہیں ،۔،۔،۔، یہی ہیں وہ یہی ہیں وہ یہی ہیں

یہی والی ہیں سارے بیکسوں کے ،۔،۔،۔، یہی فریادرس ہیں بے بسوں کے

انہی کی ذات ہے سب کا سہارا ،۔،۔،۔، انہی کے در سے ہے سب کا گزارا

انہیں سے کرتی ہیں فریاد چڑیاں ،۔،۔،۔، انہیں سے چاہتی ہیں داد چڑیاں

یہی ہیں جع عطا فرمائیں دولت ،۔،۔،۔، کریں خود جو کی روٹی پر قناعت

انہیں پر دونوں عالم مر رہے رہے ہیں ،۔،۔،۔، انہیں پر جان صدقے کر رہے ہیں

فزوں رتبہ ہے صبح وشام ان کا ،۔،۔،۔، محمد مصطفٰی ہے نام ان کا

کوئی دامن سے لپٹا رو رہا ہے ،۔،۔،۔، کوئی ہر گام محو التجاء ہے

ادھر بھی اک نظر ہو تاج والے ،۔،۔،۔، کوئی کب تک دل مضطر سنبھالے

بہت نزدیک آ پہنچا وہ پیارا ،۔،۔،۔، فدا ہے جان و دل جس پر ہمارا

اٹھیں تعظیم کو یاران محفل ،۔،۔،۔، ہوا جلوہ نما وہ جان محفل
 
ق

قاسمی

خوش آمدید
مہمان گرامی
بہت خوب!
مس تانیہ صاحبہ
سبحان اللہ سبحان اللہ
 
Top